بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْـَٔاخِرُ وَٱلظَّـٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُوا۟ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَأَنفَقُوا۟ لَهُمْ أَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۙ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَـٰقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ هُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِۦٓ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍۢ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَـٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ ٱلْفَتْحِ وَقَـٰتَلَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةًۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَقَـٰتَلُوا۟ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْرِضُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا فَيُضَـٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجْرٌۭ كَرِيمٌۭ يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَـٰنِهِم بُشْرَىٰكُمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورًۭا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍۢ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْمَةُ وَظَـٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَٱرْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ ٱلْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ فَٱلْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌۭ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ مَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ ۖ هِىَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ ۞ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ إِنَّ ٱلْمُصَّدِّقِينَ وَٱلْمُصَّدِّقَـٰتِ وَأَقْرَضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا يُضَـٰعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌۭ كَرِيمٌۭ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَ ۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَحِيمِ ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ وَزِينَةٌۭ وَتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌۭ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَـٰدِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ ٱلْكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّۭا ثُمَّ يَكُونُ حُطَـٰمًۭا ۖ وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ وَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٌۭ ۚ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَـٰعُ ٱلْغُرُورِ سَابِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍۢ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ لِّكَيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍۢ فَخُورٍ ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا ٱلْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌۭ شَدِيدٌۭ وَمَنَـٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌۭ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًۭا وَإِبْرَٰهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْكِتَـٰبَ ۖ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍۢ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأْفَةًۭ وَرَحْمَةًۭ وَرَهْبَانِيَّةً ٱبْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَـٰهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَـَٔاتَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَـٰسِقُونَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ ٱلْكِتَـٰبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۷۷–۸۰

انہ ................ العلمین (۶ ۵: ۰۸) ” یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ ایک محفوظ کتاب میں ثبت جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ “

فی کتب مکنون (۶ ۵: ۸۷) ” کتاب محفوظ میں۔ “ اور اس کی تفسیر بعد کی آیت کررہی ہے۔

لا یمسہ الا المطھرون (۶ ۵: ۹۷) ” جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ “ مشرکین کا الزام تھا کہ اسے شیاطین نے نازل کیا ہے۔ یہ ان کے الزام کی تردید ہے کیونکہ شیطان اس کتاب کو مس نہیں کرسکتا جو اللہ کے علم میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے۔ اسے پاک فرشتے لے کر نازل ہوتے ہیں۔

اس آیت کی یہ سب سے اچھی تفسیر ہے کیونکہ (لا) نافیہ ہے یعنی یہ فعل ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ناہیہ نہیں ہے کہ تم ایسا نہ کرو کیونکہ اس دنیا میں پاک اور نجس دونوں قرآن کو چھوتے رہتے ہیں۔ مومن اور کافر بھی چھوتے ہیں لہٰذا اس لحاظ سے نفی متحقق ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنی زیادہ قریب ہے اور کفار کے الزام کے جواب میں یہی معنی درست ہے کہ مطہر سے مراد فرشتے ہوں کیونکہ کتب سماوی شیطان کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔

اور اس کے بعد کی آیت۔

تنزیل ............ العلمین (۶ ۵: ۰۸) ” یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے۔ “ شیاطین کی نازل کردہ نہیں ہے۔ اس کی تائید کرتی ہے۔

اگر مروی احادیث اس کا دوسرا مفہوم بتاتی ہیں کہ قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک شخص لیکن علامہ ابن کثیر نے کہا ہے ” یہ قیمتی نکتہ ہے الزھری نے اس طرح پڑھا ہے لیکن اس تفسیر کو نہیں لینا چاہیے۔ اس حدیث کو درافطنی نے عمر ابن حرم عبداللہ ابن عمر اور عثمان ابن ابوالعاص سے مسند طور پر روایت کیا ہے لیکن اس کی سب سندوں میں کلام کی گنجائش ہے۔ “

