Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
قل ................ احد (۱:۱۱۲) ” کہو ، وہ اللہ ہے یکتا “۔ احد کا لفظ واحد سے زیادہ گہرا ہے کیونکہ احمد ، واحد کے مفہوم پر مزید اضافہ کرتا ہے ، کہ اس کے ساتھ اور کوئی چیز حقیقتاً موجود نہیں ہے اور اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے یعنی وہ یکتا ہے۔
” احد “ میں وجوء کی احدیت کا اظہار ہے ، یعنی اس کی حقیقت کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے سوا اور کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اللہ کے سوا جس قدر موجودات ہیں وہ اپنا وجوء اللہ سے اخذ کرتی ہیں اور وہ اپنی حقیقت اللہ کی حقیقت سے لیتی ہیں۔ وہ فاعلیت میں بھی یکتا ہے لہٰذا اللہ کے سوا اس پوری کائنات میں کوئی اور موثر اور کوئی اور فاعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک نظریہ اور عقیدہ ہے جو انسان کے ضمیر میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ دراصل اس کائنات کی تفسیر بھی ہے ۔ جب کسی دل میں یہ عقیدہ بیٹھ جاتا ہے اور عقل اس کا تصور کرلیتی ہے۔ اور اس پوری کائنات کی تفسیر اس کی روشنی میں ہوجاتی ہے تو انسانی دل پر کوئی اور تصور نہیں چھاتا اور انسانی قلب میں کسی اور سوچ کا شائبہ نہیں رہتا۔ اور انسانی قلب اس واحد ذات واجب الوجود کے سوا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ، کیونکہ دراصل موجود تو یہی ذات یکتا ہے اور فعال اور موثر یہی واحد ذات ہے۔
پھر اس کائنات میں جو چیزیں بھی پائی جاتی ہیں ان کے ساتھ قلب انسانی کا رابطہ ختم ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ انسانی دل سے ماسوی اللہ کے وجود کا شعور ہی ختم ہوجائے۔ اگر یہ شعور ختم نہ بھی ہو ، تعلق ختم ہوجاتا ہے ، اس لئے کہ اللہ کے وجود کے سوا تمام دوسری اشیاء کے وجود کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور اس پوری کائنات میں اللہ کے ارادے کی فاعلیت اور تاثیر کے سوا کوئی اور چیزفعال اور موثر بھی نہیں ہے۔ لہٰذا عقیدہ توحید کے قلب انسانی کسی ایسی چیز سے کیوں متعلق ہو جو نہ حقیقتاً موجود ہے اور نہ کسی چیز میں فعال وموثر ہے۔
اب جب دل الٰہ یکتا کے سوا تمام اشیاء کی حقیقت کے تصور ہی سے خالی ہوگیا اور اس میں ماسوی اللہ سے تعلق ہی نہ رہا۔ تو اب یہ دل صحیح میں آزاد ہوتا ہے ، وہ ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے۔ اس دل کی تمام خواہشات ختم ہوجاتی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ خواہشات ہی دراصل پاﺅں کی زنجیریں ہوتی ہیں۔ پھر خوف بھی اس دل سے ختم ہوجاتا ہے اور یاد رہے کہ اس خوف کی وجہ سے بھی انسان پابند سلاسل ہوجاتا ہے۔ انسان کے دل سے مرغوبات کیوں ختم ہوجاتی ہیں اس لئے کہ جب وہ اللہ کو پالیتا ہے تو وہ سب کچھ پالیتا ہے اور وہ ڈرتا اس لئے نہیں کہ اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی فعال نہیں۔
جب انسانی شعور میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے کہ انسان کو اس کائنات میں صرف اللہ کی حقیقت نظر آتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اس کائنات میں انسان کو جو وجود نظرآئے گا اس میں بھی اسے یہی حقیقت نظر آئے گی۔ اس طرح پھر انسانی قلب کو ہر چیز میں دست قدرت نظرآتا ہے اور اس کے بعد پھر انسان اس درجے پر فائز ہوتا ہے کہ اسے اس کائنات میں اللہ کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
اس عقیدے اور تصور کے نتیجے میں انسان سوچنے لگتا ہے کہ ظاہری اسباب بھی ہیچ ہیں۔ اصل اور حقیقی سبب مسبب الاسباب ہے یعنی ذات باری تعالیٰ ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن نے بہت توجہ کی ہے اور اسے اسلام کی ایمانیات میں داخل کرکے ذہنوں میں بٹھانے کی سعی کی ہے۔ چناچہ ظاہری اسباب کو برطرف کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ اصل سبب مشیت الٰہیہ ہے۔
وما رمیت ........................ رمی (۱۷:۸) ” جب تم نے پھینکا تو دراصل تم نے نہیں پھینکا مگر اللہ نے پھینکا “۔ اور آل عمران (۱۲۶) میں یہ کہا گیا :
وما النصر ................ اللہ (۱۲۶:۳) ” فتح ونصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے “۔ اور الدھر (۳۰) میں ہے۔
وما تشآءون ........................ اللہ (۳۰:۷۶) ” اور تم نہیں چاہتے الا یہ کہ اللہ چاہے “۔ اسی طرح کی بیشمار آیات ہیں۔
جب انسان اسباب ظاہری کو برطرف کردیتا ہے تو پھر اسے نظر آتا ہے کہ تمام امور اللہ کی مشیت سے طے پاتے ہیں۔ پھر اس سے اس کے دل میں اطمینان پیدا ہوجاتا ہے اب وہ تمام مرغوبات اللہ سے طلب کرتا ہے اور تمام مکروہات سے بچنے کے لئے اللہ کے ہاں پناہ ڈھونڈتا ہے اور ظاہری عوامل ، ظاہری اسباب اور موثرات جو کچھ کرتے نظرآتے ہیں ، اس کائنات میں ان کی کوئی حقیقت اس کی نظروں میں نہیں ہوتی۔
