بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلذَّٰرِيَـٰتِ ذَرْوًۭا فَٱلْحَـٰمِلَـٰتِ وِقْرًۭا فَٱلْجَـٰرِيَـٰتِ يُسْرًۭا فَٱلْمُقَسِّمَـٰتِ أَمْرًا إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌۭ وَإِنَّ ٱلدِّينَ لَوَٰقِعٌۭ وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْحُبُكِ إِنَّكُمْ لَفِى قَوْلٍۢ مُّخْتَلِفٍۢ يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ قُتِلَ ٱلْخَرَّٰصُونَ ٱلَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍۢ سَاهُونَ يَسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ يَوْمَ هُمْ عَلَى ٱلنَّارِ يُفْتَنُونَ ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّـٰتٍۢ وَعُيُونٍ ءَاخِذِينَ مَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ كَانُوا۟ قَلِيلًۭا مِّنَ ٱلَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِٱلْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَفِىٓ أَمْوَٰلِهِمْ حَقٌّۭ لِّلسَّآئِلِ وَٱلْمَحْرُومِ وَفِى ٱلْأَرْضِ ءَايَـٰتٌۭ لِّلْمُوقِنِينَ وَفِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ وَفِى ٱلسَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ فَوَرَبِّ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِنَّهُۥ لَحَقٌّۭ مِّثْلَ مَآ أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ ٱلْمُكْرَمِينَ إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَـٰمًۭا ۖ قَالَ سَلَـٰمٌۭ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ فَرَاغَ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ فَجَآءَ بِعِجْلٍۢ سَمِينٍۢ فَقَرَّبَهُۥٓ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةًۭ ۖ قَالُوا۟ لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَـٰمٍ عَلِيمٍۢ فَأَقْبَلَتِ ٱمْرَأَتُهُۥ فِى صَرَّةٍۢ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌۭ قَالُوا۟ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ ۞ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن طِينٍۢ مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍۢ مِّنَ ٱلْمُسْلِمِينَ وَتَرَكْنَا فِيهَآ ءَايَةًۭ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ وَفِى مُوسَىٰٓ إِذْ أَرْسَلْنَـٰهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَـٰنٍۢ مُّبِينٍۢ فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِۦ وَقَالَ سَـٰحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌۭ فَأَخَذْنَـٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌۭ وَفِى عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلرِّيحَ ٱلْعَقِيمَ مَا تَذَرُ مِن شَىْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَٱلرَّمِيمِ وَفِى ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا۟ حَتَّىٰ حِينٍۢ فَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّـٰعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ فَمَا ٱسْتَطَـٰعُوا۟ مِن قِيَامٍۢ وَمَا كَانُوا۟ مُنتَصِرِينَ وَقَوْمَ نُوحٍۢ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًۭا فَـٰسِقِينَ وَٱلسَّمَآءَ بَنَيْنَـٰهَا بِأَيْي۟دٍۢ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَٱلْأَرْضَ فَرَشْنَـٰهَا فَنِعْمَ ٱلْمَـٰهِدُونَ وَمِن كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ فَفِرُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ وَلَا تَجْعَلُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ أَتَوَاصَوْا۟ بِهِۦ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍۢ وَذَكِّرْ فَإِنَّ ٱلذِّكْرَىٰ تَنفَعُ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍۢ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِينُ فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذَنُوبًۭا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَـٰبِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن يَوْمِهِمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ قٓ: ۳۶

درس نمبر ۲۴۹ ایک نظر میں

یہ اس سورت کا آخری سبق ہے ۔ گویا یہ آخری زمزمہ ہے اور نہایت ہی زور دار آواز میں بتایا جاتا ہے کہ سنو انسانی تاریخ میں امم سابقہ کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اس میں کائنات کی ایک جھلک بھی ہے اور حشر ونشر کے بارے میں بھی ایک منظر پیش کیا گیا ہے اور قرآن کے بارے میں بھی ہدایت ہے کہ آپ کام جاری رکھیں۔ قلب و نظر کے لئے بھی کئی ہدایات ہیں ، اس سبق میں۔