اس کے بعد اس سورة کا آخری پیرا آتا ہے۔ یہ عقل وخرد کے تاروں پر آخری مضراب ہے۔ اس میں اس لمحے کا تذکرہ ہے جس کے بارے میں سوچ کر انسان کے اعضاء کانپ جاتے ہیں۔ یہ ہے لمحہ موت جس میں کوئی کلام نہیں ہے اور پھر انسان واپس نہیں آتا ہے نہ اس لمحے سے کوئی بچ سکتا ہے۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۱

افبھذا ................ صدقین (۸۷) (۶ ۵: ۱۸ تا ۷۸) ” پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بےاعتنائی برتتے ہو اور تم نے تکذیب کو اپنا رزق بنا لیا ہے۔ اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اس خیال میں سچے ہو تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے ؟ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے۔ “

کیا تم اس کتاب کی باتوں میں شک کرتے ہو اور اس لئے کہ یہ تمہیں یہ کہتی ہے کہ تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ تم قرآن اور اس کے بیان کردہ قصص آخرت کی تکذیب کرتے ہو اور قرآنی عقائد و تصورات کی تکذیب کرتے ہو۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۲

وتجعلون ................ تکذبون (۶ ۵: ۲۸) ” کہ تم تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہو۔ “ اور اس کو توشہ آخرت بنا رہے ہو اور زندگی بھی تم اس تکذیب پر بسر کرتے ہو یا یہ تمہاری خوراک بن گئی ہے۔ کس قدر گندی خوراک ہے یہ۔

جب تمہاری روح حلقوم تک آجاتی ہے اور تم دنیا اور آخرت کے کنارے اور دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہو تو تم کیا کرنے والے ہوتے ہو ، تم کر ہی کیا کرسکتے ہو .... پھر قرآن کا انداز تصویر کشی آتا ہے اور اس موقع کی بہترین تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کئی جھلکیوں کے انداز میں ہے اور مختصر جھلکیوں میں سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۳

فلو لا ................ تبصرون (۵ ۸) (۶ ۵: ۳۸ تا ۵ ۸) ” تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے اور تم آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہا ہے۔ اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے “ یہ ایسی تصویر کشی ہے کہ ان الفاظ۔

بلغت الحلقوم (۶ ۵: ۳۸) ” کے اندر سے سکرات الموت کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمیں نظر آتا ہے چہرے کے فیچر کھیچے جارہے ہیں ، سختی اور شدت نظر آرہی ہے۔ پھر۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۴

وانتم ............ تنظرون (۶ ۵:۴ ۸) سے نظر آتا ہے کہ اس کے ارد گرد بھی اقرباء عاجز والا چار کھڑے ہیں۔

اب روح اس دنیا سے پرواز کرگئی ہے اور میت نے سب کچھ پیچھے دنیا میں چھوڑ دیا ہے۔ یہ جدید اور نئی دنیا میں قدم رکھ رہا ہے۔ اب اس کے پاس صرف وہی کچھ ہے جو کمکایا ہے۔ باقی خیروشر پر اب اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہاں اس جدید دنیا میں یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے لیکن پیچھے مڑ کر کسی کو کچھ بتا نہیں سکتا۔ وہ اپنے ماحول سے جدا ہوچکا ہے۔ ایک جسم پڑا ہے جسے ناظرین دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں بھی نہیں پتہ کہ اس پر کیا گزر رہی ہے۔ یہاں آکر انسان کی قدرت اور انسان کے علم کے حدود ختم ہوجاتے ہیں۔ اس مقام پر آکر انسان اعتراف کرتے ہیں کہ وہ عاجز و لاچار ہیں۔ وہ بہت ہی محدود قوت کے مالک ہیں اب کوئی جدال نہیں رہتا .... یہاں آکر اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے ، کچھ نظر نہیں آتا ، کچھ معلوم نہیں اور منظر پر کوئی حرکت نظر نہیں آتی۔

اب صرف قدرت الٰیہہ ہی ہوتی ہے۔ علم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور اس امر میں اب کوئی شبہ نہیں رہتا بلکہ شبہ کاشائبہ تک نہیں رہتا نہ جدل ہے اور نہ حیلہ۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۵

