بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ هَلْ أَتَىٰ عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ حِينٌۭ مِّنَ ٱلدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْـًۭٔا مَّذْكُورًا إِنَّا خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍۢ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَـٰهُ سَمِيعًۢا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَـٰهُ ٱلسَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًۭا وَإِمَّا كَفُورًا إِنَّآ أَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ سَلَـٰسِلَا۟ وَأَغْلَـٰلًۭا وَسَعِيرًا إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍۢ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ٱللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًۭا يُوفُونَ بِٱلنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًۭا كَانَ شَرُّهُۥ مُسْتَطِيرًۭا وَيُطْعِمُونَ ٱلطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ مِسْكِينًۭا وَيَتِيمًۭا وَأَسِيرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ ٱللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَآءًۭ وَلَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًۭا قَمْطَرِيرًۭا فَوَقَىٰهُمُ ٱللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمِ وَلَقَّىٰهُمْ نَضْرَةًۭ وَسُرُورًۭا وَجَزَىٰهُم بِمَا صَبَرُوا۟ جَنَّةًۭ وَحَرِيرًۭا مُّتَّكِـِٔينَ فِيهَا عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًۭا وَلَا زَمْهَرِيرًۭا وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـٰلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًۭا وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِـَٔانِيَةٍۢ مِّن فِضَّةٍۢ وَأَكْوَابٍۢ كَانَتْ قَوَارِيرَا۠ قَوَارِيرَا۟ مِن فِضَّةٍۢ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًۭا وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًۭا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا عَيْنًۭا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًۭا ۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌۭ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًۭا مَّنثُورًۭا وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًۭا وَمُلْكًۭا كَبِيرًا عَـٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌۭ وَإِسْتَبْرَقٌۭ ۖ وَحُلُّوٓا۟ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍۢ وَسَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًۭا طَهُورًا إِنَّ هَـٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءًۭ وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ ٱلْقُرْءَانَ تَنزِيلًۭا فَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ ءَاثِمًا أَوْ كَفُورًۭا وَٱذْكُرِ ٱسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةًۭ وَأَصِيلًۭا وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَٱسْجُدْ لَهُۥ وَسَبِّحْهُ لَيْلًۭا طَوِيلًا إِنَّ هَـٰٓؤُلَآءِ يُحِبُّونَ ٱلْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءَهُمْ يَوْمًۭا ثَقِيلًۭا نَّحْنُ خَلَقْنَـٰهُمْ وَشَدَدْنَآ أَسْرَهُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ أَمْثَـٰلَهُمْ تَبْدِيلًا إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌۭ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًۭا وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًۭا يُدْخِلُ مَن يَشَآءُ فِى رَحْمَتِهِۦ ۚ وَٱلظَّـٰلِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۢا

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ القِيَامَةِ: ۲۰–۲۱

انداز بیان میں جو پہلی بات نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے لئے عاجلہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، اس لفظ کے مفہوم میں ایک بات تو یہ ملحوظ ہے کہ یہ دنیا جلدی ختم ہونے والی چیز ہے ۔ اور اصل مقصود یہی بتانا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ لفظ اس لئے بھی لایا ہے کہ اس سے قبل قرآن کے بارے میں جملہ معترضہ میں بھی یہ بات کہی گئی تھی۔

لا تجرک ................ بہ (۷۵:۱۶) د ’ وحی جلدی جلدی یاد کرنے کے لئے اپنی زبان کو حرکت نہ دو “۔ اس دنیا اور اس کے ہر کام میں عجلت دراصل اس دنیا کی خصوصیت ہے۔ اور دنیا میں مفادات کے لئے شتابی اور قرآن کو جلد یاد کرنے کے عجلت دونوں اس دنیا کے رنگ ہیں۔ یہ قرآن کریم کا نہایت ہی لطیف اور گہرا اشارتی ہم آہنگی ہے اور یہ قرآنی انداز کلام ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۲۲–۲۳

اب قرآن کریم کا پیش کردہ مصور منظر جو قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔

وجوہ ........................ ناضرة (۲۲) الی ربھا ناظرة (۷۵:۲۳) ” اس روز کچھ چہرے تروہ تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “ یہ آیت ایک ایسی حالت کی طرف ایک جھلک کی شکل میں تیز اشارہ کررہی ہے کہ الفاظ کے اندر کسی انسان کے لئے ایسا اشارہ ممکن نہیں ہے۔ نہ انسان اس حالت کا حقیقی ادراک ہی کرسکتا ہے۔ کامیاب اور نیک بخت لوگوں کی حالت کی یہ ایسی تصویر ہے جس کی حالاتی تصویر کشی ممکن ہی نہیں ہے بلکہ اس حالت کے مقابلے میں جنت کی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی۔ حالانکہ وہ نعمتوں کے انواع و اقسام سے بھری ہوئی ہے۔ یہ حالت کہ یہ چہرے تروتازہ ہوں گے ، اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں اور خوش اور مطمئن ہوں۔ یہ ہے بلند ترین مقام سعادت مندی !