یہ تمام جھلکیاں اس پوری سورت میں بھی گزری ہیں لیکن آخر میں یہ ایک نئے ٹچ کے ساتھ دہرائی گئی ہیں ۔ نہایت تیزی کے ساتھ نکتہ وار ، انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک نئے ذوق اور نئے انداز میں اور یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ وہ ایک بات کو جب ایک ہی سورت میں دہراتا ہے تو وہ نئی معلوم ہوتی ہے۔ پہلے کیا گیا۔

کذبت قبلھم ۔۔۔۔ وثمود (۵۰ : ۱۲) وعاد وفرعون واخوان لوط (۵۰ : ۱۳) واصحب الیکۃ ۔۔۔۔ فحق وعید (۵۰ : ۱۴) ” ان سے پہلے نوح کی قوم ، اصحاب الرس اور ثمود ، اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی اور ایکہ والے اور تبع کی قوم کے لوگ جھٹلا چکے ہیں ، ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور آخر کار میری وعید ان پر چسپاں ہوگئی “ ۔ اور یہاں کہا گیا :

جس حقیقت کی طرف اشارہ مطلوب تھا وہ یہ ہے لیکن یہاں بالکل جدید انداز میں ہے اور پہلی آیت میں جو انداز ہے اس سے بالکل مختلف۔ یہاں اقوام کی ایک صفت کا اضافہ کردیا گیا کہ انہوں نے پوری دنیا میں نقب لگاکر اسے چھان مارا تھا۔ وہ ہر طرف دوڑے پھرتے تھے۔ اسباب حیات تلاش کرتے تھے لیکن جب ان کو پکرا گیا تو پھر کیا کوئی جائے فرار تھی ؟

ھل من محیص (۵۰ : ۳۶) ” پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے “ ۔ نہیں ! پیش ہے ایک اضافہ اور جس سے بات اور جاندار ہوجاتی ہے :

سُورَةُ قٓ: ۳۷

امم سابقہ کے عروج وزوال میں بہت بڑی نصیحت ہے لیکن یہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو دل و دماغ رکھتا ہو ، تاریخ امم جس دل کو حرکت نہیں دے سکتی وہ مردہ ہے ، یا وہ شخص دل و دماغ رکھتا ہی نہیں ہے۔ بلکہ نصیحت حاصل کرنے اور عبرت لینے کے لئے تو یہ بھی کافی ہے کہ انسان خاموشی سے داستان عروج وزوال امم سن لے۔ یہ داستان خود ہی بتا دے گی۔ سچ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ نفس انسانی پر امم ماضیہ کے قصص کا بہت ہی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں معمولی سی بیداری اور معمولی سی قلبی کشادگی ہی یادوں اور تصورات سے اثر لیتی ہے اور انسان پر بہت اثر ہوتا ہے اور اس میں بہت سی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔

اس سے قبل اس کائنات کی کتاب سے یہ صفحہ الٹا گیا تھا۔

افلم ینظروا ۔۔۔۔۔ من فروج (۵۰ : ۶) والارض مددنھا ۔۔۔۔۔ کل زوج بھیج (۵۰ : ۷) ” کیا انہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔ اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اس کے اندر ہر طرح کے خوش منظر نباتات اگا دیں “۔ اور یہاں یوں ہے۔

سُورَةُ قٓ: ۳۸

ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (۵۰ : ۳۸) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔

تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔

وما مسنا من لغوب (۵۰ : ۳۸) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔

سُورَةُ قٓ: ۳۹–۴۰

فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (۳۹) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (۵۰ : ۳۹ تا ۴۰) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔

سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور دن کے تکرار میں ایک نئی بات داخل کی گئی ۔ حمدو ثنا اور کو ع اور سجود کو بھی اس کائنات کے مناظر سے منسلک کیا گیا ہے ۔ یوں جب بھی رکوع و سجود ہوگا یہ کائناتی مناظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ سورج کے طلوع و غروب اور رات آنے کے مناظر۔

