Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
ارءیت .................... وتولی (۱۳:۹۶) ” تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو “۔ یہاں بھی ایک بالواسطہ اور درپردہ دھمکی دی جاتی ہے جس طرح سابقہ پیرگراف کے آخر میں دی گئی تھی۔
الم ........................ یری (۱۴:۹۶) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ یہ شخص ناحق تکذیب کررہا ہے اور ناحق منہ موڑ رہا ہے اور یہ بندہ مومن نبی ﷺ کو ناحق نماز سے بھی روکتا ہے جبکہ نبی ﷺ ہدایت پر ہیں اور تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور آخرت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
الم ........................ یری (۱۴:۹۶) ” کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے “۔ یہ ایک منظر ہے جس میں ایک شخص دعوت اسلامی کی راہ رو کھڑا ہے ، ایمان کی راہ رو کے ہوئے ہے۔ اطاعت وتقویٰ کی راہ روکے ہوئے ہے۔ ایسے شخص کو اب آخری دھمکی دی جاتی ہے لیکن اس بات پر کھلی دھمکی ہے بغیر لاگ لپیٹ کے۔
یہ ایک واضح اور براہ راست دھمکی ہے اور ہے بھی شدید الفاظ میں۔
کلالئن ........................ بالنا صیة (۱۵:۹۶) “” ہرگز نہیں ! اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے “۔ یوں
لنسفعاکا تلفظ بھی شدید اور اس کی آواز بھی سختی اس کے مفہوم کی سختی پر دلالت کرتی ہے۔ سفع کے معنی سختی سے پکڑنے کے ہیں۔ ناصیہ کا مفہوم ہے پیشانی۔ پیشانی سرکشوں اور متکبرین کے اظہار کبر کے لئے اونچا مقام ہے۔ ایسے لوگ سر کو بلند رکھتے ہیں اور سر کی بلندی کے وقت پھر پیشانی سے بلند ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی پیشانی کو پکڑ کر گرانا ہی مناسب ہے۔ کیونکہ
ناصیة کاذبة (۱۶:۹۶) ” یہ جھوٹی پیشانی ہے “۔ اور یہ چونکہ پکڑ دھکڑ کا مقام ہے اور ایسے مواقع پر لوگ یاروں مددگاروں کو بلاتے ہیں تو کہہ دیا گیا۔
فلیدع نادیہ (۱۷:۹۶) ” وہ بلائے اپنے حامیوں کے ٹولے کو “۔ ہم بھی انتظام کرلیں گے۔
سندع الزبانیة (۱۸:۹۶) ” ہم بھی فرشتوں کو بلالیں گے “۔ جو بہت سخت خو اور سخت گرفت والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے معرکے کا انجام ان کی خواری ہی ہوگا۔
یہ سورة ایسے متوقع اور خوفناک منظر پر ختم ہوتی ہے۔ اس منظر پر اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان اور اسلام پر ثابت قدم رہیں اور اللہ کے احکام کی اطاعت کرتے رہیں۔
یعنی یہ سرکش جو تمہیں نماز سے روکتا ہے ، اس کی اطاعت نہ کرو ، یہ جو دعوت اسلامی کی راہ روکتا ہے ، اس کی مزاحمت کرو ، رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا قرب حاصل کرو۔ انسان صرف عبادت اور اطاعت کے ذریعہ ہی خدا کے قریب ہوتا ہے۔ ایسے سرکشوں کو نظر انداز کردو ، اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی قوتیں اس سے نمٹ لیں۔
روایات صحیحہ میں یہ بات مذکور ہے کہ اس سورت کے پہلے پیراگراف کے علاوہ اگلا پورا حصہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ یہ جب خانہ کعبہ میں آیا تو حضور مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس نے کہا اے محمد کیا میں نے تم کو اس سے روکا نہ تھا ، اس نے رسول اللہ ﷺ کو دھمکی دی اور حضور نے بھی اس کو خوب ڈانٹا۔ اور شاید اس موقعہ پر حضور ﷺ نے اس کو گلے سے پکڑ کر کہا۔
اولی لک فاولی (باز آجاﺅ ورنہ ....) اور اس نے کہا ، اے محمد تم مجھے کس چیز کی دھمکی دیتے ہو ، خدا کی قسم اس وادی میں میرے دوست ویار سب سے زیادہ ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
فلیدع نادیہ (۱۷:۹۶) ” یہ اپنے یارومددگار بلائے “۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر اس وقت یہ اپنے حامیوں کو بلاتا تو عذاب کے فرشتے اسی وقت ان کو دبوچ لیتے۔
لیکن اس سورت کا مفہوم عام ہے۔ ہر مومن اور مطیع فرمان داعی الی اللہ اور ان کے مقابل آنے والے سرکش اور نافرمان پر یہ سورت صادق آتی ہے۔ ہر وہ باغی جو لوگوں کو نماز سے روکتا ہے اور اللہ کی اطاعت شعاری سے منع کرتا ہے اور نیکی کے خلاف سازشیں کرتا ہے ، اس کے لئے یہ دھمکی تیار ہے۔ آخری ہدایت یہ ہے۔
