بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلْأَشْقَى ٱلَّذِى يَصْلَى ٱلنَّارَ ٱلْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ ٱسْمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ إِنَّ هَـٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الطَّارِقِ
سُورَةُ الطَّارِقِ: ۱

سورة الطارق ایک نظر میں

اس پارے کے ابتدائیہ میں ہم نے بتایا تھا کہ یہ سورت دراصل انسان کے خوابیدہ احساس پر پے درپے شدید ضربات ہیں ، شدید ترین ضربات اور ایسی بےساختہ چیخ و پکار پر مشتمل ہے ، جو کسی ایسے شخص کو جگانے کے لئے کی جاتی ہے جو غفلت کی نیند میں غرق ہو ، یہ ضربات اور ان کے ساتھ یہ بےساختہ آوازیں کچھ اس مضمون کی ہیں۔ اٹھو ، جاگو ، دیکھو ، توجہ کرو ، غور کرو ، گہری سوچ سے کام لو۔ آخر اس کارخانہ قدرت کا ایک چلانے والا ہے۔ اس کائنات کی پشت پر ایک حکیمانہ قوت کام کررہی ہے۔ یہ پوری کائنات ایک لگے بندھے ضابطے کے مطابق چل رہی ہے۔ دیکھو اس جہاں میں تمہارا امتحان ہورہا ہے۔ تم اپنے اقوال وافعال کے ذمہ دار ہو ، پوری زندگی کا حساب و کتاب تم نے پیش کرنا ہے۔ ایک شدید عذاب بھی تیار ہے اور ایک عظیم نعمتوں بھری جنت بھی موجود ہے جس کا ایک عظیم مملکت کی طرح نظام ہے۔

یہ سورت ان خصوصیات کا نمونہ ہے۔ اس کی ضربات میں اسی طرح شدت ہے جس طرح ان کے مناظر شدید ہیں۔ موسیقی کا انداز بھی شدید ہے۔ الفاظ کا ترنم بھی شدید ہے ، اور معنوی اشارات میں بھی شدت ہے۔ مثلا الطارق ، الثاقب ، الدافق ، الرجع اور الصدع کے الفاظ لفظی اور معنوی اور ترنم میں شدت رکھتے ہیں۔

معنوی سختی کا نمونہ یہ ہے کہ ہر نفس کی نگرانی ہورہی ہے۔

ان کل .................... حافظ (۴:۸۶) ” کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو “۔ اور قیامت کے دن ایسے شدید حالات ہوں گے کہ کسی کے پاس نہ کوئی اپنی طاقت ہوگی اور کوئی مددگار ہوگا۔

یوم تبلی ............................ ولا ناصر (۱۰:۸۶) ” جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی اس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔ اور یہ قرآن کا آخری اور فیصلہ کن بات ہے۔

انہ لقول ........................ بالھزل (۱۴:۸۶) ” یہ ایک جچی تلی بات ہے یعنی مذاق نہیں ہے “۔ پھر اس سورة میں جو دھمکی دی گئی اس میں شدت اور سختی کا انداز شامل ہے۔

انھم ............................ رویدا (۱۷:۸۶)

” یہ لوگ کچھ چالیں چل رہے ہیں۔ میں بھی ایک چال چل رہا ہوں ، پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ایک ذرا کی ذرا ان کے حال پر “۔

جس طرح ہم نے پارے کے مقدمہ میں کہا تھا اس میں وہ تمام موضوعات پائے جاتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک الٰہ ہے ، یہ کائنات ایک تدبیر اور تقدیر کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ زندگی ایک آزمائش ہے ، انسان یہاں اپنے افعال واقوال کا ذمہ دار ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ جہاں جزاء وسزا ہوگی وغیرہ وغیرہ۔

جن کائناتی مناظر کو پیش کیا گیا ہے اور جن نظریاتی مقاصد کو پیش کیا گیا ہے ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مطابقت ہے۔ اور اس کی تفصیلی فصاحت اس وقت ہوگی جب ہم قرآن کریم کی آیات بھی بحث کریں گے۔ اپنے انداز بیان کے اعتبار سے قرآن کی آیات بو بےمثال حسن رکھتی ہیں۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۲–۳

وما ادرک ................ الطارق (۲:۸۶) ” تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا (طارق) کیا ہے ؟ “۔ گویا وہ ایک ایسی چیز ہے کہ انسان ادرک سے ماوراء ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید خود اس کی تعریف اور وضاحت کرتا ہے کہ وہ النجم الثاقب (۳:۸۶) ” چمکتا ہوا تارا “ ہے اسے ثاقب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی شعاعوں کے ذریعہ تاریکیوں کو پھاڑ کر اپنی روشنی زمین پر پھینکتا ہے۔ اس مفہوم کے اعتبار سے ہر ستارہ نجم ثاقب ہے۔ اس آیت سے ہم معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ ستارہ کون سا ہے اور نہ اس تعین کی چنداں ضرورت ہے بلکہ اس سے مطلق ستارہ مراد لینا ہی بہتر ہے۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا ” قسم ہے آسمان کی اور اس کے اندر موجود چمکتے ہوئے ستاروں کی جو تاریکیوں کو پھاڑ کر روشنی پہنچاتے ہیں “ اور وہ اس روشنی کے ذریعہ اس پردہ تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوجاتے ہیں جو دوسری چیزوں کو چھپا لیتا ہے۔ اس مفہوم سے سورت کے اندر بیان ہونے والے حقائق اور مفاہیم کی طرف بھی اشارہ ہوگا جیسا کہ آگے تشریح میں آرہا ہے۔

جواب قسم یہ ہے کہ ہر نفس سے اوپر اللہ نے اپنے حکم سے ایک نگران مقرر کررکھا ہے۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۴

ان کل .................. حافظ (۴:۸۶) ” کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو “۔ جن الفاظ اور جس ترکیب میں یہ بات کہی گئی ہے وہ سخت تاکیدی اسلوب ہے۔ نفی و اثبات کہ کوئی نفس نہیں ہے مگر اس پر نگراں مقرر ہے۔ جو اس کی نگرانی بھی کرتا ہے اور اس کے اعمال کو بھی لکھتا ہے۔ اور یہ نگران اس کی حفاظت بھی کرتا ہے اور اس کی تقرری اللہ کے حکم سے ہے۔ ان تمام باتوں کو نفس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ تمام انسانی راز تمام انسانی افکار ، انسانی نفس کے اندر ہوتے ہیں اور یہ نفس ہی سزا وجزا کا ذمہ دار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا کہ شتر بےمہار کی طرح جہاں چاہیں گھومیں پھریں اور ان کا کوئی محافظ اور چرواہا نہ ہو ، اور ان کو زمین کی وادیوں میں بغیر نگراں کے چھوڑ دیا گیا ہو ، کہ جہاں چاہیں گھومیں اور جہاں چاہیں چریں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ انسانوں کے اعمال کو بڑی دقت کے ساتھ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور یہ ریکارڈ ہر شخص کا براہ راست تیار ہورہا ہے اور نہایت صفائی کے ساتھ ہورہا ہے۔

یہ آیت اس بات اور خوفناک حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ انسان چاہے بظاہر اکیلا ہو ، اکیلا کسی وقت نہیں ہوتا ، جب دنیا میں کوئی بھی دیکھنے والا نہ ہو تو اللہ اور اللہ کا نمائندہ دیکھ رہا ہے اور ریکارڈ کررہا ہے ، اگر کوئی دنیاوی آنکھ اسے نہیں بھی دیکھ رہی اور کسی ستارے کی چمک بھی اس تک نہیں پہنچ رہی تو اللہ کی نظریں اس پر ہیں اور اللہ کا مقرر کردہ نگران ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس طرح جس طرح نجم ثاقب کی روشنی تاریکیوں کو پھاڑ پہنچ جاتی ہے ۔ اسی طرح اللہ کی نگرانی میں بھی کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ اور اللہ کا مقرر کردہ نگران ساتھ لگا ہوا ہے۔ اس طرح جس طرح نجم ثاقب کی روشنی تاریکیوں کو پھاڑ پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی نگرانی میں بھی کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ اور اللہ کے کمالات یکساں ہیں ، وہ جس طرح آفاق میں کام کرتے ہیں اسی طرح انفس میں بھی کرتے ہیں۔

یہ چٹکی کے ذریعہ نفس انسانی کے احساس کو بیدار کرکے اسے کائنات سے جوڑ دیا گیا ، اب ایک دوسری چٹکی کے ذریعہ اللہ کی گہری تدبیر اور اٹل تقدیر کے بارے میں اس کے احساس کو بیدار کیا جاتا ہے۔ آسمانوں اور ستاروں کی قسم اٹھا کر اس گہری تدبیر کی طرف اشارہ تھا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ انسان اور زمین اور ستاروں کی بات تو دور کی بات ہے یہ تمہارا نفس بھی کرشمہ قدرت ہے۔ خود انسان کی تخلیق ہی بتاتی ہے کہ یہ انسان شتر بےمہار نہیں ہے اور نہ خود رو ہے۔ اور نہ بےمقصد سلسلہ وجود وعدم ہے۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۵–۷

انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا اور پھر دیکھتے دیکھتے کیا بن گیا۔ ایک ایسے پانی سے پیدا کیا جو اچھل کر جسم انسانی سے نکلتا ہے اور یہ آتا کہاں سے ہے ، انسان کی پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔ یہ پانی مرد کی ریڑھ کی ہڈیوں سے جمع ہوتا ہے۔ اور عورت کی سینے کی بالائی ہڈیوں سے نکلتا ہے اور اس پانی کا بننا اور اس کا یوں خارج ہونا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز تھا جسے انسان ابھی تک نہیں جانتا تھا ، گزشتہ نصف صدی میں سائنس نے اپنے اسلوب تحقیق کے مطابق اس کے بعض پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا اور معلوم ہوا کہ انسان کی پیٹھ کی ہیوں اور عورت کے سینے کی بلائی ہڈیوں کے اندر عورت کا مادہ منوبہ بنتا ہے اور یہ دونوں مواد جب ایک نہایت ہی محفوظ جگہ میں اکٹھے ہوتے ہیں تو پھر ان سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔

حقیقت ہے کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اور آخری شکل تمام کے درمیان ایک طویل اور خوفناک سفر ہے۔ وہ پانی جو ریڑھ کی ہڈیوں اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کے اور پھر ایک مکمل شکل و صورت کے انسان کے درمیان ایک طویل سفر ہے ، جو عقل بھی رکھتا ہے۔ وہ عضوی ، اعصابی ، عقلی اور نفسیاتی پیچیدہ ترکیب بھی رکھتا ہے۔ یہ سفر جو اچھلتا پانی طے کرکے ایک عاقل وبالغ انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے باہر ایک قوت ہے جو اس مائع پانی کو ایک سمت میں چلاتی ہے ، جبکہ ابتدائی حالت میں اس پانی کے اندر نہ قدرت ہے نہ کوئی ہیولا ہے ، یہ پانی یہ طویل سفر نہایت ہی عجیب و غریب انداز میں طے کرتا ہے اور اس انجام تک پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس پر ایک نگران مقرر ہے کہ وہ اس باریک نکتے کی نگرانی کرتا ہے جس کے اندر نہ عقل ہے اور نہ اس کے اندر کوئی ہیولا نظر آتا ہے۔ نہ قوت ہے اور نہ ارادہ ہے اور اس نکتے کے اس طویل سفر میں مسلسل نگران رہتا ہے۔ اس نکتے کے اندر اس قدر عجائب ہیں کہ انسان اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے انتہا تک اس قدر عجائب وغرائب نہیں دیکھ سکتا۔