اس جہاں میں انسان بعض اوقات اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے حسن و جمال سے بےحد لط اندوز ہوتا ہے۔ انسان مثلاً چاندنی رات میں گم ہوتا ہے۔ اگر چاندنی نہ ہو تو اندھیری رات کا بھی ایک لطف ہوتا ہے۔ پھر نمودسپیدہ صبح کیا خوبصورتی دکھاتا ہے۔ درختوں کے طویل اور گہرے سائے ، سمندر کی پے درپے موجیں ، صحراﺅں کی درویاں ، باغات کی سرسبزیاں ، خوبصورت پھل اور پھول فرحاں و شاداں دل ، پختہ ایمانی لمحات ، مشکلات کو انگیز کرنا اور دوسری خوبصورتیاں جن سے یہ جہاں پر ہے اور انسان ان سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے اور تصور اور نور کے پروں کے ساتھ اس جہاں میں دوڑتا اور اڑتا پھرتا ہے۔ اور اس قدر خوشی اور سرور پاتا ہے کہ زندگی کے درد اور دکھ بھول جاتا ہے اور مادی اور جسمانی خوشیوں کو بھول جاتا ہے۔ خواہشات نفس اور مادی شوق اور لذت ایک لمحے کے لئے ذہن سے دور ہوجاتے ہیں۔

لیکن اس کی خوشیوں کا عالم ہی کیا ہوگا جب وہ اللہ کے تخلیق کردہ کمال و جمال کے بھی آگے بڑھ کر ذات باری کے کمالات کو دیکھ رہا ہو اور اللہ کی طرف اس کی نظریں ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب اللہ کی خاص مدد شامل حال ہو ، پھر یہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب کسی کو اللہ کی جانب سے ثابت قدمی حاصل ہو۔ انسانوں کو اپنے اوپر کنٹرول حاصل ہو ، وہ استقامت کا مالک ہو اور اخروی سعادت مندی سے لطف اندوز ہورہا ہو ، وہ سعادت مندی جس کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اور جس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے۔

وجوہ ............ ناضرة (۲۲) الی ربھا ناظرة (۷۵:۲۳) ” بعض چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ وہ تروتازہ کیوں نہ ہوں جبکہ وہ رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔

انسان اس دنیا میں اللہ کی تخلیقات کا نظارہ کرتا ہے ، خوبصورت پھل ، عجیب و غریب پھول ، خوش رنگ اور خوبصورت پرندے اور ان کے بال ویر ، خوبصورت روحیں اور اچھے کام اور ان چیزوں کو دیکھ کر اس کارواں رواں خوش ہوتا ہے۔ اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہوتی ہے اور چہرہ ترو تازہ ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر انسان اللہ کے مال اور جمال اور نورذات کی طرف دیکھ رہا ہو تو اس کی خوشی اور خوش بختی کے کیا کہنے۔ انسان اس مقام تک تب ہی پہنچ سکتا ہے جب وہ ان تمام رکاوٹوں کو ایک جھٹکے کے ساتھ دور پھینک دے جو اس مقام بلند تک پہنچنے سے روک رہی ہوتی ہیں۔ یہ مقام تب ہی حاصل ہوسکتا ہے کہ انسان اپنی ذات اور اپنے ماحول سے تمام نقائص دور کردے۔ اور وہ اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف دیکھ ہی نہ رہا ہو۔

انسان اللہ کی طرف کس طرح دیکھے گا ؟ کس عضو سے دیکھے گا ؟ کیا آلہ بینائی اسے حاصل ہوگا ؟ کیا ذریعہ ہوگا اللہ کے دیکھنے کا ؟ تو یہ وہ بات ہے جو ہمارے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایک تصور ہے جو قلب مومن کو دیا جارہا ہے۔ ایک فیض ہے جس سے روح مومن فیض یاب ہوگی۔ یہ دنیا کی آلودگیوں سے پاک اور شفاف فیض سعادت ہے ، جو مومن کو حاصل ہوگا۔

رہے عقلیت پسند تو وہ اس سے خوشی اور سرور حاصل کرنے کے بجائے ایسی آیات مجادلہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ، جس طرح وہ خوشی اور اطمینان سے محروم ہوتے ہیں۔ اسی طرح فہم وادراک سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ اس جہاں کی باتیں دنیا کی مالوف عقل سے نہیں ، ایمان کی قوت مدرکہ سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

انسانی شخصیت کا ارتقاء اور اس کو محدود زمینی شخصیت سے علیحدہ اور بلند کرنا ہی اسے قیامت کے روز لامحدود شخصیت اور ذات برتر وبالا سے ملاسکتا ہے۔ اس کے بغیر انسان کے لئے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ لامحدود کے ساتھ کیسے مل سکتا ہے۔ لہٰذا معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان رویت باری کے بارے میں جو طویل بحثیں چلیں وہ بالکل لا حاصل تھیں ، کیونکہ انسان کی اس زمینی شخصیت اور اخروی شخصیت کے درمیان فرق ہوگا۔

کلمات الٰہیہ کا ہم وہی مفہوم سمجھ سکتے ہیں جو ہماری محدودذات کے اندر سماتا ہے ، جب ہماری شخصیت ہی بدل جائے اور ان محدود تصورات سے بالا ہوجائے تو پھر ان کلمات کا مزاج اور مفہوم ہی بدل جائے گا۔ کلمات تو دراصل رمز ہوتے ہیں ان مفہومات کے لئے جو انسانی تصور میں ہوتے ہیں۔ جب انسانی تصورت کے حدود وقیود بدل جائیں تو کلمات کے کے مفہوم بھی بدل جائیں گے۔ جب انسانی شخصیت بدل گئی ، اس کی قوت مدرکہ کی طاقت بدل گئی تو اس کے ساتھ ساتھ کلمات اور تصورات دونوں بدل جائیں گے۔ اس دنیا میں ان کلمات کا ہم وہ مفہوم سمجھتے ہیں جو ہمارے حال ہوتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے مفاہیم میں نہیں الجھنا چاہئے جو ہم ان کلمات سے اخذ نہیں کرسکتے۔