کلا لا ........................ واقترب (۱۹:۹۶) ” ہرگز نہیں اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو ، اور اللہ کا قرب حاصل کرو “۔ اس تفسیر کے مطابق سورت کے تمام پیراگراف باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔
انا انزلنہ ............................ القدر (۱:۹۷) ” ہم نے اسے لیلة القدر میں اتارا “۔ لیلتہ القدر کے معنی تقدیر اور تدبیر بھی ہوسکتے ہیں ، اور قابل قدر اور بلند مرتبہ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں معانی اس عظیم الشان کائناتی واقعہ کے ساتھ مناسب ہیں ، یہ واقعہ کہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ، یہ آخری رسالت نبی کریم ﷺ کے سپرد ہوئی اور آپ نے دعوت کا کام شروع کیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کائنات میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اور انسانوں کی زندگی میں اس سے پر معنی اور زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت والا کوئی واقعہ بھی نہیں ہے۔ یہ رات ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ مراد ہزار مہینوں کی تحدید نہیں ہے ، مراد کہ ہزارہا راتوں سے یہ رات زیادہ قیمتی ہے۔ الف شہر سے مراد زیادہ راتیں ہیں۔ مطلب ہے ہزاروں لاکھوں راتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ یوں کہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں راتیں انسانی زندگی کو اس قدر متاثر نہیں کرسکیں۔ جس قدر اس رات نے انسانی زندگی کو متاثر کیا۔ اس رات نے انسانی زندگی کا رخ ہی بدل دیا۔
لیلة القدر .................... الف شھر (۳:۹۷) ” شب قدر ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے “۔
وما ادرک .................... القدر (۲:۹۷) ” اور تم کیا جانو لیلتہ القدر کیا ہے “۔ یہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانی فہم وادراک کی حدود سے ماوراء ہے۔ بس یہی ہے اس کا مفہوم اور اس سلسلے میں عامتہ الناس میں جو اوہام و خرافات مشہور ہیں۔ ان کے تذکرے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ ایک نہایت ہی عظیم رات ہے ، اور اس عظمت اس وجہ سے ہے کہ اس کو اللہ نے ایک عظیم کام کے لئے منتخب کیا ہے یعنی نزول قرآن کریم کے لئے اور اس لئے کہ اللہ نے اس رات کو اپنے نور سے پوری کائنات کو بھردیا۔ اور اس رات کو اللہ نے انسانیت کو وہ چیز عطا کی تھی جس کی اسے بےحد ضرورت تھی۔ انسانی روح اور انسانی زندگی کو اس رات یہ عطیہ ملا یعنی عمومی امن وسلامتی اور امن وسلامتی کا پیغام یعنی قرآن دیا۔ جس میں صحیح عقائد و تصورات وضاحت سے بیان ہوئے۔ جس میں ایسے آداب زندگی ثبت ہوئے جن کی وجہ سے انسانی ضمیر اور انسانی ماحول یعنی پوری زمین کو سلامتی ملی۔ اور حضرت روح الامین اس رات کو پیغام لے کر فرشتوں کے جلو میں آئے۔ یہ ایک جشن کا سماں تھا ، انسانیت کو تو بہار مل رہی تھی۔ اس جشن کو قرآن نے نہایت ہی عجیب انداز میں یہاں بیان کیا ہے۔
تنزل ............................ کل ام (۴:۹۷) فرشتے اور روح ، اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں “۔ آج جب ہم صدیوں پیچھے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اور پھر ہماری نگاہ اس بزرگ اور عظیم رات پر پڑتی ہے۔ اور ہم اس جشن پر غور کرتے ہیں جو اس رات دیکھا گیا۔ پھر ہم ان امور کو دیکھتے ہیں جو اس رات میں فیصلہ ہوئے اور مکمل ہوئے اور دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ نے کیا سفر طے کیا ، کیا واقعات وحادثات رونما ہوئے ، اس رات کے فیصلوں کے نتیجے میں انسانی قلب ونظر میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں تو ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ ایک عظیم رات تھی اور میں بتایا جانے والا یہ حسن نوبہاراں بھی فی الواقعہ بجا تھا اور آج ہمیں اللہ کا یہ کلام اچھی طرح سمجھ میں آتا ہے۔