یہ ایک نکتہ نہایت ہی باریک نکتہ ہوتا ہے اور یہ نہایت طاقتور خوردبین سے بھی بمشکل نظر آتا ہے۔ یہ پانی جب ایک بار مرد کی پشت سے اچھل کر نکلتا ہے تو اس کے اندر ایسے کروڑوں نکتے ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک نکتہ اپنے مقام تک پہنچتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اس نکتے کی کوئی شکل نہیں ہوتی اس کے اندر عقل نہیں ہوتی ، اس کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی ، اور کوئی ارادہ نہیں ہوتا ، اس وقت معلوم ہوجاتی ہے جب یہ نکتہ رحم مادر میں جاکر ٹھہرتا ہے اور پھر غذا کا متلاشی ہوتا ہے۔ اب دست قدرت اس کی رہنمائی یوں کرتا ہے کہ یہ نکتہ اپنے ارد گرد پائے جانے والے رحم مادر کی دیواروں کو کھانا شروع کردیتا ہے اور یہ رحم مادر کے اندر اپنے لئے خون کا ایک حوض بنا لیتا ہے۔ یہ خون اس کے لئے غذا کا کام کرتا ہے۔ جونہی اسے اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی خوراک کا انتظام ہوگیا ہے۔ یہ ایک نئی کاروائی شروع کرتا ہے۔ اب یہ تقسیم در تقسیم ہونا شروع کرتا ہے۔ اور مسلسل تقسیم ہوتا رہتا ہے۔ یہ سادہ ، بےعقل اور بےشکل اور ضعیف وناتواں اور قوت و ارادے سے محروم خلیے کو معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کس طرف بڑھنا ہے۔ یہ دست قدرت ہی ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اسے قوت وا ارادہ سے نوازتا ہے کہ اسے کدھر جانا ہے اور کیا شکل اختیار کرنی ہے۔ دست قدرت اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس مسلسل تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے خلیوں کو اس کام میں لگادے جس کے لئے انہیں پیدا کیا جارہا ہے۔ اس عمارت کے جس حصے کے لئے خلیے پیدا ہوتے ہیں وہ اس عضو کی طرف بڑھتے ہیں جبکہ جسم انسانی کی عمارت مجموعی اعتبار سے بےحد پیچیدہ عمارت ہے۔ تقسیم کے عمل سے پیدا ہونے والے یہ خلیے مسلسل چلتے ہیں اور ان اعضا کی شکل میں جمع ہوتے ہیں اور آخر کاء یہ عظیم ہیکل تیار ہوتا ہے۔ یہ خلیے انسان کے جسم کے اندر عضلاتی نظام تیار کرتے ہیں۔ پھر ان کا ایک گروپ اعضابی نظام تیار کرتا ہے۔ ان کا ایک گروپ شرائین کا جال بچھاتا ہے۔ یہ اور اس عمارت کے دوسرے پیچیدہ نظام تیار ہوتے ہیں لیکن یہ تعمیر وتشکیل کا عمل اس قدر سادہ نہیں ہے جس طرح سمجھا جاتا ہے۔ اس نظام کے اندر نہایت ہی گہری ٹیکنالوجی کام کرتی ہے۔ ہڈیوں میں سے ہر ہڈی ، عضلات میں سے ہر ایک عضلا اور اعصاب میں سے ہر ایک پٹھا ، کسی دوسری ہڈی ، پٹھے کے پوری طرح مشابہ اور یکساں نہیں ہے۔ کوئی پٹھا دوسرے اعصاب کے ساتھ یکساں نہیں ہے کیونکہ یہ عمارت بےحد پیچیدہ ہے۔ اس کی ساخت بھی نہایت عجیب ہے۔ ہر ایک کا فعل اور فریضہ الگ ہے۔ اس لئے ہر خلیہ معلم قدرت سے یہ بات سیکھتا ہے اور اخذ کرتا ہے کہ وہ کس مخصوص عضو کے لئے مخصوص ہے۔ اور اس نے اس عضو کے اندر پھر کیا ڈیوٹی سرانجام دینی ہے۔ اس لئے جسم کے اندر جو چھوٹے سے چھوٹا خلیہ بھی حرکت کرتا ہے ، معلم قدرت کی رہنمائی میں وہ اپنی راہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس نے کہاں جانا ہے اور اس کی ڈیوٹی کیا ہے اور اس نے کیا کرنا ہے۔ کوئی ایک خلیہ یا ان کا گروپ بھی کبھی اپنی راہ غلط نہیں کرتا۔ مثلاً جو خلیے آنکھ بناتے ہیں ، ان کو معلوم ہوتا ہے کہ آنکھ سر میں ہوتی ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیٹ یا پاﺅں یا بازوﺅں میں آنکھیں بنائیں۔ حالانکہ اگر اللہ چاہے تو وہ پیٹ ، ہاتھ اور پاﺅں میں کسی جگہ آنکھ بنا دے۔ اگر آنکھ بناننے والا پہلا خلیہ ان مقامات کی طرف چلا جائے اور وہاں آنکھ بنادے تو وہ بناسکتا ہے لیکن جب آنکھ کا خلیہ سفر کرتا ہے تو وہ اسی مقام کی طرف سفر کرتا ہے جو اس کے لئے اس انسانی پیچیدہ ہیولا کے اندر مخصوص کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خلیے کو یا ان خلیات کو یہ احکام کون دیتا ہے۔ کون ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آنکھ کو اس جگہ ہونا چاہئے اور اس جگہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی حافظ و برتر ہے جو ان خلیات کی نگرانی کرتا ہے ، ان کو ہدایت دیتا ہے ، ان کو راہ بتاتا ہے اور ایسی تاریکیوں میں رہا بتاتا ہے جہاں الہل کے سوا کوئی اور راہ بنانے والا ہوتا ہی نہیں ہے۔

یہ تمام خلیے ، اجتماعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر اس فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں جو ان کے لئے ان خلیات کا مجموعی نظم طے کرتا ہے۔ اس مجموعی نظم میں اس عضو کی شکل بھی ہوتی ہے اور اس کے اندر وراثتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں ، مثلاً اگر انسان کی آنکھ کے خلیات ہیں تو وہ ایک تو انسانی آنکھ بنائیں گے اور دوسرے یہ کہ اس آنکھ کے اندر اس انسان کے آباء و اجداد کی مخصوص شکل و صورت بھی محفوظ ہوگی۔ اس نقشے سے معمولی انحراف بھی اس عضو کے نظام کو خراب کردیتا ہے۔ تو سوال پھر یہی ہے کہ وہ ہستی کون ہے جس نے خلیات کو یہ قدرت دی اور ان کو ایسا منظم عمل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ حالانکہ یہ ایک سادہ خلیہ ہوتا ہے اور اس میں عقل وادراک نہیں ہوتا۔ نہ قوت اور ارادہ ہوتا ہے۔ اس سوال کا سیدھا سادھا جواب یہی ہے کہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان خلیات کو وہ کچھ سکھاتا ہے کہ انسان نہ اس قسم کا نقشہ بناسکتا ہے۔ نہ ایک عضوتیار کرسکتا ہے۔ نہ ہاتھ ، نہ آنکھ ، نہ ان کا کوئی حصہ۔ اس کے برعکس ایک سادہ خلیہ یا خلیات کا مجموعہ یہ کام کر دکھاتا ہے ، جہ نہایت ہی عظیم اور پیچیدہ کام ہے۔

ایک خلیے سے انسان تک اس سفر کے اس سرسری جائزے کے اندر ایک جہاں ہے عجائبات اور انوکھی چیزوں کا ، یعنی اچھلتے پانی سے انسان بننے تک کے مراحل میں۔ اعضاء کا نظام ، ان عجائب کی تفصیلات بیان کرنے سے بھی ہم عاجز ہیں۔ اور نہ ظلال القرآن کے محدود صفحات میں یہ ممکن ہے لیکن یہ سب عجائبات اس بات پر شاہد ناطق ہیں کہ ایک خفیہ دست قدرت ہے جو ان خلیوں سے یہ کام کرواتا ہے۔ ان حقائق سے ایک تو وہ حقیقت ثابت ہوتی ہے جس پر آسمان اور الطارق کی قسم اٹھائی گئی ہے اور یہ قسم اور جواب قسم دوسری عظیم حقیقت کے لئے ایک تمہید ہے کہ تمام انسانوں نے ، اسی طرح ایک بار پھر خود کار انداز سے اپنی قبروں سے اٹھنا ہے لیکن اس دوسری حقیقت کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے جو قرآن کے اولین مخاطب تھے ، جن کے سامنے یہ سورت سب سے پہلے اتری تھی۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۸

یہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نگہداشت کی۔ لہٰذا اس پر قادر ہے کہ موت کے بعد اسے زندگی بخشے اور مرکر مٹی میں مل جانے کے بعد اسے حیات جدید دے۔ اللہ کی پہلی تخلیق جس کا اوپر ذکر ہوا ، یہ شہادت دے رہی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ پہلی زندگی اللہ کی تدبیر اور اللہ کی قدرت پر شاہد عادل ہے کیونکہ پہلی تخلیق میں نہایت حکیمانہ ٹیکنالوجی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کو دوبارہ زندہ کرنے اور حساب و کتاب لینے کو تسلیم نہ کیا جائے تو پہلی تخلیق کا پورا نظام عبث ہوجائے گا۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۹

یوم تبلی السرآئر (۹:۸۶) ” جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی “۔ جب چھپے ہوئے راز کھلیں گے اور وہ پردے جن کی تہوں میں راز پوشیدہ ہوں گے ہٹ جائیں گے ، ان رازوں کی جانچ ہوگی وہ ظاہر اور کھلے ہوں گے اور راز نہ رہیں گے ، جس طرح چمکتا ہوا تارہ اندھیروں سے نمودار ہوتا ہے اور جس طرح نفس انسانی پردوں کے اندر ملفوف ہوتا ہے اور اس کا حافظ اس کی ہر بات جانتا ہے تو جس دن انسان کے پاس نہ قوت ہوگی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہوگا ، اس دن سب کچھ سامنے آجائے گا۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۱۰

فمالہ .................... ناصر (۱۰:۸۶) ” اس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا “۔ یعنی نہ ذاتی قوت ہوگی اور نہ خارج سے کوئی امداد ملے گی۔ اور کوئی بات پوشیدہ بھی نہ رہے گی اور انسان کی تمام کمزوریاں ظاہر ہوجائیں گی تو یہ بہت ہی سخت گھڑی ہوگی۔ ایسے حالات کا احساس انسان پر گہرا اثر ڈالتا ہے ، کہ یہ کائنات ، پھر نفس انسانی ، پھر تخلیق انسانی کے مختلف مدارج اور آخر کار قیامت کے دن انسان کی بےبسی کہ جب تمام راز کھل جائیں گے ، اور تمام قوتیں اور سہارے ختم ہوں گے۔

شاید اب بھی کسی قدر شک باقی رہ گیا ہے۔ نفس انسانی کے اندر کچھ خلجان موجود ہے اور بعض اوقات نہایت ہی موثر کلام اور اٹل دلائل کے بعد بھی انسان کے شبہات رہتے ہیں۔ اس لئے پھر تاکید قسموں کے بعد بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور یہاں بھی اس قرآن اور کائنات کے درمیان ربط پیدا کرکے بات کی جاتی ہے جس طرح آغاز سورت میں کیا گیا۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۱۱–۱۴

الرجع کے معنی ہیں لوٹنے کے ، آسمان بار بار بارش برساتا ہے اور الصدع کے معنی پھٹنے کے ہیں اور بارش کے بعد جب زمین سے نباتات اگتے ہیں تو وہ پھٹتی ہے اور اس سے پودے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں زندگی کی ایک قسم کا اظہار کرتی ہیں۔ یعنی نباتات اور ان کی پہلی زندگی کہ آسمانوں سے پانی برستا ہے اور پھر نباتات اگتے ہیں۔ یہ تمثیل اس سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے کہ نطفے کا پانی اچھل کر برسے ، اور آسمان کے بجائے ریڑھ اور سینے کی ہڈیوں سے نکلے اور رحم کے اندھیروں سے بچہ نمودار ہو۔ گویا ایک ہی زندگی ہے اور ایک ہی منظر ہے ، ایک ہی قسم کی حرکت ، ایک ہی نظام اور ایک ہی قسم کی تخلیق ہے اور دونوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا صانع ایک ہے۔ اور کوئی معقول انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کہ وہ ایسی کوئی تخلیق کرسکتا ہے اور ان تخلیقات کے ہم شکل کوئی مخلوق بناسکتا ہے۔

یہ منظر چمکتے ہوئے ستارے کے منظر کے بھی ہم رنگ ہے۔ ایسے ستارے کی روشنی بھی ظلمتوں کے پردے پھاڑ کر سامنے آتی ہے اور جس طرح یہ روشنی نمودار ہوتی ہے اس طرح چھپے ہوئے راز بھی نمودار ہوں گے گویا یہ مناظر بھی ہم رنگ ہیں۔ اور ان سے بھی ایک ہی صانع کی قدرت کا پتہ چلتا ہے۔

