بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلْعَـٰدِيَـٰتِ ضَبْحًۭا فَٱلْمُورِيَـٰتِ قَدْحًۭا فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًۭا فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًۭا فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌۭ وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌۭ وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلْخَيْرِ لَشَدِيدٌ ۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى ٱلْقُبُورِ وَحُصِّلَ مَا فِى ٱلصُّدُورِ إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّخَبِيرٌۢ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ البَيِّنَةِ: ۶–۷

حضرت محمد ﷺ آخری رسول ہیں اور جو دین لے کر آئے ہیں وہ آخری دین ہے اس سے قبل یوں تھا کہ جب بھی انسانیت گمراہ ہوتی اور راستے سے ہٹ جاتی اللہ رسول بھیج دیتا ، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا اور لوگوں کو وقفے وقفے سے مہلت ملتی رہی کہ لوگ اپنی اصلاح کرلیں لیکن اللہ کی مشیت کا تقضا یہ ہوا کہ ایک جامع ، مانع اور مکمل دین بھیج کر رسولوں کے اس سلسلے کو ختم کردے۔ یہ آخری مہلت ہے ۔ لوگ اس آخری دین کو قبول کرکے نجات پالیں گے یا انکار کرکے ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کفر اور شرک شر کے قائم مقام اور شر کی علامت بن جاتی ہے اور شر کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ایمان خیر کا قائم مقام ہوجاتا ہے۔ اور ایمان کے نتیجے میں خیر اپنی انتہاﺅں تک پہنچ جاتا ہے۔

ان الذین ........................................ البریة (۶:۹۸) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ، یہ لوگ بدترین خلائق ہیں “۔ یہ ایک قطعی حکم ہے اور اس میں کوئی جدل وجدال نہیں ہے۔ اگرچہ اہل کتاب اور مشرکین کے بعض اعمال اچھے ہوں ، بعض آداب خوب ہوں اور بعض تنظیمات مفید ہوں ۔ جب تک ان لوگوں کو حقیقت ایمان حاصل نہیں ہوتی۔ اور وہ اس آخری دین اور آخری نبی پر ایمان نہیں لاتے۔ اس اٹل حکم میں ہم محض لوگوں کے بعض ظاہری اچھے اعمال کی وجہ سے شک نہیں کرسکتے اس لئے کہ کفار کے اعمال دراصل نیکی اور بھلائی کے اصل سرچشمے سے دور ہوتے ہیں۔ اور وہ ایک مضبوط اور درست نظام زندگی کا حصہ نہیں ہوتے۔

ان الذین ................................ خیر البریة (۷:۹۸) ” جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں “۔ یہ بھی ایک قطعی حکم ہے جس میں کسی قیل وقال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی شرط بھی واضح ، صاف اور اٹل ہے۔ یعنی یہ کہ جو ” ایمان “ لے آئیں۔ یہ نہ ہو کہ وہ کسی ایسی سرزمین میں پیدا ہوئے ہوں جو مسلمان سر زمین ہونے کی مدعی ہو ، یا کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں جس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ مسلمان گھرانا ہے یا محض یہ کہ کوئی چند کلمات ادا کرتا ہو ، نہیں بلکہ ایسا ایمان جو زندگی کے اندر عملاً نمودار ہوتا ہو۔

وعملوا الصلحت ” اور انہوں نے نیک کام کیے “۔ اور ان کا ایمان اور اقرار ایمان محض الفاظ اور کلمات ہی نہ ہوں ، جو صرف ہونٹوں پر ہوتے ہیں ، صالحات وہ افعال ہیں جن کے کرنے کا اللہ نے حکم دیاہو ، جن میں اخلاق بھی ہوں ، اعمال بھی ہوں اور طرز عمل اور معاملات بھی ہوں اور اعمال میں سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کو زمین پر قائم کیا جائے اور لوگوں کے درمیان فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق ہوں۔ جو لوگ یہ کام کریں وہ ہیں بہترین خلائق۔

سُورَةُ البَيِّنَةِ: ۸

جزاءھم ................................ ابدا (۸:۹۸) ” ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ایسے باغات جن کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں مکمل امن ہوگا ۔ اور ان کے فنا ہونے اور رک جانے کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ فنا ہونے اور امن و اطمینان کا ختم ہوجانا دنیا کی تمام سہولیات اور طیبات کا مزہ خراب کردیتا ہے اور ان تروتازہ باغوں کے نیچے نہروں کا بہنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ ان باغات میں تازگی اور بہار دائمی ہوگی اور یہ زندگی اور جمال سے بھرپور ہوں گے۔