ونحن ............ تبصرون (۶ ۵:۵ ۸) ” اس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے۔ “ یہاں اب منظر پر شان باری ہے۔ اللہ کا خوف چھا جاتا ہے۔ اللہ تو ہر وقت حاضروناظر ہے لیکن قرآن کا یہ کمال ہے کہ وہ انسان کے خوابیدہ شعور کو جگا دیتا ہے چناچہ مجلس موت پر اللہ کے شعوری حضور سے فضا زیادہ ہولناک ہوجاتی ہے جبکہ تمام لوگ ڈرے ہوئے سہمے ہوئے اور عاجز ہیں اور الوداع الوداع کا ماحول ہے۔

ایسی فضا میں ایک چیلنج آتا ہے نہایت ہی کپکپانے والی ، پر تاسف ، پر فغاں محفل میں اور سخت حسر تناک ماحول میں اللہ کی طرف سے ایک چیلنج آتا ہے۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۶–۸۷

فلو لا ............ صدقین (۷۸) (۶ ۵: ۶۸۔ ۷۸) ” اب اگر تم کسی کے محوم نہیں اور اپنے خیال میں سچے ہو تو اس وقت اس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لاتے۔ “ اگر بات اس طرح ہے جس طرح تم کہتے ہو ، کہ کوئی جزا وسزا نہیں ہے اور تم آزاد ہو تو روح جب حلقوم کو آجائے تو وہاں سے لوٹا دو کیونکہ وہ تو حساب و کتاب دینے جارہی ہے اور تمہارے ہوتے ہوئے جارہی ہے تم بےبس کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہو وہ تو ایک بڑی ذمہ داری کا جواب دینے جارہی ہے اور تم خاموش اور بےبس کھڑے ہو۔

اب تمام صحبتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ ہر دلیل رد ہوجاتی ہے۔ ہر حیلہ اور ہر بہانہ ختم ہوتا ہے اور اس حقیقت کا دباؤ انسانی جسم اور عقل پر اور زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ دفاع کی قوت نہیں رکھتا۔ اسے تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں رہتا الا یہ کہ وہ ہٹ دھرمی پر اترآئے۔

اب تھوڑا سا تبصرہ اس روح پر ہوتا ہے جو پرواز کرگئی ہے۔ یہ حلقوم تک آئی ، اس نے اس فانی زندگی پر آخری نظر ڈالی اور باقی رہنے والی دنیا پر نظر ٹکا دی اور اس میدان کی طرف سفر کرگئی۔ جس میں ہر شخص سے باز پرس ہوگی جس کی یہ مکذبین تکذیب کررہے ہیں :۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۸۸–۸۹

فاما .................... جحیم (۴ ۹) (۶ ۵: ۸۸ تا ۴ ۹) ” پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو تو اس کے لئے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے تو اصحاب الیمین میں سے ہے اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو تو اس کی تواضع کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جانا “

سورة کے آغاز میں مقربین کے انعامات کا ذکر ہوگیا ہے ان کے لئے روح اور راحت ہے۔ راحت ، رزق حسن اور نعمتوں والی جنت۔ ان الفاظ ہی سے ان نعمتوں کی لطافت ظاہر ہے۔ میٹھی راحت ، نرم اور نازک سہولیات اور محبت و اعزاز۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۹۰–۹۱

واما ان ............ الیمین (۶ ۵: ۰۹) ” اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو۔ “ تو ان کی طرف روئے سخن براہ راست ہوتا ہے۔ اصحاب الیمین اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اس وقت یہ سلام کس قدر خوبصورت ہوگا۔ اس کی روح ابھی نکلی ہی نہیں کہ سلام سنائی دیتا ہے۔ ایسا جانے والا مطمئن ہوکر جاتا ہے اور آنے والے زمانہ کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۹۲–۹۴

واما ان ............ جحیم (۶ ۵:۴ ۹) ” اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں سے ہو تو اس کی تواضح کے لئے کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں جھونکا جاتا ہے۔ “ کیا ہی بری تواضع ہے۔ گرم پانی اور عذاب جہنم۔ وہ دور سے دیکھ رہا ہے کہ اسے اس جہنم میں جانا ہے۔ روح قبض ہونے کے ساتھ ہی۔

اب بات انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ خاتمہ نہایت ہی نرم دھیمے آواز میں۔ نہایت نیچی سروں میں۔