یہ دوکائناتی مخلوقات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے یا کائناتی حادثات ہیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے آسمان جو بار بار بارش برساتا ہے اور زمین جو نباتات کے اگنے کی وجہ سے با ربار پھٹتی ہے۔ ان دونوں واقعات یا حادثات کا منظر ، اس منظر کے اندر پوشیدہ اشارات اور خود ان الفاظ صدع اور رجع کی قطعیت اور سختی اور پھر ان کے ساتھ اللہ کی قسم اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دوبارہ زندگی اور باز پرس قطعی بات ہے۔ مذاق نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ پورا قرآن مجید ایک قطعی بات کرتا ہے اور اس کے اندر کوئی بات محض بات کے لئے نہیں کی گئی۔ اس میں جو تصورات بیان کیے گئے ہیں وہ فیصلہ کن خیالات اور نظریات ہیں اور وہ حق اور سچائی ہیں جن کے اندر کوئی شبہ اور شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ آخری بات ہے ، اللہ کا آخری کلام ہے۔ اس کے بعد کوئی لکام نہیں ہے۔ اور اس کے حقائق میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اور زمین وآسماناس پر شاہدعادل ہیں خصوصاً بارش برسانے والا آسمان اور فصلیں اگانے والی زمین۔

ان حقائق کے بیان کے سایہ میں ، کہ تمام انسانوں کو اٹھایا جائے گا اور ان سے باز پرس ہوگی ، روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور اس مٹھی بھر جماعت کی طرف پھرجاتا ہے جو مکہ مکرمہ میں نہایت ہی کٹھن حالات سے گزر رہے تھے۔ اور ان کے خلاف اور ان کی دعوت اور تحریک کے خلاف رات دن کی سازشیں ہورہی تھیں۔ اور اس کام کے لئے یہ ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے ، اور اسلامی تحریک کے مقابلے میں مختلف تدابیر اختیار کرتے تھے اور دعوت اسلامی کے پھیلنے کے راستے بند کرتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ نئے ہتھکنڈے استعمال کرتے تھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدر رہیں اور ان لوگوں کی سازشوں کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ایک وقت تک یہ مخالفت ہوگی اور آخرکار کامیابی آپ کے قدم چومے گی ، اس دعوت کی قیادت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ صبر اور اطمینان سے کام جاری رکھیں۔ اللہ خود تدابیر اختیار کررہا ہے۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۱۵–۱۶

ان لوگوں کی حقیقت تو ہم نے بھی بتادی ہے ، یہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیے گئے ہیں جو والد کی پیٹھ اور والدہ کے سینے سے نکلتا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پانی میں نہ طاقت تھی ، نہ قوت اور نہ ارادہ۔ نہ علم اور نہ ہدایت۔ ان لوگوں کو تودست قدرت اس طویل طریقے سے وجود میں لائی ہے اور ایک دن دوبارہ ان کو اسی طرح پیدا کیا جائے گا اور ان کے تمام راز کھل جائیں گے اور پھر اسی طرح بےبس اور بےکس ہوں گے۔ یہ لوگ اللہ کی تحریک کے خلاف سازشیں کررہے ہیں ؟ میں ان کا خالق ، ہدایت دینے والا ، حفاظت کرنے والا ، پیدا کرنے والا ، مارنے والا اور دوبارہ لوٹانے والا ہوں ، ان کو میں نے اس امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ میں قادر اور قاہر ہوں اور آسمانوں پر چمکتے ستاروں کا پیدا کرنے والا ہوں۔ جس پانی سے وہ پیدا ہوئے ہیں اور اسے ایک بولنے اور سوچنے والا انسان بنایا ، اللہ ہی نے یہ آسمان بنایا ہے جو بارش برساتا ہے اور اس میں نباتات پیدا کرتا ہے۔ یہ کام کرنے والا میں ہوں اور میں بھی ان کی تدابیر کے مقابلے میں تدابیر کرتا ہوں۔

اب ایک طرف ان لوگوں کی سازشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ کی تدابیر ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ، اس جنگ کا درحقیقت ایک ہی فریق ہے ، دوسرا فریق جو بظاہر نظر آتا ہے وہ محض مذاق کے لئے ہے۔

سُورَةُ الطَّارِقِ: ۱۷

فمھل ................ رویدا (۱۷:۸۶) ” پس چھوڑ دو اے نبی ان کافروں کو ان کو تھوڑی سی مہلت دے دو “۔ جلدی نہ کرو ، اس معرکے کا انجام دور نہیں ہے۔ آپ نے اس معرکے کی حقیقت کو دیکھ لیا ہے ، ان لوگوں کو ذرا سی مہلت بھی ایک بڑی حکمت کے تحت دی جارہی ہے ، اور یہ مہلت قلیل ہی ہے۔ اگرچہ تمہاری پوری زندگی اس میں لگ جائے اس لئے انسانوں کو جو عمر اس دنیا کے لئے دی گئی ہے ، وہ تو قلیل ہی ہے۔

انداز تعبیر محبت بھرا ہے ، اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کو مہلت دے دیں۔

فمھل…………رویدا (۱۷:۸۶) ” آپ ان کافروں کو مہلت دے دیں ایک تھوڑے وقت کے لئے “۔ گویا نبی ﷺ کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا مہلت دینا آپ کے اختیارات میں ہے حالانکہ درحقیقت رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے ، یہ ایک انداز محبت ہے۔ اور اس انداز سے حضور اکرم رحمت و شفقت کے جھونکے محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ کی یہ خواہش کہ فوری کامیابی ہو ، اس فضا میں ڈوب جاتی ہے ، یوں اللہ آپ کے ارادے کو اپنے ارادے میں ملا دیتا ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اختیارات میں شریک ہی ، یوں آپ کے سامنے سے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں اور آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں قطعی فیصلے ہوتے ہیں۔ گویا یہ کہا جارہا ہے کہ یہ اختیارات آپ کے ہاتھ میں ہیں لیکن آپ قدرے مہلت دے دیں۔ یہ انداز محبت ہے ۔ نہایت ہی لطیف انداز انس و محبت۔ ایسے انداز گفتگو سے وہ تمام کلفتیں دور ہوجاتی ہیں جو اس راہ میں آپ کو پیش آرہی تھیں۔ تمام تھکاوٹیں ، تمام مشکلات دور ہوجاتی ہیں ، مشکلات اور مشقتوں کے پہاڑ پگھل جاتے ہیں اور فضا پر انس و محبت کے سائے چھاجاتے ہیں۔

سُورَةُ الأَعۡلَىٰ
سُورَةُ الأَعۡلَىٰ: ۱–۵

سبح اسم ..................... احوی

سورت کا آغاز نہایت ہی نرم اور نہایت لمبے آہنگ سے ہوتا ہے ، اس لمبے ٹون کے ذریعہ فضا میں تسبیح کی خوشگوار اور خوشبودار آواز بکھیر دی گئی ہے۔ اس کے بعد پھر تسبیح کا حکم اور پھر وہ صفات جن کو تسبیح کے بعد لایا گیا ہے۔

سبح اسم……………. احوی (۱:۸۷ تا ۵) ”(اے نبی ! ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی ، جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ تاکہ اس تسبیح کے ذریعہ اس پوری کائنات کے اطراف واکناف میں تسبیح کی یہ آوازگونجاٹھے اور پوری کائنات ایک معبد نظر آئے اور ایک عبادت گاہ کے ساتھ ساتھ پوری کائنات صانع قدرت کی مصنوعات کی نمائش گاہ بھی بن جائے۔

الذی…………فھدی (۳:۸۷) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بناکر اسے ہدایت بخشی “۔

تسبیح کے کیا معنی ہیں ۔ اللہ کی برتری ذہن میں بسانا ، اللہ کو ہر عیب سے پاک سمجھنا اور ذہن میں اللہ کی صفات حسنی کا استحضار اور ان چیزوں کی روشنی ، چمک اور نورانیت سے اپنے ذوق ووجدان اور قلب و شعور کو روشن رکھا ، نام ہے تسبیح کا۔ محض زبان سے سبحان اللہ جپنے کو تسبیح نہیں کہتے۔

سبح……………. الاعلیٰ (۱:۸۷) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو “۔ یہ الفاظ انسانی وجدان اور شعور پر ایک حالت طاری کردیتے ہیں۔ یہ وجدانی حالت ایسی ہوتی ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو ایک وجدانی اور ذوقی چیز ہے اور ایک ایسی زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق کچھ معانی اور کچھ صفات کے استحضار سے ہے نہ کہ کچھ الفاظ رٹنے سے۔

یہ معانی وصفات کیا ہیں ؟ پہلی صفت ، صفت ربوبیت ہے۔ اور دوسری صفت اعلیٰ ہے ۔ رب کے معنی مربی ، نگران اور پالنے والے کے ہیں۔ ان صفات کے سائے اور پرتو اس سورت کی فضا اور اس کے اندر بیان کی جانے والی خوشخبریوں کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، خصوصاً اس کے نرم انداز کے ساتھ۔ صفت اعلیٰ پردہ شعور پر ایسی تصاویر لاتی ہے جن سے علو ، برتری اور غیر متناہی اور غیر محدود وآفاق کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی روح دور تک تسبیحات کرتی ہے اور اس تصور علو سے تسبیح میں پاکی اور عظمت کے ساتھ مناسبت پیدا ہوتی ہے اور تسبیح اپنے بنیادی عناصر کے اعتبار سے تصور علو رب کا نام ہے۔

ابتدائی خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہے ، اور یہ براہ راست اللہ کی طرف سے آپ کو خطاب ہے۔ حضور اکرم ﷺ جب اس حکم ربی کو پڑھتے تھے۔

سبح ” پاکی بیان کرو “ تو اگلی آیات پڑھنے سے پہلے آپ اس حکم پر عمل کرلیتے اور آپ فرماتے :

سبحان ربی الاعلیٰ ” میں اپنے رب اعلیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں “۔ یوں حکم اور جواب حکم یا تعمیل حکم ہوجاتا ۔ امر کی اطاعت ہوجاتی اور اللہ کے ساتھ مناجات اور سوال و جواب ہوجاتا۔ کیونکہ حضور رب کے سامنے کھڑے ہوتے۔ براہ راست یہ کلام رب تعالیٰ سے لے رہے ہوتے تھے اور اس اتصال اور قرب کی حالت میں جواب دے دیتے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو حکم دیا کہ یہ تسبیح سجدے میں پڑھا کرو۔

(اجعلوانی سجودکم) اور اس سے قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تھی۔

فسبح……………. العظیم ” اپنے رب عظیم کے نام کا تسبیح کرو “۔ تو آپ نے حکم دیا کہ اس کو رکوع میں پڑھو چناچہ رکوع میں سبحان ربی العظیم پڑھنا شروع کیا گیا۔ پس رکوع و سجود کی یہ تسبیح ایک زندہ تسبیح ہے ، محض مردہ کلمات نہیں ، جس طرح ایک زندہ چیز کا جسم حیات اور زندگی سے گرم ہوتا ہے ایسی ہی تسبیح نماز میں مطلوب ہے تاکہ اس تسبیح سے براہ راست حکم خداوندی کی تعمیل ہوجائے یا بالفاظ دیگر اجازت خداوندی کی تعمیل ہو ، کیونکہ اللہ کا اپنے بندوں کو یہ اجازت دینا کہ اس کی حمدوثنا کرو ، یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہے۔ کیونکہ اس طرح انسان کو یہ اجازت ملتی ہے کہ وہ اپنے حد تصور کے مطابق اللہ کے قریب ہوجائے۔ کیونکہ انسان اللہ کی ثنا اللہ کی ذات وصفات میں اپنے محدود تصور کے مطابق ہی کرسکتا ہے۔ اور یہ اللہ کے فضل وکرم کی ایک شکل ہے کہ اللہ اپنی ذات کی معرفت اپنے بندوں کو اپنی صفات کے ذریعہ کرواتا ہے۔ ایسی حدود میں کہ جن کے اندر وہ اللہ کی معرفت کا تصور کرسکتے ہیں۔ اللہ اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے اپنے بندوں کو جس شکل و صورت میں بھی اجازت دیتا ہے ، یہ ان پر فضل وکرم کی ایک صورت ہوتی ہے۔

سبح اسم……………. فھدی (۱:۸۷ تا ۳) ” اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا ، اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی ، پھر راہ دکھائی “۔ یعنی ہر چیز کو پیدا کیا اور نہایت مناسب شکل میں پیدا کیا اور اس تخلیق کے ہر پہلو کو کامل بنایا۔ اس حد تک کامل کہ کوئی اس میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کی فلاں چیز اس کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اللہ نے تقدیریوں بنائی کہ ہر چیز کے لئے اس کا فرض منصبی مقرر کردیا اور اس کا مقصد تخلیق اور اس مقصد کو پورا کرنے کا طریقہ بھی اسے سمجھا دیا۔ ہر چیز کو عجیب الہامی انداز میں یہ تعلیم دی گئی۔ ہر چیز کو یہ شعور بھی بذریعہ الہام دے دیا کہ اس کی مقررہ زندگی کے لئے اس کو کس چیز کی ضرورت ہے۔