اس دائمی نعمت و رحمت کی تصویر کسی میں سیاق کلام دوقدم اور آگے جاتا ہے۔

ؓ ............................ ربہ (۸:۹۸) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ رضامندی اللہ کی جانب سے ہے او یہ تمام نعمتوں سے برتر اور تمام خوشیوں سے تروتازہ ہے۔ خود ان اہل ایمان کے دلوں میں جو رضامندی ہے وہ رب کی رضامندی ہے۔ اور یہ رضامندی ہے کہ ان کے بارے میں تقدیر الٰہی جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس پر راضی ہیں۔ اور اللہ نے ان پر جو انعامات کیے ہیں اس پر بھی وہ راضی ہیں اور اپنے اور اللہ کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر بھی راضی ہیں۔ یہ ایسی رضامندی ہے کہ اس سے انسان گہری خوشی اور مسرت و اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ انداز کہ ” اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں “۔ ایک ایسا انداز ہے جس کی تعبیر کیسی دوسرے الفاظ میں نہیں جاسکتی۔

ذلک لمن خشی ربہ (۸:۹۸) ” یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو “۔ یہ آخری تاکید ہے ، یہ کہ یہ سب کچھ اس پر موقوف ہے کہ کسی کا تعلق باللہ کیسا ہے۔ اور اس تعلق کی نوعیت کیسی ہے۔ یاد رہے کہ کسی دل میں جب خدا کے خوف کا شعور پیدا ہوتا ہے تو یہ شعور انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور ہر قسم کی کج روی سے انسان کو روکتا ہے۔ یہی شعور ہے جو انسان کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ واحدوقہار کے سامنے براہ راست کھڑا ہوتا ہے ، اور اس شعور کی وجہ سے انسان کی عبادت اور اس کے اعمال صالح ہر قسم کی شرک ، ریاکاری سے پاک ہوجاتا ہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہوجاتا ہے ، کسی دوسرے کی رو رعایت وہ نہیں کرتا۔ یہ شعور انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ اللہ تمام ایسے اعمال کو رد کردیتا ہے جن میں اس کی رضامندی کے سوا کوئی اور جذبہ بھی ہو ، اللہ غنی بادشاہ ہے ، اس کے لئے تو خالص عمل ہوگا ورنہ وہ اسے رد کردے گا۔

اسی مختصر سی سورت میں یہ چار عظیم حقائق قلم بند کیئے گئے ہیں اور قرآن نے ان حقائق کو اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا ہے اور یہ اسلوب ان چند سطروں والی سورت میں بہت اچھی طرح نمایاں ہے۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ
سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۱–۲

یہ ہے منظر قیام قیامت کا ، اس دن زمین نہایت شدت سے ہلا ماری جائے گی اور ایک شدید زلزلہ برپا ہوگا اور زمین کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہوگا ، وہ اسے باہر پھینک دے گی اور اس نے ایک طویل عرصے سے انسانی جانوں کا جو بوجھ اٹھارکھا ہوگا ، یا اس کے اندر جو معدنیات ہوں گے وہ ان کو اٹھاکر باہر پھینک دے گی ، گویا اس بوجھ کو باہر پھینک کر وہ ہلکی ہوجائے گی۔

یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ سننے والے اپنے پاﺅں کے نیچے کھڑی ہر چیز متزلزل محسوس کرتے ہیں کہ وہ ڈگمگا رہے ہیں ، لڑکھڑا رہے ہیں ، ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کانپ رہی ہے ، دوڑرہی ہے ، یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر انسان تمام امور سے قطع تعلق کرلیتا ہے جو انسان کو اس زمین سے وابستہ کرتے ہیں اور جن کے بارے میں انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ثابت اور باقی ہیں۔ قرآن اس قسم کے مناظر سے جو اثرات قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ ان میں سے پہلا اثر ہے اور قرآن کی یہ منفرد آیات سنتے ہی یہ اثر انسان کے اعصاب تک منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ تاثر اس وقت اور گہرا ہوجاتا ہے ۔ جب قرآن کریم میدان حشر میں کھڑے اس ” انسان “ کے تاثرات قلم بند کرتا ہے ، جو ان مناظر کو دیکھ رہا ہوگا۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۳