یہ تھے وہ مقامات جن کو عبور کرنے کی سعی صوفیاء کرتے رہے۔ لیکن ان مقامات کی کشش ان کو کہیں دور ہی لے گئی۔ صوفیا اس بات کو سمجھ نہ سکے کہ اسلام لوگوں کو بلا کر ان مقامات بلند تک ضرور لے جاتا ہے لیکن وہ ان کو اس دنیا کی عملی زندگی کے تمام نشیب و فراز کے اندر رکھتے ہوئے اور ہر طرح کی انسانی زندگی کے اندر رہتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی کے اندر ہوتے ہوئے اور اس زمین پر اللہ کی نیابت کے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے ان مقامات تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس دنیا کی زندگی میں بھر پور حصہ بھی لیتے ہیں اور اسے ہیچ بھی سمجھتے ہیں۔ وہ اس کائنات میں رتے ہیں لیکن وہ حقیقی موجود صرف اللہ کو سمجھتے ہیں۔ وہ تمام واقعات وحادثات میں فعال اور موثر اللہ کو سمجھتے ہیں۔ اور اس طریقے کے سوا اسلام کوئی دوسرا طریقہ نہیں اپناتا ، نہ چاہتا ہے ۔ پس اس کے نتیجے میں ایک مکمل نظام زندگی وجود میں آتا ہے۔ یہ نظام اس کائنات کی اس تشریح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعور ، تصورات اور رجحانات کے نتیجے میں پیدا ہتوا ہے۔ اس نظام زندگی کے خدوخال کیا ہیں ؟
(۱) اس نظام کا ایک اپنا نظام عبادت ہے جس میں صرف اللہ کی بندگی کی جاتی ہے۔ وہ اللہ جس کے وجود کے سوا کسی وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، جس کی فاعلیت کے سوا کوئی اور فاعلیت نہیں۔ اور اس کے ارادے کے سوا کسی اور کا ارادہ موثر نہیں۔
(۲) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان ہر حالت میں ، امید میں اور خوف میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ خوشی اور غم میں ، امیری اور فقیری میں ، غرض ہر حال میں اس کا رخ صرف اللہ وحدہ کی طرف ہوتا ہے۔ اس لئے کہ اس نظام میں ہر شخص یہ جانتا ہے کہ جب اللہ کے سوا کسی اور چیز کا وجود ہی حقیقی نہیں۔ تو پھر اس کی طرف توجہ اور پکار کا فائدہ کیا ہوگا۔ جب اللہ کے سوا اور کوئی نہ فاعل ہے اور نہ موثر تو پھر اس کی طرف توجہ سے حاصل کیا ہوگا۔
(۳) یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ہدایات صرف اللہ سے لی جاتی ہیں۔ عقائد ونظریات ، اقدار اور پیمانے ، شریعت اور قانون ، ادارے اور انتظام ، رسوم و رواج ، آداب وتقالید سب کی سب اللہ سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہر قسم کی ہدایت اور رہنمائی صرف اللہ وحدہ سے لی جاتی ہے۔ جو حقیقت واقعہ میں بھی اور ایک مسلم کے ضمیر میں بھی واحد موجود ہے۔
(۴) یہ نظام ایک نظام تحریک اور عمل ہے۔ اور یہ تحریک وعمل صرف اللہ وحدہ کے لئے ہے۔ اس کی رضا کے حصول کے لئے اس کے قرب کے حصول کے لئے۔ اس امید پر کہ اس تک پہنچے کی راہ میں تمام پردے اور رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اور گمراہی کے تمام شوائب سے انسان محفوظ ہوگا ، چاہے یہ پردہ اور رکاوٹیں نفس انسانی کے اندر ہوں ، یا انسانی ماحول کی چیزوں اور انسانوں کی طرف سے ہوں۔ جن میں خود انسان کی ذات ، انسان کا خوف اور اس کی خواہش اور اس دنیا میں اس کی مرغوب اشیاء سرفہرست ہیں۔
(۵) یہ ایک ایسا نظام ہے کہ مذکورہ بالا امور کے ساتھ ساتھ وہ قلب بشری اور اس کائنات کی تمام موجودات کے درمیان ، محبت ، انس ، تعاون ، یگانگت کا تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ دنیا کے بندھنوں سے آزادی کے معنی یہ نہیں کہ انسان اس کو مکرو سمجھے ، اس سے نفرت کرے ، اس سے بھاگے اور اس کے برتنے سے اجتناب کرے۔ اس لئے کہ دنیا کی اشیاء سب کی سب اللہ کے دست قدرت کر کرشمے ہیں۔ ان کا وجود اللہ کے وجود سے ماخوذ ہے۔ اور سب اشیاء پر اسی حقیقت کی پرتو پڑتی ہے ، لہٰذا یہ سب چیزیں محبوب ہیں کیونکہ یہ اللہ کے تحفے ہیں جو حبیب ہے۔
(۶) یہ نظام نہایت بلند اور آزاد نظام ہے ، اس کی نظروں میں زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے ، دنیا کا سازو سامان بےقیمت ہے اور ان پردوں اور رکاوٹوں سے آزادی سب کی تمنا ہے لیکن دنیا کی غلامی سے آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان دنیاوی امور سے الگ تھلگ ہوجائے اور اس دنیا کو یونہی مہمل چھوڑ دے۔ یا اس سے نفرت کرے ، اور اس سے بھاگے ، بلکہ اسلامی نظام کا تقاضا یہ ہے کہ جہد مسلسل ہو ، دائمی جدوجہد برپا ہو ، انسانیت کو اعلیٰ سے اعلیٰ درجے تک ترقی دی جائے ، اور انسان کی زندگی پوری طرح آزاد اور فری ہو۔ پس دنیا کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ منصب خلافت الٰہیہ ہے جس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں لیکن ان ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے انسان ان کا غلام بھی نہیں ہے ان سے آزاد بھی ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تشریح کی۔