یہ ایک عظیم حقیقت ہے اور اس کائنات کی جس چیز کا تجزیہ کیا جائے اس کے اندر یہ حقیقت موجود ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز میں ، خواہ بڑی ہو یا چھوٹی ہو ، اہم ہو یا حقیر ہو ، ہر چیز کی تخلیق میں تسویہ اور تناسب موجود ہے۔ ہر چیز کامل الخلقت ہے اور ہر چیز کی تخلیق کا ایک مقصد ہے اور وہ مقصد اس کی تقدیر ہے ، اور ہر چیز کو اللہ نے اپنا مقصد وجودپورا کرنے کے لئے نہایت ہی آسان طریقہ کار فراہم کردیا ہے۔ غرض اللہ کی ہر مخلوق مکمل اور متناسب ہے۔ اور ہر چیز اپنا انفرادی فریضہ ادا کرتی ہے۔

مثلاً ایٹم ایک اکیلا ایٹم ، پر ٹون اور الیکٹرون کی برقی رفتار کے اندر اسی قدر توازن رکھتا ہے جس طرح ایک کہکشاں اپنے سورج اور اس کے تابع ستاروں کے درمیان توازن رکھتی ہے۔ ایک ایٹم اپنے مقصد اور فریضے کو اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح ایک کہکشاں پورا کرتی ہے۔ دونوں کو انپا مقصد اور طریقہ حصول مقصد معلوم ہوتا ہے۔

ایک منفرد خلیہ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اور اس کے اندر اپنا مقصد تخلیق پورا کرنے کی پوری استعداد ہوتی ہے اور وہ اپنا مقصد اسی طرح پورا کرتا ہے جس طرح کوئی اعلیٰ مرکب اور پیچیدہ مخلوق کرتی ہے۔

پھر ایک منفرد ایٹم اور کسی کہکشاں کے درمیانی درجات پر الگ الگ مخلوق ہے۔ جس طرح ایک منفرد خلیہ اور پیچیدہ ترین مخلوقات کے درمیان زندہ مخلوقات کے مختلف درجے اور ان کی تنظیم ہے۔ اور ہر درجے اور ہر تنظیم کی تخلیق میں کمال اور تسویہ ہے اور ہر ایک کے لئے انفرادی فرائض اور اجتماعی مقاصد ہیں۔ دست قدرت الہامی طریقے سے ان سے یہ کام کراتا ہے اور اس گہری حقیقت یعنی تخلیق وتسویہ کا یہ کام پوری کائنات پر شاہد عادل ہے۔

اس حقیقت کو انسانی قلب پاسکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کائنات کے اشارات اخذ کرنے کے لئے تیار ہو اور کھلے دل سے وہ اس کائنات کی موجودات پر غور کرے۔ انسان کا اکتسابی علم جس درجے کا بھی ہو اور وہ ترقی یافتہ معاشرے کافرد ہو یا پسماندہ معاشرے کا فرد ہو وہ کائنات کی ان اشیاء سے یہ الہامی اشارات اخذ کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل و دماغ کے دریچے بھی ان اشارات کو پانے کے لئے تیار ہوں اور کھلے ہوں اور کسی عقل وخرد کے تار اس قابل ہوں کہ وہ مضراب حقیقت کے جواب میں نغمہ بار ہوسکیں۔

اس کے بعد کائنات کا مشاہدہ اور کسی علم آتے ہیں اور انسان مطالعہ فطرت میں پہلی نظر سے جو الہام پاتا ہے ، تمام مشاہدات اس کی تائید کرتے ہیں ، بعض لوگوں نے مشاہدہ کائنات کے ذریعہ ایسے اشارات جمع کیے ہیں جو اس کائنات کے اندر پوشیدہ مجموعی حقیقت کے چہرے سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

نیویارک کی سائنسی علوم کی اکیڈمی کے صدر کریسی موریسن اپنی کتاب ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “ میں اپنے مشاہدات یوں قلم بند کرتے ہیں۔

” پرندوں میں وطن لوٹنے کا ایک ملکہ ہوتا ہے ، ایک خاص چڑیا جو دروازوں پر گھونسلے بناتی ہے ، خزاں کے موسم میں جنوب کی طرف ہجرت کرجاتی ہے اور اگلے سال بہار میں اپنے اسی مقام کی طرف لوٹ آتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں امریکہ کے اکثر پرندے جنوب کی طرف جاتے ہیں اور وہ سمندروں اور صحراﺅں پر سے پرواز کرتے ہوئے ہزاروں میل سفر کرتے ہیں اور کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتے۔ اور پیغام رساں کبوتر پنجرے میں طویل سفر کرتے ہیں اور جب ان کو پیغام کر چھوڑا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر کے لئے حیران ہوکر چکر لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ سیدھے اپنے وطن کی طرف پرواز کرتے ہیں اور کبھی راہ نہیں بھٹکتے ۔ شہد کی مکھی اگر کسی طرف جائے اور اس کے پیچھے نشانات راہ کسی طوفان کی وجہ سے مٹ جائیں تو بھی وہ راہ نہیں بھولتی اور سیدھی چھتے پر آجاتی ہے۔ البتہ انسان کے اندر یہ جبلت کمزور ہے اور انسان اس کمی کو اپنے آلات اور عقل کے ذریعہ پوری کردیتا ہے۔ باریک کیڑے مکوڑے بھی نہایت ہی چھوٹی اور خوردبینی آنکھیں رکھتے ہیں اور یہ نہایت ہی مکمل آنکھیں ہوتی ہیں۔ باز اور عقاب وغیرہ کی آنکھیں دور بین کی طرح ہوتی ہیں ، انسانی آنکھ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس کمی کو بھی انسانی عقل و تجربہ نے پورا کیا ہے۔ چناچہ ان دوربینوں کے ذریعہ انسانسحابیوں کو دیکھ لیتا ہے اور اس نے ان کو دیکھنے کے لئے انسانی نظر کو بیس لاکھ گنا تیز کیا۔ نیز انسان نے ایسی خورد بینیں ایجاد کیں جن کے ذریعے وہ بیکٹریا اور دوسرے نہ نظر آنے والے کیڑے مکوڑے دیکھتا ہے۔

اب ذرا تم اپنے بوڑھے گھوڑے کو راستہ پر چھوڑدو۔ جس قدر اندھیرا بھی ہو وہ راستہ نہ بھولے گا۔ وہ سخت تاریکی میں بھی دیکھ سکتا ہے اگرچہ بہت واضح نہ سہی۔ وہ راستہ میں اور اس کے دونوں جانب درجہ حرارت کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اس کی آنکھیں انفراریڈ شعاعوں کے ذریعہ معلوم کرلیتی ہیں۔ الو ایک گرم چوہے کو سردگھاس کے نیچے چلتا پھرتا دیکھ لیتا ہے اگرچہ سخت اندھیرا ہو اور انسانوں نے تو بجلی کے قمقموں کے ذریعہ تاریک رات کو دن بنادیا ہے “۔

” شہد کی مکھیوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ کارکن مکھیاں چھتے میں مختلف قسم کے کمرے بناتی ہیں۔ یہ تربیت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹے کمرے کارکنوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بڑے کمرے مردوں کے لئے اور ملکہ کے لئے خاص کمرے تیار ہوتے ہیں۔ یہ ملکہ مجھی جب غیر بار آورانڈہ دیتی ہے تو اسے مردوں کے کمرے میں رکھ دیتی ہے اور جب بار آور انڈہ دیتی ہے تو اسے اس کمرے میں رکھ دیتی ہے جس میں مونث کارکن مکھیاں ہوتی ہیں جو آگے جاکر ملکہ مکھی بننے والی ہوتی ہیں اور وہ کارکن مکھیاں جو مزدور ہوتی ہیں جب وہ ایک طویل عرصہ تک نسل تیار کرنے کا کام کرلیتی ہی تو ان کو بدل دیا جاتا ہے۔ یہ کارکن مکھیاں بچوں کے لئے غذا تیار کرنے کا کام بھی کرتی ہیں۔ یہ شہد اور پھولوں کو چبا کر ہضم کے قابل بناتی ہیں اور بچوں کے اندر نر اور مادے کا ظہور ہوجاتا ہے تو پھر یہ مذکورہ بالا طریقے سے غذاہضم کے لئے تیار کرنے کا عمل ترک کردیتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو شہد اور پھولوں کا بور دیا جاتا ہے اور بچوں میں سے جو مونث اس طریقے سے تربیت پاتی ہیں وہ بعد میں کارکن مکھیاں بن جاتی ہیں “۔

جو مونث مکھیاں ملکہ مکھیوں کے حجروں میں ہوتی ہیں ، تو ان کو شہد اور پھولوں کے بورے کو ابتدائی طور پر قابل ہضم بناکر غذا دینے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے ، اور جن مونث مکھیوں سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے بعد میں وہ ملکہ مکھن بن جاتی ہیں۔ صرف یہ ملکہ ہی ایسے انڈے دیتی ہیں جو پار آور ہوتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے مطابق جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے خاص قسم کے حجروں ، ایک خاص قسم کے انڈوں اور ایک خاص قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور غذا کے اندر تبدیلی کا اثر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اس قسم ٹیکنالوجی کے لئے مکھیوں کو ایک طویل عرصہ تک انتظار کی ضرورت پڑی ہوگی جنہوں نے ان اصولوں کے اندرتمیز کرکے ان کو نافذ کیا ہوگا اور غذا کے اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات معلوم کیے ہوں گے۔ اور ان اثرات کو اجتماعی طور پر نافذ کیا ہوگا جو ان کے وجود کے لئے ضروری ہوگا۔ مکھیوں نے جب اجتماعی زندگی کا آغاز کیا ہوگا تب ان کو یہ اصول معلوم ہوئے ہیں گے ، کیونکہ مکھی کے وجود اور زندگی کی بقا کے لئے ان اصولوں کی دریافت ضروری نہ تھی۔ لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ شہد کی مکھی نے غذا کے اثرات کے سلسلے میں انسان سے زیادہ تحقیق کی ہے “۔ (مغربی فکر میں ڈوبا ہوا مصنف یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اللہ نے جب مکھی کو پیدا کیا تو یہ سب کچھ سکھا دیا۔ ان کے دماغوں پر ڈارون کا فلسفہ ارتقاء ہی بیٹھا ہوا ہے حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے وعلم آدم الاسماء کلھا ” اللہ نے آدم کو تمام نام سکھادیئے “ اسی طرح اللہ نے مکھی کو بھی تمام بنیادی تعلیم دے دی تھی (مترجم) ۔

” کتے کو ایک اضافی ناک دی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ تمام جانوروں کی بوسونگھ لیتا ہے جو کسی راستے سے گزرے ہوں ، انسان کی قوت شامہ کتوں کے مقابلے میں کمزور ہے اور آج تک انسان نے کوئی ایسا آلہ بھی ایجاد نہیں کیا جو اس کی قوت شامہ کو ترقی دے ، لیکن ہماری یہ کمزور قوت شامہ بھی اس قدر چھوٹے ذرات کو محسوس کرلیتی ہے جیسے مائیکروسکوپ کے ذریعہ ہی دیکھا جاسکتا ہے۔

اکثر حیوانات ایسی آوازیں سن لیتے ہیں جو ہمارے کانوں کے پردوں کے اندر ارتعاش پیدا نہیں کرسکتے ، کیونکہ یہ ہماری سماعت کی حد سے بہت ہی دقیق اور باریک ہوتے ہیں۔ انسان نے ایسے آلات ایجاد کرلیے ہیں کہ وہ کئی میل دور اڑنے والی مکھی کے پروں کی آواز بھی سن لے ، اس طرح کہ گویا وہ اس کے کان کے پردے کے اوپر بیٹھی ہے۔ ایسے ہی آلات کے ذریعہ سورج کی شعاعوں کی رفتار کی آواز بھی ریکارڈ کی جارہی ہے “۔

” پانی کی مکڑیوں کی ایک قسم ایسی ہے جو پانی کے اندر غبارے کی طرح ایک گھونسلہ تیار کرتی ہے ، یہ تار عنکبوت سے بنایا جاتا ہے اور اسے پانی کے نیچے کسی چیز سے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعدیہ مکڑی اپنے جسم کے بالوں کے ساتھ پانی کا ایک بلبلہ باندھتی ہے اور اسے لے جاکر اس گھونسلے سے باندھ دیتی ہے یہاں تک کہ گھونسلے کے گرد ہوا کے بلبلوں کا حصار بن جاتا ہے ، اس کے بعد وہ گھونسلے کے اندر بچے دیتی ہے کہ وہ ہوا کے طوفان سے محفوظ رہیں۔ اس گھونسلے کی ساخت میں ایک تو باریک بننے کا عمل ہے ، اس کے بعد دقیق انجینئرنگ اور ہوا بازی کا گہرا ادراک ہے “۔

