بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَرْفَعُوٓا۟ أَصْوَٰتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ ٱلنَّبِىِّ وَلَا تَجْهَرُوا۟ لَهُۥ بِٱلْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَـٰلُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَٰتَهُمْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمْتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَآءِ ٱلْحُجُرَٰتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا۟ حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍۢ فَتَبَيَّنُوٓا۟ أَن تُصِيبُوا۟ قَوْمًۢا بِجَهَـٰلَةٍۢ فَتُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَـٰدِمِينَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ ٱللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِى كَثِيرٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ ٱلْإِيمَـٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِى قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ ٱلْكُفْرَ وَٱلْفُسُوقَ وَٱلْعِصْيَانَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلرَّٰشِدُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَنِعْمَةًۭ ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱقْتَتَلُوا۟ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰهُمَا عَلَى ٱلْأُخْرَىٰ فَقَـٰتِلُوا۟ ٱلَّتِى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَىٰٓ أَمْرِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن فَآءَتْ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا بِٱلْعَدْلِ وَأَقْسِطُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌۭ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌۭ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُوا۟ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآءٌۭ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيْرًۭا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا۟ بِٱلْأَلْقَـٰبِ ۖ بِئْسَ ٱلِٱسْمُ ٱلْفُسُوقُ بَعْدَ ٱلْإِيمَـٰنِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا۟ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًۭا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابٌۭ رَّحِيمٌۭ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَـٰكُم مِّن ذَكَرٍۢ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَـٰكُمْ شُعُوبًۭا وَقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوٓا۟ ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۭ ۞ قَالَتِ ٱلْأَعْرَابُ ءَامَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ وَلَـٰكِن قُولُوٓا۟ أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ ٱلْإِيمَـٰنُ فِى قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَـٰلِكُمْ شَيْـًٔا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا۟ وَجَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّـٰدِقُونَ قُلْ أَتُعَلِّمُونَ ٱللَّهَ بِدِينِكُمْ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۭ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا۟ ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا۟ عَلَىَّ إِسْلَـٰمَكُم ۖ بَلِ ٱللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَىٰكُمْ لِلْإِيمَـٰنِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ إِنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الفَتۡحِ: ۲۹

اب ہم اس سورت کے خاتمہ کی طرف آرہے ہیں۔ اس میں قرآن نے صحابہ کرام کی وہ تصویر کشی کی ہے جو اس وقت عملاً موجود تھی اور یہ جماعت محترمہ جس کے بارے میں پہلے آچکا ہے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور اس جماعت کے ایک ایک فرد تک اللہ کی خوشنودی کی اطلاع کردی گئی ، یہ کون لوگ تھے ؟ تو سنئے !

محمد رسول اللہ والذین ۔۔۔۔۔۔ مغفرۃ واجرا عظیما (۴۸ : ۲۹) ” محمد ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہے جس نے پہلے کونپل نکالی ، پھر اس کو تقویت دی ، پھر وہ گدرائی ، پر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں ، اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔

یہ ایک زبردست تصویر ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی انوکھے انداز میں یہ تصویر کشی کرتا ہے۔ اس جماعت کی نمایاں جھلکیاں یہاں دی گئی ہیں۔ ان کے ظاہری حالات ، ان کے پوشیدہ روحانی حالات ، ان کے باہم تعلقات ، ان کے کفار کے ساتھ تعلقات ،۔

اشداء علی الکفار رحماء بینھم (۴۸ : ۲۹) ” کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “ ۔ اور اللہ کی بندگی اور پرستش کرتے ہوئے۔

ترھم رکعا سجدا (۴۸ : ۲۹) ” تم دیکھو گے انہیں رکوع و سجود میں “۔ اور ان کی قلبی حالت اور خواہش اور فکر کیسی ہے۔ ان کی دلچسپیاں کیا ہیں۔

یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (۴۸ : ۲۹) ” اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول ہیں “۔ اور ان کے ظاہری خدو خال اور نشانات کیا ہیں ، چہرے ہرے کیسے ہیں۔

سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (۴۸ : ۲۹) ” سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں “۔ اور تورات و انجیل میں بھی ان کی یہی صفات بتائی گئی ہیں۔ (۱) کزرع اخرج شعلتہ (۴۸ : ۲۹) ” ایک کھیتی کی طرح جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ (۲) فازرہ (۴۸ : ۲۹) ” پھر اسے تقویت دی “۔ (۳) فاستغلظ (۴۸ : ۲۹) ” پھر وہ گدرائی “۔ (۴) فاستوی علی سوقہ (۴۸ : ۲۹) ” پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ (۵) یعجب الزراع (۴۸ : ۲۹) ” کاشت کرنے والے کو وہ خوش کرتی ہے “۔ (۶) لیغیظ بھم الکفار (۴۸ : ۲۹) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر چلیں “۔

یہاں سب سے پہلے اس صفت محمد کو ثابت اور موکد کیا جاتا ہے جس کا انکار سہیل ابن عمرو نے کیا تھا کہ آپ ﷺ کے نام کے ساتھ رسول اللہ کا لفظ نہ لکھیں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ (محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ) اور اس کے بعد صحابہ کرام کی یہ انوکھی اور عجیب تصویر شروع ہوجاتی ہے ، نہایت ہی انوکھے انداز میں۔

مومنین کے حالات تو مختلف ہوتے ہیں لیکن ان جھلکیوں میں جو صفات دی گئی ہیں یہ تمام مومنین کی زندگی میں ہوتی ہیں اور یہ ان کی زندگی کے بنیادی نکات ہیں۔ انہی نکات سے اس تصویر کے خطوط ابھرتے ہیں جو نہایت ہی خوبصورت اور چمک دار ہیں۔ یہاں اللہ نے جو جھلکیاں دی ہیں ، ان میں ان باتوں کو بہت نمایاں کیا گیا ہے جن سے اس جماعت کی عزت افزائی ہو۔ لہٰذا وہ نکات اور وہ خطوط یہاں نمایاں ہیں جن کے ذریعہ عالم بالا میں انہیں اعزاز ملا ہے۔ ان کے معزز اور مکرم ہونے کی پہلی جھلکی اور رنگ یہ ہے کہ یہ لوگ۔

اشداء علی الکفار رحماء بینھم (۴۸ : ۲۹) ” کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں “۔ یہ کافروں پر بہت ہی سخت ہیں حالانکہ اس وقت کافروں میں ان کے آباء ، بھائی ، قریبی رشتہ دار اور دوست موجود تھے۔ لیکن انہوں نے ایسے تمام رشتوں کو یکدم کاٹ کر رکھ دیا۔ اور وہ آپس میں رحم دل ہیں حالانکہ ان کے درمیان صرف دینی اخوت ہے۔ لہٰذا ان کی شدت بھی اللہ کے لئے ہے اور ان کی نرمی بھی اللہ کے لئے ہے۔ یہ ہے نظریاتی حمیت ، اسلامی حمیت ، دینی غیرت۔ لہٰذا وہ اپنے نفس کے لئے کچھ نہیں چاہتے ۔ اور نہ ان کے نفوس کے لئے اس دین میں کچھ ہے۔ یوں وہ اپنے جذبات اور اپنی محبتوں کو اپنے تعلقات اور طرز عمل کو اپنے نظریات اور عقائد کی اساس پر استوار اور تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ نظریاتی دشمنوں پر سخت اور نظریاتی دوستوں کے لئے ریشم کی طرح نرم ہیں۔ وہ انانیت اور خواہشات نفسانیہ سے مجرد ہوگئے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کسی اور تعلق کے لئے وہ مشتعل ہی نہیں ہوتے۔