سُورَةُ قٓ: ۴۱–۴۲

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔

واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (۴۱) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (۴۲) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (۴۳) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (۵۰ : ۴۱ تا ۴۴) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے “۔

یہ ایک نیا اور پر تاثیر منظر ہے۔ اس دن کا منظر جو بہت ہی مشکل دن ہوگا۔ ایک دوسری جگہ اس منظر کی تعبیر ایک دوسرے انداز میں کی گئی۔

ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید (۵۰ : ۲۰) وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (۵۰ : ۲۱) ” اور پھر صور پھونکا گیا یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے “

اور یہاں نفخ صور کے ساتھ ایک چیخ کا ذکر بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خروج کا منظر سامنے آتا ہے۔ اور پھر زمین پھٹ رہی ہے اور لوگ اس سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مخلوقات جو آغاز حیات سے اس سفر کے انتہا تک اس زمین میں دفن ہوئے تھے۔ یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور جن میں جو بھی جس قدر لوگ بھی دفن ہوئے تھے ، نکلے چلے آئیں گے۔ معری کہتا ہے :

رب قبر صار قبرا مرارا

ضاحک من تزاحم الاضداد

دفین علی بقایا دفین

فی طویل الاجال والاماد

(کتنی ہی قبریں ہیں ، جو بار بار قبریں بنی ہیں ان کے اندر جو متضاد قسم کے لوگ دفن ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر وہ مسکرا رہی ہیں۔ ایک مردے کو دوسرے کے جسم کے بقایا جات پر دفن کیا جاتا ہے ، طویل زمانوں سے اور قدیم زمانوں سے “۔

تمام چیزیں زمین کے پھٹنے کے بعد خود بخود نکلتی چلی آئیں گی۔ ٹوٹے ہوئے جسم ، ہڈیاں ، ذرات جو زمین کی فضاؤ میں ہوں یا زمین کی وادیوں میں بہہ کر جہاں بھی ٹھہرے ہوں جن کی جگہ اللہ ہی جانتا ہے ، جمع ہوتے چلے آئیں گے ، یہ ایک ایسا منظر ہے کہ ہمارے خیال کی گرفت سے برتر ہے۔

اس پر تاثیر منظر کے سایہ ہی میں اس حقیقت کو سامنے لایا جا رہا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔

سُورَةُ قٓ: ۴۳

انا نحن نحی ونمیت والینا المصیر (۵۰ : ۴۳) ” ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہمارے طرف ہی ان سب کو پلٹنا ہے “۔ اور :

سُورَةُ قٓ: ۴۴

ذلک حشر علینا یسیر (۵۰ : ۴۴) ” اور یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے “۔ اور اس حقیقت کے اظہار کا یہ بہترین وقت و مقام تھا۔

سُورَةُ قٓ: ۴۵

اسی منظر کے زیر سایہ حضرت نبی ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ ان کے جدال اور جھگڑوں ، ہٹ دھرمی اور جھٹلانے کی پرواہ نہ کریں۔ جو حقیقت ان کے سامنے پیش کی جارہی ہے ، وہ واضح ہے اور اگر چشم بصیرت ہو تو دیکھی جاسکتی ہے۔

نحن اعلم بما ۔۔۔۔۔۔۔۔ یخاف وعید (۵۰ : ۴۵) ” اے نبی ﷺ جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں ، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔

جو باتیں یہ بنا رہے ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور تمہاری تسلی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ہم جانتے ہیں اور ہمارے جاننے کے کچھ نتائج بھی ہوں گے۔ یہ بہت ہی خوفناک دھمکی ہے۔

وما انت علیھم بجبار (۵۰ : ۴۵) ” تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے “۔ کہ آپ ایمان اور تصدیق پر کسی کو مجبور کردیں ۔ اس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے “۔ اختیارات ہمارے پاس ہیں ۔ ہم نگرانی کر رہے اور ان کے ذمہ دار ہیں۔