بس ہمیں اس سعادت مندی اور اس مقدس خوشی اور سرور کی امید رکھنا چاہئے جس کا ہم اس دنیا کے مفاہیم کے اعتبار سے تصور کرسکتے ہیں۔ اور ہمیں چاہئے کہ ہم اس قسم کے فیوض کے لئے اپنی نظریں عالم بالا کی طرف بلند رکھیں۔ اور اس سے بڑا سرور اور کوئی نہیں۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۲۴–۲۵

ووجوہ ........................ فاقرة (۷۵:۲۵) ” اور کچھ چہرے اس دن اداس ہوں گے اور سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ برتاﺅ ہونے والا ہے “۔ یہ کون سے چہرے ہوں گے ، جو پریشان ، بدبخت اور سیاہ ردہوں گے۔ یہ اللہ کی نظرکرم سے محروم اور ناامید ہوں گے۔ اور یہ محرومی خود ان کی اپنی غلطیوں اور پسماندگیوں کی وجہ سے ہوگی۔ ان کی مادیت اور بےبصیرتی کی وجہ سے ہوگی۔ ان کے چہروں پر رنج والم اور حزن وملال چھپایا ہوا ہوگا اور رنج وملال کی وجہ سے چہروں پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ کیونکہ ان کو یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ وہ بہت جلد ایسے حادثے سے دو چار ہونے والے ہیں جوان کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ فاقرہ ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ یہاں مراد خوف ، ڈر ، بےچینی ، چہرے کی سیاہی ، پریشانی اور رنج والم ہے۔

یہ ہے نقشہ آخرت کا جسے یہ لوگ پس پشت ڈال رہے ہیں اور مہمل چھوڑ رہے ہیں ، اور دنیا کی اس مختصر زندگی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ، جسے وہ بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ حالانکہ جو دن آرہا ہے وہ بہت اہم ہے۔ اصل انجام کا وہاں فیصلہ ہوگا اور اس دنیا اور آخرت کی اہمیت میں بہت بڑا فرق ہے۔ قیامت میں بعض چہرے تروتازہ ہوں گے اور رب تعالیٰ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے جب کہ کچھ چہرے پژمردہ ہوں گے اور انہیں یہ شدید خطرہ لاحق ہوگا کہ ان کو کمر توڑ حادثہ پیش آنے والا ہے۔

مشاہد قیامت یوں تھے کہ وہاں دیدے پتھراجائیں گے ، چاند بےنور ہوگا اور شمس وقمر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور انسان بےاختیار پکار اٹھے گا کہ کہاں جاﺅں اور پھر وہاں لوگوں کے انجام بہت مختلف ہوں گے ، اور جنتیوں اور دوزخیوں کے انجام کے درمیان طویل فاصلے ہوں گے۔ جنتیوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے ، وہ رب کی طرف نظریں جمائے ہوں گے ، جبکہ دوزخیوں کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ شدید خطرے سے دوچار ہونے والے ہوں گے۔

یہ وہ مناظر ہیں جو بےحد قوی الاثر ہیں اور ان کی اثر آفرینی کی اصل قوت ان کے اسلوب بیان میں ہے۔ جو اک شخص اور مصور اور زندہ اسلوب ہے ، تو ان مناظر اور مشاہد کو آگے بڑھاتے ہوئے اب ایک ایسا منظر سامنے لایا جاتا ہے جو روز مرہ کا منظر ہے اور جسے ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک بھاری اور ناگوار منظر ہوتا ہے مگر یہ ہونی شدنی ہے اور ہر جگہ اور ہر گھر میں واقع ہوجاتا ہے۔

یہ منظر ، موت کا منظر ہے۔ وہ موت جسے ہر زندہ کو دو چار ہونا ہوتا ہے۔ جس کو کوئی شخص نے اپنے آپ سے دور رکھ سکتا ہے اور نہ کسی اور کو اس سے بچا سکتا ہے۔ یہ موت دوجگری دوستوں کو جدا کردیتی ہے۔ یہ اپنے راستے پر جاتی ہے اور جاری وساری ہے۔ کسی بھی وقت اس کے وقوع میں وقفہ نہیں ہوتا۔ کسی کا رونا اور کسی کی چیخ و پکار کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نہ جدا ہونے والوں کی حسرتوں کا اس پراثر ہوتا ہے۔ نہ کسی کی چاہت کا اس پر اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کے ڈرکا اس پر اثر ہوتا ہے۔ یہ موت جباروں اور قہاروں کو بھی اسی طرح دبوچ لیتی ہے جس طرح ایک کیڑے کو دبوچ لیتی ہے۔ امراء وغربائ، غلاموں اور ڈکٹیٹروں سب کو نابود کردیتی ہے۔ یہ موت جس کے مقابلے میں انسان کے لئے کوئی حیلہ اور چارہ نہیں ہے لیکن اے افسوس کہ لوگ اس کے بارے میں کم ہی سوچتے ہیں کہ موت کس قدر عظیم قوت قاہرہ رکھتی ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۲۶–۲۸

یہ موت کا منظر ہے اور یہ نص قرآنی اسے یوں پیش کررہا ہے گویا وہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ منظر آنکھوں کے سامنے یوں آرہا ہے جس طرح مصور کے قلم سے رنگ نکلتے ہی تصویر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