اب دوسری جھلکی ، ان کے تکریم اور ان کا شرف ان کی رکوع و سجود میں ہے۔ جب وہ عبادت کرتے ہیں تو رکوع و سجود میں ہوتے ہیں اور تم انہیں ہمیشہ اس حالت میں پاؤ گے ، گویا یہ صفت ان کی دائمی صفت ہے اور عبادت میں رکوع و سجود مکمل حالت ہے ، اور ان کے ذہنوں میں بھی یہی حالت ہے اور ان کے جسم بھی بروقت رکوع و سجود میں ہیں گویا ان کی پوری زندگی اور پورا وقت اسی کام میں گزرتا ہے۔

ان کی جو تیسری جھلکی دکھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی باطنی ، ان کی روحانی اور ان کی نفسیات کی حالت کیا ہے۔

یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا (۴۸ : ۲۹) ” تم ان کو اللہ کے فضل اور خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے “۔ یہ ان کے شعور کی دائمی حالت ہے۔ ان کا دل جن باتوں میں ہر وقت مشغول رہتا ہے ، ان کے اندر ہر وقت جو شوق اٹھتے ہیں وہ یہی ہیں کہ کسی طرح اللہ راضی ہوجائے ، اللہ کی رضا اور اس کے فضل کی طلب کے سوا ان کا اور کوئی مشغلہ اور دلچسپی ہی نہیں ہے۔

اور چوتھی خوبی یہ کہ ان کی عبادات ان کے فیچرز اور ان کے خدوخال میں ظاہری طور پر نظر آتی ہیں۔

سیماھم فی وجوھھم من اثر السجود (۴۸ : ۲۹) ” ان کے سجود کے اثرات ان کے چہروں میں موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں “۔ یعنی ان کے چہرے میں نور ، روشنی اور چمک نظر آئے گی۔ اور ان کا چہرا صاف و شفاف ہوگا۔ اور یہ ان کی صاف ، زندہ اور روح پرور عبادت کی وجہ سے۔ اس سیماھم سے مراد وہ معروف نشان (محراب) نہیں ہے جو بعض لوگوں کے ماتھے پر پڑجاتا ہے (جب وہ سجدے میں ماتھا رگڑتے ہیں ) من اثر السجود (۴۸ : ۲۹) کے لفظ سے ذہن میں یہ نشانی آجاتی ہے۔ اثر السجود سے مراد اثر العبادہ ہے۔ کیونکہ سجدہ عبادت اور بندگی اور اطاعت کا درجہ کمال ہوتا ہے اور اس میں انسان عاجزی اور اطاعت کی کمال حالت میں ہوتا ہے۔ اس حالت کا اثر انسان کے چہرے پر بھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ عبادت گزاروں کے چہروں پر سے کبرو غرور اور مستی دور ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شریفانہ تواضع ، صاف و شفاف طرز عمل ، پروقار نور اور تقویٰ کا دھیما پن آجاتا ہے جس سے مومن کا چہرہ نہایت یہ خوبصورت نظر آتا ہے جبکہ اس کے چہرے پر مایوسی بالکل نہیں ہوتی اور وہ خوش اور مطمئن نظر آتا ہے۔

یہ روشن تصویر جو ان جھلکیوں میں نظر آتی ہے یہ کوئی نئی تصویر نہیں ہے۔ یہ ان کے لئے نظام قضا و قدر میں لکھی ہوئی ہے۔ لوح محفوظ میں درج ہے۔ اور اسی وجہ سے اس کا تذکرہ توریت میں بھی آیا ہے اور انسانوں کو ان کے بارے میں خوشخبری دی گئی ہے۔ قبل اس کے وہ اس زمین پر پیدا ہوں۔

ذلک مثلھم فی التورۃ ومثلھم فی الانجیل (۴۸ : ۲۹) ” یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے ”

اللہ نے ان دوسابقہ کتابوں میں حضرت محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء کی تعریف یوں کی ہے کہ وہ :