وما ادرک .................... القدر (۲:۹۷) ” تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے “۔ اور یہ کہ اس رات تمام حکیمانہ امور طے ہوئے ، اس رات اساس دین ، دینی اقدار اور حسن وقبح کے پیمانے طے ہوئے۔ اس رات افراد کے علاوہ حکومتوں ، ملتوں اور اقوام کی قسمتوں کا فیصلہ ہوا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس اہم چیز کا فیصلہ ہوا وہ یہ ہے کہ حق کا معیار طے ہوا۔ مستقل قدریں طے ہوئیں۔ طریق زندگی اور نظام شریعت طے ہوا اور روحانی اقدار طے ہوئیں۔ سلم ” وہ رات سراسر سلامتی ہے “ ۔ انسانیت نے اپنی جہالت اور بدبختی کی وجہ سے شب قدر کی قدر و قیمت کو بھلا دیا ہے۔ اور اس عظیم واقعہ کی اہمیت کو دل سے محو کردیا ہے ، حالانکہ انسانی تاریخ کا یہ ایک عظیم واقعہ تھا ، اور جب سے انسانیت نے اس عظیم واقعہ کو بھلایا اور اس عظیم پیغام کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ کیا تو انسانیت اللہ کی عظیم ترین رحمت وسعادت سے محروم ہوگئی۔ وہ کیا تھی ؟ حقیقی امن وسلامتی کی سعادت ، انسانی ضمیر ونفسیات میں امن وسلامتی کی سعادت ، انسانی خاندان میں امن وسلامتی کی سعادت ، وہ ہمہ گیر سعادت تھی جس سے اسلام نے دنیا کو مالا مال کردیا تھا۔ یہ درست ہے کہ انسان نے اس عرصہ میں بےپناہ مادی ترقی کی ، دنیاکو خوب آبادوشاداب کیا۔ لیکن اسلام نے جو امن وسلامتی عطا کی ہے اسے انسان نہ پاسکا۔ باوجود مادی ترقی اور بےپناہ پیداوار کے انسانیت بدبخت ہی رہی۔ وہ خوبصورت نور بجھ گیا جس نے کبھی اس کی روح کو روشن کردیا تھا۔ اور وہ روشن خوشی ختم ہوکر رہ گئی جس نے اسے زمین کے بندھنوں سے آزاد کرکے عالم بالا کے ساتھ معلق کردیا تھا ، اور وہ مجموعی سلامتی ختم ہوگئی۔ جس کے فیوض وبرکات انسانی قلب اور ارواح سے سرشار ہوگئے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ کھو چکنے کے بعد انسان نے نہ روحانی خوشی پائی ، نہ آسمانی روحانیت ملی اور نہ انسان کو یہ آزادی ملی کہ وہ زمینی بوجھ سے ذرا اٹھ کر آسمانوں تک پہنچے۔
ھی حتی ................ الفجر (۵:۹۷) ” یہ طلوع فجر تک ہے “۔ ہم اہل ایمان اس بات پر مامور ہیں کہ اس جشن نوبہاراں کو بھی نہ بھلائیں۔ یہ اچھی یادیں ہیں ، اور ان یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے ہمارے نبی نے ہمارے لئے بہت ہی سہل طریقے بتائے ہیں تاکہ ہماری روحیں اس سرچشمے سے مربوط ہیں۔ اور وہ عظیم کائناتی واقعہ انہیں یاد رہے جو اس رات میں وقوع پذیر ہوا۔ وہ یوں کہ حضور نے ہمیں تاکید فرمائی کہ ہر سال اس رات کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہو اور رمضان شریف کی آخری دس راتوں میں اسے تلاش کرو ، صحیح حدیث ہے :
تحروالیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان۔
” شب قدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو “۔ اور صحیحین ہی کی ایک دوسری روایت میں نبی ﷺ نے فرمایا :
من قام لیلة القدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔
” جس شخص نے شب قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور حسبتہ اللہ کی حالت میں کی اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے “۔
اسلام محض ظاہری رسومات اور اشکال کا نام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عبادت کے سلسلے میں فرمایا :
ایمنا واحتسابا ” یعنی ایمان اور اخلاص کے ساتھ “ تاکہ یہ قیام و عبادت اعلیٰ مقاصد کے لئے ہو جو اس رات میں متعین ہوئے اور احتساب کے طور پر یعنی خالص اللہ کے لئے ان دوشرائط سے انسانی دل میں ایسے حقائق جاگزیں ہوتے ہیں۔ جو انسان کو ان معانی کے ساتھ مربوط کردیتے ہیں جن کے لئے قرآن نازل ہوا۔
اسلامی نظام زندگی کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایمان وعمل ، ضمیر کے اندر موجود معتقدات اور عملی عبادات کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے اور نظام عبادات اس طرح تجویز کرتا ہے جس کے ذریعہ انسان کے ضمیر و شعور میں وہ عقائد اچھی طرح مستحکم ہوجائیں اور زندہ مشکل میں موجود ہوں اور یہ نظریہ و عقائد محض افکار کی حد تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کا عملی اور زندہ اظہار بھی ہو۔
یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اسلامی نظام زندگی اور نظام عبادت دراصل ایک بہترین نظام ہے جوان حقائق کو زندہ کرتا ہے اور انسانی ضمیر و شعور میں بھی اور عمل اور طرز عمل میں بھی زندہ اور متحرک کرتا ہے ، ان حقائق کا محض ذہنی ادراک ، بغیر عمل و عبادت کے ، ان عقائد ونظریات کو ثبات وقرار نہیں بخش سکتا۔ عبادات وعمل کے بغیر نہ فرد کی زندگی اور نہ سوسائٹی میں یہ حقائق زندہ اور متحرک ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیلة القدر کی یہ یاد اور اس میں ایمان اور خلوص کے ساتھ عبادت کرنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اور یہ اسلامی نظام زندگی کے منہاج اور طریقہ کار ایک خاص پہلو ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زمین کو ایک جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ اس زمین میں ہر طرف شروفساد وعام ہوگیا تھا اور مذاہب عالم کا حال تھا کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہی تھی۔ ایک جدید دین اور جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ ایک نئی تحریک اور نئے نظام کی ضرورت تھی۔ اہل زمین کے عقائد ونظریات میں کفر سرایت کرچکا تھا ، چاہے وہ اہل کتاب ہوں جن کو صحیح سماوی دین دیئے گئے تھے مگر انہوں نے جاننے کے بعد انہیں بھلادیا تھا اور دین میں مکمل تحریف کردی تھی ، چاہے وہ جزیرة العرب کے مشرک ہوں اور اس سے باہر کے مشرک ہوں۔ دونوں کفر کی حالت میں داخل ہوگئے تھے۔
یہ کفر اور تحریف کے جس مقام پر پہنچ چکے تھے ، وہاں سے ان کی واپس ممکن نہ تھی ، ان کی اصلاح صرف ایک جدید دین ہی کے ذریعہ ہوسکتی تھی ، صرف ایک ایسے رسول کے ذریعہ جو بذات خود ایک بین دلیل ہو ، اور اس کے پاس اپنی کتاب ہو جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہو۔
رسول ................................ مطھرة (۲:۹۸) ”(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے “۔ یہ صحیفے شرک اور کفر سے پاک ہوں۔
فیھا کتب قیمة (۳:۹۸) ” جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں “۔ ” کتاب “ کا لفظ موضوع اور مضمون پر بھی بولا جاتا ہے۔ مثلاً کتاب الطہارہ ، کتاب الصلوٰة اور کتاب القدر ۔ کتاب القیامہ ، صحف مطہرہ سے مراد یہ قرآن ہے۔ جس میں راست اور درست کتابیں ہیں یعنی موضوعات ومسائل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسالت اور یہ رسول نہایت وقت پر آئے۔ اور یہ صحیفے یہ سورتیں اور یہ موضوعات سخن اور مسائل آئے تاکہ زمین کے اندر ایسی انقلابی اصلاح کریں جس کے سوا اصلاح کی کوئی اور ٹورت ممکن ہی نہ تھی۔ اس دور میں دنیا کو اس رسول اور اس پیغام اور اس کتاب کی ضرورت کیونکر تھی ؟ اس کا جواب میں ایک عظیم اسلامی مفکر سید ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ” انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر “ کے ایک اقتباس سے دوں گا۔ یہ اقتباس نہایت مختصر اور موضوع پر واضح ہے۔ وہ باب اول کے فصل اول میں لکھتے ہیں :
چھٹی صدی عیسوی بلااختلاف تاریخ انسانی کا تاریک ترین اور پست ترین دور تھا ، صدیوں سے انسانیت جس پستی اور نشیب کی طرف جارہی تھی ۔ وہ اپنے آخری نقطے تک پہنچ چکی تھی اور رﺅئے زمین پر اس وقت کوئی طاقت نہ تھی جو گرتی ہوئی انسانیت کا ہاتھ پکڑ سکے اور ہلاکت کے غار میں گرنے سے اسے روک سکے۔ انسانیت کی حالت یہ تھی کہ نشیب کی طرف جاتے ہوئے روز بروز اس کی رفتار تیز ہورہی تھی۔ انسان اس صدی میں خدا فراموش ہوکر ، کامل طور پر خود فراموش بن چکا تھا۔ وہ اپنے انجام سے بالکل بےفکر اور بیخبر اور برے بھلے کی تمیز سے قطعاً محروم ہوچکا تھا۔ پیغمبروں کی دعوت کی آواز ، عرصہ ہوا ، دب چکی تھی۔ جن چراغوں کو یہ حضرات روشن کرگئے تھے وہ ہواﺅں کے طوفان میں یا تو بجھ چکے تھے۔ یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس طرح ٹمٹما رہے تھے جن سے چند خدا شناس دل ہی روشن تھے۔ جہ شہروں کو تو کیا روشن کرتے ، چند گھروں کو بھی پوری طرح روشن نہ کرسکتے تھے۔ دیندار اشخاص دین کی امانت کو اپنے سینے سے لگا کر زندگی کے میدان سے کنارہ کش ہوکر دیر وکلیسا اور صحراﺅں اور غاروں میں تنہائیاں اختیار کرچکے تھے اور زندگی کی کشمکش اس کے مطالبات ، اور اس کی خشک اور تلخ حقیقتوں سے دامن بچا کر دین وسیاست اور روحانیت اور مادیت کے معرکہ میں شکت کھا کر ، اپنے فرائض قیادت سے دسکش ہوگئے تھے اور جو زندگی کے اس طوفان میں رہ گئے تھے ، انہوں نے بادشاہوں اور اہل دنیا سے باز باز کرلی تھی ، اور ان کی ناجائز خواہشات اور ظالمانہ نظام سلطنت اور ظالمانہ نظام معیشت ان کے معاون ہوگئے تھے اور لوگوں کے مال کھانے اور ان کی قوت اور دولت سے ناجائز فائدہ اٹھانے میں ان دنیا داروں کے شریک وسہیم ہوگئے تھے۔ “
