بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ هُوَ ٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ مِن دِيَـٰرِهِمْ لِأَوَّلِ ٱلْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا۟ ۖ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا۟ ۖ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى ٱلْمُؤْمِنِينَ فَٱعْتَبِرُوا۟ يَـٰٓأُو۟لِى ٱلْأَبْصَـٰرِ وَلَوْلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمُ ٱلْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيُخْزِىَ ٱلْفَـٰسِقِينَ وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍۢ وَلَا رِكَابٍۢ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْ أَهْلِ ٱلْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ كَىْ لَا يَكُونَ دُولَةًۢ بَيْنَ ٱلْأَغْنِيَآءِ مِنكُمْ ۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا۟ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ لِلْفُقَرَآءِ ٱلْمُهَـٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَأَمْوَٰلِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًۭا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلْإِيمَـٰنَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِى صُدُورِهِمْ حَاجَةًۭ مِّمَّآ أُوتُوا۟ وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌۭ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ وَٱلَّذِينَ جَآءُو مِنۢ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَا تَجْعَلْ فِى قُلُوبِنَا غِلًّۭا لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٌۭ رَّحِيمٌ ۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ يَقُولُونَ لِإِخْوَٰنِهِمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًۭا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَـٰذِبُونَ لَئِنْ أُخْرِجُوا۟ لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا۟ لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ ٱلْأَدْبَـٰرَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةًۭ فِى صُدُورِهِم مِّنَ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ لَا يُقَـٰتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِى قُرًۭى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَآءِ جُدُرٍۭ ۚ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌۭ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًۭا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْقِلُونَ كَمَثَلِ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًۭا ۖ ذَاقُوا۟ وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ كَمَثَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَـٰنِ ٱكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَـٰلَمِينَ فَكَانَ عَـٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِى ٱلنَّارِ خَـٰلِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّـٰلِمِينَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌۭ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۢ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ لَا يَسْتَوِىٓ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۚ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ لَوْ أَنزَلْنَا هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ عَلَىٰ جَبَلٍۢ لَّرَأَيْتَهُۥ خَـٰشِعًۭا مُّتَصَدِّعًۭا مِّنْ خَشْيَةِ ٱللَّهِ ۚ وَتِلْكَ ٱلْأَمْثَـٰلُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَـٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَـٰدَةِ ۖ هُوَ ٱلرَّحْمَـٰنُ ٱلرَّحِيمُ هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْمَلِكُ ٱلْقُدُّوسُ ٱلسَّلَـٰمُ ٱلْمُؤْمِنُ ٱلْمُهَيْمِنُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْجَبَّارُ ٱلْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ ٱللَّهُ ٱلْخَـٰلِقُ ٱلْبَارِئُ ٱلْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ المُجَادلَةِ: ۲۲

لا تجدوقوما ............................ المفلحون (۸۵ : ۲۲) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں پانے والے ہیں۔ “

یہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ تمام تعلقات اور تمام کششوں کو چھوڑ کر جماعت مسلمہ کے لئے یکسوہوجانا چاہئے۔ اور ایک ہی رسی ، ایمانی رسی کو پکڑ کر باہم مضبوط ہوجانا چاہئے۔

لا تجد .................... رسولہ (۸۵ : ۲۲) ” تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے “۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے دل میں دو دل نہیں رکھے۔ کوئی انسان اپنے دل میں دو محبتیں نہیں رکھ سکتا۔ یعنی اللہ اور رسول کی محبت بھی ہو اور اللہ اور رسول کے دشمنوں کی محبت بھی ہو۔ یا تو ایمان ہوگا ” لایمان “ ہوگا۔ یہ دونوں ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔

ولو کانو .................... عشیرتھم (۸۵ : ۲۲) ” خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان ہوں “۔ جب ایمان کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں تو پھر خون اور رشتہ داری کے روابط کٹ جاتے ہیں۔ اگر دو جھنڈوں کے درمیان کشمکش نہ ہو تو پھر خون اور رشتہ داری کے روابط رکھے جاسکتے ہیں۔ اور دو جھنڈون سے مراد اللہ کا جھنڈا اور شیطان کا جھنڈا ہیں۔ اگر حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان جنگ برپا نہ ہو اور حالت جنگ میں والدین اور رشتہ دار حزب الشیطان کے طرفدار نہ ہوں تو شریعت والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھے روابطہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن اگر جنگ دشمنی اور مقابلہ اور مخاصمت جاری ہو تو پھر اسلام حکم دیتا ہے کہ تمام رشتے کاٹ دو ۔ اور صرف ایک ہی رسی اور مضبوط رسی کو تھام لو یعنی ایمان کی رسی۔ ابوعبیدہ نے بدر کے دن اپنے باپ کو قتل کردیا۔ ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے بیٹے عبدالرحمن کے قتل کا ارادہ کرلیا تھا۔ مصعب ابن عمیر نے اپنے بھائی عبیدابن عمر کو قتل کردیا۔ حضرت عمر ؓ ، حضرت حمزہ ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت عبیدہ اور حارث نے اپنی قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے لوگوں کو قتل کردیا۔ انہوں نے خون اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔ اور دین اور نظریہ کی اہمیت دی۔ یہ وہ اعلیٰ معیار تھا جس تک اسلام نے نظریاتی روابط کو پہنچایا۔

اولئک .................... الایمان (۸۵ : ۶۶) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے “۔ یہ ان کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو مضبوط کردیا۔ رحمان نے اپنے ہاتھ سے ان کے دلوں میں لکھ دیا ، لہٰذا اب یہ ان کے دلوں سے نہ مٹ سکتا ہے اور نہ اسے زوال ہوسکتا ہے۔ نہ بجھ سکتا ہے اور نہ اس کے اندر کوئی پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

وایدھم ............ منہ (۸۵ : ۲۲) ” اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی۔ “ انہوں نے راہ ایمان اور اسلامی انقلاب لانے کا جو عزم کررکھا ہے وہ اسی روحانی قوت سے ہی کیا اور ان کی روح جس طرح منور ہوئی وہ اسی قوت اشراق اور تائید ایزدی سے منور ہوئی۔ یہی روح ان کو اس نور اور اشراق کے اصل سرچشمے سے جوڑتی ہے۔

ویدخلھم ........................ فیھا (۸۵ : ۲۲) ” وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اور یہ ہے جزاء اس بات کی کہ وہ اللہ کے لئے خالص ہوگئے اور اپنے روابط انہوں نے صرف ایمان کے تعلق پر قائم کیے اور انہوں نے اس فانی دنیا کے تمام اغراض اور تمام دشمنیوں کو پس پشت ڈال دیا۔

ؓ .................... عنہ (۸۵ : ۲۲) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ نہایت ہی روشن ، خوبصورت ، راضی اور مطمئن تصویر ہے ، جس کے ذریعہ ایک سچے مومن کو ، ایک نہایت ہی بلندمقام پر رکھا گیا ہے ، وہ نہایت ہی پسندیدہ اور محبت آمیز تصویر کہ ان کا رب ان سے راضی ہے ، وہ رب سے راضی ہیں۔ تمام دنیا سے کٹ کر وہ اللہ کے ساتھ ہوگئے ہیں ، اللہ نے انہیں اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ ان کے لئے وسیع باغات تیار کرلئے ہیں ، ان کو بتا دیا ہے کہ وہ ان سے راضی ہے ، اس لئے اس قرب کی وجہ سے ان کو بھی انس و اطمینان حاصل ہوگیا ہے۔