کزرع اخرج شطئہ (۴۸ : ۲۹) ” ایک کھیتی کی طرح ہیں جس نے پہلے کونپل نکالی “۔ وہ اس طرح بڑھے جس طرح فصل ابتداء میں کونپلیں نکالتی ہے ، تروتازہ ہوتی ہے اور وہ آہستہ آہستہ بڑھتی اور قوی ہوتی ہے۔

فازرہ (۴۸ : ۲۹) ” پھر اس کو تقویت دی “۔ یعنی اس کو نپل نے اسے مضبوط کیا۔ یا نال نے اس کو مضبوط کیا۔

فاستغلظ (۴۸ : ۲۹) ” پھر وہ مضبوط سے مضبوط ہوگئی “ یعنی وہ نال اور فصل ۔

فاستوی علی سوقہ (۴۸ : ۲۹) ” پھر وہ تنے پر کھڑی ہوگئی “۔ یعنی وہ فصل اپنی نال ، تنے یا ڈنڈی پر کھڑی ہوگئی ، اب اس میں نہ کمزوری ہے اور نہ جھکاؤ ، مضبوط ہے اور سیدھی ہے۔

یہ تو ہے فصل کی ذاتی صورت حالات۔ لیکن کسان کے نفس پر اس کے کیا اثرات ہیں۔ ماہرین پر اس کے کیا اثرات ہیں جو بڑھنے والے کو بھی جانتے ہیں اور مرجھانے والے کو بھی جانتے ہیں۔ پھلدار کو بھی جانتے اور بےپھل کو بھی۔ تو ایسے لوگوں کے دل میں مسرت دوڑ جاتی ہے۔

یعجب الزراع (۴۸ : ۲۹) ” کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے “۔ اور بعض قراتوں میں الزراع کی جگہ الزارع (بونے والا) آیا ہے ۔ اور مراد ہے رسول اللہ ﷺ سے جو اس بڑھنے والی ، قوی ، تروتازہ اور فرحت بخش فصل کے کسان ہیں۔ پھر کفار کے دلوں پر اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں ؟ وہ غصہ اور جھنجھلاہٹ ۔

لیغیظ بھم الکفار (۴۸ : ۲۹) ” تا کہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں “۔ آخر میں کفار کے غصے کا ذکر کر کے قرآن نے اشارہ کردیا کہ کہیں اس کو لوگوں کی فصل پر ہی چسپاں نہ کرو۔ اس سے مراد اللہ والوں کی فصل ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی فصل ہے اور یہ ان لوگوں کی فصل ہے جو دست قدرت کے آلات ہیں اور کفار کے لئے پریشانی کا باعث ۔

یہ مثال بھی کوئی نئی مثال نہیں ہے کہ کتاب تقدیر کے صفحات میں درج ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا ذکر حضرت محمد ﷺ کے زمین پر آنے اور مبعوث کئے جانے سے بھی پہلے اس کا ذکر تورات اور انجیل میں موجود ہے ۔ اور انجیل میں تو اس کی تصریح موجود ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی آئیں گے ۔

یوں اللہ اپنی لازوال کتاب میں اس جماعت کی صفات کو قلم بند فرماتا ہے ۔ یعنی جماعت صحابہ کی۔ یوں اس کائنات کے مرکز میں یہ جماعت قائم ہوتی ہے ۔ پوری کائنات اس کے ساتھ چلتی ہے اور یہ جماعت باری تعالیٰ سے اپنی یہ تعریف سنتی ہے۔ اور پھر آنے والی نسلوں کے لئے ان کی صفت بطور نمونہ ریکارڈ کردی جاتی ہے تا کہ آئندہ کی نسلیں بھی اس معیار کو قائم کرنے کی سعی کریں تا کہ ایمان اپنے اعلیٰ درجات میں قائم ہو۔

جماعت صحابہ کی اس صفت اور تکریم کے بعد پھر اعلان ہوتا ہے کہ ان کے لئے اجر عظیم ہے۔