” اس دور میں بڑے بڑے مذاہب بازیچہ اطفال بن گئے تھے اور منافقین کے لئے یہ مذاہب تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔ ان مذاہب کی ظاہری صورت اور معنوی حقیقتوں کو اس حد تک مسخ کردیا گیا تھا کہ اگر ان کے بانیاں اور داعیان کے لئے اس صدی میں آممکن ہوتا اور دیکھ سکتے کہ ان کے مذاہب کا کیا حشر ہوا ہے تو وہ ہرگز ان مذاہب کو پہچان ہی نہ سکتے۔ تہذیب و تمدن کے گہواروں میں خوسری ، بےراہ روی اور اخلاقی گراوٹ پیدا ہوگئی تھی ، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ تمام اقوام اپنے اندرونی اختلافات ومسائل میں الجھ کر رہ گئی تھیں۔ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے نہ ان کے پاس کوئی پیغام تھا اور نہ انسانیت کے لئے کوئی دعوت تھی۔ درحقیقت یہ اقوام اور مذاہب اندر سے پوری طرح کھوکھلے اور بودے ہوچکے تھے۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکتے تھے۔ ان کے پاس نہ دینی ہدایات اور تعلیمات تھیں اور نہ نظام حکومت کے لئے کوئی معقول اصول تھے “۔ (کتاب مذکور ، ص ۳۸'۳۷ وص ۴۰'۳۹)
یہ تیزرفتار جھلک ، بعثت محمدی سے قبل دنیا کے ادیان کی حالت کی نہایت ہی اچھی اور مختصر تصویر دکھاتی ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین جن نکات کی وجہ سے کفر کی سرحدوں میں داخل ہوگئے تھے۔ قرآن کریم نے ان کی طرف بار بار اشارہ کیا ہے ، مثلاً یہودیوں اور نصاریٰ کے بارے میں قرآن نے یہ تصریح کی ہے۔
وقالت ............................ ابن اللہ (۳۰:۹) ” یہود نے کہا عزیز اللہ کا بیٹا ہے عیسائیوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے “۔ اور دوسرے مقام پر ہے۔
وقالت الیھود ............................ شی ئ (۱۱۲:۲) ” یہود نے کہا نصاریٰ کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے اور نصاریٰ نے کہا یہودیوں کی کوئی دینی بنیاد نہیں ہے “۔
اور یہودیوں کے بارے میں سورة مائدہ آیت ۶۴ میں یہ ہے۔
وقالت ............................ یشائ (۶۴:۵) ” یہود کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، ان کے ہاتھ بندھ جائیں اور ان کی اس بات کے سبب ان پر لعنت ہو ، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ خرچ کرتا ہے جس طرح چاہتا ہے “۔ اور مائدہ ۷۲ میں ہے :
لقد کفر ........................ ابن مریم (۷۲:۵) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے “ اور
لقد کفر ................................ ثلثة (مائدہ :۷۳) ” یقینا کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ تین کا تیسرا ہے “۔
اور مشرکین کے بارے سورة الکافرون میں ہے :
قل یایھا ................................ ولی دین (۱:۱۰۹ تا ۶) ” کہہ دو اے کافرو ، میں ان کی عبادت نہیں کرتا ، جن کی عبادت تم کرتے ہو ، اور نہ تم عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، اور نہ میں عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم عبادت کرتے ہو ، اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے “۔ یہ اور دوسری آیات جن میں مشرکین اور دوسرے کفار کی طرف اشارہ ہے۔
اور اس کفر کے نتیجے میں دنیا کے اطراف واکناف میں شروفساد اور تخریب وزوال عام تھا۔ مولانا ندوی کے الفاظ میں : ” خلاصہ یہ کہ ساتویں صدی عیسوی میں روئے زمین پر کوئی قوم ایسی نظر نہ آئی تھی جو مزاج کے اعتبار سے صالح کہی جاسکے اور نہ ایس کوئی سوسائٹی تھی جو شرافت اور اخلاق کی اعلیٰ قدروں کی حامل ہو ، نہ ایسی کوئی حکومت تھی جس کی بنیاد عدل اور انصاف اور رحم پر ہو ، اور نہ کوئی ایسی قیادت تھی جس کے پاس کوئی علم و حکمت ہو ، نہ دنیا میں کوئی ایسا دین تھا جسے صحیح دین انبیاء کہا جاسکتا ہو ، اور ان کی تعلیمات اور خصوصیات کا حامل ہو “۔
یہ وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے ایک ایسا رسول بھیجے ، جو پاکیزہ صحیفے پڑھے ، جن کے اندر نہایت ہی راست اور درست تعلیمات ہوں۔ حقیقت یہ کہ مشرکین اور اہل کتاب کے کفار ، ایک ایسی نئی رسالت اور ایسے دن کے سوا کسی صورت میں بھی اس شروفساد اور اس زوال وگراوٹ سے نکل نہ سکتے تھے۔