” سالمن مچھلی ، جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور سمندر میں کئی سال تک گھومتی پھرتی ہے ، اس کے بعد وہ اس دریا کی طرف واپس ہوتی ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ آخر وہ کیا قوت ہے جو اسے اس کی جائے پیدائش تک رہنمائی کرتی ہے۔ یہ جب اپنی جائے پیدائش کی طرف بڑھتے ہوئے کسی غلط دریا کی طرف چلی جائے تو اسے فوراً معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ دریا اس کی جائے پیدائش نہیں ہے۔ چناچہ وہ دریا میں چلتی ہے اور پانی کے بہاﺅ کے بالمقابل چل کر اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔

پانی کے سانپوں کا معاملہ تو بہت ہی عجیب ہے۔ ان کا قصہ سالمن مچھلی کے برعکس ہے۔ اس مخلوق خدا کی عمر جب پوری ہوتی ہے تو یہ مختلف تالابوں اور دریاﺅں سے سفر کرکے گہرے سمندروں کی طرف جاتے ہیں۔ اگر یورپ میں ہوں تو یہ ہزاروں میل کا سفر طے کرکے جنوبی برمودا کی گہرائیوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔ وہاں پھر یہ انڈے دے کر مرجاتے ہیں ، اب ان کے جو بچے پیدا ہوجاتے ہیں تو وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت گہرے پانیوں میں ہیں ، لیکن یہ بچے اسی راستے سے ساحل کی طرف جاتے ہیں جس طرح ان کی ماں ساحل سے پانی کی طرف آئی تھی اور ساحل سے پھر یہ کسی دریا ، یا نہر یا حوض اور تالاب کی طرف چلے جاتے ہیں۔ چناچہ پانیوں کی ہر قسم بحری سانپوں کے لئے موزوں ہوتی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بڑی بڑی موجیں ، طوفان اور سمندری تلاطم دیکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقابلہ کیا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ساحلوں پر چلتے ہیں اور جب یہ مکمل ہوجاتے ہیں تو کوئی خفیہ قانون ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پھر واپسی کا سفر کریں اور گہرے سمندروں میں چلے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ جذبہ ان کے اندر کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی شکاری یا مچھیرے نے یورپی سمندروں میں امریکی بحری سانپ پکڑا ہو ، یا کسی امریکی مچھیرے کے جال میں یورپی سانپ آگیا ہو ، یورپی بحری سانپ کو چونکہ گہرے سرندروں تک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اسی لئے قدرت نے اسے ایک سال کی لمبی عمر عطا کی۔ یا اس سے بھی زیادہ تاکہ وہ مرنے سے قبل اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکے۔ کیونکہ یورپی بحری سانپ کو امریکی بحری سانپ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کون سے ایٹم اور کیا سالمے ہیں ؟ جب بحری سانپ مچھلیوں کی شکل میں جمع ہوئے تو ان کے اندر اس قسم کی قوت ارادی پیدا ہوجاتی ہے جو ایسے دور دراز سفر کراتی ہے ؟

” جب مادہ پروانہ ہوا کے دباﺅ میں تمہارے کسی روشن دان سے اندر آجاتا ہے تو وہ اپنے نر کو ایک سگنل بھیجتی ہے ، چاہے وہ جتنا بھی دور ہو۔ بعض اوقات وہ بہت دور ہوتا ہے۔ وہ اس اشارے کو وصول کرلیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو گمراہ کرنے کی انسان جس قدر کوشش بھی کرے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کرے۔ کیا ان کے پاس کوئی ریڈیو اسٹیشن ہے یا اس مرد کے پاس کوئی ریڈیو یا مشین ہے جو اس سے سگنل وصول کرتا ہے۔ ایریل کا ہونا تو بڑی بات ہے کیا اس کے پاس کوئی ایتھر ہے جس کے ذریعہ وہ ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ ٹیلی فون اور ریڈیو ہمارے پاس سریع الحرکت مواصلاتی آلات ہیں لیکن یہ تاروں کے ذریعے ایک جگہ کو دوسری جگہ سے منسلک کرتے ہیں۔ اس طرح تو یہ پروانہ ہم پر فوقیت رکھتا ہے “۔

نباتات اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے کئی چیزوں سے خدمت لیتے ہیں ، بغیر ان کے علم و ارادہ کے۔ مثلاً حشرات پھولوں کا بورا ان کے لئے منتقل کرتے ہی ، ہوا یہی کام کرتی ہے ، وحوش وطیور بھی یہی کام کرتے اور ان کا بورا اور بیج بکھیرتے ہیں۔ سب سے آخر میں ان نباتات نے انسان کو بھی اپنے جال میں پھانس لیا۔ اس نے فطرت کو حسن بخشا اور فطرت نے اسے اس کا اجردیا۔ لیکن انسان بھی تو کسی حد پر رکنے والا نہیں۔

ھل من مزید کا قائل ہے۔ اس نے ہل چلایا ، بیج بویا ، فصل کاٹی ، انبار بھرے ، پھر اس نے فصلوں کو ترقی دی ، شاخ تراشی کی اور خوراک کا بندوبست کیا۔ اگر وہ یہ کام چھوڑ دے تو بھوک سے مرجائے اور دنیا سے تہذیب و تمدن کا خاتمہ ہوجائے اور انسانیت پتھر کے دور میں واپس چلی جائے۔ “

پانی کے بیشمار جانور مثلاً جھینگا مچھلی کا ایک بازو اگر کٹ جائے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ضائع ہوگیا ہے ، اس کے خلیے اور جینز اس عضو کو دوبارہ بنانا شروع کردیتے ہیں اور جب وہ عضو مکمل ہوجاتا ہے تو خلیے یہ کام بند کردیتے ہیں اور ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی ڈیوٹی ختم ہے۔

پانی کے وہ کیڑے جن کے کئی پاﺅں ہوتے ہیں ، جب دوٹکڑے ہوجائے تو وہ ان میں سے ایک ٹکڑے کی مدد سے اپنے آپ کو مکمل کرلیتا ہے۔ اگر تم اس کیڑے کا سرکاٹ دو تو وہ دوسرا سر بنالیتا ہے۔

ہم زخموں کو مندمل کرسکتے ہیں لیکن ہمارے سرجن ابھی تک یہ بات نہیں جانتے کہ وہ خلیوں کو متحرک کریں اور وہ ایک نیا بازو بنا ڈالیں یا گوشت پوشت ، ناخن اور اعصاب بنادیں ، اگر ایسا ممکن ہو۔

اور ایک عجوبہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی خلیہ ابتدائی ایام ہی میں دو مکمل حصوں میں تقسیم ہوجائے تو اس سے دو مکمل حیوان تیارہوجاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ توام ہم شکل ہوتے ہیں ، اس کی تشریح اس طرح کی جاسکتی ہے کہ حمل کے ابتدائی مرحلہ میں خلیہ منقسم ہوگیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں خلیہ کمل فرد ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ایک فرد بھی ہر خلیہ میں ہوتا ہے۔

ایک دوسری فصل میں یہی مصنف لکھتا ہے :

شاہ بلوط کا بھورا بیج زمین پر گراتا ہے ، اس کا بھورا چھلکا اسے محفوظ رکھتا ہے ، اور یہ گرتا پڑتا زمین میں کسی دراڑ میں اٹک جاتا ہے۔ موسم بہاں میں اس کے اندر کا جرثومہ جاگتا ہے۔ وہ اس چھلکے کو پھاڑ دیتا ہے اور یہ اس مغز سے خوراک حاصل کرتا ہے جو اس چھلکے کے اندر جمع کردی گئی ہوتی ہے۔ جس کے اندر اس کے موروثی جینز ہوتے ہیں۔ اس کی جڑیں زمین میں جاتی ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ پودا نمودار ہوتا ہے ، چھوٹا درخت اور پھر کامل درخت بن جاتا ہے۔ اس کے اندر کئی ملین جینز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اپنی جڑوں ، چھلکے ، پھل اور تنوں اور شاخوں میں بھی اس درخت کے مماثل ہوتا ہے جس سے وہ بیج نکلا۔ کروڑوں سال پہلے جو بلوط کا درخت پیدا ہوا تھا ، اس کے پھل آج تک اپنے ذرات کی ترتیب اس طرح رکھتے ہیں جس طرح پہلے بلوط کے پھل نے رکھا تھا۔

یہی مصنف تیسری فصل میں لکھتا ہے : ” ہر خلیہ جو کسی زندہ مخلوق میں پیدا ہوتا ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح ڈھالے کہ گوشت کا حصہ ہو یا چمڑے کا حصہ ہو اور فنا ہوجائے ، یا دانت کی چمک بن جائے یا آنکھ کا سیال مادہ بن جائے یا ناک اور کان بن جائے۔ ہر خلیہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈھالتا ہے کہ وہ اپنا فرض منصبی پوری طرح ادا کرے۔ یہ بات نہایت ہی مشکل ہے کہ کوئی تعین کرے کہ کون سا خلیہ دائیں ہاتھ ہے یا بائیں ہاتھ کا۔ لیکن ازروئے فطرت یہ بات متعین ہے کہ یہ خلیہ دائیں کان کا ہے اور یہ بائیں کان کا ہے۔ غرض ہزار ہا خلیات چلائے جاتے ہیں کہ وہ ایک صحیح کام کریں ، صحیح وقت پر کریں اور صحیح جگہ پر کریں “۔

چوتھی فصل میں یہ شخص کہتا ہے : ” مختلف قسم کی مخلوقات میں بعض مخلوقات ایسے کام کرتی ہیں جو دانش مندی کے اعلیٰ مرتبہ کے ہیں۔ جن کی کوئی تشریح ہم نہیں کرسکتے۔ مثلاً بھڑ ، ٹڈے کو شکار کرتی ہے ، زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک مناسب جگہ اسے دفن کردیتی ہے۔ یہ شکار کرتے وقت اس کے ایسے مخصوص مقام پر ڈنگ مارتی ہے کہ وہ بےہوش ہوجاتا ہے لیکن اس کا گوشت صحیح وسالم زندہ رہتا ہے۔ اب مادہ بھڑ اس کے قریب ایک متعین مقام پر انڈے دیتی ہے۔ اسے شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ جب اس کے بچے پیدا ہوں گے تو اس ٹڈے کا گوشت کھائیں گے۔ لیکن اسے قتل نہ کریں گے کیونکہ یہ گوشت ان کی غذا ہے اور گوشت خراب ہوکر زہریلا بن جائے ۔ لازماً بھڑ نے ابتدا سے یہ کام شروع کیا ہوگا اور ہمیشہ وہ اسے دہراتی ہوگی ورنہ دنیا میں سے بھڑوں کا وجود ہی ختم ہوجاتا۔ سائنس کے پاس ایسی کوئی تشریح نہیں ہے کہ وہ بھڑوں کے اس مسلسل فعل کا سبب بیان کرے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ کام بھڑیں محض اتفاق سے کرتی ہیں ، کیونکہ مادہ بھڑ تو زمین کے اندر کھودے ہوئے گڑھے کو بھر کر چلی جاتی ہے اور مرجاتی ہے ، نہ وہ اس کے اسلاف یہ جانتے تھے کہ وہ ایسا کیوں کررہی ہے۔ نہ اسے اس کا علم اور مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کے بچوں کو کیا پیش آنا ہے بلکہ بھڑ کو تو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کے بعد کوئی چیز آنے والی ایسی ہے جسے وہ اپنا بچہ کہتی ہو ، بلکہ اسے یہ تک علم نہیں ہے کہ وہ یہ کام نوع کی حفاظت کے لئے کرتی ہے۔