دنیا سے چھٹکارے کا ایک تو وہ طریقہ ہے جو گرجوں نے تجویز کیا لیکن اسلام صومعاتی رہبانیت کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ انسان نے خلافت ارضی کے فرائض بھی سرانجام دینے ہیں اور انسانوں کو ایک اچھی قیادت کی بھی ضرورت ہے۔ اور یہ دونوں امور انسان کی نجات اور فلاح اور اس دنیا کی غلامی سے چھٹکارے کے لئے ضروری ہیں۔ یہ راہ بہت دشوار ہے۔ یعنی انسان کی انسانیت کا تحقق صرف اسی صورت میں ممکن ہے۔ اس طرح انسان کی شخصیت میں روحانیت کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ ہے آزادی ، انسان کی روح دنیاوی آلائشوں سے آزاد ہوکر اپنے اصلی مصدر کی طرف آزاد ہوجاتی ہے اور انسان کو اللہ نے پیدا کرکے جس دنیا میں چھوڑا ہے اس میں کام کرتے ہوئے بھی وہ اپنی اعلیٰ روحانی مقام اور حقیقت کو برقرار رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رسالت کے آغاز میں دعوت کو صرف عقیدہ توحید تک محدود رکھا گیا اور مندرجہ بالا معنوں میں عقیدہ توحید کو لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی گئی کیونکہ اس معنی میں توحید انسانی قلب وضمیر میں بیٹھا ہوا ایک عقیدہ بھی ہے۔ اس کائنات کی تفسیر وتشریح اور تعبیر بھی ہے اور ایک مکمل نظام حیات بھی ہے۔ اس مفہوم میں عقیدہ توحید صرف الفاظ نہیں جن کا اقرار زبان سے کردیاجائے اور صرف انسانی ضمیر و شعور کا پختہ یقین بھی نہیں ہے جو صرف ضمیر و شعور کے اندر ہی پوشیدہ ہو ، یہ سب کچھ ہے ، پورا دین ہے بلکہ اس عقیدے کی تفصیلات ہیں۔ اس کے کچھ نتائج ہیں اور یہ تفصیلات اور یہ نتائج اس عقیدے کے طبعی اور لازمی نتائج ہیں۔ اور یہ نتائج قوانین طبیعیہ کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اگر دین میں یہ عقیدہ موجود ہو۔
اہل کتاب کے اندر جو انحراف پدیا ہو ، جس نے ان کے عقائد و تصورات ، ان کی عملی زندگی کو برباد کردیا ، اس کا آغاز بھی پہلے پہل حقیقی عقیدہ توحید کے مٹ جانے کی وجہ سے ہوا۔ عقیدہ توحید کے مٹنے کے بعد پھر دوسرے انحرافات پیدا ہوئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ توحید کی امتیازی شان ہے کہ یہ انسانی زندگی کے اندر نہایت گہرائی تک اترتا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی اس عقیدے پر استوار ہو ، اور انسانوں کی زندگی کا عملی نظام پورے کا پورا عقیدہ توحید کی اساس پر قائم ہو۔ جس طرح کے اثرات تصورات و عقائد میں ہوں اسی طرح شریعت و قانون بھی ہوں۔ اور اس طرح کے آثار سے بڑا اثر اور اس کے نتائج میں سے بڑانتیجہ یہ ہے کہ انسانی زندگی پر شریعت الٰہیہ کی حکمرانی ہو۔ اگر اقرار توحید کے بعد یہ آثار نمودار نہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ عقیدہ توحید موجود نہیں۔ اس لئے کے اسلام کا عقیدہ توحید جب دل میں اترتا ہے تو وہ ارکان حیات اور نظام حیات اور اعمال کی شکل میں اگتا ہے۔
اس کا مفہوم کہ اللہ ” احد “ ہے ، یہ ہے کہ وہ ” صمد “ ہے ، یعنی وہ کسی کا محتاج نہیں ۔ اور سب اس کے محتاج ہیں۔ اور یہ کہ نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ اور اس جیسا کوئی نہیں ہے۔ لیکن ” احد “ کے بعد ان دوسرے مفاہیم کو محض وضاحت کے لئے الگ ذکر کیا گیا ہے۔
اللہ الصمد (۲:۱۱۲) ” اللہ سب سے بےنیاز ہے “۔ صمد کا لغوی معنی ہیں وہ جس کی اجازت کے بغیر کوئی امر طے نہ ہوتا ہو اور اللہ تو وہ سردار ہے جس کے سوا کوئی سید اور سردار نہیں ہے۔ وہ اپنی اولہیت میں یکتا ہے اور سب اس کے غلام ہیں۔ اور وہی وحدہ قاضی الحاجات ہے۔ وہی ہے جو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہے ، اور ہر بات کا فیصلہ اس کے حکم سے ہوتا ہے اور اس فیصلے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ مفوم خود لفظ احد میں بھی مکمل طور پر موجود ہے۔
لم یلد ولم یولد (۳:۱۱۲) ” نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے “۔ اللہ کی ذات وہ حقیقت ہے جو ازلی اور ابدی ہے۔ اور اس کی ذات ایک حال سے دوسرے حال میں بدل نہیں سکتی۔ اس کی صفت یہ ہے کہ وہ کامل مطلق ہے اور تمام حالات میں ذات باری کامل ہوتی ہے۔ ولادت کا عمل سب کو معلوم ہے کہ پھٹنے اور بڑھنے سے عبارت ہے۔ عدم سے وجود میں آا یا نقص سے کمال کی طرف بڑھنا دراصل ولادت کی علامات ہیں اور اللہ ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر ولادت کے لئے زوجیت کی ضرورت ہے اور پھر زوجہ ہمیشہ زوج اور خاوند کی ہم جنس ہوتی ہے۔ اور یہ بھی اللہ کے محال ہے ، اور خدا کے احد ہونے کے مفوہم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نہ کسی کا بات ہے اور نہ بیٹا۔