وقال ............ مالھا (۳:۹۹) ” اور انسان کہے گا ، یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟ “۔ یہ ایک ایسے شخص کا سوال ہے جو ایک اچانک ، خوفناک منظر کو دیکھ کر مبہوت رہ جاتا ہے ، جو ایسا منظر دیکھ رہا ہوتا ہے جو نادیدنی ہو ، جو ایسی صورت حالات سے دوچارہوتا ہے جس کو وہ سمجھ نہیں پارہا ہوتا ، اور ایک ایسے منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، جس پر وہ نہ خاموش ہوسکتا ہے ، اور نہ صبر کرسکتا ہے۔

مالھا (۳:۹۹) ” اسے کیا ہوگیا ہے “۔ کیا سبب ہے کہ ایک زلزلہ برپا ہے اور زمین ہے کہ مسلسل حرکت کررہی ہے اور اس کے قدم ہی نہیں جمتے اور وہ ادھر ادھر لڑھک رہا ہے اور کوشش کررہا ہے کہ جو سہارے ہاتھ میں آئے اسے لے ، لیکن اس کے ماحول میں ہر چیز حرکت کررہی ہے ، اور شدید زلزلے کی زد میں ہے۔

انسان نے اس سے قبل زلزلے اور آتش فشانی کے عمل دیکھے ہوئے تھے اور زلزلے اور آتش فشانی کے دوران خوف اور بےچینی سے وہ دوچار رہا ہے۔ اس نے ہلاکتیں اور بربادیاں دیکھی ہیں لیکن جب وہ قیامت کا زلزلہ دیکھتا ہے تو وہ سمجھ لیتا ہے کہ دنیا کے زلزلوں اور آتش فشانیوں اور اس کی موجودہ حادثے کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے۔ یہ کوئی اور ہی عمل ہے ، کوئی اور ہی حادثہ ہے۔ اس حادثے کا کوئی حقیقی سبب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ نہ اس کی کوئی مثال ہے۔ یہ ایک نہایت ہی ہولناک واقعہ ہے اور پہلی مرتبہ پیش آرہا ہے۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۴

یومئذ (۴:۹۹) ” اس دن “۔ جس دن یہ زلزلہ واقعہ ہوگا اور انسان اس کے سامنے دہشت زدہ ہوگا۔ اس دن۔

تحدث اخبارھا (۴:۹۹) ” وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی “۔ اس دن یہ زمین اپنی خبریں دے گی اپنے حالات بتائے گی اور اپنی پوری کہانی بیان کرے گی۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۵

بان ربک اوحی لھا (۵:۹۹) کہ تیرے رب نے اسے ایسا کرنے کا حکم دیا ہوگا “۔ اس کو حکم دیا ہوگا کہ وہ اپنی حرکت تیز کردے اور اپنے سکان کو خوب جھٹکے دے اور اپنے اندر کی چیزیں باہر پھینک دے اور یہ کام وہ رب کے حکم کی اطاعت میں کررہی ہے۔

واذنت لربھا وحقت ” اور وہ اپنے رب کے حکم کی اطعت کرے گی اور اس کا حق یہی ہے “۔ لہٰذا وہ اپنے حالات بتائے گی۔ غرض یہ صورت حال اور یہ منظر اس بات کا خوب اظہار کررہا ہے کہ اس وقت اللہ کے احکام واشارات کیا ہوں گے۔

اب یہاں حالات ایسے ہیں کہ انسان ششدررہ گیا ہے ، سورت کی گھن گرج اور زور دار بیان سے خوف وہراس کی فضا ہے ، ہر سو دہشت اور حیرانی کا دور دورہ ہے۔ اضطراب اور بھگدڑ ہے ، ایسے حالات میں انسان کا سانس پھولا ہوا ہے۔ اور وہ پوچھ رہا ہے کہ اسے کیا ہوگیا ہے۔

مالھا (۳:۹۹) ” اسے کیا ہوگیا ہے .... ایسے حالات میں جواب ایک نئے منظر کی صورت میں آتا ہے ، یہ ہے منظر حشر ونشر ، حساب و کتاب اور میزان وجزاء کا ہے۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۶–۷

ایک لمحہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قبروں سے اٹھتے چلے آرہے ہیں۔

یومئذ .................... اشتاتا (۶:۹۹) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے “۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مختلف گروہوں مختلف اطراف سے چلے آرہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔

کانھم .................... منتشر ” گویا کہ یہ لوگ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس سے قبل انسان نے کبھی نہیں دیکھا ، یہ کہ لوگوں کی نسلیں ، اگلوں پچھلوں کی یہاں سے اور وہاں سے اٹھ رہی ہیں۔ جس طرح دوسری جگہ آیا۔