یہاں قرآن مجید اس بات کی وضاحت کردیتا ہے کہ اہل کتاب نے جو انحراف کی راہ لی یا باہم اختلافات کیے تو یہ جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یا اس وجہ سے نہ تھے کہ دین سماوی کی تعلیمات میں کچھ پیچیدگی یا اجمالی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح علم ان کے پاس آچکا تھا ، حق کے دلائل ان کے پاس موجود تھے اور اس کے باوجود انہوں نے باہم اختلاف کیا :
پہلا اختلاف تو یہودیوں کے درمیان ہوا ، یہ اختلاف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل ہوا۔ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور کئی فرقے اور پارٹیاں بن گئے۔ حالانکہ ان کا رسول (علیہ السلام) ایک تھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب بھی ایک تھی ۔ یعنی تورات۔ یہ پانچ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے۔ مثلاً صدوتی ، فریسی ، آسین ، غالی اور سامری۔ ان فرقوں میں سے ہر ایک کے اپنے اپنے عقائد ، خصائص اور اپنا اپنا رخ تھا اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعث ہوئی تو یہودی اور عیسائی تنازعہ شروع ہوگیا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے آخری نبی تھے اور آپ نے تورات کی تصدیق فرمائی۔ یہودی اور مسیحی اختلافات اس قدر بڑھے کہ یہ دشمنی اور عداوت کی شکل اختیار کر گئے۔ اور دونوں فریقوں کے درمیان شدید نفرت پیدا ہوگئی اور اس کے نتیجے میں جو قل عام ہوتارہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ایسا قتل عام تھا کو جب انسان ان واقعات کو آج بھی پڑھتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
” چھٹی صدی کے آخر میں یہودیوں اور عیسائیوں کی باہمی رقابت اور منافرت اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ ان میں سے کوئی دوسرے فریق کو ذلیل کرنے اور اس سے اپنی قوم کا انتقام لینے اور مفتوح کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتا تھا۔ ۶۱۰ ء میں یہودیوں نے انطلاکیہ میں عیسائیوں کے خلاف بلوہ کیا ، شہنشاہ موت اس نے اس کی سرکوبی کے لئے مشہور فوجی افسر بنو سوس کو بھیجا۔ اس نے پوری پوری آبادی کا اس طرح خاتمہ کیا کہ ہزاروں کو تلوار سے ، سینکڑوں کو دریا میں غرق کرکے آگ میں جلا کر اور درندوں کے سامنے ڈال کر ہلا کردیا “۔ (دنیا اور مسلمانوں کے عروج وزوال کا ائر ، ص ۴۷)
” مقریزی کی کتاب الخطط میں ہے ، فوق اس روم کے شہنشاہ کے زمانے میں ایران کے شہنشاں کسریٰ نے شام اور مصر پر فوج کشی کی۔ اس فوج نے بیت المقدس ، فلسطین اور شاک کے گرجاﺅں کو مسمار کیا اور شام کے تمام عیسائیوں کو قتل کردیا ۔ پھر وہ عیسائیوں کی تلاش میں مصر آیا ، جہاں اس کی فوج نے عیسائیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا اور بےحد و حساب افراد کو قید کرلیا۔ عیسائیوں کے خلاف اس جنگ میں اور گرجاﺅں کو مسمار کرنے میں یہودیوں نے ایرانیوں کی مدد کی اور وہ طربیہ ، جبل ، الجلیل ، قریہ ، ناصرہ ، صور اور بلادقدس سے ایرانیوں کے پاس آئے اور انہوں نے عیسائیوں سے خوب انتقام لیا اور انہیں اذیت رسانی ، اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا۔ قدس میں ان کے دوگرجاﺅں کو مسمار کردیا اور تمام مکانات کو جلاکر خاکستر کردیا۔ مقدس عود صلیب کا ٹکڑا ساتھ لے گئے اور قدس کے پوپ اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو قید کرلیا “۔
یہی مصنف قدس مفتوح ہونے کا ذکر یوں کرتا ہے : ” اس اثنا میں یہودیوں نے صور کے شہر میں بغاوت کردی۔ انہوں نے اپنے نمائندوں کو دوسرے شہروں میں بھیجا۔ چناچہ یہودیوں نے عیسائیوں پر شدید حملہ کرنے اور انہیں قتل کر ڈالنے کے عہد وپیماں کیے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں میں جنگ چھڑ گئی۔ یہودی بیس ہزار کی تعداد میں مجتمع ہوکر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے صور کے باہر کے گرجاﺅں کو مسمار کردیا۔ اس پر عیسائیوں نے کثیر تعداد میں جمع ہوکر یہودیوں پر حملہ کیا۔ یہودیوں کو شکست فاش ہوئی اور ان کی بہت بڑی تعداد مقتول ہوئی۔ اس زمانے میں ہرقل قسطنطنیہ میں روم فرماں روا ہوا۔ اس نے ایک تدبیر سے جو اس نے شاہ ایران کے خلاف کی ایرانیوں کو شکست دے دی اور وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ اس فتح کے بعد ہرقل قسطنطنیہ سے روانہ ہوا تاکہ شام اور مصر کا نظم حکومت درست کرے۔ اور ایرانیوں نے جن مقامات کو تباہ وبرباد کیا ہے ، ان کی تعمیرنو کرے۔ یہودی طربیہ سے آکر ہر قل کے پاس حاضر ہوئے ، اس گراں قدر تحفے دیئے اور اس سے حلفیہ امان طلب کی ۔ ہر قل نے انہیں حلفیہ امان دے دی۔ اس کے بعد ہرقل بیت المقدس پہنچا۔ عیسائیوں نے انجیلوں ، صلیبوں ، بخور اور جلتی ہوئی مشعلوں سے اس کا استقبال کیا۔ ہرقل نے شہر اور اس کے گرجاﺅں کو برباد پایا ، جس سے اسے شدید صدمہ ہوا۔