ولم یکن ................ احد (۴:۱۱۲) ” اور کوئی اس کا ہمسر نہیں “۔ نہ اسکا کوئی مماثل ہے اور نہ برابر ہے۔ نہ وجود کی حقیقت کے اعتبار سے ، نہ فاعلیت کے اعتبار سے ، اور نہ اس کی کسی ذات صفت میں۔ اور یہ بات بھی لفظ ” احد “ میں موجود ہے۔ وہ چونکہ احد ہے اس لئے اس کا کوئی کفو نہیں ہے۔ یہ سب فقرے ” احد “ کی تاکیدوتشریح ہیں۔ یہ عقیدہ اس زرتشتی عقیدے کی تردید کرتا ہے کہ اللہ خیر کا الٰہ ہے اور شر کا الٰہ کوئی اور ہے۔ یہ ثنائی عقائد کے پیروکاروں کا خود ساختہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ ایران میں مروج ہے۔ چناچہ ایرانی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ایک خیر کا الٰہ ہے اور دوسرا شر کا الٰہ ہے۔ ایک نور کا الٰہ ہے اور دوسرا ظلمت کا الٰہ ہے اور جزیرة العرب کے جنوب میں بعض لوگ یہ عقائد رکھتے تھے جہاں ایرانیوں کی حکومت تھی۔
یہ سورت اسلام کے عقیدہ توحید کو پوری طرح ثابت کرتی ہیں۔ جس طرح سورة الکافرون کا موضوع یہ تھا کہ عقیدہ توحید اور شر کے درمیان کوئی مصالحت اور مفاہمت نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا دونوں سورتوں کا موضوع مختلف زاویوں سے عقیدہ توحید ہی ہے۔ حضور اکرم ﷺ روز مرہ کے معمولات کا آغاز صبح کی دو سنتوں سے کرتے تھے اور ان میں یہ دوسورتیں پڑھتے تھے۔ اور صبح کی سنتوں میں ان کا پڑھنا بامقصد تھا اور یہ بات واضح بھی ہے۔
اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔
قل اعوذ ................ الفلق (۱:۱۱۳) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (۹۵) میں کہا گیا ہے۔
ان اللہ فالق ........................................ من الحی (۹۵:۶) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (۹۶) میں ہے۔
فالق الاصباح ............................ حسبانا (۹۶:۶) ” وہ صبح کو پھاڑ کر نکالنے والا ہے ، اس نے رات کو وجہ سکون بنایا۔ اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا “۔
اگر فلق کے معنی صبح کے لئے جائیں تو معنی یہ ہوں گے۔ صبح کے وہ رب جو روشنی پھیلا کر ہر چیز کو اس شر سے محفوظ کردیتا ہے جو اندھیروں میں مستور ہوتی ہے اور اگر فلق سے مراد مخلوق ہو تو معنی یہ ہوں گے۔ پناہ مانگتا ہوں مخلوق کے رب کی جو اپنی مخلوق کے شر سے پنا دینے والا ہے۔ لہٰذا دونوں صورتوں میں مفہوم بعد کے فقرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
من شرما خلق (۲:۱۱۳) ” ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی یعنی مطلق اور اجمالاً تمام مخلوق کے شر سے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض جب بعض سے ملتی ہیں تو اس اتصال سے بعض اوقات شر پیدا ہوتا ہے جبکہ بعض حالات میں مخلوقات کے ملاپ اور اتصال سے خیر اور نفع پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا بتایا جاتا ہے کہ مخلوق کے شر سے پناہ مانگو تاکہ خیر ہی خیر رہ جائے۔ اور اللہ کی ذات جو اس مخلوقات کی خالق ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اس کو ایسی راہ کی ہدایت دے اور ایسی تدابیر کرے کہ ان سے خیر نمودار ہو اور شر کا ظہور نہ ہو۔
ومن شر ................ وقب (۳:۱۱۳) ” اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے “۔ غاسق کے لغوی معنی کودنے والے کے ہوتے ہیں اور وقب پہاڑ کے اس سوراخ کو کہتے ہیں جس سے پانی نکلتا ہے۔ یہاں غاسق سے مراد رات ہے یعنی رات اور اس میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں یعنی وہ رات جب وہ پھوٹ کر زمین پر چھا جاتی ہے۔ یہ رات بذات خود خوفناک ہوتی ہے اور اس وقت اس کی خوفناکی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب اس میں ہر خفیہ اور نامعلوم خطرہ درپیش ہوسکتا ہے مثلاً کوئی وحشی درندہ حملہ آور ہوجائے ، کوئی چور گھس جائے۔ کوئی فریب دہندہ دشمن ہاتھ دکھاجائے۔ کوئی زہریلا مکوڑا اور سانپ کاٹ جائے۔ پھر رات کے وقت خیالات ووساوس انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ دکھ اور درد یاد آتے ہیں۔ شعور وجذبات اور خواہشات ومیلانات کی گھٹن زوروں پر ہوتی ہے ، اور تمام شیطانی قوتیں کھل جاتی ہیں اور ہر طرف سے برے اشارے ملتے ہی ، اور انسانی شہوت رات کو زوروں پر ہوتی ہے۔ غرض رات کے ہر ظاہری اور خفیہ بلائیں حملہ آور ہوتی ہیں کیونکہ اس وقت اندھیرے چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
ومن شر .................... فی العقد (۴:۱۱۳) ” اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے “۔ گرہوں میں پھونکنے والیاں کون ہیں ؟ وہ جادوگرنیاں جو انسان حواس پر سحرانگیزی کرکے اذیت دیتی ہیں جو اعصاب کو دھوکہ دیتی ہیں ، انسانی نفس کو اشارات دیتی ہیں اور انسانی شعور کو متاثر کرتی ہیں ۔ جو دھاگوں میں گرہیں ڈالا کرتی تھیں اور ان میں پھونکا کرتی ہیں جیسا کہ جادوگروں کی عادت ہوتی ہے۔
