Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
خاشعة ............ ذلة (۸۶ : ۳۴) ” ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، رات ان پر چھائی ہوئی ہوگی “۔ یہ متکبر اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے والے اس دن یوں ہوں گے۔ نیچی نظر اور ذلیل حالت یہ دو حالتیں ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ہیں۔ سورت کے آغاز میں جو ڈراوا آیا تھا کہ اس کی سونڈ پر ہم داغ لگائیں گے یہاں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے۔
یہ ایسے حالات میں ہیں شکستہ دریختہ کہ ان کو ڈرایا دلایا جاتا ہے کہ اس حالت تک وہ کس وجہ سے پہنچے ، کیونکہ یہ لوگ حق سے منہ موڑتے تھے اور تکبر کرتے تھے۔ اور جب صحیح سالم تھے اور ان کو سجدوں کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو یہ تکبر کرتے تھے۔ اب اس وجہ سے یہ لوگ اس ذلیل موقف میں ہیں اور اس مختصر دنیا کہ تو یہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ آج انہیں بلایا جاتا ہے مگر ان کے اندر سکت ہی نہیں ہے۔
وقد .................... سلمون (۸۶ : ۳۴) ” جب صحیح وسالم تھے اس وقت انہیں جسدے کے لئے بلایا جاتا تھا “ مگر یہ انکار کرتے تھے۔ اور آج بلایا جاتا ہے ، کرنا چاہتے ہیں ، مگر طاقت نہیں ہے یا موقعہ نہیں۔ ایسی ہی حالت میں ایک دوسری تہدید دلوں کو ہلا مارنے والی جبکہ وہ پہلے سے کرب اور بےچینی میں ہیں اور حواس باختہ ہیں۔
فذرنی ............ الحدیث (۸۶ : ۵۵) “ پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو “۔ مارگئے۔ یہ خوفناک دھمکی ہے اللہ جبار وقہار کی طرف سے ، جو قوی اور مضبوط ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ چھوڑ دیجئے ان نٹ پونجیوں کو جو اس عظیم کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ میں ان سے لڑوں گا۔ یہ کون تھا جو تکذیب کرتا تھا ؟ یہ وہی انسان ہے جس کی قوت ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ بلکہ اس پوری کائنات کی نسبت سے یہ تو ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے جو ہوا میں اڑرہا ہے۔ اللہ قہار وجبار کی قوت کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں انسان بیچارہ ہے کیا ؟
محمد (ﷺ) تم ان کو میرے لئے چھوڑدو ، آپ اور اہل ایمان آرام و اطمینان سے بیٹھیں ، یہ جنگ میرے ساتھ ہے ، میرے دین کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ میرے دشمن ہیں۔ میں ان کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہوں ، ان کو معلوم ہوجائے گا۔ آپ لوگ آرام و اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے۔ اور کس قدر باوثوق یقین دہانی ہے ، ان لوگوں کو جو اس وقت نہایت ہی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اور یہ محض یقین دہانی ہی نہیں ہے۔ اللہ جبار وقہار بتلا دیتا ہے کہ ان کے خلاف کیا سٹریجی اختیار کی جائے گی۔ یہ تو بہت ہی کمزور ہیں اور ضعیف ہیں۔