یوم تشقق .................... سراعا ” وہ دن جبکہ زمین پھٹے گی اور وہ اس میں سے تیزی تیزی سے نکل بھاگیں گے “۔ منظر یوں ہے کہ تاحد نظر انسان ہی انسان نظر آتے ہیں۔ جو قبروں سے اٹھ رہے ہیں اور تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔ کسی طرف کسی کو توجہ نہیں ہے۔ آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ نظریں اٹھی ہوئی ہیں۔

مھطعین ................ الداع ” پکارنے والے کی طرف سر اٹھائے تیزی سے دوڑ رہے ہیں “۔ گردنیں بلند کی ہوئی ، نظریں پھٹی ہوئی۔

لکل ........................ یغنیہ (۳۷:۸۰) ” ہر شخص کو اس دن بس اپنی پڑی ہوگی “۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس کی تصویر کشی کسی انسانی زبان میں نہیں کی جاسکتی ۔ ” ہولناک “ اور ” خوفناک “ ،” حیرت زدہ کردینے والا “ اور ” مدہوش کردینے والا “۔ غرض یہ اور اس قسم کے تمام دوسرے الفاظ اس منظر کی تصویر کشی سے عاجز ہیں۔ ہاں صرف خیال وتصور کو ہم کسی قدر آگے بڑھا سکتے ہیں اور اس منظر کی تصویر کشی میں الفاظ کی بجائے خیال کی جو لانی ہوسکتی ہے۔ اپنی وسعت اور طاقت کے حدود کے اندر اندر۔

یومئذ ........................ اعمالھم (۶:۹۹) ” اس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے ، تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں “۔ اور یہ پھر اس منظر سے بھی شدید تربات ہے۔ اف ، ان کے سامنے تو ان کے اعمال پیش ہورہے ہیں ! کیا یہ اپنے اعمال کا سامنا کرسکیں گے ؟ کیا اس سزا کا مقابلہ کرسکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لئے بعض اوقات خود اپنے اعمال کا مقابلہ نہایت ہی تلخ ہوتا ہے۔ انسان بعض اوقات خود اپنے اعمال کا سامنا کرنے سے بھاگتا ہے حالانکہ لوگوں کو انکا پہ نہیں ہوتا ، لیکن جب توبہ وندامت کے وقت خود انسان کے اعمال اس کے سامنے آکر کھڑے ہوتے ہیں تو وہ سخت نادام ہوتا ہے ، اپنی نفسیات ، اپنے ضمیر سے بھاگتا ہے ، چہ جائیکہ کھلی عدالت میں اسے پیش ہونا ہو اور سب کے سامنے اس پر فرد جرم لگتا ہو اور عدالت کا سربراہ رب ذوالجلال ہو جو جبار اور متکبر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی کو اس کا عمل دکھانا بھی دراصل ایک خوفناک سزا ہے ، صرف یہ بات کہ کوئی اپنا جتھا دیکھے اور جو کچھ اس نے کیا ہے اس کا سامنا کرے۔ خصوصاً ایسے اوقات میں جبکہ حساب و کتاب ایسا ہو کہ اس میں ذرہ ذرہ درج ہو ، نہ شر کا ذرہ چھوڑا گیا ہو اور نہ خیر کار کا ذرہ چھوڑا گیا ہو۔

سُورَةُ الزَّلۡزَلَةِ: ۸

فمن یعمل ................................ یرہ (۸:۹۹) ” پھر جس نے ذرا برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھے گا “۔ پرانے مفسرین ذرے کی تفسیر مچھر کے برابر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے ذرہ وہ اڑنے والا چھوٹا ایٹم ہے جو سورج کی روشنی میں نظر آیا کرتا ہے۔ دراصل اس دور میں یہ وہ چھوٹی سے چھوٹی مقدار تھی جس کا وہ لوگ تصور کرسکتے تھے لیکن آج کے جدید زمانے میں ہم جانتے ہیں کہ ذرہ کیا ہے۔ وہ ایک متعین جسم ہے اور یہ یہ ذرہ سے بہت چھوٹا ہے جو فضا میں اڑرہا ہوتا ہے اور جو سورج کی روشنی میں نظر آتا ہے اس لئے کہ ہوا میں اڑنے والی یہ چھوٹی سی مقدار محض آنکھ سے دیکھی جاسکتی ہے۔ رہے ایٹم تو وہ صرف خوردبین کے ساتھ لیبارٹری میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سائنس دان اس ذرے کو دراصل اپنے ذہن اور عقل سے دیکھتے ہیں اور اس کے آثار کو آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ پس قیامت کے دن اس ذرے یعنی ایٹم جتنی بھلائی یا برائی کی کوئی بھی جزاء وسزا ہوگی۔ یہ چھوٹی سی نیکی اور بدی بھی اس کے کرنے والے کے سامنے پیش ہوگی ، اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔

یہاں آکر ہر انسان چوکنا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے خیروشر سے غافل نہیں رہتا ، اور یہ نہیں کہتا کہ یہ تو چھوٹا سا عمل نیک ہے یا یہ تو چھوٹی سی برائی ہے اور اس کا کوئی حساب و کتاب نہ ہوگا۔ اس نہایت ہی باریک اور لطیف ترازو کے سامنے ہر شخص کانپ اٹھتا ہے کہ جہاں ذرے کو بھی تولا اور ناپا جائے گا۔

اس جہاں میں تو ایسی کوئی میزان نہیں ہے جو اس قدر ناقابل وزن ذرے کو بھی ناپ اور تول سکے۔ البتہ قلب مومن میں جو تقویٰ کا میزان وہ ذرے کو ہی ناپتا اور تولتا ہے ۔ کیونکہ ایک مومن تو ذرے کے برابر گناہ سے بھی ڈرتا ہے۔ افسوس کہ اس جہاں میں ایسے سخت دل بھی ہیں جو پہاڑوں جیسے جرائم سے بھی نہیں ڈرتے ، بلکہ ایسے سنگدل لوگ بھی ہیں جو خیر کے ایسے ایسے پہاڑوں کو بھی مٹانے کے درپے ہیں جن کے سامنے اس زمین کے اونچے اونچے پہاڑ بھی ہیچ ہیں۔

یہ نہایت ہی سخت دل ہیں ، پتھروں جیسے سخت۔ یہ پتھروں کی طرح زمین کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور یہ دل جب قیامت کے دن آئیں گے تو اپنے گناہوں کے بوجھوں کے نیچے پس کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ (۱)

(۱) یہ پیراگراف خود سید قطب پر صادق آتا ہے جسے قی القلب ناصر نے اس جہاں سے مٹایا ، حالانکہ وہ نیکی کے ایک بلند پہاڑ تھے۔

سُورَةُ العَادِيَاتِ
سُورَةُ العَادِيَاتِ: ۱–۵

اللہ تعالیٰ یہاں سواروں کے دستے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ ان کی ایک ایک جنگی حرکت کو ترتیب کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ جب یہ دستہ اپنے حملے کا آغاز کرتا ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتا ہے۔ گھوڑے پھنکارمارتے آگے جارہے ہیں۔ یہ اپنے سموں سے پتھروں سے چنگاڑیاں نکالتے جاتے ہیں۔ پھر عین صبح کے وقت یہ دشمن پر ٹوٹ پڑتے ہیں ، یہ حملہ نہایت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور اچانک ہوتا ہے۔ حملہ کے وقت گھوڑوں کی بھگدڑ سے غبار اڑتا ہے۔ کیونکہ دشمن حملے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور اس کی حرکات غیر مرتب ہیں ، جب یہ دستہ دشمن کی صفوں میں خلاف توقع جاگھستا ہے تو سخت انتشار و اضطراب برپا ہوجاتا ہے۔

یہ کسی بھی حملہ کے وہ پے درپے اقدامات ہیں جن سے عرب خوف واقف تھے۔ اس قسم کے دستے اور گھوڑوں کی حرکات کی قسم کھانے کا مطلب یہی ہوا کہ اسلام میں اس قسم کے معرکے بہت محبوب ہیں ، یہ اللہ کو بھی محبوب ہیں ، اللہ ایسی حرکات کو اچھی نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ پسندیدہ قدریں ہیں۔

پھر ، یہ مناظر اور جنگی ایکشن ان معانی سے زیادہ ہم آہنگ ہیں جن پر یہاں قسم اٹھائی جارہی ہے ، جیسا کہ ہم نے تبصرے میں وضاحت کی۔ جس مفہوم اور معنی پر قسم اٹھائی جارہی ہے۔ یہ انسان کی ایک نفسیاتی بیماری ہے اور یہ انسان کو اس وقت لاحق ہوتی ہے جب انسان نفسیات ایمان سے خالی ہوں۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کرتا ہے تاکہ لوگ اس کے خلاف جدوجہد کریں ۔ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسانی نفسیات کے اندر یہ بیماری کس قدر گہری جڑیں رکھتی ہیں۔ اور انسانی شخصیت پر اس کے کتنے اثرات ہوا کرتے ہیں۔

599