جادو چیزوں کی حقیقت اور ماہیت نہیں بدل سکتا۔ نہ کوئی نئی حقیقت پیدا کرسکتا ہے البتہ احساس و شعور پر ایسی تخیلاتی حالت طاری ہوجاتی ہے جس طرح کہ جادوگرچاہتا ہے۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں سورة طہ (۶۵ تا ۶۹) میں قرآن کریم اس کی تصویر کشی کی ہے۔
قالوا یموسی .................................... الساحر حیث اتی (۶۵:۲۰ تا ۶۹) ” جادوگربولے : موسیٰ تم پہلے پھینکتے ہو یا ہم پہلے پھینکیں ؟ موسیٰ نے کہا : ” نہیں تم ہی پھینکو “۔ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کو دوڑتی محسوس ہونے لگیں اور موسیٰ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم نے کہا مت ڈرو ، تو ہی غالب رہے گا ۔ پھینک جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ ابھی ان کی ساری بناﺅٹی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادو کا فریب ہے۔ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ کسی شان سے وہ آئے “۔
ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں سانپ نہ بن گئے تھے۔ البتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عوام نے یہ خیال کیا کہ یہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ ہیں۔ یہاں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے نفس میں ڈر گئے اور اللہ کی طرف سے ان کو تسلی دینے کی ضرورت پیش آئی ۔ لیکن حقائق اس وقت سامنے آئے جب عصائے موسیٰ فعلااژدھا بن گیا اور ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا۔
یہ ہے حقیقت سحر اور ہمیں چاہئے کہ ہم اسے اسی طرح تسلیم کریں۔ اس طرح یہ جادو لوگوں پر اثر ڈالتا ہے اور جادوگروں کے اشارے کے مطابق لوگوں کے حواس کو متاثر کرتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات اور انسانی شعور میں خوف پیدا کرتا ہے اور لوگوں کو اذیت دیتا ہے۔ اور انسانی حواس اس طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جدھر جادو گر چاہتا ہے۔ جادو گری کی حقیقت بیان کرنے اور گرہوں میں پھونکنے کے مفعوم میں بس یہی کافی ہے۔ یہ ایک شر ہے جس سے بچنے کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی پناہ مانگو اور اللہ کی پناہ میں آجاﺅ۔
بعض روایات میں آتا ہے۔ ان میں سے بعض اگرچہ متواتر نہیں مگر صحیح ہیں کہ لبید بن اعصم یہودی نے مدینہ میں نبی ﷺ پر جادو کیا تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا اثر چند دن تک رہا اور بعض میں آتا ہے کہ کئی مہینوں تک رہا۔ یہاں تک کہ آپ یہ خیال کرتے کہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے ہیں حالانکہ آپ نہ گئے ہوتے تھے۔ اور بعض اوقات یوں محسوس کرتے کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے ، حالانکہ آپ نے نہ کیا ہوتا تھا ، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے اور پھر یہ سورتیں اس جادو کے بتانے کے لئے جھاڑ پھونک کے لئے نازل ہوئیں اور جب جادو کی وہ چیز حاضر کرلی گئی اور اس پر یہ سورتیں پڑھی گئیں تو وہ گرہیں کھل گئیں اور وہ برا اثر ختم ہوگیا۔ جس طرح بعض روایات میں آتا ہے۔
لیکن یہ روایات عصمت انبیاء کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہیں کہ آپ اپنے تمام افعال اور تبلیغ میں معصوم عن الخطاء ہیں۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آپ کے اقوال وافعال سنت اور شریعت ہیں۔ یہ روایات اس سے بھی متصادم ہیں۔ پھر قرآن نے صراحت سے اس الزام کی تردید کی ہے کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے کیونکہ مشرکین یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے تب آپ یہ باتیں کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارے نزدیک یہ روایات مستعبد ہیں۔ پھر خبر واحد کے ساتھ عقائد کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ عقائد کا ماخذ قرآن ہے اور احادیث سے عقائد تب ہی ثابت ہوتے ہیں جب وہ تواتر کی حد تک پہنچ جائیں اور جن روایات کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ متواتر نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ راجح قول یہ ہے کہ یہ سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں جس سے ان روایات کی بنیاد ہی کمزور ہوجاتی ہے۔