چیونٹیوں میں سے بعض کی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں اپنی کالونی کو خوراک مہیا کرنے کے لئے حیوانات جمع کریں۔ پھر وہ ایک سٹور قائم کرتی ہیں جہاں یہ خوراک پیس کر رکھی جاتی ہے۔ پھر بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو قدرت نے پیسنے کی جبڑے دیئے ہوتے ہیں۔ ان کا کام صرف خوراک کو پیسنا ہوتا ہے۔ جب سردیوں کا موسم آتا ہے اور تمام غلہ پیسا جاچکا ہوتا ہے تو اس کی سپلائی یوں ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کو فائدہ پہنچایا جاسکے تاکہ سپلائی جاری رہ سکے۔ اب چونکہ اگلی نسل میں مزید پیسنے والی چیونٹیاں پیدا ہوں گی۔ اس لئے چیونٹیوں کی فوج ان پیسنے والیوں پر حملہ آور ہوتی ہے اور ان کو قتل کردیتی ہے۔ شاید ان کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے حصے کی خوراک پیسنے کے دوران کھالی ہے کیونکہ انہوں نے اس موپعہ سے ضرور فائدہ اٹھایا ہوگا۔

بعض چیونٹیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کی جبلت یا ان کی عقل ان کو کھانوں کے باغ بنانے پر آمادہ کرتی ہیں اور یہ چیونٹیاں ابتدائی کیڑوں کو اور پودوں کے چھلکوں پر پائے جانے والے کیڑوں کو گرفتار کرلیتی ہیں۔ یہ گویا ان کے لئے گائے اور بکریوں کا کام دیتے ہیں۔ ان کیڑوں سے یہ چیونٹیاں ایسا محلول لیتی ہیں جو شہد کی طرح ہوتا ہے اور یہ چیونٹیوں کی خوراک کا کام دیتا ہے۔

چیونٹیاں بعض دوسری چیونٹیوں کو غلام بھی بنالیتی ہیں ، اور جب یہ اپنے گھونسلے بناتی ہیں تو یہ پتوں کو مناسب حجم میں کاٹتی ہیں۔ جب کارکن چیونٹیاں ان پتوں کو ایک طرف سے پکڑ کر اپنے مقام پر رکھتی ہیں تو اس وقت یہ ان بچوں سے بھی کام لیتی ہیں جو ابھی ارتفائی دور میں ہوتے ہیں لیکن ان کے ریشمی مواد سے یہ پتوں کو جوڑتی ہیں ، یوں یہ بچہ اپنے لئے گھونسلا بنانے سے محروم رہتا ہے لیکن اپنے بنی نوع کے لئے ایک مفید کام کرچکا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذروں سے چیونٹی بنتی ہے ان ذروں میں یہ کام کرنے کی صلاحیت کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ان کا ایک خالق ہے جس نے ان کو اس طرح کرنے کی ہدایت کی “۔ (اقتباسات ختم ہوئے)

اس میں شک نہیں ہے کہ ایک خالق ہے جس نے اپنی تمام مخلوقات کو ہدایات دیں ، خواہ وہ بڑی مخلوق ہو یا چھوٹی ہو ، اور یہ وہی خالق ہے جو الاعلیٰ…………فھدی (۱:۸۷ تا ۳) ” جو برتر ہے ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔

ہم نے اوپر جو اقتباسات دیئے ہیں ، یہ تو اصل حقیقت کے ایک معمولی حصے کے مشاہدات ہیں ، جو انسانوں نے نباتات ، حشرات الارض ، پرندوں اور دوسرے حیوانات کے سلسلے میں ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس سے آگے علم ومشاہدہ اور بھی جہاں ہیں اور جو کچھ ہمارے علم میں ہے وہ اس قول باری کے مدلول اور مفہوم کا ایک نہایت ہی مختصر حصہ ہے۔

الذی خلق…………فھدی (۲:۸۷ تا ۳) ” جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی “۔ یہ قابل مشاہدہ کائنات جس کے ایک معمولی حصے کو ہم جانتے ہیں ، اس سے آگے عالم غیب کے جہاں پوشیدہ ہیں۔ ہمیں تو اپنی بشری قوتوں کے مطابق بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ چند اشارات ہیں جو اللہ نے ہماری محدود قوت ادراک کے لئے کردیئے ہیں۔

اس عظیم کائنات کا ایک وسیع صفحہ پیش کرنے اور اس کی وادیوں میں اللہ کی تسبیح وثنا کی گونج پیدا کرنے کے بعد ، اللہ کی اس عظیم تسبیح کو مکمل کرنے کے لئے یہاں نباتات کی دنیا کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہاں اس اشارے کے اندر جہان معانی ہے۔

والذی اخرج…………احوی (۵:۸۷) ” جس نے نباتات اگائیں اور پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “ المرعی ، ہر اس چیزکو کہا جاتا ہے جو زمین سے اگتی ہے ، اس لئے کہ ہر اگنے والی چیز کسی نہ کسی مخلوق کے لئے خوراک ہے۔ لہٰذا مرعی کا مفہوم یہاں اس سے کہیں وسیع ہے کہ کوئی چیز ہمارے مویشیوں کے چرنے کی ہے تو مرعی ہے۔ کیونکہ اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس زمین کے اوپر چلنے والی ہر مخلوق کے لئے اس کے اندر اس کی خوراک پیدا کی ، چاہے یہ مخلوق زمین کے اوپر چلتی ہو ، یا اندر چھپی رہتی ہو یا اس کی فضاﺅں میں اڑتی ہو۔

نباتات ابتداء میں سبز ہوتے ہیں ، پھر یژمردہ ہوکر سیاہ ہوجاتے ہیں۔ بعض اوقات تو وہ سبزی کی حالت ہی میں خوراک کے قابل ہوتے ہیں اور بعض اوقات وہ پک کر سیاہ ہوتے ہیں تو خوراک کا کام دیتے ہیں۔ درمیانی حالت میں بھی وہ کسی نہ کسی خوراک کا کام دیتے ہیں۔ بہرحال نباتات کی ہر حالت ، اللہ کی تخلیق اور تسویہ کے مطابق کسی مخلوق کے لئے خوراک بنتی ہے۔

یہاں نباتاتی زندگی کے منظر کو پیش کرکے ایک اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ جس طرح ہر نبات کوڑا کرکٹ بن کر انجام تک پہنچتا ہے۔ اس طرح ہر زندہ مخلوق بھی اس دنیا میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اور یہ اشارہ ہے اس حیات ودنیا اور حیات اخروی کی طرف کہ حیات دنیا تو نباتات کی طرح ختم ہونے والی ہے اور حیات اخروی باقی اور لازوال ہے۔ بعد میں آتا ہے۔

بل توثرون…………وابقی (۱۷:۸۷) ” مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت سے بہتر اور باقی رہنے والی ہے “۔ دنیا کی زندگی اس کھیت کی طرح ہے جو ختم ہوکر کوڑا کرکٹ بن جاتی ہے اور آخرت باقی و لازوال ہوتی ہے۔

اس مقطع کے ذریعے اس عظیم کائنات کے صفحات کو دور تک پھیلا دیا جاتا ہے اور جن امور کا ذکر ہوتا ہے وہ سورت کے آنے والے حقائق کے ساتھ مناسب ہیں۔ یہ کائنات ان سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور یہ حقائق کائنات سے پیوست ہوتے ہیں۔ ایک نہایت ہی وسیع و عریض فریم ورک ہیں۔ اگر گہرا مطالعہ کیا جائے کہ اس سیپارے کے مضامین کو وسیع کائناتی دائرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کائناتی دائرہ اس پارے کی فضا اور اس کے اشارات اور مضامین کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

سُورَةُ الأَعۡلَىٰ: ۶–۹

اب وہ خوشخبری آتی ہے جو آپ کے لئے ہے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے ہے۔

سنقرنک .................................... الذکری

اس عظیم خوشخبری کا آغاز ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ کرنے اور اسے باقی رکھنے کی ذمہ داری نبی ﷺ کے کاندھوں سے اتار دی جاتی ہے۔

سنقرءک فلا تنسی (۶:۸۷) ” ہم تمہیں پڑھوا دیں گے ، پھر تم نہیں بھولوگے “۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے یہ کلام لیں اور بس۔ اس کو یاد کرادینا اللہ کا کام ہے۔ یہ بات فی الواقعہ نبی ﷺ کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ آپ حفظ قرآن کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ اب تو اس کی حفاظت کی جانب سے مطمئن کردیا گیا کیونکہ قرآن کریم ایک نہایت ہی عظیم کلام اور آپ اسے بہت ہی محبوب رکھتے تھے۔ آپ دل وجان سے قرآن پر فدا تھے۔ اور اس کی حفاظت کا بہت ہی خیال رکھتے تھے۔ اس پر حریص تھے اور اپنی عظیم اور بھاری ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ ایک ایک آیت دہراتے تھے۔ جب جبرائیل (علیہ السلام) اسے لاتے تو آپ سننے کے ساتھ ساتھ تکرار کرتے اور زبان کو دہرانے میں لگادیتے یہاں تک کہ یہ بشارت آگئی اور آپ کو مطمئن کردیا گیا۔

پھر یہ آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ امت بھی مطمئن ہوجاتی ہے کہ اس عقیدے کا اصل سرچشمہ ذات باری ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل اور ذمہ دار بھی اللہ ہے۔ نبی کے دل میں بٹھانے کا ذمہ دار بھی اور بعد کے زمانے میں حفاظت کی ذمہ داری بھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی ہے اور اس دین کی عظمت سے اور اللہ کے ہاں اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔

اس موقعہ پر اور ایسے تمام مواقع پر ایک اٹل بات ضرور سامنے آتی ہے ۔ یہ ایک اٹل اور دائمی قانون ہے وہ یہ کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے اور اللہ کی مشیت پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ نہیں بھولیں گے الایہ کہ اللہ کچھ بھلانا چاہے۔ اگرچہ یہ پابندی خود اللہ کی طرف سے ہو ، لہٰذا اللہ کی مشیت بےقید اور اس پر کوئی قانونی قید ہے نہ کوئی وعدہ اسے پابند کرتا ہے۔ قرآن اس اصول کو پوری طرح محفوظ رکھتا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم ظلال القرآن میں اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ یہاں بھی اس اصول کو قائم رکھا گیا۔

الا ماشاء اللہ (۷:۸۷) ” سوائے اس کے جو اللہ چاہے “۔ اگرچہ یہ وعدہ سچا ہے کہ حضور نہ بھولیں گے مگر اللہ کی مشیت بھی بےقید ہے ، اگر اللہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے تاکہ تمام معاملات اللہ کی مشیت کے دائرے میں رہیں اور لوگ اللہ کی مشیت ہی پر نگاہ رکھیں۔ اگرچہ کسی معاملے میں سچا وعدہ کیا گیا ہو۔ انسانی دل و دماغ کو اللہ کی مشیت کے ساتھ ہی لٹکے رہنا چاہئے۔

انہ یعلم .................... وما یخفی (۷:۸۷) ” وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو بھی جانتا ہے “۔ یہ ہے اشارہ کہ اللہ پڑھائے گا ، حفظ کرائے گا اور نسیان نہ ہوگا الایہ کو وہ کچھ اور چاہے کیونکہ یہ تمام امور اللہ کی مخفی حکمت پر مبنی ہیں جو ظاہر اور خفیہ سب کو جانتا ہے اور معاملات کو ان کے تمام پہلوﺅں سے جانتا ہے اس لئے وہ تمام معاملات میں ایسے فیصلے کرتا ہے جس میں حکمت ہوتی ہے اور یہ حکمت اللہ کے بھرپور علم پر مبنی ہوتی ہے۔ اللہ کا علم کامل علم ہوتا ہے۔

اب دوسری خوشخبری ونیسرک للیسری (۸:۸۷) ” اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں “۔ یہ خوشخبری بھی رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے ہے۔ اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لئے بھی ہے۔ اور اس سے اس دین کا مزاج بھی معلوم ہوتا ہے۔ دعوت اسلامی کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ انسانی زندگی میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کائنات میں اسلامی نظام زندگی کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ بظاہر تو یہ دولفظ ہیں۔

ونیسرک للیسری (۸:۸۷) لیکن ان کے اندر جو حقیقت بیان کی گئی وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اور شریعت کی ایک عظیم حقیقت ہے ، نیز وہ اس پوری کائنات کا بھی خلاصہ اور روح ہے۔ یہ حقیقت رسول اللہ کے مزاج کو ، اس کائنات کے مزاج اور اس دین کے مزاج سے ملادیتی ہے۔ یہ پوری کائنات دست قدرت نے بڑی آسانی سے بنادی ہے۔ یہ کائنات نہایت آسانی سے چل رہی ہے ، جس رخ پر اسے ڈال دیا گیا ہے وہ نہایت آرام اور سکون اور سہولت سے اسی رخ اور سمت پر چل رہی ہے۔ غرض یہ نور سے نکلی ہے اور ایسے حقائق کی طرف اشارہ کررہی ہے جو حدود وقیود سے ماوراء ہے۔