سنستدرجھم ................ متین (۵۴) (۸۶ : ۴۴۔ ۵۴) “ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف سے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے “۔ ان مکذبین اور تمام روئے زمین کے باشندے اس سے فروتر ہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کوئی تدبیر کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اپنی قوتوں سے ڈراتا ہے کہ وہ اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ اور وقت کے چلے جانے سے پہلے ہی ، اپنے آپ کو درست کرلیں ، اور یہ جان لیں کہ یہ ظاہری عافیت جس میں وہ ہیں ، یہ بھی ان کے لئے بڑی فتح ہے جس پر وہ غرور کررہے ہیں۔ اور یہ کہ ان کو جو ظلم کرنے ، سرکشی کرنے ، دین اسلام سے منہ موڑنے ، اور گمراہی اختیار کرنے کی جو مہلت دے دی گئی ہے ، یہ دراصل مزید برے انجام کی تدبیر ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر ہے کہ یہ لوگ اپنے بوجھ پورے کے پورے اٹھائیں اور قیامت میں جب آئیں تو گناہوں سے لدے ہوئے ہوں اور شرمندگی ، سرزنش اور عذاب میں ڈالے جانے کے مستحق ہوچکے ہوں۔
اللہ نے جو تدبیر کی ہوئی ہے ، اس میں بھی اللہ نہایت ہی عارلانہ اور رحیمانہ انداز اپناتا ہے کہ ان کو پہلے سے بتا دیتا ہے ، حالانکہ وہ اس کے دین کے دشمن ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دشمن ہیں تاکہ وہ غور کرلیں اور اگر چاہیں تو راہ راست پر آجائیں۔
اللہ تعالیٰ مہلت تو دیتا ہے لیکن یونہی شتر بےمہار نہیں چھوڑتا۔ جب وہ ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سے پھر کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں اللہ اپنے طریقے ، اپنی سنت اور اپنی مشیت بتاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو بتاتا ہے کہ جو لوگ اس کلام کا انکار کرتے ہیں ان کو ذرا چھوڑیں کہ میں کس طرح انجام تک پہنچاتا ہوں۔ یہ لوگ مال ، اولاد اور مرتبہ ومقام پر اتراتے ہیں۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ یہ نعمتیں ہی ان کے لئے باعث عذاب ہوں گی۔ یوں رسول اللہ ﷺ کو مطمئن کردیا جاتا ہے اور ان کو عذاب کے منہ میں جانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ انداز تعبیر نہایت معنی خیز ، خوفناک اور عجیب ہے۔
فذرنی ................ الحدیث (۸۶ : ۴۴) چھوڑ دو مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں “۔ میرے اور ان احمقوں کے درمیان اب گویا جنگ شروع ہوگئی ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی جنگ رہی ہے۔ اس اعلان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ معرکہ ایمان وکفر ، معرکہ حق و باطل میں ، دراصل تم فریق نہیں ہو۔ ایک فریق یہ احمق ہیں اور دوسرا اللہ ہے۔ اس جنگ کی کمان اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اور یہ بات دراصل ہے بھی حقیقت ، اگرچہ بظاہر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ معرکہ حق و باطل میں اہم کردار نظر آتے ہیں ، ان کا جو کردار ہے وہ بھی سنت الٰہیہ اور تقدیر الٰہی کی تدبیر کا ایک حصہ ہے۔ رسول اللہ اور مسلمان تو دست قدرت کے آلات کار تھے ، یہ اللہ ہی تھا جو انہیں استعمال کرتا تھا۔ وہ فعال لمایرید ہے جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور کراتا ہے۔ کام اللہ خود کرتا ہے۔
جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ مکہ میں تھے اور مکہ کے بھی ابتدائی ایام تھے۔ مسلمان نہایت ہی قلیل تعداد میں تھے ، ضعیف تھے۔ یوں اللہ نے ان کے کاسہ دل کو اطمینان سے بھر دیا اور یوں ان لوگوں کو خوفزدہ کردیا جو قوت ، مال ، مرتبے اور اولاد کی وجہ سے غرے میں مبتلا تھے۔ اس کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ گئے تو وہاں ظاہری حالات بدل گئے۔ اللہ نے یہ چاہا کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کا اس معرکہ میں ایک ظاہری کردار بھی ہو۔ لیکن اصل حقیقت اللہ نے ہمیشہ دو ٹوک الفاظ میں بتائی جہاں وہ مکہ میں ضعیف تھے ، تب بھی اور مدینہ میں وہ بظاہر کامیاب اور طاقتور تھے تب بھی۔ بدر میں کہا۔
فلم تقتلوھم ................ سمیع علیم (۸ : ۷۱) ” پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے نبی تونے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت بیٹھ جائے کہ جنگ کا فریق دراصل اللہ ہے۔ اور یہ جنگ اس کی جنگ ہے ، تاکہ اس آزمائش میں اللہ کے لئے اجر لکھ دے۔ رہی اصل جنگ تو وہ اللہ کی ہے اور رہی فتح تو وہ بھی اللہ عطا کرتا ہے ، مسلمانوں کے بغیر بھی یہ فتح اللہ عطا کرسکتا ہے۔ رہے یہ لوگ جو اس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ دست قدرت کے آلات ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی افواج صرف مومنین تک محدود نہیں ہیں۔
بہرحال قرآنی آیات میں اس حقیقت کو بالکل واضح کرکے بیان کیا ہے ، خواہ بظاہر مسلمان کمزور ہوں یا مضبوط ، نیز اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ بھی یہی بات متفق ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی مشیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ رہے مسلمان اور اسلامی افواج تو وہ محض آلات اور اسباب ہیں۔
یہ وہ حقیقت ہے جو مومن کو حالت قوت اور ضعف دونوں میں مطمئن کردیتی ہے بشرطیکہ قلب مومن مخلص ہو ، اور جہاد میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہو ، کیونکہ کفر واسلام کے معرکوں میں مسلمانوں کی قوت فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی نصرت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اللہ نصرت کا ضامن بن جاتا ہے۔ اگر مسلمان ضعیف بھی ہوں تو بھی فتح پاتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ ہاں اللہ دشمنوں کو مہلت دیتا ہے۔ ان کی رسی دراز کرتا ہے۔ اور اپنی مشیت ، حکمت ، اور عدل اور رحمت کے مطابق اپنے مناسب وقت پر اپنے دشمنوں کو شکست دیتا ہے۔
نیز یہ ایک ایسی حقیقت بھی ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے دل بھی تھر تھر کانپتے ہیں۔ چاہے مسلمان حالت ضعف میں ہوں یا حالت قوت میں ہوں۔ اس لئے کہ دشمن اسلام بھی جانتا ہے کہ ہمارا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اس خدا سے جو اپنے نبی سے کہہ رہا ہے۔
فذرنی .................... الحدیث (۸۶ : ۴۴) ” چھوڑدو مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کی تکذیب کرتا ہے “۔ تم الگ ہوجاﺅ اور اس بد بخت کو میرے لئے چھوڑ دو لیکن اللہ کی چال زبردست اور اس کا جال نظر فریب ہوتا ہے۔ یہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ پتہ بھی نہ چلے گا۔ اگر چہ یہ طاقتور ہوں۔ یہ ان لوگوں کی توقت جس کی وجہ سے یہ غرے میں مبتلا ہیں یہی ان کے لئے موجب شکست ہوگی۔