کلا اذا ................ التراقی (۷۵:۲۶) ” ہرگز نہیں ، جب جان حلق تک پہنچ جائے “۔ جب روح حلق تک آجائے تو اس وقت انسان کی زندگی کے آخری لمحات ہوتے ہیں۔ ان لمحات میں انسان پر ذہول اور مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ انسان پر شدت کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ نظریں ٹکٹی باندھ لیتی ہیں اور جس کی موت وقاع ہورہی ہوتی ہے ، اس کے ارد گرد دوست و رشتہ دار جمع ہوجاتے ہیں اور مرنے والے کو بچانے کے لئے ہر حیلہ اور ہر وسیلہ اختیار کرتے ہیں۔

وقیل من راق (۷۵:۲۷) ” کہا جائے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا “۔ شاید بطور آخری چارہ کار یہ دم درود اور جھاڑ پھونک ہی مفیدہوجائے اور جس شخص پر موت کی حالت طاری ہے شاید یہ اس سے واپس آجائے اور آخری حالت۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۲۹

والتفت الساق بالساق (۷۵:۲۹) ” پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے “۔ ہر حیلہ اور ہر وسیلہ فیل ہوجائے اور یہ بات طے ہوجائے کہ آپ بیمارنے جانا ہی ہے جس طرح ہر زندہ نے آخر کار جانا ہوتا ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۰

الی ............ المساق (۷۵:۳۰) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔

الی ربک .................... المساق (۷۵:۳۰) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر انمٹ نقوش بیٹھے ہیں۔ اب فضا پر مہیب خاموشی ہے۔ کہیں کہیں رونے کی آواز آرہی ہے۔

اس زندہ ، حقیقی اور ناقابل دفاع منظر کے سامنے اب جھٹلانے والوں اور مدہوس اور غافل لوگوں کا بھی ایک نقشہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عمل اور اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے سعادت سے محروم ہیں۔ ان کے دامن میں معاصی اور نافرمانیاں ہی ہیں اور یہ لوگ لہو ولعب میں مصروف ہیں اور اپنے اس حال میں مگن ہیں۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۱–۳۳

روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ایک مخصوص شخص کے حق میں نازل ہوئیں ، بعض روایات میں اس شخص کا نام بھی لیا گیا کہ یہ عمرو ابن ہشام ابوجہل تھا۔ یہ شخص بعض اوقات رسول اللہ کے پاس آتا تھا اور قرآن کریم سنتا تھا۔ لیکن پھر چلا جاتا تھا اور ایمان نہ لاتا تھا۔ اور نہ آپ کی اطاعت کرتا تھا۔ نہ اللہ سے ڈرتا تھا۔ اور نہ مودبانہ رویہ اختیار کرتا تھا۔ بلکہ یہ حضور اکرم ﷺ کو مزید اذیت دینے لگتا تھا۔ آپ کو برا بھلا کہتا اور لوگوں کو دین اسلام میں آنے سے روکتا۔ پھر یہ اپنی ان کاروائیوں پر اتراتا ، اور اپنے کارناموں پر فخر کرتا جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا۔

قرآن کریم یہاں اس شخص کے ساتھ مزح کرتا ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز تبصرہ کرتا ہے۔ قرآن کریم اس شخص کے غرور کی حرکت کو لفظ یتمطی (۷۵:۳۳) کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ یعنی اپنی پیٹھ کو اکڑاتا ہوا۔ اور نہایت ہی بوجھل قسم کے تعجب کا اظہار کرتا ہوا جس میں کراہیت کے آثار نمایاں ہیں۔

کسی مخصوص شخص کی بات چھوڑئیے ، ہر دور میں حق کے مقابلے میں ایک ابوجہل ہوتا ہے جو سنتا ہے ، سمجھتا ہے ، لیکن منہ موڑ لیتا ہے اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو ہٹانے میں بڑی بڑی فن کاریوں کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اور داعیان حق کو اذیت دیتا ہے۔ اور بڑی بڑی مکاریاں کرتا ہے۔ وہ منہ موڑتا ہے اور اپنی شرانگیزیوں پر فخر کرتا ہے حالانکہ دراصل یہ شخص زمین میں فساد پھیلاتا ہے اور حق ، سچائی اور اصلاح کی راہ روکتا ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۴–۳۵

یہ ایک عام اصطلاحی انداز تعبیر ہے ، عربی روز مرہ کے مطابق ، مگر اس کے اندر تہدید اور ڈوراوا بھی ہوتا ہے۔ ایک بار حضور اکرم ﷺ نے ابوجہل کو گلے سے پکڑا اور کہا :

اولی لک ................ فاولی (۵۷ : ۵۳) تو اللہ کے اس دشمن نے کہا : ” محمد کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو ؟ خدا کی قسم نہ تم اور نہ تمہارا رب میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو اور میں ان تمام لوگوں سے زیادہ معزز ہوں جو مکہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کبھی چلے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بدر کے دن اسے پکڑا اور یوں حضرت محمد ﷺ اور رب محمد ﷺ نے اس کا سب کھیل بگاڑ دیا۔ اور ابوجہل سے قبل فرعون نے بھی اپنی قوم سے کہا تھا۔

ماعلمت .................... غیری ” میں تمہارے لئے اپنے مقابلے میں کوئی دوسرا حاکم نہیں پاتا “۔ اور کہا۔

الیس .................... من تحتی ” کیا مصر کی بادشاہت میری نہیں ہے اور یہ نہریں میرے ماتحت نہیں چل رہی ہیں “۔ کئی ابوجہل گزرے ہیں جنہوں نے اسلامی دعوتوں کے مقابلے میں اپنے قبائل ، اپنی قوت اور اپنی قوم کے بل بوتے پر جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنے آپ کو کچھ چیز سمجھتے تھے ، اور انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تھا لیکن اللہ نے ان کو مچھروں اور مکھیوں کے ذریعہ ہلاک اور برباد کردیا۔ بہرحال ہر فرعون کی تباہی کی ایک میعاد ہوتی ہے جس میں کوئی تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی۔