جس ذات کو اللہ آسانیاں میسر کردے وہ اپنی زندگی کی راہوں پر بسہولت چلتا ہے۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتا ہے جس کا وجود اور جس کی ترتیب باہم متناسب ، جس کی حرکت متوازن اور جس کا رخ ایک طرف ہے یعنی اللہ کی طرف۔ ایسا شخص صرف ان قوتوں سے ٹکراتا ہے ، جو اس عظیم کائنات کے خطوط سے منحرف ہوں۔ ایسے لوگوں کا موازنہ اگر اس پوری کائنات سے کای جائے تو ان کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ ایسا شخص جب چلتا ہے تو اس کی حرکت آسان ، لطیف اور نرم ہوتی ہے۔ اس کائنات کے ہم آہنگ دنیا کے واقعات سے ہم آہنگ ، دنیا کی چیزوں اور اشخاص کے ساتھ ہم آہنگ۔ اس کے ہاتھوں میں آسانی ہوتی ہے ، اس کی زبان میں یسر ہوتا ہے ، اس کے اقدامات آسان ہوتے ہیں ، اس کا عمل یسر ہوتا ہے۔ اس کے خیالات آسان ہوتے ہیں ، اس کی فکر آسان ہوتی ہے جو معاملات کو آسانی سے لیتا ہے ، معاملات کو نہایت آسانی سے لیتا ہے ، اپنے نفس کے لئے بھی آسان ہوتا ہے دوسروں کے لئے بھی آسان ہوتا ہے۔

یہ تھے رسول اللہ ﷺ ، اپنے تمام امور میں یسر ہی یسر۔ حضور اکرم ﷺ جب دوکاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے تو آسان کو لیتے۔ یہ ہے روایت حضرت عائشہ ؓ کی۔ (بخاری ومسلم)

اور آپ ؓ ہی سے روایت ہے ” حضور اکرم ﷺ جب اپنے گھر میں تنہا ہوتے تو آپ تمام لوگوں سے نرم مزاج ہوتے ، مسکراتے ہوئے اور ہنستے ہوئے “۔ اور صحیح بخاری کی ایک روایت ہے : ” ایک لونڈی بھی رسول اللہ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی “۔

لباس ، طعام ، بچھونے وغیرہ میں آپ کی جو سیرت تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ سادی ، آسانی اور بےتکلفی کو پسند فرماتے تھے۔ ابو عبداللہ شمس الدین محمد ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں لباس کے سلسلے میں آپ کی سیرت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ایک پگڑی تھی جسے ” السحاب “ کہا جاتا تھا۔ یہ آپ نے حضرت علی ؓ کو دے دی تھی ، آپ پگڑی باندھتے اور اسے کے نیچے ٹوپی پہنتے ، کبھی آپ ٹوپی بغیر عمامہ کے پہنتے ، کبھی عمامہ بغیر ٹوپی کے بھی باندھتے۔ آپ جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملے کو دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکادیتے ، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ حضرت عمر ابن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا اور آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا اور آپ نے اس کا ایک طرف دونوں کاندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا تھا۔ اور مسلم میں حضرت جابر سے یہ بھی ہے ، بالوں کی لٹ کی طرح۔

اس سے معلوم ہوا کہ شملہ ہمیشہ کاندھوں کے درمیان سے نہ لٹکاتے تھے۔ کہا جاتا ہے آپ مکہ میں داخل ہوئے ، آپ نے جنگی لباس پہنا ہوا تھا اور آپ کے سر پر خود تھا۔ لہٰذا ہر موقعہ کی مناسبت سے لباس پہنتے تھے۔

ایک دوسری فصل میں وہ فرماتے ہیں کہ بہترین طریقہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے جو طریقہ آپ نے رائج فرمایا اور جس کا حکم دیا اور جس کی ترغیب دی اور اس پر مداومت کی۔ لباس میں آپ کا طریقہ یہ تھا کہ جو لباس میسر ہوتا آپ وہ پہنتے کبھی اونی ، کبھی روئی ، کبھی کتان کا۔ آپ نے یمنی چادر بھی پہنی ، سبزچادر بھی پہنی ، حلہ ، قبا اور قمیص بھی زیت تن فرمائی۔ پاجامہ ، ازار اور چادر بھی پہنی۔ چمڑے کے موزے اور جوتے۔ یہ سب چیزیں آپ نے استعمال فرمائیں اور عمامہ کا شملہ کبھی آپ نے پیچھے سے لٹکایا اور کبھی نہ لٹکایا “۔

اور کھانے کے بارے میں آپ کی سیرت یہ تھی کہ آپ کسی موجود کھانے کو رد نہ فرماتے اور نہ غیر موجود کے بارے میں تکلف فرماتے ، پاکیزہ چیزوں میں سے جو بھی آپ کو پیش کی گئی آپ نے اسے تناول فرمایا۔ الایہ کہ کسی چیز کو آپ کی طبیعت نہ چاہتی ہو تو آپ نے بغیر حرام قرار دینے کے اسے چھوڑ دیا۔ آپ نے کسی کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالا۔ اگر چاہت ہوتی تو تناول فرماتے ورنہ چھوڑ دیتے ، جس طرح آپ نے گوہ کو تناول نہ فرمایا کیونکہ آپ اس کے کھانے کے عادی نہ تھے لیکن امت پر اسے حرام بھی قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے آپ کے دستر خوان پر آپ کے دیکھتے ہوئے کھایا گیا۔ آپ نے حلوی اور شہد تناول فرمایا۔ ان کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے تازہ اور خشک کھجوروں کو تناول فرمایا۔ آپ نے خالص دودھ بھی پیا اور ملا ہوا بھی۔ آپ نے شہد اور ستو پانی کے ساتھ تناول فرمائے۔ آپ نے کھجوروں کا صاف پانی پیا ، آپ نے حریرہ استعمال کیا۔ یہ ایک قسم کی کھیر ہے جو دودھ اور آٹے سے بنتی ہے۔ آپ نے تروتازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھائی ، پنیر تناول فرمایا ، کھجور کے ساتھ روٹی کھائی ، سر کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپ نے پکا ہوا کدو کھایا اور اس کو آپ بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ نے ابالا ہوا کدو بھی کھایا ، گھی کے ساتھ ثرید کھایا ، پنیر کھایا۔ تیل کے ساتھ روٹی کھائی ، خربوزوں کو تازہ کھجوروں کے ساتھ اور کھجوروں کو مکھن کے ساتھ کھایا اور یہ آپ کو بہت پسند تھا۔ کسی پاکیزہ چیز کو آپ ردنہ کرتے اور نہ بتکلف خواہش کرتے بلکہ آپ کا طریقہ یہ تھا جو میسر ہو وہ تناول فرماتے ، اگر کوئی چیز نہ ملتی تو صبر کرتے “۔

سونے اور بیدار ہونے کے بارے میں آپ کی سنت یہ تھی۔ کبھی اپنے بستر پر سوتے ، کبھی کھال پر ، کبھی چٹائی پر ، کبھی زمین پر ، کبھی تخت پر ، کبھی سیاہ کمبل پر سوتے “۔

آپ کے فرامین سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام امور میں نرمی سے کام لیاجائے ، جن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسکے تقاضے بھی آتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ کی ہدایات بہت زیادہ ہیں ، سب کو یہاں لانا مشکل ہے ، چند پیش خدمت ہیں : ” یہ دین آسان ہے ، جو شخص اس دین کے ساتھ کشتی کرے گا وہ شکست کھاجائے گا “ (بخاری) ۔ ” اپنے نفسوں پر سختی مت کرو ، تم پر سختی کی جائے گی ، ایک قوم نے اپنے آپ کو سختیوں میں ڈالا تو اس پر سختی کی گئی “ (ابوداﺅد) ۔ ” جو شخص اپنی سواری پر سختی کرتا ہے ، وہ نہ تو سفر طے کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی سواری زندہ رہتی ہے “ (بخاری۔ ” آسانیاں کرو سختی نہ کرو “ (بخاری ومسلم) ۔

اور معاملات کے بارے میں آپ کی ہدایات یہ ہیں :” اللہ رحم کرے ، اس شخص پر جو فروخت کرے تو نرمی اور فراغ دلی سے ، خریدے تو نرمی اور فراخ دلی سے اور تقاضا کرے تو بھی نرمی اور فراخ دلی سے “ (بخاری) ۔” مومن آسان اور نرم ہوتا ہے “ (بیہقی) ۔” مومن لوگوں سے مانوس ہوتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں “ (دارقطنی) ۔” اللہ کے ہاں مبغوض ترین شخص وہ ہے جو جھگڑالو اور لڑنے والا ہو “ (بخاری ومسلم) ۔

آپ کی سیرت میں اس بات کی روشن مثالیں ملتی ہیں کہ آپ سختی اور مشکل کو پسند نہ فرماتے تھے ، یہاں تک کہ نام اور چہرے کے خدوخال میں بھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مزاج کیسا تھا ، اور آپ کے ساتھ اللہ کا سلوک کیسا تھا ، اور کس طرح اللہ نے آپ کو آپ کی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے سہل پسند بنایا تھا اور اس کی طرف آپ کی رہنمائی فرمائی تھی۔ سعید ابن مسیب اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے ، تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تمہارا نام کیا ہے۔ والد نے کہا میرا نام حزن ہے (یعنی سخت دشوار) تو آپ نے فرمایا نہیں آپ ” سہل “ ہیں۔ تو انہوں نے کہا میں اس نام کو نہیں بدلوں گا جو میرے باپ نے رکھا ہے۔ ابن مسیب کہتے ہیں اس کے بعد ہمارے خاندان میں برابر سختی رہی “ (بخاری) ۔ ” حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے عاصیہ کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا “ (مسلم) ۔ اور آپ کی مشہور حدیث ہے ” یہ بات نیکی کا حصہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ہنس مکھ ہوکر ملو “ (ترمذی) ۔

غرض آپ اس قدر حساس تھے کہ آپ کو ناموں ، چہرے کے خدوخال میں بھی درشتی پسند نہ تھی اور آپ نرمی اور آسانی کی طرف مائل ہوتے تھے۔ چناچہ آپ کی پوری سیرت نرمی ، یسر ، سہولت ، اور سہل برتاﺅ پر مشتمل ہے۔ آپنے ہمیشہ معاملات اور لین دین میں نرمی سے کام لیا۔ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے برتاﺅ کی وجہ سے لوگوں کی اصلاح کس طرح کرتے تھے۔

” ایک دن آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا ، وہ کوئی چیز مانگ رہا تھا۔ آپ نے اسے دے دی تو آپ نے اس سے پوچھا : کیا میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ؟ تو اس نے کہا : نہیں ! تم نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ مسلمانوں کو سخت غصہ آیا ، اور وہ اس کی طرف لپکے۔ آپ نے اشارہ فرمایا کہ کچھ نہ کہو۔ آپ پھر گھر میں داخل ہوئے اور کچھ مزید دیا اور پھر پوچھا : کیا میں نے اچھا سلو کیا ؟ تو اس نے کہا : ” ہاں “۔ اللہ آپ کو جزادے۔ آپ اچھے خاندان کے ہیں۔ اس کو نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے جو بات کی وہ تمہیں معلوم ہے جس کی وجہ سے میرے ساتھی خفا ہوئے اور ان کے دل صاف نہیں۔ تو اگر تم پسند کرو تو یہ باتیں جو تم نے میرے سامنے کی ہیں ان کے سامنے بھی کرو ، تاکہ ان کے دلوں میں تم پر جو غصہ ہے ، وہ دور ہوجائے۔ تو اس نے کہا ” اچھا “۔ دوسرے دن وہ پھر آیا۔ اور حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس دیہاتی نے کل جو کچھ کہا وہ تمہیں معلوم ہے ، ہم نے اسے مزید کچھ دیا۔ اب اس کا خیال ہے کہ وہ راضی ہوگیا ہے۔ بتاﺅ بھائی کیا یہ درست ہے ؟ تو دیہاتی نے کہا : ” ہاں اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آپ اچھے خاندان سے ہیں “۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” میری مثال اور اس دیہاتی کی مثال اس طرح ہے کہ اس شخص کی اونٹنی بگڑ گئی۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ اور بھاگنے لگی۔ تو مالک نے لوگوں کو چلا کر کہا : ” میری ناقہ کو اور مجھے چھوڑ دو میں اس کے ساتھ زیادہ نرم سلوک کرتا ہوں اور اس کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہوں “۔ چناچہ اس کا مالک اس کے سامنے سے آیا۔ اور زمین سے کچھ گھاس پھونس جمع کرکے اس کے لئے لے آیا۔ اور اسے آہستہ آہستہ واپس لایا ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقام پر آکر بیٹھ گئی۔ اس نے اس کجاوا کسا اور سوار ہوگیا۔ جب اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اور تم اس پر لپکے تھے تو میں اگر تمہیں چھوڑ دیتا اور تم اسے قتل کردیتے تو وہ جہنم میں چلا جاتا “۔