فذکر با القرآن من یخاف وعید (۵۰ : ۴۵) ” پس تم اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرو ، جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔ قرآن بذات خود ایک عظیم قوت ہے۔ یہ دلوں کو ہلا مارتا ہے۔ ذہنی دنیا میں زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ اس کے سامنے سنگ دل سے سنگدل شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ قرآن کے حقائق کا سامنا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ قرآن عجیب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔

جب ایسی سورتیں لوگوں پر پڑھنے کے لئے اور پیش کرنے کے لئے موجود ہیں تو کسی جبار کی کیا ضرورت ہے جو لوگوں کی گردنیں مروڑ کر مسلمان بنائے۔ قرآن کے اندر وہ قوت ہے جو بڑے بڑے جباروں کے اندر نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ دلوں پر وہ ضربات لگ سکتی ہیں ، جو ڈکٹیٹروں اور جباروں کے کوڑوں کے ذریعہ نہیں لگائی جاسکتی (۔۔۔۔ العظیم)

نوٹ :۔ پارہ ۲۶ کی نظر ثانی رہ گئی تھی۔ یہ نظر ثانی آج مورخہ ۳۰ نومبر ۱۹۹۶ ء بوقت ۵۲۔ ۴ شب ختم ہوئی ، اس طرح تقریباً بتیس سال کے عرصے میں یہ کام ختم ہوا۔ اے اللہ اسے اپنے دین کی سر بلندی کے لئے مفید بنا دے اور میرے لیے موجب اجر بنا دے۔ آمین ۔ سید معروف شاہ شیرازی

سُورَةُ الذَّارِيَاتِ
سُورَةُ الذَّارِيَاتِ: ۱–۵

یہ سرسری اور مختصر آیات وضربات ہیں۔ ایسے الفاظ کے ساتھ جن کا مفہوم واضح نہیں ہے جیسا کہ ہم نے کہا پردہ احساس پر ایک خاص تاثر چھوڑتی ہیں۔ دل کو ایک نہایت ہی اہم بات سے جوڑ دیتی ہیں اور ایسے معاملے کی طرف متوجہ کرتی ہیں کہ جو توجہ کا مستحق ہے۔ جن لوگوں نے قرآن کریم کو حضور اکرم ﷺ کی زبان سے سنا ان کو بھی ان الفاظ کا مفہوم ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت پیش آئی کہ ذاریات ، حاملات ، جاریات اور مقسمات کا مفہوم کیا ہے۔

علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ، شعبہ ابن الحجاج نے روایت کی ، سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے سنا نیز روایت کی شعبہ نے قاسم ابوبزہ سے ، انہوں نے ابو طفیل سے ، انہوں نے بھی حضرت علی ؓ سے سنا اور ان کے علاوہ بھی کئی لوگوں کے ذریعہ حضرت ابن ابوطالب ؓ سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ کوٹہ میں ممبر پر چڑھے اور کہا ، تم قرآن کی کسی آیت کے بارے میں مجھ سے پوچھو یا سنت رسول کے بارے میں مجھ سے پوچھو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ ابن کو اء کھڑا ہوا اور دریافت کیا امیر المومنین کہ اللہ کے کلام الذاریات ذروا .... کے کیا معنی ہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ” ہوا “ تو اس نے پوچھا فالحاملات وقرا کے معنی ؟ تو انہوں نے فرمایا ” بادل “ تو اس نے پوچھا فالجاریات یسرا کے معنی تو آپ نے فرمایا ” کشتیاں “ اس نے کہا فالمقسمات امرا ؟ تو انہوں نے فرمایا ” فرشتے “۔ ایک شخص صیع ابن عسل تمیمی حضرت عمر ابن الخطاب ؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر سے ان الفاظ کے معنی پوچھے ، تو حضرت عمر نے بھی حضرت علی ؓ کی طرح جواب دیا۔ حضرت عمر ؓ نے محسوس کیا کہ شاید وہ دشمنی اور عناد کی بنا پر سوال کررہا ہے تو آپ نے اسے سزا دی اور حکم دیا کہ وہ لوگوں کے پاس نہ بیٹھے۔ یہاں تک کہ اس نے توبہ کی اور سخت قسموں کے ساتھ حلف اٹھیا کہ آپ نے جو محسوس کیا ہے میرے دل میں وہ بات نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ ان الفاظ کے مدلول اور معنی کا اجمال اہل عناد اور دشمنان اسلام کو یہ موقع دے رہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں لوگوں سے سوال کرتے پھریں۔ اگر کوئی محسوس کرتا تو وہ کہتے ہم تو صرف معنی پوچھتے تھے۔ یہی تفسیر ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے منقول ہے۔ مجاہد ، سعید ابن جیر ، حسن ، قتادہ ، سدی وغیرہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اس کے علاوہ کوئی اور تفسیر نقل نہیں کی۔ (ابن کثیر)