واملی .................... مثین (۸۶ : ۵۴) ” میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں میری چال زبردست ہے “۔ رہی یہ بات کہ فتح کب ہوگی ، تو اس کا علم اللہ کو ہے۔ کوئی اللہ کی چال اور جال سے بچ کر نہیں نکل کستا۔ اس سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو فسق وفجور میں بہت دور چلے جاتے ہیں۔
ایسے حالات میں آخر نبی ﷺ کو صرف یہی کہنے کی ضرورت ہے کہ آپ وقت آنے تک صبر کریں۔ مشکلات برداشت کریں ، رسالت اور دعوت کی ذمہ داریاں پوری کریں ، نفس کی خواہشات پر صبر کریں۔ ان کی ایذارسانیوں پر صبر کریں۔ یہاں تک کہ اللہ کے مقابلے کا وقت آجائے۔ یہاں دعوت اسلامی کی تاریخ سے ایک واقعہ بتایا جاتا ہے کہ جلد بازی نہ کریں اللہ نظام کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) نے بےصبری کی تھی تو اللہ کے فضل ہی نے ان کی مدد کی۔
اس خوفناک منظر اور اس خوفناک تہدید کی فضا میں یہ مکالمہ یوں اختتام پذیر ہوتا ہے ، ان کے موقف پر تعجب کیا جاتا ہے اور چیلنج دیا جاتا ہے۔
ام تسئلھم ................ مثقلون (۸۶ : ۶۴) ” کیا تم ان سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں ؟ “ کیا اسلام میں داخل کرنے کی کوئی بڑی فیس ہے جس سے یہ لوگ ڈر رہے ہیں اور بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ اور منہ موڑ رہے ہیں۔ اور اس لئے مجبور ہیں کہ یہ برا انجام ہی اختیار کریں۔ محض اس لئے کہ ادائیگی مشکل ہے۔
ام عندھم .................... یکتبون (۸۶ : ۷۴) ” یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟ “ ان کو یقین ہے کہ وہ سچی راہ پر ہیں۔ اور وہ ڈرتے نہیں۔ ان کو یہ غیبی تائید حاصل ہے اور یہ علم انہوں نے لکھ رکھا ہے اور ان کو یقین ہے یا انہوں نے خودا سے لکھ لیا ہے اور ان کو یقین ہے کہ یہ درست ہے۔ کچھ بھی ان کے پاس نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کو کوئی یقین حاصل ہے اور نہ ہی آپ کوئی فیس طلب کرتے ہیں۔
فاصبر ........................ من الصلحین
مچھلی والے حضرت یونس (علیہ السلام) ہیں۔ ان کے واقعہ کی تفصیلات سورة صافات میں گزر گئی ہیں ۔ ان کے تجربہ کا خلاصہ یہ ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ، کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک گاﺅں کی طرف بھیجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصل کے قریب نینویٰ نامی گاﺅں تھا۔ ان لوگوں نے ایمان لانے میں دیر کردی۔ آپ کو ان کی یہ حرکت ناگوار گزری۔ غصے میں آپ نے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اپنے دل میں کہا کہ اللہ نے مجھ پر یہ لازم نہیں کیا کہ ان ہٹ دھرموں اور معاندین کے درمیان بیٹھا رہوں جبکہ یہ نہیں مان رہے ہیں ، تو میں کسی دوسری قوم میں کام کرسکتا ہوں یا اللہ مجھے دوسری جگہ بھیج سکتا ہے۔ اس غصے کی حالت میں آپ ساحل کے کنارے تک چلے گئے۔ ایک کشتی میں سوار ہوگئے۔ جب یہ سمندر کے درمیان گئے تو کشتی بھاری ہوگئی اور غرق ہونے لگی۔ انہوں نے قرعہ پھینکا کہ کشتی کو ہلکا کرنے کے لئے ایک آدمی کو کم کیا جائے۔ قرعہ آپ کا نکلا۔ لوگوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا۔ مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت حضرت یونس (علیہ السلام) نے اللہ کو پکارا جب کہ وہ سخت مشکل میں تھے اور قریب المرگ تھے۔ سمندر کے اندر مچھلی کے پیٹ میں تھے۔ تاریکیوں پر تاریکیاں تھیں۔ اور موجوں پر موجیں تھیں۔ یہاں انہوں نے پکارا۔
لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین ” نہیں ہے کوئی الٰہ مگر تو ، تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے تھا “۔ اس وقت اللہ کا فضل وکرم آپہنچا ، مچھلی نے انہیں حکم الٰہی کے مطابق ساحل پر اگل دیا۔ اور اس وقت ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ وہ گوشت کالوتھڑا رہ گئے تھے۔ مچھلی کے معدے کی کیمیاوی عمل ان کی جلد کو رقیق بنا دیا تھا جبکہ ابھی تک اللہ نے ان کو زندہ رکھا۔ معجزانہ انداز میں اور اللہ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین حیات کا پابند نہیں ہے۔
یہاں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ کا فضل وکرم نہ ہوتا تو مچھلی انہیں اس حالت میں پھینکتی کہ وہ مذموم ہوتے۔ یعنی رب تعالیٰ کی طرف سے مذموم ہوتے۔ کہ وہ اپنے مقام دعوت سے ذرا جلدی چلے گئے۔ اللہ نے ان کی اس تسبیح کو قبول کیا اور ان کے اعتراف اور عذر کو قبول کرلیا اور ان پر رحم وکرم کردیا۔
فاجتبہ ........................ الصلحین (۸۶ : ۰۵) ” آخر کار اس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا “۔
یہ تجربہ خاتم النبین کے لئے پیش کیا گیا تاکہ آپ اپنے فرائض رسالت کی ادائیگی میں اس سے استفادہ کریں۔ کیونکہ آپ نے آخری رسالت کا کام تمام سابقہ تجربات کی روشنی میں کرنا تھا۔ تمام نصیحتیں ، تمام عبرتیں اور تمام تجربات کی فصل آپ نے کاٹنی تھی تاکہ آپ کے لئے اپنے کام میں فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ اور آپ یہ بوجھ اچھی طرح اٹھاسکیں۔ تاکہ آنے والے زمانے میں ، جدید سے جدید تر حالات میں بھی زندگی کی گاڑی ان اصولوں کے مطابق چلائی جاسکے اور جب مستقبل کوئی نیا مسئلہ لے کر آئے تو اس دعوت اور رسالت کے اصولوں میں اس کا حل موجود ہو۔
یہ تجربہ جس سے حضرت یونس (علیہ السلام) گزرے ، یہ نبی ﷺ کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں کہ انہی کی طرح لوگ ہٹ دھرمی ، تکذیب اور سرکشی پر اترے ہوئے ہیں اور یہ نصیحت آپ کو اس وقت کی گئی جب حق و باطل کے معرکے کی ذمہ داری سے آپ کو سبکدوش کردیا گیا۔ یہ ذمہ داری اللہ نے لے لی۔ جس طرح چاہے گا ، جنگ کرے گا ، جس وقت چاہے گا ، کرے گا۔ آپ کو یہ حکم دے دیا کہ آپ صبر اور ثابت قدمی سے اپنا کام یعنی ابلاغ کرتے رہیں ، چاہے اس راہ میں جو مشکلات بھی آئیں ، تمام فیصلے وقت پر ہوں گے۔ مقام دعوت نہ چھوڑیں نہ جلدی کریں۔
دعوت اسلامی کی مشکلات اور مشقتوں میں سے سب سے بڑی مشقت صبر کرنا ہے۔ اور اس وقت کا انتظار کرنا ہے کہ جب اللہ اپنا آخری فیصلہ صادر کردے کیونکہ دعوت کامیابی کے وقت کا فیصلہ اللہ کے پاس ہے اور یہ فیصلہ اللہ اپنی حکمت کے مطابق صار فرماتا ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی کے آنے سے پہلے اس راہ میں بڑی مشقتیں آتی رہتی ہیں ، لوگ جھٹلاتے ہیں ، پھر تشدد کرتے ہیں۔ چالیں چلتے ہیں اور سخت عناد رکھتے ہیں۔ باطل اپنی قوت کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ اسے اس طرح بڑھا کر پیش کرتا ہے جس طرح غبارے میں ہوا بھردی جاتی ہے۔ اور وہ خوفناک نظر آتا ہے ، لوگ ظاہری کامیابی اور باطل کی چلت پھرت سے مرعوب ہوکر اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں ، پھر مشکل ترین مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی نہایت ثابت قدمی ، استقلال ، سنجیدگی کے ساتھ جم کر کام کرتا رہے اور وعدہ حق کی آمد کا انتظار کرے۔ کوئی شک نہ کرے ، کوئی تردد اسے نہ ہو ، سیدھی راہ پر جارہا ہو ، اگرچہ راہ میں رکاوٹیں آئیں تو گویا وقت کے آنے کا انتظار بڑی مشقت ہے۔ رہا اصل معرکہ تو یہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ وہی اس معرکے میں فریق ہے ، وہی تدبیر کررہا ہے۔ وہ ظالموں کی رسی دراز کررہا ہے۔ اور اس میں حکمت پوشیدہ ہے۔ یہی وعدہ ان مشکل حالات میں نبی کریم ﷺ سے ہوا اور بعد کے حالات نے اس کی تصدیق کی۔
آخر میں کافروں کے ایک دوسرے منظر کو یہاں لایا جاتا ہے۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی دعوت اور تبلیغ سن کر سخت غصے میں آتے تھے اور جل بھن جاتے تھے اور ان کے دل میں سخت عناد اور حسد پیدا ہوتا ہے ، جس کا اظہار ان کی نظروں سے ہوتا ۔ زہر آلود اور قہر آمیز نظروں سے یہ لوگ آپ کو گھورتے ہیں۔ قرآن کریم ان کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جس پر اضافہ ممکن نہیں۔
وان یکاد .................................... للعلمین
یہ ممکن تھا کہ یہ خشمگیں نظریں حضور اکرم ﷺ کے قدم ہلادیں اور آپ پھسل جائیں۔ اور آپ ڈگمگانے لگیں۔ ان کی نظروں میں جس قدر قہر ، غضب ، شرارت ، جوش انتقام اور حسد اور گرمی تھی ، قرآن کریم نے اسے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ اور ان نظروں کے ساتھ وہ سب وشتم اور اتہام والزام بھی لگاتے اور کہتے۔
انہ لمجنون (۸۶ : ۱۵) ” یہ تو ایک مجنون ہے “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جسے دست قدرت کا قلم ہی رقم کرسکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت اسلامی اس ابتدائی دور میں کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ اس وقت مکہ کے مخالفین کا حلقہ بااثر مجرمین کا ایک وسیع حلقہ تھا۔ ان کے دل جل رہے تھے اور آنکھیں مارے غضب کے پھٹ رہی تھیں۔ لیکن اللہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر احمق ہیں کہ مکہ کے اس چھوٹے سے شہر میں جل بھن رہے ہیں یہ تو ایک عالمی پروگرام ہے۔
وما ھوا ................ للعلمین (۸۶ : ۲۵) ” حالانکہ یہ تجہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے “۔ صرف مکہ والوں کے لئے نہیں ہے اور پھر یہ جو الزام لگاتے ہیں وہ کس قدر احمقانہ ہے کہ کیا دیوانے عالمی اصلاح کا کوئی پروگرام پیش کرتے ہیں۔ صدق اللہ العظیم !
یہاں مناسب ہے کہ لفظ العالمین پر بات ہوجائے۔ ابھی یہ دعوت مکہ میں ہے ، چند ماننے والے ہیں اور رسول کو خشمگیں نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ اور مشرکین مکہ اس کے خلاف جنگ میں اپنے پورے وسائل استعمال کررہے ہیں۔ اس ابتدائی دور میں ، اس مشکل وقت میں بھی اعلان کردیا جاتا ہے کہ یہ عالمی تحریک ہے۔ جس طرح کہ اس کی حقیقت تھی۔ لہٰذا مدینہ میں جب اس تحریک نے عالمی انداز اختیار کیا تو یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ جس طرح آج کل مغربی افتراء پرداز یہ الزام لگاتے ہیں کہ دعوت اسلامی نے عالمی رنگ صرف مدینہ کی کامیابی کے بعد اختیار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے دن سے ایک عالمی دعوت تھی۔ یہی اللہ کا ارادہ تھا اور یونہی یہ دعوت زمانہ آخر تک رہے گی۔ یہ اللہ کا ارادہ ہے۔ یہ دعوت اللہ کی ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ وہ اس کا حامی اور ناصر ہے۔ وہی اس کی جانب سے لڑنے والا ہے۔ اور اس کے حاملین کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس پر جم جائیں۔ وہ سب سے اچھے فیصلے کرنے والا ہے۔