آخر میں لوگوں کی زندگی سے ایک اور اہم حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی حیات بعد موت پر دلالت کرتی ہے۔ جس کا وہ شدت سے انکار کرتے تھے۔ اور اس سے خود ان کی اس زندگی کی نشوونما کی تدبیر اور تقدیر اور تعجب خیز اور عبرت آموز ٹیکنالوجی بھی معلوم ہوتی ہے جو خدا کی پیدا کردہ ہے اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور خود مطالعہ حیات وقوع حشرونشر کو لابدی قرار دیتا ہے بشرطیکہ کوئی اسے چشم بینا سے مطالعہ کرے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۶

یہ آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔

ایحسب ........................ سدی (۳۶:۷۵) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔ زندگی زینت اور زیبائش اور باہم فخر ومباہات سے عبارت تھی۔ لوگ زندگی اسی طرح گزارتے تھے جس طرح حیوانات گزارتے ہیں یہ کہ اس کائنات میں کوئی ناموس فطرت ہے اور زندگی کا کوئی مقصد ہے اور وہ ایک حکمت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے۔ یہ باتیں ان کی سمجھ سے دور تھیں۔ وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ انسان ایک متعین تقدیر کے مطابق پیدا کیا گیا ہے اور یہ کہ وہ کوئی ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی جزاء وسزا کا نظام بھی موجود ہے۔ اور زندگی کا یہ سفر ایک آزمائش ہے۔ رہا یہ تصور کہ یہ زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اس کی پشت پر ایک قادر مطلق ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، اور اس نے ہر چیز کو ایک اندازے اور ایک حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے اور ہر چیز ایک انجام کو پہنچنے والی ہے تو یہ تصورات ان کی سوچ میں نہ تھے ، بلکہ یہ لوگ ان تصورات سے کوسوں دور تھے۔ اسلام سے قبل کے زمانے میں عربوں کی ایسی ہی حالت تھی۔

حالانکہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق ہی اس شعور کی وجہ سے ہے کہ واقعات ایک مقصد کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں ، ان کے اہداف اور مقاصد متعین ہیں۔ جس طرح یہ پوری کائنات بامقصد ہے اسی طرح اس کے اندر حضرت انسان بھی بامقصد ہے۔ جوں جوں انسان کا یہ شعور ترقی کرتا رہا ہے ، انسانیت نے ترقی کی ہے ، اس شعور کے تحت انسان کی زندگی باہم مربوط ہوتی ہے۔ اس تصور کے تحت انسان اپنی زندگی کے لمحات کا حساب کرتا ہے۔ تمام حادثات وواقعات پر غور کرتا ہے۔ حال اور مستقبل کو ماضی سے مربوط رکھتا ہے۔ پھر اس پوری زندگی کو اس کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور پھر انسان اور پوری کائنات کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جوڑتا ہے کہ یہ انسان اور اس کی زندگی اور یہ جہاں عبث نہیں پیدا کیے گئے۔

یہ ہے وہ عظیم تصورحیات جس کی طرف قرآن نے لوگوں کو پہنچایا۔ یہ ایک عظیم انقلاب تصور تھا۔ اس وقت انساوں کے اندر جو سوچ بالعموم موجود تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی انقلابی سوچ تھی۔ نیز اس وقت دنیا میں جو فلسفے اور خیالات رائج اور مشاہد تھے ان کے مقابلے میں یہ تصور اور عقیدہ ایک انقلابی تصور اور سوچ تھی۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام کائنات اور زندگی اور انسان) ۔

یہ چٹکی کہ۔

ایحسب ................ سدی (۳۶:۷۵) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھو ڑدیا جائے گا ؟ “۔ یہ دراصل ان چند قرآنی اشارات میں سے ہے جو انسان کو اس کائنات کے ساتھ روابط اور تعلقات قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس جہاں اور انسان دونوں کے لئے غرض وغایت اور ایک مقصد متعین کرتے ہیں۔ واقعات کے لئے علل واسباب متعین کرتے ہیں اور کچھ چیزوں کو کچھ کے نتائج قرار دیتے ہیں۔ یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان بامقصد اور باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔

یہاں اس تصور پر نہایت ہی سادہ اور سیدھے دلائل لائے جاتے ہیں ، جن کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسان شتر بےمہار اور بےمقصد نہیں ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۷–۳۸

الم یک ................ یمنی (۳۷) ثم ................ فسوی (۳۸) فجعل ........................(۳۹) (۳۷:۷۵ تا ۳۹) ”” کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر وہ ایک لو تھڑا بنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے ، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔

یہ انسان کیا ہے ؟ یہ کس سے بنایا گیا ہے ؟ کس طرح تھا اور کس طرح ہوگیا۔ اور زندگی کا یہ سفر اس نے کہاں سے شروع کیا اور کہاں تک پہنچا۔ اس کرہ ارض پر وہ کیسے پہنچا جو ایک چھوٹا سا ستارہ ہے۔