وعد اللہ الذین ۔۔۔۔ واجرا عظیما (۴۸ : ۲۹) ” اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور اجر کا وعدہ فرمایا ہے “۔ اس جماعت کی صفات کے بعد اب یہ ایک عمومی اعلان ہے اور اس اعلان کے مستفید ہونے والوں میں ظاہر ہے کہ وہ سب سے پہلے داخل ہیں۔ مغفرت اور اجر عظیم۔ یہی ایک اعلان ہی ان کے لئے بڑا اعزاز ہے اور ان کے لئے تو اللہ کی رضا مندی ہی بڑا اجر ہے لیکن اللہ کا فضل و کرم بلا قیود اور بلا حدود ہے اور اللہ کی بخشش بےانتہا و لا محدود ہے۔

میں ایک بار پھر چشم خیال کو کھول کر اس جماعت مکرمہ کو دیکھ رہا ہوں جس کے دل سعید ہیں۔ جو اللہ کے یہ فیوض رحمت اور اعزاز واکرام اور عظیم اجر کے وعدے پار ہے ہیں۔ ان کو سنایا جارہا ہے۔ یہ اعلان کہ اللہ کی کتابوں میں ، اللہ کے پیمانوں میں ، اور اللہ کے ایوانوں میں ان کے لئے یہ ہے ، یہ ہے ۔ حدیبیہ سے یہ واپس ہورہے ہیں اونٹوں کی رفتار کے گردو غبار میں یہ سورت سنتے ہیں ، اب یہ ان کی روح اور ان کی زندگی ہے ۔ ان کے کانوں اور ارواح میں یہ اتر رہی ہے۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور مسکراتے ہیں اور ان کا وجود ہی اللہ کا مجسم فضل و کرم ہے۔۔۔۔ میں چشم تصور سے ان کو دیکھ کر ذرا ان کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ ذرا مجھے بھی ان کے ساتھ چند قدم چلنے دو ، لیکن جو شخص ان کی راہ پر نہیں چلا وہ اس چشن فتح میں کیا شریک ہو سکتا ہے ؟ نہیں وہ دور ہی سے دیکھتا رہے گا۔۔۔۔۔ اللہ ! تو ہی کسی کو یہ اعزاز بخش سکتا ہے کہ وہ دور سے نجات کو نہ دیکھے بلکہ اس جشن میں کود پڑے۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں اس جشن میں کودنے کے لئے بےتاب ہوں !

سُورَةُ الحُجُرَاتِ
سُورَةُ الحُجُرَاتِ: ۱

سورت کا آغاز ہی نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے۔

یایھا الذین امنوا (۴۹ : ۱) ” اے ایمان والو “ یہ اللہ کی طرف سے پکار ہے ، ان لوگوں کو جو اللہ پر ایمان بالغیب لانے والے ہیں اور یہ پکار کر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا فرماتا ہے ، کیونکہ اللہ سے مومنین کا تعلق ، تعلق ایمان ہے۔ اہل ایمان کے اندر یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اس چھوٹے سے سیارے پر یہ لوگ اللہ کے بندے ، اللہ کے کارکن اور اس کی فوج ہیں اور ان کو اللہ نے یہاں کسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور اسی لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی ہے اور ایمان کو ان کے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اس فوج میں اللہ نے ان کو بھرتی کر کے ان پر احسان کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اس موقف پر کھڑے رہیں جہاں اللہ نے ان کے کھڑے کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ کے سامنے وہ یوں کھڑے ہوں جس طرح عدالت میں ایک شخص فیصلے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے یا ایک ماتحت فوجی اپنے افسر سے ہدایات کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور اس کام کے لئے تیار ہوتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ پوری طرح سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع علیم (۴۹ : ۱) ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرو ، اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اے ایمان والو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی مرضی کی تجاویز نہ پیش کرو ، نہ اپنے نفوس کے بارے میں نہ اپنے ماحول کی زندگی کے بارے میں اور اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ کرنے سے قبل کسی معاملہ پر اپنا فیصلہ خود صادر نہ کرو ، اور کسی معاملے میں اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ ہو تو اس میں اپنے فیصلے صادر نہ کرو۔

قتادہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنی ان خواہشات اور تجاویز کا اظہار کرتے تھے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ فلاں فلاں معاملے میں احکام آجائیں۔ اگر اس طرح ہوجائے تو بہت بہتر ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ان تجاویز کو ناپسند فرمایا۔ عوفی کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے باتیں کرنے سے روک دیا گیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ فتویٰ نہ مانگا کرو ، خود اللہ جو چاہے نازل فرمادے۔ ضحاک کہتے ہیں ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اصول دین اور قوانین شریعت کو چھوڑ کر اپنے فیصلے نہ کرو ، اور علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ کہو۔

یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں فکری اور نظریاتی آداب ہیں۔ اللہ سے ہدایات اخذ کرنے اور نافذ کرنے کے یہ آداب ہیں کہ جو حکم آئے اس کی تعمیل کرو اور باقی کے بارے میں خاموش رہو۔ یہی اصول دین اور شریعت کا بہترین رویہ ہے ۔ یہ خدا خوفی اور اس کی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ سب باتیں اس مختصر سی آیت میں بتا دی گئی ہیں۔

یوں مسلمانوں کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق تھا۔ کوئی شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی تجویز نہ دیتا تھا۔ کوئی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا تھا۔ جب تک آپ ﷺ رائے طلب نہ فرمائے۔ کوئی بھی کسی معاملے یا حکم میں فیصلہ کا اس وقت تک نہ کرتا تھا جب تک وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی طرف رجوع نہ لیتا ۔

امام احمد ، ابو داؤد ، اور ترمذی نیز ابن ماجہ نے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ جب حضرت معاذ ابن جبل کو یمن کا گورنر بنا کر بھیج رہے تھے تو ان سے پوچھا کہ تم فیصلہ کس طرح کرو گے انہوں نے عرض کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ تو فرمایا کہ اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ ہو تو عرض کیا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ، آپ ﷺ نے فرمایا اگر سنت میں بھی کوئی ہدایت نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنے رائے کے مطابق اجتہادی فیصلہ کروں گا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے رسول خدا کے نمائندے کو وہ توفیق دی جو رسول اللہ ﷺ کی خواش تھی۔

اور دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ ان سے پوچھ رہے تھے کہ آج کون سا دن ہے جس میں تم ہو۔ اور وہ جگہ کون سی جہاں تم ہو ۔ وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جواب دیتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جانتے ہیں اور یہ وہ اس لیے کہتے تھے کہ کہیں ان کا قول اللہ اور رسول ﷺ سے پیش قدمی نہ ہوجائے۔

ابوبکرہ نقیع ابن الحارث ؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے پوچھا یہ کو مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہم نے یہ خیال کیا شاید مہینے کا نام بدل گیا ہے اور حضور ﷺ کوئی دوسرا نام لیں گے تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے کہا ہاں ، رسول خدا ﷺ یہ ذوالحجہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول خدا ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہمارا خیال ہوا کہ شاید حضور بلد حرام کا نام بدل گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ تو ہم نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے ؟ تو ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہوگئے اور ہم نے کہا کہ شاید حضور ﷺ اس کا نام بدل دیں گے آپ نے فرمایا کیا یہ یوم الخر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔۔۔

یہ تھی صورت حال جناب بنوی ﷺ میں صحابہ کرام ؓ کے ادب اور احترام کی۔ نہایت احتیاط ، تقویٰ ، خشیت ۔ یہ آیات نازل ہونے کے بعد ان کے اندر یہ ادب اور احترام پیدا ہوا تھا ۔ کیونکہ ان آیات میں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ سمیع وعلیم ہے۔