عیسائیوں نے ہر قل کو بتایا کہ کس طرح یہودی ایرانیوں کے ساتھ مل کر عیسائیوں کے خلاف حملہ آور ہوئے۔ انہیں قتل کیا اور ان کے گرجاﺅں کو مسمار کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ قتل و غارت گری میں وہ ایرانیوں سے بھی بدتر تھے اور انہوں نے عیسائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کوئی کمی نہ کی۔ عیسائیوں نے ہرقل کو ابھرا کہ وہ یہودیوں کو بیخ کنی کرے اور اس کے اچھے پہلو اس کے سامنے واضح کیے۔ ہرقل نے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ وہ انہیں امان دے چکا ہے اور اس نے ان سے حلفیہ وعدہ کیا ہے۔ عیسائیوں کے پادریوں ، پوپوں اور مشائخ نے فتویٰ دیا کہ یہودیوں کو قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہر قل سے یہ امان دھوکہ دے کر حاصل کی ہے ، اس لئے کہ ہرقل کو یہ نہیں بتایا گیا کہ عیسائیوں پر کیا کیا مظالم ہوئے۔ انہوں نے کہا وہ ہر قل کے کفارے کے طور پر یہ سال ایک جمعہ کو روزہ رکھا کریں گے۔ یہ روزہ لازمی ہوگا۔ اور تمام عیسائیوں کو اس کا پابند بنائیں گے۔ تب ہر قل نے ان کی بات مان لی اور یہودیوں پر شدید حملہ کیا اور انہیں نیست ونابود کردیا۔ چناچہ مصر وشام کی رومی سلطنت میں کوئی یہودی زندہ نہ بچا۔ سوائے ان کے جو بھاگ کر کہیں چھپ گئے۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قومیں یہودونصاریٰ سنگدل ، انسانی خون بہانے کی ہوس اور دشمن کو تباہ کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اسی معاملے میں یہ کس حد پر جاکر نہیں رکتے “۔ ماذا حسر العالم استاد ندوی ص ۹ تا ۱۱، طبع اول)
اس کے بعد عیسائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے شروع ہوگئے ، حالانکہ ان کی کتاب بھی ایک تھی ، نبی بھی ایک تھا ، سب سے پہلے ان کے اختلافات بنیادی عقائد میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ فرقے فرقے بن گئے۔ یہ فرقے ایک دوسرے سے سخت نفرت کرتے ، ایک دوسرے کو سخت دشمن بن گئے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات اور ماہیت کے بارے میں اختلافات پیدا ہوئے کہ ان کی ماہیت لا ہوتی ہے یا ناسوتی۔ پھر ان کی ماں کی ماہیت کے بارے میں اختلافات رونما ہوئے۔ پھر ٹریینٹی یعنی تثلیث کے مسئلہ پر اختلافات ہوئے۔ ان کے خیال میں خدا تینوں کا ایک تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان عقائد کو نقل کرکے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ لوگ کافر ہوگئے ہیں۔
لقد کفر ............................ ابن مریم (۷۲:۵) ” یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تو یہی مسیح ابن مریم ہیں “۔
لقد کفر ............................ ثلثة (مائدہ :۷۳) ’ دیقینا وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے “۔
واذقال .................................... دون اللہ (مائدہ :۱۱۶) ” اور اس بات کو یاد کرو جب اللہ قیامت کے دن عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا ، کیا تم نے لوگوں سے کیا تھا کہ مجھے اور میری ماں اللہ کے سوا خدا بنالو “۔
ان اختلافات کے نتیجے میں وہ شدید ترین تنازعہ پیدا ہوا جو شام کے عیسائیوں اور روم اور مصر کے عیسائیوں کے درمیان پیدا ہوا۔ اس کا ایک فریق روم اور شام کے ملکانی عیسائی تھے اور دوسرا فریق مصر کا منوفنشی فرقہ تھا۔ ملکانی عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح کی فطرت کے جو اجزاء ہیں ایک ملکوتی اور دسرا ناسوتی جبکہ مصر کے منوفینشی عیسائی کہتے تھے کہ ان کی ایک ہی فطرت ہے جو اس طرح فنا ہوگئی جس طرح سر کے کا ایک قطرہ سمندر میں گر کر فنا ہوجاتا ہے۔ چھٹی اور ساتویں صدی میں یہ اختلاف ان دو فرقوں کے درمیان بہت شدت اختیار کر گیا “۔ اور یوں نظر آنے لگا کہ یہ دو فرقے نہیں بلکہ دو الگ الگ دین و مذہب ہیں۔ جس طرح یہودی اور عیسائی دو الگ الگ اہل مذہب ہیں اور ہر ایک دوسرے کے بارے میں یہ تصور کرتا ہے کہ اس کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں ہے “۔ (مسلمانوں کا عروج وزوال ، ابو الحسن علی ندوی)