سُورَةُ الوَاقِعَةِ: ۹۵–۹۶

ان ھذا ............ العظیم (۶۹) (۶ ۵:۵ ۹ تا ۶۹) ” یہ سب کچھ قطعی حق ہے ، پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ “

یہ آخری پر سوز تلقین ہے۔ سچائی کے پلڑے میں وزن ڈالا جاتا ہے۔ قلب مومن نے حق الیقین کرلیا ہے کہ واقعہ سچ ہے اور ہونے والا ہے۔ سورة ختم ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے۔” رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو “ اور اسی سے نماز میں سبحان ربی العظیم جاری ہوا۔

سُورَةُ الحَدِيدِ
سُورَةُ الحَدِيدِ: ۱

یہ ایک طے شدہ اور نہایت ہی اشاراتی مطلع اور آغاز کلام ہے جو براہ راست دلوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے اور انہیں خوب جھنجھوڑتا ہے ، خوب دباتا ہے اور ان کو لے کر ہر طرف گھماتا ہے۔ اس کائنات کی سیر کراتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ہر طرف اللہ ہی اللہ ہے۔ یہ دل اللہ ہی کو محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ان کی نظر نہیں آتی۔ اللہ کے سوا کوئی جائے فرار نظر نہیں آتی۔ اللہ کے دائرہ علم سے وہ نہیں نکل سکتے۔ اللہ کی طرف رجوع کے سوا کوئی جائے فرار نہیں ہے اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں اللہ کا وجہ کریم نظر آتا ہے۔

اس مطلع میں خصائص ربوبیت پر بحث کی گئی ہے جو اس کائنات میں فعال ، موثر اور اس کی خالق ہے۔ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے۔ ہر چیز پر وہ محیط ہے۔ ہر چیز کی علیم ہے۔ یہ ذات اس پوری کائنات کی پدیا کرنے والی ہے۔ انسان کے دلوں کے رازوں کو جاننے والی ہے۔ دلوں کے خفیہ رازوں کو جانتی ہے اور وہ اس پوری کائنات اور پوری انسانیت کی نگران ہے۔

اس سورة کا آغاز یوں تعریف ذات باری سے ہوتا ہے اور یہ پوری کائنات اللہ کی تسبیح کرنے لگتی ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز گنگنارہی ہے اہر ہر دل جو ہدایت کے لئے کھلا ہے ، وہ اسے خودسن رہا ہے۔ اگر اس پر حجاب پڑا ہوا نہ ہو۔ اس آیت کو اپنے ظاہر مفہوم سے بدلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اللہ کا فرمان ایسا ہی ہے اور ہم اس کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ، اس لئے اللہ جو کچھ فرماتا ہے اس کائنات کے خصائص بعینہ ویسے ہیں جس طرح ہمیں اللہ نے بتائے ہیں۔

سبح للہ ............ والارض (۷۵ : ۰) تو اس کے معنی یہی ہیں کہ ” اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے “ اس لئے اس میں کوئی تبدیلی اور تغیر نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں یقین کرلینا چاہئے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اس کی ایک روح ہے اور یہ روح کائنات اپنے خالق کی تسبیح کرتی ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کی تصدیق صحیح آثار و احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ بعض اہل دل کے تجربات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جس وقت یہ دل اپنی صفائی اور اشراق کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ اس حقیقت سے متصل اور مربوط ہوجاتے ہیں جو اشیاء میں چھپی ہوتی ہے جو ان تمام چیزوں اور ان کی شکلوں کے پیچھے ہے یعنی روح کائنات۔

قرآن کریم میں ہے۔

یا جبال ............ والطیرلہٰذا پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے لئے یکساں تھے اور حدیث میں آیا ہے امام مسلم نے جابر ابن سمرہ کی روایت نقل فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

ان بم کہ حجراکان لیسلم علی لیالی بعثت وانی لاعرفہ الان ” مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھ پر ان دنوں سلام کہتا تھا جب مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور وہ مجھے اب بھی معلوم ہے۔ “