اللہ تعالیٰ ان ہواؤں کی قسم اٹھاتا ہے جو گرد اڑاتی ہیں جو بیجوں کو ادھر ادھر اڑاتی ہیں اور جو پھولوں پر گرد کو اڑاتی ہیں اور بادلوں کو اڑاتی ہیں۔ نیز دوسری چیزوں کو اڑاتی ہیں جو انسان کے علم میں ہوں یا نہ ہوں اور پھر قسم ہے ان بادلوں کی جو پانی کے بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور پھر جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے برس جاتے ہیں۔ پھر ان کشتیوں کی قسم جو بڑی سہولت سے چلتی ہیں۔ یہ سطح سمندر پر تیر رہی ہوتی ہیں کہ ان کے مواد میں اور پانی میں اللہ نے ایسی خصوصیات ودیعت کی ہیں اور اس کائنات میں اللہ نے ایسی خصوصیات رکھ دی ہیں جو ان کشتیوں کی رفتار کو آسان کرتی ہیں پھر ملائکہ کی قسم جو اللہ کے احکام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیغام کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا پیغام اس کی مرضی سے تقسیم کرتے ہیں۔ یہ پیغامات مختلف معاملات کے متعلق ہوتے ہیں اور پوری کائنات میں تقسیم ہوتے ہیں۔

ہوا ، بادل ، سفینے اور فرشتے اللہ کی مخلوقات میں سے مخلوق ہیں۔ اللہ ان کو اپنی قدرت کا سبب اور الہ بنایا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت کا ایک پردہ ہیں اور ان کے ذریعہ اللہ زمین پر اپنی مرضی چلاتا ہے۔ اللہ ان چیزوں کے ساتھ قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم چیزیں ہیں اور انسانوں کو اس اس طرف متوجہ ہونا چاہئے اور ان کے پیچھے جو قوتیں کام کرتی ہیں ان پر غور کریں اور پھر انسان ان چیزوں پر غور کریں کہ اللہ نے کس طرح ان کو پیدا کیا ہے وہ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں کیا کیا تصرفات کرتا ہے اور اپنی اس تقدیر کو پردے سے باہر لاتا جاتا ہے جو اس سے پہلے سے طے کر رکھی ہے۔ یہاں اس سورة میں ان چیزوں کا تذکرہ ایک مخصوص انداز میں کیا گیا ہے اور اس لئے کیا گیا ہے کہ انسانی دل و دماغ ان کے اسرار و رموز کو جان سکیں اور پھر ان چیزوں کو کرشمہ قدرت قرار دے کر تعلق باللہ قائم کریں۔

پھر ان چیزوں کا رزق کے ساتھ ایک گونہ تعلق بھی ہے اور اس سورة کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ انسان کو اس رزق سے بالکل ظاہر ہے۔ اب فرشتے جو رزق تقسیم کرتے ہیں تو من جملہ اور احکام کے وہ احکام رزق بھی تقسیم کرتے ہیں لہذا ان تمام چیزوں کا تعلق رزق سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے جس کا تذکرہ اس سورة میں کئی جگہ آیا جس غرض کے لئے اللہ ان چار امور پر قسم اٹھاتا ہے وہ یہ ہے کہ :