ومن شر .................... اذا حسد (۵:۱۱۳) ” اور حاسد کے شر کے لئے جب وہ حسد کرے “۔ حسد کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کے اوپر اللہ کا کرم دیکھ کر کوئی برا تاثر لے اور یہ خواہش کرے کہ اس بندے پر سے اللہ کی نعمت زائل ہوجائے۔ چاہے اس تاثر کے بعد حاسد اس بندے سے نعمتوں کے دور کرنے کے لئے سعی بھی کرے۔ یا محض ذہنی تاثر کی حد تک رک جائے کیونکہ اس تاثر کے بعد ممکن ہے کہ وہ اس بندے کے خلاف کوئی شر عملاً بھی اٹھائے۔
اس کائنات کے بعض اسرار ، نفس انسانی کے بعض راز اور جسم انسانی کے بعض رموز ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں ابھی تک ہمار علم نامکمل ہے۔ اس لئے ہمیں بہت سختی سے ان کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔ بعض پراسرار واقعات ان میدانوں میں واقع ہوتے ہیں اور ہم ان کی ماہیت تک نہیں پہنچ سکتے۔ مثلاً دور سے خیالات کی منتقلی کا عمل ، جب دو افراد کے درمیان رابطہ ہوجاتا ہے ، ایسے روابط کی خبریں اس قدر تواتر سے آرہی ہیں کہ انسان ان میں شک نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس پر بہت تجربات ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں اور جو معلومات ہمیں دستیاب ہیں ان کی کوئی معقول توجیہ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ مثلاً مقناطیسی عمل تنویم جو آج کل مکرر تجربے میں آرہا ہے لیکن اس کے راز سے کوئی واقف نہیں ہے۔ دور سے خیالات کی منتقلی اور مقناطیسی عمل تنویم (ہپنائزم) کے علاوہ جسم انسانی اور انسانی نفسیات کے بہت افعال جن کی تہہ تک ابھی تک انسان نہیں پہنچا۔
حاسد جدوجہد کرتا ہے اور اپنے اس تاثر کو اس شخص کی طرف بطور شر منتقل کرتا ہے تو ہم اس آثار کی اس منتقلی کا محض اس لئے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے علم اور ہمارے آلات تجربہ کی رو سے اس انتقال کی کیفیت کو ابھی سمجھ نہیں سکے۔ اس لئے کہ نفس انسانی کے بارے میں ہماری معلومات ابھی تک ابتدائی ہیں اور یہ قلیل علم جو ہمیں حاصل ہوا ہے وہ محض اتفاقی طور پر ہمیں حاصل ہوا ہے ۔ اس کو حقیقت کی شکل دینا ابھی تک باقی ہے۔
بہرحال حاسد کا شر ہوتا ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے اور اللہ کی حفاظت میں اپنے آپ کو داخل کرنا چاہئے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ اپنے رسول کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی پناہ میں آئیں اور آپ کے واسطہ سے آپ کے بعد آنے والی پوری امت کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بھی اللہ کی پناہ میں آئے۔ جو ہر قسم کے شر سے پناہ گاہ فراہم کرنے والا ہے۔
امام بخاری نے ، اپنی سند کے ساتھ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرم جب رات بستر پر لیٹتے تو دونوں ہتھیلیوں کو ملالیتے ، پھر ان میں۔
قل ھو اللہ احد ........................ برب الناس (۱:۱۱۴) پڑھ کر پھونکتے۔ اور پھر پورے جسم پر ہتھیلیوں کو پھیرتے ، جہاں تک ممکن ہوتا ۔ سر اور چہرے سے شروع کرتے ، اور جسم کے سامنے کے حصے پر جس قدر ممکن ہوتا اور یہ عمل آپ تین بار کرتے۔ (اس حدیث کو اصحاب سنن نے اس طرح روایت کیا ہے ) ۔
٭٭٭٭٭
اس سورت میں اللہ اپنی وہ صفات بیان فرماتا ہے ، جس کے ذریعہ اس شر سے پناہ حاصل ہوتی ہے ، جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔
قل اعوذ ................ الفلق (۱:۱۱۳) ” کہو ، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی “۔ فلق کے معانی میں سے ایک معنی صبح کا ہے اور ایک معنی ” مخلوق “ کا بھی ہے۔ بایں معنی کہ ہر وہ چیز جس سے وجود اور زندگی پھوٹتی ہے جس طرح سورة انعام (۹۵) میں کہا گیا ہے۔
ان اللہ فالق ........................................ من الحی (۹۵:۶) ” اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالنے والا ہے “۔ اور اگلی آیت (۹۶) میں ہے۔
فالق الاصباح ............................ حسبانا (۹۶:۶) ” وہ صبح کو پھاڑ کر نکالنے والا ہے ، اس نے رات کو وجہ سکون بنایا۔ اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا “۔
اگر فلق کے معنی صبح کے لئے جائیں تو معنی یہ ہوں گے۔ صبح کے وہ رب جو روشنی پھیلا کر ہر چیز کو اس شر سے محفوظ کردیتا ہے جو اندھیروں میں مستور ہوتی ہے اور اگر فلق سے مراد مخلوق ہو تو معنی یہ ہوں گے۔ پناہ مانگتا ہوں مخلوق کے رب کی جو اپنی مخلوق کے شر سے پنا دینے والا ہے۔ لہٰذا دونوں صورتوں میں مفہوم بعد کے فقرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
من شرما خلق (۲:۱۱۳) ” ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی یعنی مطلق اور اجمالاً تمام مخلوق کے شر سے۔ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض جب بعض سے ملتی ہیں تو اس اتصال سے بعض اوقات شر پیدا ہوتا ہے جبکہ بعض حالات میں مخلوقات کے ملاپ اور اتصال سے خیر اور نفع پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا بتایا جاتا ہے کہ مخلوق کے شر سے پناہ مانگو تاکہ خیر ہی خیر رہ جائے۔ اور اللہ کی ذات جو اس مخلوقات کی خالق ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اس کو ایسی راہ کی ہدایت دے اور ایسی تدابیر کرے کہ ان سے خیر نمودار ہو اور شر کا ظہور نہ ہو۔