اس سورت کا موضوع اور محور ہولناک مشاہد قیامت ہیں۔ آغاز بھی قیامت کے ایک نام سے ہے اور نام بھی اس سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ نام قیامت کے واقعات کا اظہار اپنے تلفظ اور مفہوم دونوں سے کرتا ہے۔ الحاقہ اس آفت کو کہا جاتا ہے جس کا آنا ٹھہر گیا ہو۔ وہ حق ہوچکی ہو اور اس کا نزول لازمی ہوگیا ہو اور جس نے ہونا ہو اور اٹل ہو۔ یہ سب مفہوم ایسے ہیں کہ جن کے اندر قطعیت ، جزم ، شدنی کا مفہوم ہے۔ لہٰذا قیامت کے لئے اس لفظ کا استعمال سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ پھر اس لفظ کے تلفظ کے اندر بھی وہ اشارہ موجود ہے ، جو بات اس کے مفہوم میں ہے اور آگے سورت میں جو فضا بیان ہوئی ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ نیز تکذیب کرنے والوں کا دنیا وآخرت میں جو انجام ہونے والا ہے اس کے لئے لفظ الحاقہ حق ہے اور برحق ہے۔
پوری سورت کی فضا نہایت سنجیدہ اور قطعیت کی فضا ہے اور خوفناک فضا ہے۔ ایک طرف تو اس میں قدرت الٰہیہ کی ہیبت ناکیاں ہیں۔ اور دوسری جانب اس میں اس انسان کی ، اس قدرت الٰہیہ کے سامنے بےبسیاں ہیں اور پھر ان کے ساتھ اس کی خرمستیاں ہیں اور جب وہ اللہ کی شدید گرفت میں آتا ہے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت کے مناظر میں بھی ، اس دنیا میں اس وقت جب یہ اسلامی نظام کو رد کرکے رسولوں کی تکذیب کرتا ہے ، تو اللہ کی شدید پکڑ میں آتا ہے اور اس گرفت اور پکڑ کے پھر کئی رنگ ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے خوفناک ہے۔ اس لئے کہ یہ اس دنیا میں شتر بےمہار نہیں چھوڑا گیا تھا۔ نہ اس لئے کہ یہاں یہ کچھ اور بن جائے۔ بلکہ اس کا فریضہ یہ تھا کہ رسولوں کا احترام کرے اور ان کی اطاعت کرے۔
اس پوری سورت کے الفاظ ، اپنے تلفظ ، ترنم ، اپنے مفہوم ، اپنے اجتماع اور ترکیب کے لحاظ سے یہ فضا بنانے میں شریک ہیں۔ سورت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ ایک مفرد کلمہ لایا جاتا ہے۔ یہ متبدا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔
الحاقة (۹۶ : ۱) اس کے بعد اس عظیم حادثہ کے بارے میں ایک بھر پور خوفناک اور ہولناک سوال اور استفہام ہے۔
ما الحاقة (۹۶ : ۲) ” کیا ہے ، یہ واقعہ “ تمہیں اس کا کیا پتہ ہے کہ یہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ اس کے بعد خود ہی بتادیا جاتا ہے کہ تمہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ یہ کس قدر ہیبت ناک واقعہ ہوگا ؟ مخاطب کو لاعلم اور جاہل بنا کر اور بتا کر اس کے ہول اور خوف کو دوچند کردیا گیا اور اس کے بعد مزید خوفناک بات یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ کوئی وضاحت ابھی نہیں کی جاتی تاکہ خوف اور ہراس کی یہ فضا ذرا دیر تک قائم رہے۔ انسان سوچے کہ کوئی بہت بڑا واقعہ ہے جس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ بتایا جارہا ہے۔ کیا ہی محیرالعقول انداز ہے !