کیا وہ پانی کا چھوٹا سا نطفہ نہیں تھا ، پانی کی ایک بوند جو ٹپکتی ہے۔ کیا انسان ایک نہایت ہی خوردبینی نکتہ نہ تھا۔ پھر وہ ایک خلیہ بن گیا۔ پھر وہ خون کا ایک مخصوص لوتھڑا بن گیا۔ یہ لو تھڑا رحم مادر میں بڑھتا رہا۔ پہلے یہ رحم کی دیواروں کے ساتھ معلق رہا اور اس کے خون سے اپنی غذا اخذ کرتارہا۔ یہ تمام مراحل سفرا سے کس نے سکھائے ؟ اور یہ طاقت اسے کس نے دی اور یہ راستہ اسے کس نے بتایا ؟

اس کے بعد کس نے اسے ایک جنین کی شکل دی۔ جس کی قوتوں کے اندراعتدال اور جس کے اعضا باہم ہم آہنگ اور متناسب بن گئے۔ پھر کس طرح یہ ایک خلیہ اب کئی ملین خلیوں کی شکل اختیار کر گیا۔ حالانکہ پہلے یہ ایک خلیہ تھا اور ایک خوردبینی انڈا تھا۔ وہ سفر اور تغیر پذیری جو اس خلیے نے ایک جنین تک طے کی ، یہ پیدائش سے موت تک کے مراحل سے طویل تھی۔ سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اسے ان طویل تغیرات کے لئے تیار کررہا ہے۔ حالانکہ آغاز میں وہ ایک نہایت ہی چھوٹی مخلوق تھی۔ نہ عقل اور نہ قوائے ادراک اس کے اندر تھیں۔ اور نہ دنیاوی تجربات اسے حاصل تھے۔

پھر ایک ہی مخلوق سے اللہ نے کس طرح مرد اور عورت پیدا کیے۔ کیا یہ مخلوق خود اپنے آپ کو مرد اور عورت کی شکل میں ڈھالتی ہے۔ کیا یہ مخلوق خود مذکر مونث ہونے کا فیصلہ کرتی ہے یا یہ کوئی دوسری قوت ہے جو ان تاریکیوں میں اسے مذکر ومونث بناتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسی ذات کے تصور کے سوا اس جہاں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا جو قادر مطلق ہے۔ جو مدبر ہے ، جو تمام واقعات اور حادثات کا سبب اول ہے۔ جو قدرت مطلقہ رکھتی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جو انسان کو ایک خوردبینی ذرے سے یہاں تک لاتی ہے۔

سُورَةُ القِيَامَةِ: ۳۹–۴۰

فجعل ........................ والانثی (۳۹:۷۵) پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں “۔

یہ حقیقت جو انسانی شعور کے ساتھ چپک جاتی ہے پھر پوری سورت کی تلخیص یوں کی جاتی ہے اور ان تمام حقائق سے نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے۔

الیس .................... الموتی (۴۰:۷۵) ” کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے “۔ ہاں بیشک اللہ قادر ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے۔ ہاں اللہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ حشرونشر کے دن سب کو اٹھائے۔ ہاں یہ حقیقت ہے کہ انسان مجبور ہے کہ عقیدہ آخرت پر ایمان لائے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اس پر شاہد ہے۔

یوں یہ سورت ایک زور دار فقرے پر ختم ہوتی ہے۔ جس کا اثر فکر واحساس کے پردوں پر نہایت گہرا اور فیصلہ کن ہوتا ہے اور انسان اس کائنات ، اس کی حقیقت اور اس کی پشت پر کام کرنے والی ذات مدبرہ کے قریب چلا جاتا ہے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ
سُورَةُ الإِنسَانِ: ۱

یہ استفہام تقریری ہے ، یعنی کسی چیز کے بارے میں دریافت کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کی اطلاع دینا مقصود ہے کہ ایسا ضرور تھا۔ لیکن سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا کہ انسان کو خود اس حقیقت کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ، اور سوچنا چاہئے کہ وہ کسی وقت کوئی قابل ذکر شے نہ تھا اور جب وہ اب ایک قابل ذکر شے ہے تو اسے دست قدرت کا کسی قدر تو شعور ہونا چاہئے جو اسے عدم سے وجود میں لائی اور تاریکیوں سے روشنی کی طرف لائی۔ جہاں یہ اس دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

بہرحال استفہامیہ اور سوالیہ انداز میں ، اس مقام پر چند حقائق کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ یہ نہایت ہی اونچے درجے کے اشارات ہیں۔ گہرے حقائق ہیں اور ان کو پیش نظر رکھ کر قابل غور نکات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا اپنے وجود میں آنے سے قبل اور آغاز وجود کے زمانے اور حالات پر غور کرو ، کہ یہ دنیا ایسی ہی تھی اور اس پر انسان آباد نہ تھا۔ ذرا غور کرو کہ اس وقت یہ دنیا کیسی لگ رہی ہوگی ؟ انسان اللہ کی ایک مخلوق ہے ، لیکن اپنے آپ کو ایک بڑی چیز سمجھتا ہے اور مغرور ہے۔ لیکن وہ نہیں سوچتا کہ یہ دنیا اس کے وجود میں آنے سے بھی پہلے زمانوں سے ایسی ہی تھی۔ بلکہ اس کائنات کی مخلوق انسان کی تخلیق کی توقع ہی نہ رکھتی تھی۔ لیکن اللہ کا ارادہ ہو اور اس نے انسان کی تخلیق فرمائی۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ ذرا ان لمحات پر غور کرو جن میں یہ مخلوق انسانی وجود میں آئی۔ ان لمحات کے بارے میں انسان تو ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے جبکہ تخلیق انسان کے آغاز کا علم تو خالق کائنات ہی کو ہوسکتا ہے۔ یہ تو خالق ہی جانتا ہے کہ اس کائنات اور دنیا میں حضرت انسان کا اضافہ کس طرح ہوا۔ اس کائنات کی طویل تایرخ میں اللہ ہی نے انسان کے لئے مخصوص کردار متعین کیا ہے۔