ومن شر ................ وقب (۳:۱۱۳) ” اور رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے “۔ غاسق کے لغوی معنی کودنے والے کے ہوتے ہیں اور وقب پہاڑ کے اس سوراخ کو کہتے ہیں جس سے پانی نکلتا ہے۔ یہاں غاسق سے مراد رات ہے یعنی رات اور اس میں جو چیزیں پائی جاتی ہیں یعنی وہ رات جب وہ پھوٹ کر زمین پر چھا جاتی ہے۔ یہ رات بذات خود خوفناک ہوتی ہے اور اس وقت اس کی خوفناکی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب اس میں ہر خفیہ اور نامعلوم خطرہ درپیش ہوسکتا ہے مثلاً کوئی وحشی درندہ حملہ آور ہوجائے ، کوئی چور گھس جائے۔ کوئی فریب دہندہ دشمن ہاتھ دکھاجائے۔ کوئی زہریلا مکوڑا اور سانپ کاٹ جائے۔ پھر رات کے وقت خیالات ووساوس انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ دکھ اور درد یاد آتے ہیں۔ شعور وجذبات اور خواہشات ومیلانات کی گھٹن زوروں پر ہوتی ہے ، اور تمام شیطانی قوتیں کھل جاتی ہیں اور ہر طرف سے برے اشارے ملتے ہی ، اور انسانی شہوت رات کو زوروں پر ہوتی ہے۔ غرض رات کے ہر ظاہری اور خفیہ بلائیں حملہ آور ہوتی ہیں کیونکہ اس وقت اندھیرے چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔
ومن شر .................... فی العقد (۴:۱۱۳) ” اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے “۔ گرہوں میں پھونکنے والیاں کون ہیں ؟ وہ جادوگرنیاں جو انسان حواس پر سحرانگیزی کرکے اذیت دیتی ہیں جو اعصاب کو دھوکہ دیتی ہیں ، انسانی نفس کو اشارات دیتی ہیں اور انسانی شعور کو متاثر کرتی ہیں ۔ جو دھاگوں میں گرہیں ڈالا کرتی تھیں اور ان میں پھونکا کرتی ہیں جیسا کہ جادوگروں کی عادت ہوتی ہے۔
جادو چیزوں کی حقیقت اور ماہیت نہیں بدل سکتا۔ نہ کوئی نئی حقیقت پیدا کرسکتا ہے البتہ احساس و شعور پر ایسی تخیلاتی حالت طاری ہوجاتی ہے جس طرح کہ جادوگرچاہتا ہے۔ جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں سورة طہ (۶۵ تا ۶۹) میں قرآن کریم اس کی تصویر کشی کی ہے۔
قالوا یموسی .................................... الساحر حیث اتی (۶۵:۲۰ تا ۶۹) ” جادوگربولے : موسیٰ تم پہلے پھینکتے ہو یا ہم پہلے پھینکیں ؟ موسیٰ نے کہا : ” نہیں تم ہی پھینکو “۔ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ، ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کو دوڑتی محسوس ہونے لگیں اور موسیٰ اپنے دل میں ڈر گیا۔ ہم نے کہا مت ڈرو ، تو ہی غالب رہے گا ۔ پھینک جو تیرے ہاتھ میں ہے۔ ابھی ان کی ساری بناﺅٹی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادو کا فریب ہے۔ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ کسی شان سے وہ آئے “۔
ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں سانپ نہ بن گئے تھے۔ البتہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عوام نے یہ خیال کیا کہ یہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ ہیں۔ یہاں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے نفس میں ڈر گئے اور اللہ کی طرف سے ان کو تسلی دینے کی ضرورت پیش آئی ۔ لیکن حقائق اس وقت سامنے آئے جب عصائے موسیٰ فعلااژدھا بن گیا اور ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا۔
یہ ہے حقیقت سحر اور ہمیں چاہئے کہ ہم اسے اسی طرح تسلیم کریں۔ اس طرح یہ جادو لوگوں پر اثر ڈالتا ہے اور جادوگروں کے اشارے کے مطابق لوگوں کے حواس کو متاثر کرتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات اور انسانی شعور میں خوف پیدا کرتا ہے اور لوگوں کو اذیت دیتا ہے۔ اور انسانی حواس اس طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جدھر جادو گر چاہتا ہے۔ جادو گری کی حقیقت بیان کرنے اور گرہوں میں پھونکنے کے مفعوم میں بس یہی کافی ہے۔ یہ ایک شر ہے جس سے بچنے کے لئے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی پناہ مانگو اور اللہ کی پناہ میں آجاﺅ۔
بعض روایات میں آتا ہے۔ ان میں سے بعض اگرچہ متواتر نہیں مگر صحیح ہیں کہ لبید بن اعصم یہودی نے مدینہ میں نبی ﷺ پر جادو کیا تھا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا اثر چند دن تک رہا اور بعض میں آتا ہے کہ کئی مہینوں تک رہا۔ یہاں تک کہ آپ یہ خیال کرتے کہ آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے ہیں حالانکہ آپ نہ گئے ہوتے تھے۔ اور بعض اوقات یوں محسوس کرتے کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے ، حالانکہ آپ نے نہ کیا ہوتا تھا ، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے اور پھر یہ سورتیں اس جادو کے بتانے کے لئے جھاڑ پھونک کے لئے نازل ہوئیں اور جب جادو کی وہ چیز حاضر کرلی گئی اور اس پر یہ سورتیں پڑھی گئیں تو وہ گرہیں کھل گئیں اور وہ برا اثر ختم ہوگیا۔ جس طرح بعض روایات میں آتا ہے۔