امام ترمذی نے اپنی سند سے ، حضرت علی ابن ابوطالب سے روایت کی ہے ” میں رسول اللہ کے ساتھ مکہ میں تھا ، ہم مکہ کے اطراف میں سے ایک طرف میں نکل گئے۔ رسول اللہ کے سامنے جو درخت اور پتھر پہاڑ بھی آیا اس نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ “ کہا اور امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس ابن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ایک کھجور کے تنے کے پہلو میں خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے حضور کے لئے منبر بنا لیا اور حضور نے اس پر کھڑے ہوکر خطبہ دیا تو کھجور کے تنے نے اس طرح فریاد کی جس طرح اونٹنی فریاد کرتی ہے۔ رسول اللہ منبر سے اترے اور اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہوگیا۔

اس حقیقت کے اظہار میں خود قرآن کی آیات صریح ہیں۔

الم تران ............ وتسبیحہ (۴۲ : ۱۴) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ، اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے۔ “ اور دوسری جگہ ہے۔

الم تران اللہ ............ من الناس (۲۲ : ۸۱) ” کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان۔ “

وان من ................ تسبیحھم ” کوئی چیز ایسی نہیں ہے اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ “ لہٰذا اس قسم کی نصوص کی تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خصوصاً اس مقصد کے لئے کہ ہم ان آیات کو ایسے اصول موضوعہ کے ساتھ موافق کردیں جو قرآن سے ماخوذ نہیں ہیں۔ اس لئے کہ اس دنیا کے تمام موضوعات کو اس قرآن کے ساتھ مطابق ہونا چاہئے جو یقینا خالق کی طرف نازل ہوا ہے اور ہمارے بنائے ہوئے اصول شکی ہیں اور ہمارے بنائے ہوئے ہیں۔

وھو ............ الحکیم (۷۵ : ۱) ( اور وہی زبردست اور دانا ہے۔ ) زمین و آسمان کی مخلوقات اس کی تسبیح اس لئے کرتی ہے کہ وہ زبردست اور دانا ہے اور اس کی حکمت انتہائی حکمت ہے فائنل ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعہ تمام اشیاء پر حاوی ہے اور اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق تخلیق کیا ہے۔

ابھی اس افتتاحی آیت کا فیض عام جاری تھا اور ہم پوری کائنات کے ساتھ جشن تسبیح میں مصروف تھے کہ سیاق کلام میں کائنات بالا کا ایک نیا سفر شروع ہوگیا۔

سُورَةُ الحَدِيدِ: ۲

لہ ملک ............ قدیر (۷۵ : ۲) ” زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “

آسمان اور زمین کی ہر چیز نے تسبیح کی ہے اللہ کی ، جو مالک سموت والارض ہے اور اس کی ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ پس یہ تسبیح ہے از جانب غلام بحق آقا۔ یہ مالک کوئی دنیاوی مالک نہیں ہے۔ یہ تو موت وحیات کا بھی مالک ہے۔ وہ موت وحیات کا بھی خالق ہے۔ اس نے ہر زندہ کے لئے حیات اور ہر مرنے والے کے لئے موت مقدر کردی ہے۔ لہٰذا حیات وممات اس کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں۔

حیات ابھی تک تو راز ہے اس کا سرچشمہ بھی اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آج تک کوئی اللہ کے سوا اور کوئی سرچشمہ حیات نہیں بتا سکا نہ کوئی اس کی کیفیت آمد بتا سکا ہے اور یہ تو بڑی باتیں ہیں آج تک انسان حیات وممات کی حقیقت ہی نہیں سمجھ سکے کہ یہ کیا ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ اللہ ہی حیات دیتا ہے۔ ہر زندہ چیز کو حیات اللہ ہی دیتا ہے۔ کوئی شخص آج تک اس کا انکار نہیں کرسکا اور نہ اس کی ضد کو ثابت کرسکا ہے۔ اس طرح موت بھی ایک راز ہے جس کے اوپر پردے ہیں۔ کوئی شخص موت کی طبیعت اور ماہیت کو بھی نہیں جانتا۔ کوئی شخص موت کو پیدا نہیں کرتا کیونکہ جو حیات نہیں دے سکتا وہ اسے سلب بھی نہیں کرسکتا۔ یہ سب چیزیں اللہ کی ملکیت مطلقہ ہیں۔ اس لئے زمین و آسمان میں جو چیزیں بھی ہیں ان کی حیات بھی وہی دیتا ہے اور ان کو ممات بھی وہی دیتا ہے۔