دوسرا ادب و احترام یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں آداب نبوت کو ملحوظ رکھو۔ نہایت احترام سے اور دلی احترام سے بات کرو۔ تمہاری حرکات اور تمہاری آواز سے احترام ظاہر ہو۔ آپ کی شخصیت اور آپ کی مجلس اور گفتگو نہایت ہی ممتاز ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی پسندیدہ انداز میں ان کو ڈراتا ہے۔

سُورَةُ الحُجُرَاتِ: ۲

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (۴۹ : ۲) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آوازنبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ایمان لانے والوں سے خطاب کر کے اس بات کا اظہار کردیا کہ تمہارا وقار ایمان سے ہے اور ایمان تمہیں حضرت محمد ﷺ نے سکھایا ہے۔ نبی کی بارگاہ میں ذرا بھی بےاحتیاطی سے اعمال غارت ہوجائیں گے اور تمہارے اعمال اسی طرح اسی طرح بےاثر ہوجائیں جس طرح ہٹا کٹا جانور زہریلی گھاس سے آنافانا ختم ہوجاتا ہے تمہیں پتہ بھی ہوگا اور اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے ۔

صحابہ کرام ؓ کے دلوں کے اندر اس محبوب اور پیاری آواز نے وہ اثر کرلیا تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں : بشر ابن صفوان سے ، انہوں نے نافع ابن عمر سے انہوں نے ، ابن ابو ملیکہ سے وہ کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ صحابہ میں سے دو برتر مقام کے لوگ ابوبکر اور عمر ہلاک ہوجائیں ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے باہم تکرار کی جب بنو تمیم کا وفد آیا تھا ۔ یہ نویں ہجری کی بات ہے ایک نے کہا کہ اقرع ابن حابس کو امیر بنائیں یہ اشجع کے موالی میں سے تھا ، دوسرے صاحب نے ایک دوسرے شخص کے بارے میں کہا ، مجھے نام یاد نہیں ہے (دوسری روایت میں ، قعقاع ابن معبد آیا ہے) حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت عمر ؓ سے کہا ، تم تو میرے خلاف ہی کرتے ہو ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا میرا ارادہ آپ کی مخالفت کا نہ تھا۔ اس معاملے میں ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔

یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (۴۹ : ۲) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ ابن الزبیر ؓ کہتے کہ اس کے بعد حضرت عمر ؓ سے اس قدر آہستہ بات کرتے کہ آپ کو پوری طرح نہ سناتے اور حضور ﷺ ان سے دوبارہ پوچھتے۔ اور حضرت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے رسول خدا میں آپ سے صرف کانا پھوسی میں بات کروں گا ۔

امام احمد روایت کرتے ہیں سلیمان ابن مغیرہ سے انہوں نے ثا بت سے انہوں نے حضرت انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی۔

یایھا الذین امنوا لاترفعوا ۔۔۔۔۔۔۔ وانتم لا تشعرون (۴۹ : ۲) “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبی کی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی سے اونچی آواز سے بات کرو ، جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ” ۔ تو ثابت ابن قیس بن الشماس نہایت اونچی آواز والے تھے وہ کہنے لگے “ میں ہی تھا جو رسول اللہ ﷺ پر اپنی آواز بلند کرتا تھا۔ میں ہی جہنمی ہوں اور میرے ہی اعمال گئے ” وہ گھر میں نہایت ہی مغموم ہو کر بیٹھ گئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا یہ شخص نہیں آرہے ہیں۔ بعض لوگ ان کے پاس ہوگئے کہ آپ کی غیر حاضری کو رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا ہے۔ آپ کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی آواز سے تو میری آواز بلند ہوتی ہے اور میں ہی اونچی آواز سے باتیں کیا کرتا تھا۔ میرے تو اعمال ہی ضائع ہوگئے۔ لازماً میں جہنمی ہوں یہ لوگ حضور ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ کو اطلاع دی کہ وہ تو یہ کہتے ہیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں “ وہ تو اہل جنت میں سے ہیں ”۔ حضرت انس فرماتے ہیں وہ ہم میں پھرتے اور ہم یہ سمجھتے کہ یہ جا رہا ہے جنتی !