لیکن یہ روایات عصمت انبیاء کے بنیادی عقیدے کے خلاف ہیں کہ آپ اپنے تمام افعال اور تبلیغ میں معصوم عن الخطاء ہیں۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آپ کے اقوال وافعال سنت اور شریعت ہیں۔ یہ روایات اس سے بھی متصادم ہیں۔ پھر قرآن نے صراحت سے اس الزام کی تردید کی ہے کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے کیونکہ مشرکین یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے تب آپ یہ باتیں کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارے نزدیک یہ روایات مستعبد ہیں۔ پھر خبر واحد کے ساتھ عقائد کو ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ عقائد کا ماخذ قرآن ہے اور احادیث سے عقائد تب ہی ثابت ہوتے ہیں جب وہ تواتر کی حد تک پہنچ جائیں اور جن روایات کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ متواتر نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ راجح قول یہ ہے کہ یہ سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں جس سے ان روایات کی بنیاد ہی کمزور ہوجاتی ہے۔
ومن شر .................... اذا حسد (۵:۱۱۳) ” اور حاسد کے شر کے لئے جب وہ حسد کرے “۔ حسد کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کے اوپر اللہ کا کرم دیکھ کر کوئی برا تاثر لے اور یہ خواہش کرے کہ اس بندے پر سے اللہ کی نعمت زائل ہوجائے۔ چاہے اس تاثر کے بعد حاسد اس بندے سے نعمتوں کے دور کرنے کے لئے سعی بھی کرے۔ یا محض ذہنی تاثر کی حد تک رک جائے کیونکہ اس تاثر کے بعد ممکن ہے کہ وہ اس بندے کے خلاف کوئی شر عملاً بھی اٹھائے۔
اس کائنات کے بعض اسرار ، نفس انسانی کے بعض راز اور جسم انسانی کے بعض رموز ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں ابھی تک ہمار علم نامکمل ہے۔ اس لئے ہمیں بہت سختی سے ان کا انکار نہیں کرنا چاہئے۔ بعض پراسرار واقعات ان میدانوں میں واقع ہوتے ہیں اور ہم ان کی ماہیت تک نہیں پہنچ سکتے۔ مثلاً دور سے خیالات کی منتقلی کا عمل ، جب دو افراد کے درمیان رابطہ ہوجاتا ہے ، ایسے روابط کی خبریں اس قدر تواتر سے آرہی ہیں کہ انسان ان میں شک نہیں کرسکتا ، کیونکہ اس پر بہت تجربات ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں اور جو معلومات ہمیں دستیاب ہیں ان کی کوئی معقول توجیہ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ مثلاً مقناطیسی عمل تنویم جو آج کل مکرر تجربے میں آرہا ہے لیکن اس کے راز سے کوئی واقف نہیں ہے۔ دور سے خیالات کی منتقلی اور مقناطیسی عمل تنویم (ہپنائزم) کے علاوہ جسم انسانی اور انسانی نفسیات کے بہت افعال جن کی تہہ تک ابھی تک انسان نہیں پہنچا۔
حاسد جدوجہد کرتا ہے اور اپنے اس تاثر کو اس شخص کی طرف بطور شر منتقل کرتا ہے تو ہم اس آثار کی اس منتقلی کا محض اس لئے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے علم اور ہمارے آلات تجربہ کی رو سے اس انتقال کی کیفیت کو ابھی سمجھ نہیں سکے۔ اس لئے کہ نفس انسانی کے بارے میں ہماری معلومات ابھی تک ابتدائی ہیں اور یہ قلیل علم جو ہمیں حاصل ہوا ہے وہ محض اتفاقی طور پر ہمیں حاصل ہوا ہے ۔ اس کو حقیقت کی شکل دینا ابھی تک باقی ہے۔
بہرحال حاسد کا شر ہوتا ہے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگنا چاہیے اور اللہ کی حفاظت میں اپنے آپ کو داخل کرنا چاہئے۔ یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ وہ اپنے رسول کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ اللہ کی پناہ میں آئیں اور آپ کے واسطہ سے آپ کے بعد آنے والی پوری امت کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بھی اللہ کی پناہ میں آئے۔ جو ہر قسم کے شر سے پناہ گاہ فراہم کرنے والا ہے۔
امام بخاری نے ، اپنی سند کے ساتھ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرم جب رات بستر پر لیٹتے تو دونوں ہتھیلیوں کو ملالیتے ، پھر ان میں۔
قل ھو اللہ احد ........................ برب الناس (۱:۱۱۴) پڑھ کر پھونکتے۔ اور پھر پورے جسم پر ہتھیلیوں کو پھیرتے ، جہاں تک ممکن ہوتا ۔ سر اور چہرے سے شروع کرتے ، اور جسم کے سامنے کے حصے پر جس قدر ممکن ہوتا اور یہ عمل آپ تین بار کرتے۔ (اس حدیث کو اصحاب سنن نے اس طرح روایت کیا ہے ) ۔
٭٭٭٭٭