اس سوال کو یہاں چھوڑ کر مکذبین کو لیا جاتا ہے۔ جن پر اس دنیا میں قیامت گزر گئی جو پیس کر رکھ دیئے گئے۔ بہت ہی ناقابل انکار ، سنجیدہ واقعات ، کوئی شخص ان واقعات کی تکذیب پر اصرار نہیں کرسکتا۔
الحاقة (۹۶ : ۱) کے بعد قیامت کا دوسرا نام آتا ہے القارعة۔ یہ نام الحاقة (۹۶ : ۱) سے بھی سخت۔ الحاقہ تو وہ واقعہ جو ہونی شدنی ہے اور القرع کے معنی ہیں۔ ایک سخت چیز کو دوسری اس قسم کی سخت چیز پر مارنا اور قیامت کے قیام کو القارعة اسی لئے کہا گیا ہے ، اس کی وجہ سے دلوں پر ہولناک اور خوفناک ضربات پڑیں گی اور یہ پوری کائنات توڑ پھوڑ کر شکار ہوجائے گی۔ لفظ القارعة بھی اپنے تلفظ ، اپنی سخت آواز کی وجہ سے ٹکراتا ، مارتا اور دلوں کے اندر جزع وفزع پیدا کرتا ہے۔ عاد اور ثمودنے اس ہونی شدنی کا انکار کیا ، اس کھڑکھڑاکر ٹوٹ پڑنے والی آفت یعنی قیامت کا انکار کیا۔
فاما ................ بالطاغیة (۹۶ : ۵) ” ثمودایک بڑے حادثہ سے ہلاک کیے گئے “۔ جیسا کہ دوسری سورتوں میں آیا ہے۔ ثمود شمالی حجاز کے علاقہ حجر میں رہتے تھے ، حجاز اور شام کے درمیان۔ یہ ایک سخت دھماکے کی آواز سے ہلاک کیے گئے۔ دوسری جگہوں پر اس کے لئے الصیحہ کا لفظ آیا ہے ، لیکن یہاں اسے الطاغیہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ الطاغیہ کے معنی ہیں ایک ایسا حادثہ جس پر کنٹرول نہ کیا جاسکتا ہو ، اور یہاں اس سورت کی فضا میں ہوگنا کی اور خوفناکی کے اظہار کے لئے بھی لفظ الطاغیہ موزوں تھا اور جو قافیہ سابقہ آیات کا چلا آرہا تھا اس کے لئے بھی یہ تبدیلی ضروری تھی ، اس لئے الصحیہ کی جگہ الطاغیہ کا لفظ آیا۔ ثمود کا قصہ صرف اس ایک آیت سے تمام کردیا گیا۔ دفتر لپیٹ لیا گیا ، وہ ڈوب گئے اور ہوا نے ان کی خاک بھی اڑادی اور الطاغیہ نے انہیں یوں روندا کہ ان کا سایہ تک باقی نہ رہا۔
لیکن عاد کی تباہی کو ذرا تفصیل اور طوالت سے لیا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ ان کا عذاب بھی سات راتیں اور آٹھ دنوں تک مسلسل جاری رکھا گیا تھا۔ جبکہ ثمود ایک چیخ ، ایک کڑک کے ساتھ چشم زدن میں تباہ ہوگئے تھے۔
واما .................... عاتیة (۹۶ : ۶) ” عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیئے گئے “۔ الریح الصرصر کے معنی ہیں ، سخت ٹھنڈی ہوا۔ لفظ صر صر سے ہوا کی آواز بھی ظاہر ہورہی ہے۔ اور اس ہوا کی زیادہ شدت ایک دوسرے لفظ عاتیة سے ظاہر کی گئی تاکہ عاد کی سرکشی کا علاج اس سرکش ہوا سے کیا جائے۔ مناسب عمل کی مناسب سزا۔ یہ عادی سخت جبار اور سرکش تھے۔ قرآن نے دوسری جگہ تفصیلات دی ہیں۔ یہ لوگ یمن اور حضرت موت کے درمیان احقاف میں رہتے تھے۔ یہ نہایت سخت گیر اور جبار تھے۔ یہ ہوا جو صر صر تھی اور ” عاتی “ تھی ” شدید سرد اور سرکش “۔
سخرھا ................ حسوما (۹۶ : ۷) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔
فتری .................... خاویة (۹۶ : ۷) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ یعنی بوسیدہ جو اندر سے خالی ہوں اور بوسیدگی کی وجہ سے جگہ جگہ گرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے کہ چندالفاظ میں اس کا نقشہ قرآن ہی کھینچ سکتا ہے۔ اب نہایت ہی ٹھہراﺅ ہے اور وہ منظر کہ جب ہوا چنگھاڑتی ہوئی گزر گئی ہے۔
فھل ............ باقیة (۹۶ : ۸) ” پھر کیا اب ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے “۔ نہیں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ ویرانی ہی ویرانی ہے۔
یہ تو ہے عاد وثمود کا قصہ ، یہی حال ہے دوسرے مکذبین کا۔ اب فقط دو آیات میں کئی واقعات۔