انما ........ لواقع (۱۵ : ۶)

” جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔ “ اللہ نے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ احسان کے بدلے احسان کرے گا اور برائی کا بدلہ برائی سے دے گا۔ اس دنیا میں تو اس نے تمہیں مہلت حساب دی ہے لیکن آخرت میں کوئی مہلت نہ ہوگی لہٰذا وہاں حساب لازمی ہوگا۔ وان .... لواقع (۱۵ : ۶) ” جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے “ لہٰذا یہ وعدہ سچا ہے دنیا کا ہو یا آخرت کا۔ اور جو وعدہ اس نے کئے ہیں ان میں رزق کا بھی وعدہ ہے۔ رزق وہ دے گا کسی کو زیادہ کسی کو تھوڑا۔ اپنی مشیت کے مطابق۔ یہ وعدہ بھی سچا ہے جس طرح اللہ تمام معاملات میں سچا ہے۔ لہٰذا اللہ نے لوگوں کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور وہ پورا ہوگا جس طرح اللہ چاہتا ہے اور جس وقت وہ چاہے گا ایسا ہوگا۔ اللہ کی جانب سے اس پر کسی قسم کی ضرورت نہ تھی لیکن اللہ اپنی بعض مخلوقات کی قسم اس لئے اٹھاتا ہے کہ لوگ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ پہلے بھی کیا گیا ، اور ان چیزوں کے اندر جو کمال تخلیق ہے اور ان کی تدبیر میں قدرت الٰہیہ جس طرح کام کررہی ہے اس پر غور وفکر کریں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اللہ کا وعدہ حشرونشر برحق ہے کیونکہ اللہ کی اس تخلیق اور اس کے اس نظام کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ حشر ونشر ہو اور اس میں اچھائی اور برائی اور صلاح اور فساد پر لوگوں کا محاسبہ ہو کیونکہ اس کائنات کی ساخت کا یہ تقاضا ہے کہ یہ عبث نہیں ہے۔ نہ اتفاقاً وجود میں آگئی ہے۔ یوں یہ مخلوق جس کی قسم اٹھالی گئی ہے یہ اس قسم کی وجہ سے حشرونشر پر ایک دلیل وبرہان بن جاتی ہے اور انسان اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور انسانی احساس و شعور اس پر غور کرتا ہے۔ یہ قرآن مجید کی تعلیم وتربیت کا ایک انداز ہے۔ قرآن مجید انسانی فطرت کا کائناتی زبان میں براہ راست خطاب کرتا ہے اور یہ خطاب نہایت موثر ہوتا ہے۔

سُورَةُ الذَّارِيَاتِ: ۶–۹

اور یہی مفہوم اور مقصد ہے دوسری قسم کا :

والسمائ ........ من افک

یہاں اللہ آسمان کی قسم اٹھاتا ہے جس کی بناوٹ محکم اور مرتب ہے۔ اس طرح جس طرح زرہ کے حلقے نہایت ترتیب سے بنے ہوئے ہوتے ہیں بعض اوقات آسمانوں میں بادلوں کی یہی صورت ہوتی ہے کہ یہ بادل زرہ کی طرح بنے ہوئے نظر آتے ہیں اس طرح پیچدار نظر آتے ہیں جس طرح پانی کی لہریں جن پر ہوا ایک ہی رفتار سے چل رہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آسمانوں کے اندر جتنے مدار ہیں وہ مراد ہوں کیونکہ یہ مدار ایسے ہیں کہ اگر ان کو رنگ دار لکیروں سے ظاہر کیا جائے تو وہ زرہ کے حلقوں کی طرح نظر آئیں۔ اس نہایت ہی اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں جو چاہے ان باتوں سے بھر جائے اور جو چاہے ان پر جما رہے۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔

اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔

یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لین اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔ اس کے بعد ان کے افکار پریشان کا ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جسے آنکھیں اس طرح دیکھ رہی ہیں جس طرح اسکرین پر چل رہا ہو۔

520