وھو .................... قدیر (۷۵ : ۲) ” اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “ وہ ہر چیز پر قادر ہے بغیر حدود وقیود کے۔ اس کی مشیت مطلق ہے کسی حدوقید کے اندر محدود ومقید نہیں ہے۔ اس کی مشیت کا رابطہ ہر چیز سے ہوتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ، ہوتا ہے۔ انسانی عقل اللہ کی قدرت پر اگر کوئی بندش لگاتی ہے خواہ جس رنگ میں ہو اور جس قسم کی ہو ، جس انداز کی ہو وہ باطل ہے۔ وہ عقل بشری کی پیدا کردہ سوچ ہے جو بذات خود محدود ہے۔ اور اللہ کی مشیت نے اس کائنات کے لئے جو قوانین قدرت اور نوامیس فطرت مقرر کیے ہیں۔ وہ اللہ کی مشیت مطلقہ میں داخل ہیں کہ وہ بلاحدود وقیودکام کررہی ہے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت ان نوامیس فطرت کو آزادی سے اختیار کرتی ہے۔ اور ان قوانین قدرت کو اللہ کبھی کبھی توڑتا بھی ہے۔

قرآن کریم نے اس نکتے کو بہت اہمیت دی ہے۔ بار بار اس بات کی تصریح کی جاتی ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور یہاں تک کہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے اجراء کو بھی روک سکتا ہے۔ تاکہ یہ حقیقت واضح ہو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اس میں کسی شے کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اللہ نے اہل جنت کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور اہل جہنم کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ جہنم میں رہیں گے اور یہ وعدہ اللہ کی مشیت کے نتیجے میں صادر ہوا ہے لیکن اللہ نے اپنی آزادی کو اس عہد کے دائرے سے ہی خارج رکھا ہے اور مستثنیٰ کیا ہے۔ اس لئے اللہ نے فرمایا۔

خلدین ............ ماشاء اللہ ” وہ اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الایہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ “ جہاں بھی اس قسم کی بات آئی وہاں الا ماشاء اللہ کے الفاظ آئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ خود اپنے فیصلوں کا پابند نہیں ہے۔ اس سلسلے میں عقلی گھوڑے دوڑانا جائز نہیں ہے۔ قرآن ہی اصل سرچشمہ ہے۔

اس آیت کے ذریعہ اس پوری کائنات پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور مطلق مشیت کو ثابت کیا گیا ہے چونکہ وہ قادر مطلق ہے اس لئے اس کی تسبیح بھی ہر چیز کرتی ہے۔

اللہ کے اقتدار بےقید ثبوت اور اس کے فیضان عام سے اس کائنات کے جام جام کو لبالب کردینے کے بعد اب ایک دوسری عظیم حقیقت سامنے لائی جاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کے سوا باقی چیزوں کا وجود ہی اصلی نہیں ہے۔ موجود و حقیقی اور واجب الوجود صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی تمام عالم کو محیط ہے اور وہی ہر چیز کا علیم ہے۔

سُورَةُ الحَدِيدِ: ۳

ھوالاول ................ علیم (۷۵ : ۳) ” وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ وہ اول یوں ہے کہ اس سے ماقبل کوئی چیز نہیں ہے۔ آخر یوں ہے کہ اس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی وہ ظاہر ہے یعنی اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور وہ باطن ہے یعنی اس سے نیچے کوئی شیئی نہیں ہے۔

اول اور آخر کے الفاظ حقیقت زمانیہ کا استیعاب کرتے ہیں اور ظاہر اور باطن حقیقت مکانیہ کا استیعاب کرتے ہیں۔ مطلقاً ہر زمانے میں وہ موجود ہے اور مطلقاً ہر مکان میں وہ موجود ہے۔ اور کسی زمان ومکان میں قید نہیں ہے۔ اس تصور کے مطابق صرف وہی ہے اور اس کے سوا کوئی نہیں ہے اور ہمارا قلب اور ہمارا تصور بھی اسی سے وجود اخذ کرتا ہے۔ لہٰذا وجود الٰہی ہی حقیقی وجود ہے اور اللہ ہی حق ہے اور اللہ ہی حقیقت ہے اور کوئی حقیقت ہے تو وہ اللہ سے مستعاد ہے۔ نہ کسی اور کے پاس ذاتی حقیقت ہے اور نہ ذاتی وجود ہے ، اس پوری کائنات میں۔