غرض “ اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ” کے محبت آمیز انداز گفتگو کے ساتھ مومنین کو جو کال دی گئی اس سے وہ کانپ اٹھے اور آئندہ کے لئے جناب رسالت میں نہایت خاموشی سے سہم کر بیٹھتے کہ کہیں ان کے اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ اور ان کو اس کا شعور ہی نہ ہو کیونکہ شعوری طور پر تو وہ بہت محتاط تھے لیکن ان کو زیادہ ڈر اس بات کا تھا کہ غیر شعوری حالت میں ان کا نقصان نہ ہوجائے اس لیے وہ بہت ڈر گئے تھے

یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی خدا خوفی اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں ان کے ان آداب کا اظہار نہایت ہی عجیب پیرائے میں کیا ہے۔

سُورَةُ الحُجُرَاتِ: ۳

ان الذین یغضون اصواتھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجر عظیم (۴۹ : ۳) “ جو لوگ رسول خدا کے ہاں بات کرتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے ۔ ان کے لئے مغفرت ہے اور اجر عظیم ہے ”۔

تقویٰ اور خدا خوفی اللہ کی ایک عظیم بخشش ہے۔ اللہ ہی اس اعزاز اور نعمت کے لئے دلوں کا انتخاب کرتا ہے ۔ اس امتحان اور اختیار اور خلوص اور طہارت قلبی کے بعد پھر ان دلوں کو تقویٰ دیا جاتا ہے ، لہٰذا یہ نعمت انہی دلوں کو دی جاتی ہے جو اس کے لئے تیار ہوں اور یہ ثابت ہوجائے کہ یہ دل تقویٰ کے مستحق ہیں اور جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ ﷺ کے ہاں نیچی رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو تقویٰ کے لئے منتخب کیا گیا اور اس انعام کے ساتھ یعنی تقویٰ عطا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو مغفرت بھی دی جاتی ہے۔

انتہائی ڈراوے کے بعد یہ ایک گہری ترغیب ہے ۔ اس طرح اللہ اپنے مختار بندوں کے دلوں کو تربیت فرماتا ہے اور ان کو اس عظیم کام کے لئے تیار کرتا ہے اور اسی انداز تربیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے آغاز میں جماعت صحابہ کو تیار فرمایا تھا۔ یہ لوگ ہدایت پر تھے اور روشنی کے حامل تھے ۔

امیر المومنین عمر ابن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے مسجد نبوی ﷺ میں دو آدمیوں کی آواز سنی ، ان کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ وہ آئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ؟ اس کے بعد ان سے کہا تم کہاں سے آئے ہو ، انہوں نے کہا ہم اہل طائف سے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہاری خوب خبر لیتا۔

علمائے امت نے اس بات کو سمجھا اور فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی قبر مبارک کے پاس بلند آواز سے بات کرنا منع ہے جبکہ آپ کی زندگی میں مسجد نبوی میں اونچی آواز سے بات کرنا ممنوع تھی۔ ہر حال میں ممنوع تھا بوجہ احترام ۔

اس کے بعد ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا جو ۹ ہجری کو پیش آیا۔ فتح مکہ کے بعد ہر طرف سے وفود آ رہے تھے۔ بنی تمیم کا ایک وفد نبی ﷺ سے ملنے آیا۔ یہ لوگ خالص خشک دیہاتی تھے ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے حجرات کے سامنے جن میں ازواج مطہرات بھی تھیں ، کھڑے ہو کر پکارا ، محمد ؐ، ذرا باہر آئیے۔ نبی ﷺ نے ان کے اس طریقے کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ طریقہ نہایت اجڈ اور پریشان کن تھا۔

سُورَةُ الحُجُرَاتِ: ۴–۵

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (۴۹ : ۴) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (۴۹ : ۵) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور ﷺ اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔

مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔

515