یہ تھا حضور ﷺ کا طرز عمل ان لوگوں کے ساتھ جو نہایت ہی سخت اور بدکنے والے تھے ، اس قدر سادگی اور آسانی کے ساتھ اور اللہ کی ایسی توفیق کے ساتھ ، آپ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ اس قسم کے بیشمار نمونے آپ کی سیرت میں موجود ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت میں بطور خوشخبری آپ کو کہی گئی ہے اور آپ کو اپنی پوری زندگی میں ، آپ کو دعوت میں اور آپ کے معاملات میں اس کی آپ کو توفیق دی گئی۔

ونیسرک للیسری (۸:۸۷) ” ہم آسان دین پرچلنے کو آپ کے لئے آسان کردیں گے “۔

آپ کی ذات گرامی جو محبوب خلائق اور بلند اخلاق کی مالک تھی اور جسے ایک آسان دین کی طرف آسانی سے رہنمائی کی گئی تھی تو آپ نے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کیا۔ اور اسی انداز سے انسانیت کو دعوت دی ، آپ کا مزاج ہی اس طرح بن گیا ، اور آپ کی ماہیت ہی دین سہل میں بدل گئی اور آپ اسی امانت کبریٰ کے اٹھانے کے قابل ہوگئے ، یہ امانت تو بہت بڑی اور بھاری تھی مگر اللہ نے اس ذمہ داری کی توفیق آپ کو دی اور آپ اس بھاری ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوگئے۔ آپ نے پسندیدہ طریقے سے کام کیا اور اچھے انداز سے محنت کی۔ اور خوشی اور شرح صدر سے کام کیا۔

حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں اور آپ کے کام کی نوعیت کی تشریح کے بارے میں قرآن کریم میں کئی آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔

وما ارسلنک .................... للعلمین (الانبیائ :۱۰۸) ” اور ہم نے تمہیں اہل جہاں کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے “۔

الذین ........................................ علیھم (۱۵۷:۷) ” وہ لوگ جو اس نبی امی کی پیروی کرتے ہیں ، جسے وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ، انہیں وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ، برائی سے روکتے ہیں ، پاکیزہ چیزیں ان کے لئے حلال کرتے ہیں ، ناپاک چیزیں ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ، اور ان کے وہ بوجھ اور طوق جو ان کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں ، ان سے اتارتے ہیں “۔ لہٰذا رسول خدا ﷺ کی بعثت پوری انسانیت کے لئے رحمت تھی۔ آپ تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کے کاندھوں سے بوجھ اتارے اور ان کے گلوں سے وہ طوق اتارے جو انہوں نے ڈال رکھے تھے اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دین میں سختی کی تو اللہ کی طرف سے بھی ان پر سختی کی گئی۔ آپ جو دین اور جو دعوت لے کر آئے اس کے بارے میں بھی قرآن کہتا ہے :

ولقد یسرنا ........................ من مد کر (۲۲:۵۴) ” اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان بنایا ہے ، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا “۔ اور ایک دوسری جگہ ہے۔

وماجعل .................... من حرج (۷۸:۲۲)

” اور اللہ نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی “۔ اور سورة بقرہ میں ہے۔

لا یکلف .................... وسعھا (۲۸۶:۲) ” اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا “۔ اور مائدہ میں ہے۔

مایرید ............................ لیطھرکم (۶:۵) ” اللہ تعالیٰ دین کے سلسلے میں تم پر کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ، وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے “ غرض یہ آخری رسالت سہل ہے اور انسانی طاقت کی حدود میں ہے۔ اللہ نے لوگوں کو تنگی میں مبتلا نہیں کیا۔ نہ اللہ کا مقصود یہ ہے کہ لوگوں کی مشقت میں ڈالا جائے ، اسلام کی روح میں بھی سہولت ہے اور اسلام کے احکام میں بھی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ غرض یہ ایک فطری دین ہے۔ سورة روم میں ہے۔

فطرت .................... علیھا (۳۰:۳۰) ” جس فطرت پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے “۔

اور جب انسان اس عقیدے کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو وہ اس کو بہت آسان پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں انسانی قوت کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس میں انسان کے مختلف حالات کی رعایت بھی کی گئی ہے۔ اس میں ان حالات کا بھی خیال رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے معاشروں میں انسان کو پیش آتے ہیں۔ اسلامی عقیدہ بذات خود نہایت ہی سہل اور قابل فہم ہے۔ بس ایک الٰہ کا عقیدہ ہے اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ تمام مخلوقات کو اسی الٰہ نے بنایا ہے اور اسی الٰہ نے ان کو ان کی پیدائش کا مقصد بھی بتایا ہے۔ پھر اس نے رسول بھیجے ہیں اور ان رسولوں نے لوگوں کو ان کا مقصد وجود بتایا ہے۔ رسولوں نے لوگوں کو اپنے خلق کی طرف لوٹایا۔ اس کے بعد جو فرائض بھی ان پر عائد کیے گئے وہ اسی نظریہ سے نکلتے ہیں ، نہایت سیدھے سادھے طریقے سے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے۔ اور لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے جن احکام پر بھی عمل کرسکتے ہیں بغیر سختی اور مشقت کے عمل کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” جب میں تمہیں حکم دوں تو اس حکم کی تعمیل اس قدر کرو جس قدر تمہاری طاقت ہو اور جس کام سے میں روکوں ، رک جاﺅ“ (بخاری ومسلم) ۔ اور جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ، ان میں سے بھی حالت اضطرار مستثنیٰ ہے۔

الاما .................... الیہ (۱۱۹:۶) ” الایہ کہ تم ان کے لئے مضطرہوجاﺅ“۔

یوں رسول آخرالزمان ﷺ کا مزاج ان کی رسالت اور دعوت کے ساتھ گھل مل گیا ہے ، اور اس دعوت اور داعی کی حقیقت ایک ہوگئی ، خصوصاً اس بنیادی صفت اور اس ممتاز رنگ میں ۔ اسی طرح اس امت کو بھی امت وسط اور سہل کہا گیا جس کے پاس رسول خدا یہ پیغام لے کر آئے تھے۔ یہ ایسی امت تھی جس پر رحمت ہوئی اور یہ رحمت اور محبت کا پیغام لے کر نہایت آسان اور سیدھا راستہ لوگوں کو بتانے کے لئے اٹھی۔ اس طرح کہ اس امت کا مراج آفاقی اور کائناتی مزاج بن گیا۔ اور اس کے مزاج اور اس وسیع کائنات کے مزاج کے اندر گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔

پھر ذرا اس کائنات کا مطالعہ کرو ، اس کی حرکت کا بہاﺅ کس قدر سہل ، رواں دواں ہے اور اس میں کوئی ٹکراﺅ اور تصادم نہیں ہے۔ اربوں کھربوں اجرام فلکی اس کائناتی فضا میں تیرتے پھرتے ہیں۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اپنے اپنے مدار میں بہتے چلے جارہے ہیں ، نہایت تناسق ، خوشگوار کشش کے ساتھ جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں۔ کوئی ایک بھی اپنے مدار سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ اربوں کھربوں زندہ مخلوقات اس کرہ ارض پر زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے قریبی دور کے مقاصد پورے کررہی ہے اور یہ زندگی نہایت پختگی اور زبردست انتظام کے ساتھ گزر رہی ہے۔ اور ہر چیز اپنا مقصد تخلیق نہایت ہی سہولت سے پورا کررہی ہے ، اور اپنی متعین راہ پر اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ اس کائنات میں اربوں کھربوں حرکات واقعات ، اور حالات چل رہے ہیں ، مجتمع بھی اور متفرق بھی۔ اور یہ سب ایک راہ پر جارہے ہیں جس طرح سازوں کا ایک گروپ اپنے اپنے آلہ سے بالکل مختلف آواز نکال رہا ہوتا ہے اور یہ سب مختلف آوازیں ایک ہی راگ تشکیل کرکے ایک طویل نغمہ بناتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کے وجود ، اسلامی نظام زندگی اور سیرت رسول ﷺ کے درمیان اور امت مسلمہ کے مزاج کے درمیان ایک زبردست ہم آہنگی ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی صنعت ہے ، اللہ کی بتائی ہوئی فطرت ہے ، اور اللہ کا راگ ہے ، اور وہ نہایت ہی حکیم صنعت کار ہے۔

فذکر .................... الذکری (۹:۸۷) لہٰذا نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو “۔ اللہ نے نبی ﷺ کو پڑھایا تو ضمانت دی کہ آپ نہ بھولیں گے ، الا ماشاء اللہ۔ پھر اللہ نے نبی ﷺ کو بسہولت آسان طریقے پر چلنے کی سہولت فراہم کی تاکہ آپ اس عظیم امانت کا بار آسانی سے اٹھائیں اور لوگوں کو یاددہانی کرائیں۔ اسی لئے آپ کو تیار فرمایا اور خوشخبری دی گئی اور کہا کہ جب بھی موقعہ ملے یاددہانی کرائیں ، جب بھی آپ دلوں کے اندر بات اتارنے کی راہ پائیں ، اور تبلیغ کے ذرائع میسر ہوں۔ یہاں کہا گیا ہے۔

ان نفعت الذکری (۹:۸۷) ” اگر نصیحت فائدہ دے “۔ جب بھی یاددہانی کرائیں فائدہ ہی ہوتا رہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے کہ نصیحت سے کسی کو کم یا زیادہ فائدہ نہ ہو ، کبھی کوئی نسل استفادہ کرنے والوں سے خالی نہیں ہوئی۔ اگرچہ زمانہ کے اندر فساد عام ہو ، دلوں پر زنگ آگیا ہو ، اور ان پر پردے پڑگئے ہوں بہرحال تذکیر سے فائدہ ہوتا ہی ہے۔

جب ہم ان آیا کی اس ترتب پر غور کرتے ہیں تو ہمیں رسالت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ امانت کس قدر عظیم اور اہم ہے۔ کہ اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے اللہ نے آسان طریقے کی رہنمائی فرمائی اور آسانیاں بہم پہنچائیں ، پہلے یاد کروایا ، پھر اس پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی تاکہ رسول خدا اطمینان سے یاددہانی کا فریضہ سرانجام دیں اور پھر حکم دیا کہ آپ یاددہانی کرائیں اگر مفید ہو ، یہ سب سہولیات دے کہ آپ کو کام پر لگایا اور یہ دراصل عظیم زاد راہ تھا۔

جب رسول خدا ﷺ نے اپنا یہ فریضہ پورا کردیا ، تو آپ کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ پھر لوگ جانیں اور ان کا کام۔ تبلیغ وتذکیر کے بعد لوگوں کے مسالک ، ان کے اہداف اور انجام مختلف ہوجاتے ہیں۔ اور یہ اللہ ہے جو کسی کو ایک انجام تک پہنچاتا ہے اور کسی کو دوسرے تک ۔ جس طرح انہوں نے رویہ اختیار کیا ، قبول کرنے کا یارد کرنے کا۔

سُورَةُ الأَعۡلَىٰ: ۱۰

سیذکر ................................ فصلی

آپ یاد دہانی کرائیں اور اس یاد دہانی سے استفادہ وہی شخص کرے گا جو ڈرتا ہو۔

من یخشیٰ (۱۰:۸۷) جس کے دل میں خدا کا خوف ہو ، اور جو خدا کے غضب اور خدا کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اور وہی شخص ڈرتا ہے اور محتاط رہتا ہے جو زندہ ہو۔ اور یہ شخص جانتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے ، جس نے اس جہاں کو پیدا کرکے اسے نہایت متوازن بنایا ہے ، تقدیر مقرر کی اور لوگوں کو راہ راست کی ہدایت کی۔ اس نے لوگوں کو ویسا ہی شتر بےمہار بناکر نہیں چھوڑ دیا اور نہ مہمل پیدا کیا ہے۔ لہٰذا خیروشر کے سلسلے میں اللہ حساب لینے والا ہے اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے۔ تو ایسا شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ نصیحت لیتا ہے ، اسے بصیرت دی جاتی ہے تو قبول کرتا ہے اور جب اسے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ عبرت حاصل کرتا ہے۔

591