وھو ................ علیم (۷۵ : ۳) ” اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ “ وہ حقیقی اور کامل علم رکھتا ہے۔ اس لئے کہ تمام اشیاء کی حقیقت تو ادھر ہی سے آئی ہوئی ہے لہٰذا اللہ کے ذاتی علم میں ہے۔ اور اللہ کا علم ایسا ہے کہ اس کی حقیقت ، اس کی نوعیت اور اس کی صفات میں کوئی بھی شریک نہیں۔ کسی اور کے پاس ایسا علم نہیں ہے۔ چاہے مخلوق کو جس قدر ظاہری معلومات بھی ہوں۔

جب کسی دل میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے تو اسے پھر اللہ کی ذات کے سوا کسی اور چیز کی پرواہ ہی نہیں رہتی۔ کوئی چیز یہاں تک کہ انسانی قلب وعقل کوئی حقیقت اور کوئی وجود نہیں رکھتے مگر وہی جو اس حقیقت کبریٰ نے عطا کیا ہوتا ہے۔ ہر چیز وہم ہے ، جانے والی ہے۔ صرف اللہ ہی باقی رہنے والا ہے۔ اور وہی ایک حقیقی وجود ہے۔

جب کوئی دل اس حقیقت کو اپنے اندر بٹھا لے تو وہ اس حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔ وہ ایک نہایت ہی بلند مرتبہ سکون وقرار تک پہنچ جاتا ہے۔ لیکن جب تک وہ اس رتبہ حصول الی الحقیقت پر فائز نہیں ہوجاتا اسے چاہئے کہ وہ اس آیت پر تدبر کرتا رہے اور یہ کوشش کرتا رہے کہ وہ اس کے مدلول اور حقیقت تک پہنچ جائے ، اس آیت کا مفہوم ہی بڑی حقیقت ہے۔

اہل تصوف نے اسی حقیقت ، عظیم حقیقت کو پکڑ لیا۔ انہوں نے اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا اور اس میں انہوں نے کئی کئی راتے نکالے۔ بعض نے کہا کہ وہ اس کائنات کی ہر چیز میں اللہ کو دیکھتے ہیں۔ بعض نے کہا انہوں نے دیکھا کہ ہر چیز کے پیچھے اللہ کھڑا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس نے اللہ کو دیکھا ہے اور اس کائنات میں تو اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر ہم الفاظ کی کمی بیشی اور الفاظ کی تنگ دامانی کو نظر انداز کردیں تو یہ سب اقوال اسی حقیقت کی طرف اشارہ کررہے ہیں ، لیکن متصوفین پر جو تنقید کی جاسکتی ہے۔ وہ صرف یہ ہے انہوں نے اس تصور کو اپنے اوپر اس قدر طاری کردیا ہے کہ عملی زندگی کو مہمل کردیا۔ جبکہ اسلام کا متوازن انداز یہ تھا کہ انسان کے دل و دماغ اس حقیقت کو اخذ کریں ، اس کے اندر رہیں اور بسیں لیکن وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت بھی ادا کریں جس کے لئے اللہ نے ان کی تخلیق کی ہے۔ اور اس کے تمام تقاضے پورے کریں جن میں سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں وہ نظام زندگی قائم کریں جو اللہ نے اس قرآن میں نازل فرمایا ہے۔ اس خیال سے کہ اس عظیم حقیقت کے تصور ہی کے مطابق اس دنیا میں انسان کو اپنی زندگی بسر کرنی ہے۔ یہ نظام فطرت انسانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس طرح اللہ نے اسے پیدا کیا ہے اور جس طرح اس نے قرآن کو بطور ہدایت نامہ بھیجا ہے۔

اس عظیم حقیقت کو قلب میں بٹھانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس حقیقت کبریٰ کا ظہور اس کائنات میں کیونکر ہوا ؟

537