ایک نکتہ یہ ہے اس ذات انسان کو ، کائنات کے اس اسٹیج پر ، دست قدرت نے کس طرح لاکر کھڑا کیا اور ایک ذمہ داری اور ایک کردار اس کے سپرد کیا ؟ اس کے لئے اسے تیار کیا۔ اس کے کردار کا تانا بانا اس پوری کائنات کے خطوط کے ساتھ ملایا۔ اور وہ حالات اس کے لئے مہیا کیے جن کے اندر اس کے لئے وہ کردار ادا کرنا ممکن اور آسان ہو۔ جو اس کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد قدم قدم پر اس کے لئے سہولیات فراہم کیں۔ یوں یہ حضرت انسان اس کائنات کی ہر چیز کے ساتھ وابستہ وپیوستہ ہوگیا۔

بہت سے اشارات ہیں اور بہت سے قابل غور نکات ہیں جو یہ آیات قلب انسانی کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ جن سے انسانی سوچ اور انسانی فکر ، انسان کے مقصد وجود ، اس کے ارادوں اور آغاز سے انجام تک ہر مرحلے پر اس کے نظام تقدیر کے نکات اخذ کرتی ہے۔

یہ تو تھے نکات انسان کے آغاز تخلیق کے متعلق۔ رہا وہ نظام جو نسل انسانی کے بقائے دوام کے لئے اور تاقیامت تسلسل کے لئے وضع کیا گیا تو وہ نظام بالکل مختلف ہے اور اس کا ایک اپنا قصہ ہے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۲

انا خلقنا ............................ بصیرا (۲:۷۶) ” ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا “۔

امشاج کے معنی ہیں مخلوط۔ یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جب مرد کا خلیہ عورت کے ہیضے میں داخل ہوکر اس کے ساتھ خلط ہوجاتا ہے اور اس میں مرد اور عورت کی موروثی خصوصیات کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے ، جن کو علمائے حیاتیات ” جینز “ کہتے ہیں۔ یہ وہ خصائص ہیں جو جنس انسانی کو دوسرے زندہ اجناس سے ممیز کرتے ہیں ، پھر اس کے ذریعہ خاندانی موروثی خصائص بھی بچے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اور انسانی نطفہ انسانی جنین کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اور دوسرے حیوانات سے مختلف شکل اختیار کرتا ہے اور یہی مخلوط نطفہ ہے جس کی طرف مرد اور عورت کی وراثتی خصوصیات منسوب کی جاتی ہیں بلکہ یہ مخلوط نطفہ کئی مختلف وراثتی خصوصیات کا محزن ہوتا ہے۔

یوں اللہ نے انسان کو مخلوط نطفے سے پیدا کیا۔ یہ نہ اتفاقاً پیدا ہوا ہے۔ اور نہ اس کی تخلیق ایک بےمقصد اور عبث ہے۔ اسے کھیل کے طور پر پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق کے طور پر امتحان اور آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ آزمائش کیا ہے ؟ کیا امتحان ہے ؟ اور اس امتحان کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ البتہ انسان دنیا کے اسٹیج پر جو ڈرامہ کرتا ہے ، یہ محض نتیجے کے اظہار کے لئے ہے تاکہ یہ نتیجہ کھلی عدالت میں پیش ہو اور اس کے اوپر جزا وسزا مرتب ہوں۔ اور لوگ اپنے اچھے اور برے انجام تک پہنچیں۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسان کو سمیع وبصیر بنایا ہے۔ یعنی اسے ادراک کے وسائل دیئے ہیں کہ وہ نیک وبد کو سمجھ سکے اور جان سکے ۔ اور اس دنیا کے افعال واشیاء کی حقیقت کو اچھی طرح پاسکے اور اس امتحان کو اچھی طرح پاس کرسکے۔

پس اللہ تعالیٰ نے انسان کے سلسلہ توالد وتناسل کو چلانے کا جو ارادہ کیا اور اس کے لئے جو نظام متعین فرمایا وہ نطفہ مخلوط سے اس کی تخلیق کا نظام ہے۔ اور اس میں گہری حکمت اور گہری مقصدیت ہے۔ یہ کوئی اتفاقی اور بےسوچے سمجھے کا سلسلہ نہیں ہے۔ اور یہ حکمت اور مقصد اس انسان کو آزمانا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اس ذات کے اندر ہدایت کے اخذ کرنے اور حق کی قبولیت کی استعداد رکھی۔ اور پھر اسے علم ومعرفت اور قدرت واختیار عطا کیا گیا اور یہ تمام صلاحیتیں ، علم وادراک اور اخذ ہدایت اور تربیت کی اللہ نے ایک نہایت ہی متعین وزن اور مقدار کے ساتھ اسے عطا کیں۔

پھر علم ومعرفت اور فہم وادراک کے ساتھ ساتھ اسے یہ قدرت اور اختیار بھی دیا کہ وہ راہ حق کو اختیار کرے۔ چناچہ اسے حق و باطل کی تمیز دے کر چھوڑ دیا کہ جو راہ چاہے اختیار کرے۔ خواہ اللہ کی راہ اختیار کرے یا اس کے سوا کوئی اور راہ اختیار کرے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۳