اولئک حزب اللہ (۸۵ : ۲۲) ” وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں “۔ یہ اللہ کی پارٹی ہیں۔ یہ اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوئے ہیں ، یہ اللہ کی قیادت میں جمع شدہ ہیں۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق گامزن ہیں۔ اس کے نظام کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ کا دست قدرت ان کے ذریعہ کام کرتا ہے ، اور یہ اللہ کی تقدیر ہیں۔

الا ان ................ المفلحون (۸۵ : ۲۲) ” خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاں پانے والے ہیں۔ “ سوال یہ ہے کہ اللہ کا مددگار فلاح نہیں پائے گا تو اور کون ہے جو فلاح پائے گا۔ یوں پوری انسانیت دو پارٹیوں میں تقسیم ہے۔ ایک حزب اللہ اور دوسری حزب الشیطان۔ دو ہی جھنڈے ہیں۔ اللہ کا جھنڈا ، شیطان کا جھنڈا۔ اگر کوئی اللہ کی پارٹی میں ہوگا تو اللہ کے جھنڈے کے نیچے ہوگا اور اگر شیطان کے جھنڈے کے نیچے ہوگا تو وہ شیطان کی پارٹی میں ہوگا۔ اور باطل پرست ہوگا۔ یہ دو متضاد صفات اور متضاد پارٹیاں ہیں۔

کوئی نسب نہیں ہے ، کوئی رشتہ دار نہیں ہے ، کوئی رشتہ دار اور قرابت دار نہیں ، کوئی وطن اور نسل نہیں ہے۔ کوئی عصبیت اور قومیت نہیں ہے۔ بس صرف عقیدہ ، عقیدہ اور ایمان ہے۔ جو شخص حزب اللہ کی طرف مائل ہوگیا ، اور حق کے جھنڈوں کے نیچے کھڑا ہوگیا ، وہ اور تمام لوگ جو اس جھنڈے کے نیچے کھڑے ہیں اللہ کی راہ میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ مختلف اوطان میں ہیں ۔ مختلف اقوام وقبائل میں ہیں۔ مختلف نسلوں اور قبیلوں میں ہیں لیکن وہ بھائی بھائی ہیں کیونکہ وہ اللہ کی پارٹی ہیں ۔ اور حزب اللہ ایک ایسا رابطہ ہے جس کے تحت تمام امتیازات پگھل جاتے ہیں۔ اور جس پر شیطان مسلط ہوا اور وہ باطل کے جھنڈے تلے کھڑا ہوگیا تو وہ حزب اللہ کے افراد میں سے کسی کا بھائی اور رشتہ دار نہیں ہے۔ نہ کسی زمین میں ، نہ کسی نسل میں ، نہ کسی قوم میں ، نہ کسی رنگ میں ، نہ کسی رشتہ داری میں۔ کیونکہ اہل حق کے درمیان پہلا رابطہ قائم ہوگیا جو عقیدے کا رابطہ ہے ، یہ دوسرے رابطے تو اس کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔

اس آیت کے اشارات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایسے لوگ تھے جو خون ، قرابت داری ، مفادات اور دوستی کے رشتوں کو اہمیت دیتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کی تربیت کی کوشش کی گئی ہے۔ چناچہ اس آیت میں فیصلہ کن اور دو ٹوک اسلامی رشتوں کے استوار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ یہی آیت یہ بتاتی ہے کہ اسلامی جماعت کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے پہلے ہی ان دنیاوی رشتوں کو کاٹ دیا تھا۔ وہ اسلامی رابطوں ہی کے قائل تھے اور اسلام کے ہدف کو انہوں نے پورا کرلیا تھا۔

اور یہ اس سورت کا مناسب خاتمہ ہے ، جس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اللہ اپنی اس جماعت کے افراد کی ایک ایک ضرورت کو پورا کررہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک نہایت ہی غریب اور فقیر گھرانے کے مسائل بھی وہ حل کرتا ہے۔ ایک غریب عورت جو حضور اکرم کے ساتھ تکرار کررہی تھی اور اپنے بارے میں اور اپنے خاوند کے بارے میں شکایات کررہی تھی۔ اللہ نے اس کے مسائل حل کیے۔