” ۶۲۸ ء میں ہرقل نے ایرانیوں پر فتح پائی ، اس کے بعد اس نے عیسائیوں کے باہم برسرپیکار اور متحارک مسلکوں کو جمع کرنے اور ان کے اندر موافقت اور مصالحت پیدا کرنے کی سعی کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ لوگ حضرت مسیح کی فطرت کے موضوع پر بحث کرنے سے پرہیز کریں ، کہ ان کی فطرت ایک تھی یا دو تھیں۔ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ اللہ کا ارادہ اور فیصلہ ایک ہی ہے۔ ۶۳۱ ء کے اوائل میں یہ بات طے ہوگئی کہ مینوتھیلین مذہب ہی حکومت اور کلیسا دونوں کا سرکاری مذہب ہوگا۔ ہر قل نے مختلف فرقوں کو ختم کرکے ایک مسلک پر ہونے کی سعی کی اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کیا ، مگر مصر کے قبطیوں نے اس بدعت اور تحریف سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور شدید مخالفت کی ، اور اپنے پرانے عقیدے کو جاری رکھنے کے لئے جان کی بازی لگادی۔ یہ لوگ اس کے دشمن ہوگئے۔ ہر قل نے دوبارہ مختلف فرقوں کو ایک کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ صرف اس پر متحد ہوجائیں کہ اللہ کا ارادہ ایک ہے۔ رہا یہ کہ اللہ کا ارادہ نافذ کس طرح ہوتا ہے۔ اس پر بحث نہ کی جائے۔ اس نے حکم دیا کہ اس موضوع پر کوئی مناظرہ نہ کیا جائے۔ ایک سرکاری پیغام مرتب کرکے مشرق کے اطراف واکناف میں پھیلایا۔ اس سے بھی مصر کا مذہبی طوفان نہ روک سکا۔ اس پر اسے غصہ آیا اور دس سال تک وہ مصر کے لوگوں پر شدید ترین ظلم اور ستم کرتارہا۔ اس نے جو مظالم کیے ان کی روئید اوپڑھ کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کو اذیت ناک سزا دی جاتی ، پھر انہیں دریا میں غرق کردیا جتا۔ مشعل جلا کر ان کے جسموں پربچھائی جاتی۔ یہاں تک کہ بندن کی چربی پگھل کر زمین پر گرتی۔ ریت کے بوروں میں قیدیوں کو بند کرکے دریا برد کردیا جاتا اور اس طرح کی دوسری لرزہ خیز سزائیں دی جاتیں “۔ (ماذا اخسرالعالم ابوالحسن ندوی ، ص ۳ تا ۵)
اہل کتاب کے درمیان یہ اختلافات اور یہ عداوتیں اس کے بعد تھیں کہ ان کے پاس دلائل آچکے تھے۔
من بعد .................... البینة (۴:۹۸) لیکن یہ علم اور یہ دلائل ان کے لئے مفید نہ تھے ، خواہش نفس اور گمراہی ان کو حق سے دور کرتی چلی جارہی تھی۔ حالانکہ دین اپنی اصلی اور ابتدائی شکل میں بالکل واضح تھا اور دینی عقائد بالکل واضح اور صاف تھے۔
یہ اصول تمام ادیان کا اصل الاصول ہے کہ اللہ وحدہ کی عبادت کرو ، دین صرف اللہ کا ہو ، شرک اور اہل شرک سے دور ہو ، نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو۔
وذلک دین القیمة (۵:۹۸) ” یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے “ یعنی انسانی ضمیر و شعور میں عقیدہ خالص ہو۔ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی ہو ، جو اس عقیدے پر مبنی ہو ، اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا جائے ، یعنی زکوٰة دی جائے۔ جس شخص نے بھی ان اصولوں کو حقیقت کا روپ دے دیا تو اس کا ایمان قائم ہوگیا ، جس طرح اہل کتاب کو اس کا حکم دیا گیا تھا۔ اور جس طرح اللہ کے تمام رسولوں کو یہی حکم دیا گیا تھا اور تمام رسولوں اور امتوں کا دین دراصل ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، جس پر تمام رسولوں کا اجماع رہا ہے اور اس عقیدے اور عمل میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس میں افتراق واختلاف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بےحدصاف ستھرا ، سادہ اور آسان ہے۔ لہٰذا اہل کتاب کے ہاں زیر بحث اور زیر جدال عقائد کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ اللہ کے دین میں وہ چیزیں ہیں۔
ان لوگوں کے پاس اس سے قبل ان کے رسولوں کے ذریعہ بھی دلائل آگئے تھے۔ اس کے بعد پھر حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ بھی یہ دلائل آگئے تھے جو پاکیزہ صحیفے پڑھتے ہیں اور انکے سامنے ایسے عقائد پیش کرتے ہیں جو واضح ، سادہ اور آسان ہے لہٰذا صحیح راستہ واضح ہوگیا اور جو لوگ کڑر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ ان کا انجام بھی واضح ہوگیا۔