انا ھدینہ ............................ کفورا (۳:۷۶) ” اور ہم نے اسے راستہ دکھادیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا “۔ یہاں اللہ نے راہ ہدایت کی تعبیر شکر نعمت سے کی ہے۔ کیونکہ جب کسی کو ہدایت عطا کردی جاتی ہے تو اس کے پردہ شعور پر سب سے پہلے شکر کا احساس نمودار ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے انسانیت عطا کرکے ایک قابل ذکر چیز بنایا۔ پھر اسے سمع وبصر کرکے دوسرے حیوانات سے ممتاز کیا اور یوں وہ علم ومعرفت پر قادر ہوا ، پھر اسے ازروئے فطرت اور بذریعہ انبیاء ہدایت عطا فرمائی اور آزاد چھوڑ دیا کہ وہ راہ ہدایت اختیار کرکے مشکور بنے یا راہ ضلالت اختیار کرکے کفور اور ناشکرا بنے۔ لفظ کفور کے مفہوم میں ہے کہ ناشکری میں وہ غلو کرے۔

ان تین توجہ مبذول کرنے والی چٹکیوں اور تنبیہات کے بعد اب انسان محسوس کرلیتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار اور بامقصد مخلوق ہے اور وہ آزاد نہیں ہے بلکہ ایک محور کے گرد بندھا ہوا ہے۔ اور گھوم رہا ہے۔ اور اسے جو صلاحیتیں دی گئی ہیں ان پر اس سے حساب کیا جارہا ہے اور یہ جہاں اس کے لئے دارالامتحان ہے۔ یہاں اسے آزمائشی طور پر رکھا گیا ہے۔ یہاں اسے کھیل کے میدان میں نہیں اتارا گیا بلکہ امتحان کے کمزرہ میں بٹھایا گیا ہے۔ غرض ان مختصرتین آیات سے فکرونظر کا بےبہا خزانہ نکلتا ہے اور بلند افکار اور تصورات اور گہری حکمت کے جوہر ظاہر ہوتے ہیں جبکہ ان تمام نکات کے نتیجے میں انسان پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور شعور کی پختگی اور طرز عمل میں سنجیدگی اور وقار حاصل ہوتا ہے۔ یہ مختصر آیات انسان کا نظریہ حیات متعین کردیتی ہیں۔ اس کے وجود کا مقصد بتاتی ہیں اور زندگی کا شعور عطا کرتی ہیں۔ اور ان کی روشنی میں انسان اپنی زندگی اور اس کی قدروں کا تعین کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان آیات کے بعد متصلایہ بتادیا جاتا ہے کہ اس آزمائش اور ابتلا کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے۔ اور انسان اگر شکر کی راہ لے گا تو نتیجہ کیا ہوگا اور اگر انسان کفر اور کفران کی راہ لے گا تو انجام کیا ہوگا ؟

جو کفر اور ناشکری کی راہ لیں گے ، ان کا انجام نہایت ہی اختصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ پوری سورت کی فضا اور اس کا انداز نرم ونازک اور سہولتوں اور خوشیوں اور جنتوں کی دائمی نعمتوں کا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ عذاب جہنم کی تفصیلات دے کر اس سورت کی فضا کو مکدر کرنا نہیں چاہتے۔ نہایت اختصار کے ساتھ فرماتے ہیں :

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۴

انا اعتدنا ........................................ سعیرا

” کفر کرنے والوں کے لئے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کررکھی ہے “۔ زنجریں ان کے پاﺅں میں ہوں گی ، طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ، یہ لوگ زنجیروں میں بندھے ہوئے اور ہتھ کڑیوں میں جکڑے ہوئے جہنم میں گرائے جائیں گے۔ لیکن اس مختصر ذکر کے بعد اب جنت کی نعمتوں کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے اور نہایت سرعت کے ساتھ اور قدرے تفصیل کے ساتھ۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۵–۶

ان الابرار .................................... تفجیرا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کا مشروب ایسا ہوگا کہ اس میں کافور کی ملاوٹ ہوگی ، یہ مشروب ایک ایسے چشمے سے بھر کردیا جائے گا ، جو ان کے لئے خصوصی طور پر بہایا گیا ہوگا۔ یعنی وہ نہر کی طرح وافر اور کثیر مقدار میں ہوگا۔ عربوں کی یہ عادت تھی کہ شراب میں کبھی کافور اک بھی زنجبیل (سونٹھ) کا آمیزہ کرتے تھے۔ اور اس طرح شراب کو زیادہ لذیذ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ جنت میں بھی پاک اور صاف مشروب ہوگا ، جس میں کافور کا آمیزہ ہوگا اور یہ شراب بڑی وافر مقدار میں ہوگی۔ اس کا معیار کیا ہوگا ، یہ دنیا کی شراب کے مقابلے میں بہت خوش ذائقہ ہوگی اور اس کی لذت اس قدر زیادہ ہوگی کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ تو درحقیقت قریب الفہم بنانے کے لئے ان اصطلاحات کے اندر کہا جارہا تھا تاکہ لوگ سمجھ سکیں ورنہ جنت کی نعمتیں عالم غیب میں ہیں۔ ان کا صحیح تصور اور ان کی تصحیح تعبیر ہم نہیں کرسکتے۔

اہل جنت کو پہلی آیت میں الابرار کہا گیا ہے اور دوسری میں عباد اللہ کہا گیا ہے۔ یہ محض قرب و محبت کے اظہار کے لئے اور فضل وکرم کے اعلان کے لئے ہے اللہ کے یہ بندے اللہ کے قریب ہوں گے۔ اور ان کے اوصاف اور خدوخال یہ ہوں گے :

578