لہٰذا اس جماعت کا تمام روابط سے کٹ کر اللہ کا ہوجانا ایک قدرتی امر ہے جو ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پوری کرتا ہے ، ایک قدرتی اور مناسب بات ہے۔ نیز ایک ایسی جماعت جسے اللہ اپنی حزب کہتا ہے ، اور جسے اس کائنات میں اللہ نے ایک نہایت ہی اہم کردار کے لئے اٹھایا ہے اس کا یوں اللہ کے لئے کٹ جانا ایک طبیعی امر ہے۔

سُورَةُ الحَشۡرِ
سُورَةُ الحَشۡرِ: ۱

سورت کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے اور یہ ایک عظیم ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور یہ اللہ کی پاکی اور بڑائی بیان کرتے ہوئے اس ایک اللہ کی طرف توجہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے افراد کی کہانی جنہوں نے اہل کتاب ہونے کے باوجود کفر کیا۔ نقص عہد کیا۔ ذرا دیکھو ، کس طرح ان کے گھروں سے اس ذات نے ان کو نکالا۔ اور جو لوگ رات اور دن اللہ کی تمہید کرتے ہیں وہ سب کچھ ان کو عطا کردیا۔ اور فی الواقعہ۔

وھوالعزیز الحکیم (۹۵ : ۱) ” وہی غالب و حکیم ہے “۔ وہ اس قسم کے اسباب فراہم کرتا ہے جن سے اس کے دوستوں کی امداد ہوتی ہے اور ایسے اسباب پیدا کرتا ہے کہ دشمن اپنے ہاتھوں تباہ ہوتے ہیں۔ وہ تقدیر وتدبیر کرنے میں بہت بڑا حکیم ہے۔

اس کے بعد اس حادثہ کا بیان یوں ہوتا ہے :

سُورَةُ الحَشۡرِ: ۲

ھوالذی ........................ شدید العقاب (۴) (۹۵ : ۲ تا ۴) ” وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی۔ مگر ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینار رکھنے والو !

اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا ، اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کی سزا دینے میں بہت سخت ہے “۔

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ ہی تھا جس نے پہلے حشر یا ہلے میں اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے نکال دیا۔ در حقیقت ہر چیز کا فاعل اللہ ہی ہوتا ہے لیکن اس آیت میں براہ راست نسبت بھی اللہ ہی کی طرف کی گئی ہے۔ اور پردہ احساس پر یہ بات آئی ہے کہ اس مہم کی قیادت ہی اللہ کررہا تھا۔ اور گویا اس مہم میں دست قدرت کسی پردے میں نہ تھا۔ اور ان نکالے ہوئے لوگوں کو ایسی سر زمین کے لئے نکالا کہ جہاں سے ان کو اٹھایا جائے گا۔ لہٰذا یہ لوگ مدینہ کی طرف اب کبھی واپس نہ ہوں گے اور ان کا حشر ہی اب جلاوطنی کی سر زمین سے ہوگا۔

اللہ کا براہ راست ان کو نکالنا اور ان کو دوسری سر زمین کی طرف پھیلانا درج ذیل آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔

ماظننتم .................... من اللہ (۹۵ : ۲) ” مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ “ اللہ ان پر ان کے دلوں کے اندر سے حملہ آور ہوا۔ ان کے قلعے جیسے تھے ویسے ہی رہے۔ ان کے دلوں میں اللہ نے خوف ڈال دیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قعلوں کے دروازے کھول دیئے۔ اللہ کی قدرت نے دکھایا کہ وہ اپنے آپ پر بھی کنٹرول نہیں رکھتے۔ ان کے دل بھی ان کے کنٹرول میں نہیں اور وہ اپنے ارادوں اور اپنے منصوبوں کے بھی مالک نہیں رہے۔ ارادوں اور منصوبوں پر بھی قائم نہ رہ سکے۔ چہ جائیکہ وہ قلعوں میں بندر ہیں۔ انہوں نے باقی تو ہر قسم کے دفاعی انتظامات کر رکھے تھے ، البتہ ایک انتظام رہ گیا تھا کہ ان کے دل بھی مضبوط ہوں۔ اس طرف سے وہ غافل تھے۔ اللہ نے ان کی ہمتوں کو پاش پاش کردیا۔ یہی ہوتا ہے کہ جب اللہ کسی کام کو کرتا ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ کہاں سے حملہ کیا جائے۔ وہ ہر چیز کا عالم ہے اور وہ ہر چیز پر خبردار ہے۔ لہٰذا نہ کسی سبب کی ضرورت پیش آئی اور نہ کسی ظاہری وسیلے کی ضرورت پیش آئی جو عوام الناس کے ذہنوں میں ہوتے ہیں۔ اسباب ووسائل بھی تو اللہ کے مہیا کردہ ہوتے ہیں۔ جب اللہ کوئی چیز چاہتا ہے تو اس کے اسبب چشم زون میں سامنے آجاتے ہیں۔ جس طرح نتائج اور انجام اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اسی طرح اسباب ووسائل بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ کے لئے نہ اسباب ووسائل مشکل ہیں اور نہ نتائج اور انجام۔ وہ تو عزیز و حکیم ہے۔

اہل کتاب کے کافر اپنے قلعوں میں خود قلعہ بند ہوئے لیکن اللہ نے ایسے زاویہ سے حملہ کیا جس کی وہ توقع ہی نہ کرتے تھے اور اس نوبت کی۔ انہوں نے قلعہ بندی کی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے گھروں اور قلعوں کے دفاع کا انتظام کیا تھا مگر ہوا یوں کہ وہ اپنے ہاتھوں سے گھروں اور قلعوں کو خراب کرتے رہے ، اور مومنین کو بھی وہ موقعہ دیتے تھے کہ ان کو خراب کریں۔

یخربون ................ المومنین (۹۵ : ۲) ” وہ اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو خراب کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کررہے تھے “۔ اس آیت پر ان اہل کتاب کافروں کی کہانی ختم ہوگئی۔ کس قدر عبرت آموز انداز میں اور کس قدر تصویر کشی کے انداز میں اور نظر بھی ایسا کہ حرکت سے بھرپور۔ اللہ ان پر ان کے قلعوں کے پیچھے سے حملہ آور ہوتا ہے اور وہ خود اپنے قلعوں کو گرانا شروع کردیتے ہیں اور مومنین بھی خراب کرتے ہیں اور وہ بھی خراب کرتے ہیں۔

اب اس منظرنامے پر پہلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں :

فاعتبر وا ................ الابصار (۹۵ : ۲) ” پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو “۔ یہ تبصرہ نہایت ہی بر محل ہے ، اس کے لئے دل بالکل تیار ہیں اور ہر پڑھنے والا بھی حیران ہے کہ اس قدر منصوبے اور یہ دفاع !

اگلی آیت میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اللہ نے یہ فیصلہ کرالیا تھا کہ آخرت سے پہلے ، اس دنیا ہی میں ، ان کو ذلیل و خوار کیا جائے گا۔ ان کے بچنے کی کوئی صورت تھی ہی نہیں۔

سُورَةُ الحَشۡرِ: ۳

ولولا .................... النار (۹۵ : ۳) ” اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا ، اور آخرت میں تو ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے ہی “۔ لہٰذا اللہ کا عذاب ان پر آنا ہی تھا۔ جس طرح کہ ان پر آگیا اگر یہ صورت اللہ نے لکھ نہ دی ہوتی تو دوسری صورت میں آتا۔ یہ عذاب دنیا بھی ان کے لئے طے تھا اور قیامت کا عذاب تو بہرحال مقدر ہے ، کیوں ؟

545