Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
رب اجعل .................................... الثمرت (۱۲۶:۲) ” اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنادے اور اس کے باشندوں کو پھلوں کی روزی دے “۔ تو اللہ نے اس گھر کو امن کا گھر بنادیا اور ڈکٹیٹروں اور جباروں کے تسلط سے آزاد رکھا۔ جو شخص بھی اس گھر میں پناہ لیتا وہ امن پاتا اور اس کے اردگرد جو اقوام وافراد رہتے تھے ، وہ ہر وقت خائف رہتے تھے اور اس گھر کو یہ اعزاز اس وقت بھی حاصل رہا جب اس کے باسیوں نے بت پرستی شروع کردی۔ شرک کا ارتکاب شروع کیا اور اپنے رب کے ساتھ ساتھ انہوں نے خانہ کعبہ میں بت بھی رکھ دیئے اور یہ اعزاز اللہ نے اس لئے بحال رکھا کہ اس گھر سے اللہ نے کچھ کام لینا تھا۔
پھر جب اصحاب الفیل نے اس گھر کو منہدم کرنے کا ارادہ کرلیا جس کی تفصیلات سورت الفیل میں گزر گئی ہیں ، اللہ نے اس گھر کے امن کی حفاظت فرمائی اور اس کے احترام کو بحال رکھا جبکہ اس کے ماحول میں لوگوں کی حالت یہ تھی۔
اولم یروا ............................ من حولھم (۶۷:۲۹) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک ایسا حرم بنایا ہے جو امن کی جگہ ہے ، جبکہ لوگوں کو اس کے گردوپیش سے اچک لیا جاتا ہے “۔ جب فیل کا واقعہ ہوا تو عربوں کے دلوں میں بیت اللہ کا احترام بڑھ گیا۔ اور اس بات کا پورے جزیرة العرب میں غلغلہ ہوگیا۔ اسی طرح اس واقعہ کی وجہ سے اہل مکہ اور بیت اللہ کے مجاوروں کا احترام بڑھ گیا اور اس وجہ سے وہ نہایت امن وامان کے ساتھ پورے عرب میں چلتے پھرتے۔ اور یہ جہاں بھی ٹھہرتے لوگ ان کی رعایت اور احترام کرتے۔ اس کے نتیجے میں انہوں نے قافلوں کے لئے دو عموی راستے بنالیے۔ یہ راستے مکہ سے شمال کی طرف شام تک جاتے اور مکہ سے جنوب کی طرف یمن تک جاتے ، اہل مکہ نے دو تجارتی سفر بھی منظم کرلیے۔ سردیوں کے موسم میں وہ یمن کے سفر پر جاتے اور گرمیوں کے موسم میں یہ شام کی طرف نکل جاتے۔
باوجود اس امر کے جزیرة العرب کے اطراف واکناف میں امن وامان کی حالت کچھ اچھی نہ تھی ، ڈاکے اور لوٹ مار ہر طرف عام تھے ، لیکن بیت اللہ کے احترام کی وجہ سے قریش کے یہ تجارتی سفر پر امن رہتے اور یہ قریش کی ایک ممتاز خصوصیت ہوگئی تھی۔ اور اس وجہ سے ان کے سامنے رزق کے وسیع ذرائع کھل گئے تھے۔ اور وہ نہایت اطمینان سے اور امن وسلامتی سے یہ تجارتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ چناچہ قریش ان مفید اور نفع بخش سفروں کے عادی ہوگئے تھے۔ اور وہ ان کے بغیر چین سے نہ بیٹھتے تھے۔
جس طرح بعثت نبوی کے بعد واقعہ فیل کو بطور احسان ان کے سامنے پیش کیا گیا ، اس طرح اس سورت میں بتایا گیا کہ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ تم سردیوں اور گرمیوں کے سفر کے عادی ہوگئے ہو ، اور ان سفروں سے تمہیں بہت تجارتی نفع ہوتا ہے۔ ان کا علاقہ بنجر اور خشک ہے اور وہ اس کے اندر نہایت ہی خوشگوار اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم ہی کی وجہ سے وہ خوف سے مامون ہیں۔ چاہے وہ بیت اللہ کے جوار میں اپنے گھروں میں ہوں یا وہ اپنے سفر میں ہوں ، اس گھر کے احترام کی وجہ سے وہ ہر قسم کی زیادتی اور ظلم سے محفوظ ہیں۔
اللہ اپنا یہ احسان کو یاددلاتا ہے کہ وہ حیا کریں اور اس گھر میں اللہ کے سوا ، اس کے اور شریکوں اور بتوں کی بندگی نہ کریں کیونکہ یہ گھر اس کا ہے ، وہی رب ہے اور اسی نے اس گھر کو امن دیا ہے جس کے اندر وہ مزے سے رہتے ہیں ، اس گھر کے نام سے ان کے سفر محفوظ ہیں اور سفروں سے یہ صحیح سالم گھروں کو لوٹتے ہیں۔
چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قریش چونکہ گرمیوں اور سردیوں کے عادی ہوگئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ صرف اس گھر کے رب کی بندگی کریں جس نے ان سفروں کے دوران ان کے امن وامان کا بندوبست کیا اور انہیں اس سفر کا عادی بنایا جس کی وجہ سے انہیں مالی مفادات ملتے ہیں۔
فلیعبدو ........................ من جوع (۴:۱۰۶) ” لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا “۔ ان کی زمین کی پیداوار کی جو حیثیت ہے ، اس کے مطابق ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھی کہ وہ بھوک سے مرتے ، لیکن اللہ نے ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست فراوانی سے کیا اور وہ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔
وامنھم من خوف (۴:۱۰۶) ” اور خوف سے بچا کر امن دیا “۔ ان کی جو جنگی قوت تھی ، ان کے ارد گرد جو سوسائٹی تھی ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت خائف رہتے لیکن اللہ نے ان کا یہ خوف امن سے بدل دیا۔
یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی وجہ سے انسان کے اندر حیا پیدا ہوتی ہے ، وہ شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے رویے پر نظرثانی کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ اس گھر کی اہمیت کیا ہے اور اس گھر کے احترام کی وجہ سے ان کی زندگی پر جو اثرات تھے وہ ان سے بھی بیخبر نہ تھے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ تھی کہ انتہائی شدید اور کربناک حالات میں وہ صرف اس گھر کے رب ہی کو پکارتے تھے۔ مثلاً دیکھئے کہ عبدالمطلب ابرہہ کا مقابلہ فوج سے نہیں کرتے اور نہ اس کی قوت کے مقابلے میں مادی قوت فراہم کرتے ہیں۔ وہ اس گھر کے رب سے خطاف کرتے ہیں ، جو اس کا حقیقی متولی اور حامی تھا۔ اس موقعہ پر عبدالمطلب نے نہ کسی بت کی طرف توجہ کی اور نہ کسی معبود کی طرف اور نہ انہوں نے ابرہہ سے کہا کہ اس گھرکے بہت سے الٰہ ہیں وہ اس کی حمایت کریں گے ۔ بلکہ انہوں نے یہ کہا ” میں تو اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا ایک مالک ہے ، وہ خود اس کی حفاظت کرے گا “۔ لیکن جاہلیت پر کبھی منطق اور حقیقت کا اثر نہیں ہوا کرتا اور نہ جاہلیت حق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ وہ معقول بات کی طرف لوٹتی ہے۔
یہ سورت ، اپنے موضوع اور فضا کے اعتبار سے سورت فیل کا تسلسل ہے۔ اگرچہ یہ مستقل سورت ہے اور دونوں کے درمیان مصاحف میں بسم اللہ الرحمان الرحیم درج ہے۔ قرآن کی ترتیب نزولی سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة الفیل اور سورة القریش کے درمیان ۹ سورتیں نازل ہوئیں ، لیکن مصحف میں ان کو ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے پیوست کیا گیا ہے کہ اس میں موضوع ومضمون کی ترتیب کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
یہ چھوٹی سی سورت جو صرف سات آیات پر مشتمل ہے اور آیات بھی چھوٹی چھوٹی ہیں ، ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے ۔ اس کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ یہ گویا شعائر اسلام کو بدل کر رکھ دیتی ہے اور اس پر غور کرنے سے انسان کو ایمان وکفر کا مفہوم مکمل طور پر بدلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سے آگے یہ سورت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے۔ اور اس میں انسانیت کے لئے کس قدر عظیم خیر اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسانیت کے لئے اپنا آخری مشن بھیج کر اللہ نے اس پر کتنا عظیم رحم کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دین چندظاہری رسوم عبادات اور دینی شعائر ہی کا نام نہیں ہے۔ اس میں دینی مرام اور شعائر اور عبادات اس وقت تک مفید نہیں ہوتے جب تک ان میں خلوص نہ ہوئے اور ان کی ادائیگی صرف رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو۔ اور جب ان کی وجہ سے قلب انسانی میں ایسے آثار پیدا نہ ہوں جو انسان کو عمل صالح پر ابھارتے ہیں اور جب تک یہ آثار ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جن کے ذریعہ انسانی زندگی اصلاح آخرت پذیر ہو۔ اور اس دنیا میں بھی ان کے نتیجے میں اصلاح اور ترقی نہ ہو۔
پھر یہ دین چند متفرق اجزاء اور ٹکڑوں میں بٹا ہوا دین نہیں ہے کہ انسان ان میں سے جس جزء کو چاہے لے کر نکل جائے اور جس جزء کو چاہے ترک کردے۔ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور منہاج حیات ہے۔ اس کے مراسم عبودیت اور اس کے شعائر باہم پیوست ہیں ، اس کے انفرادی فرائض اور اجتماعی احکام باہم مربوط اور معاون ہیں۔ اس کے تمام اجزاء کا مقصد ایک ہے اور وہ انسانیت کے ساتھ متعلق ہیں ، یہ کہ انسانیت کو قلبی اور روحانی تطہیر نصب ہو۔ ان کی زندگی سنور جائے ۔ لوگ باہم معاون ہوں ، ایک دوسرے کے کفیل ہوں ، اور بھلائی ، ترقی اور اصلاحات کی راہ میں ہمقدم ہوں۔ اور ان کی زندگی اللہ کی رحمتوں کا نمونہ ہو۔
انسان اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میں مسلم ہوں ، وہ مسلمان ہے اور دین اسلام کے تمام احکام اور فیصلوں کو قبول کرتا ہے ، وہ نماز پڑھتا ہے ، نماز کے علاوہ دوسرے مراسم عبودیت بھی سرانجام دیتا ہے ، لیکن اس کے باوجود حقیقت ایمان اور دین و ایمان کی تصدیق اس سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت ایمان کے کچھ آثا ہوتے ہیں ، یہ آثار بتاتے ہیں کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے ۔ جب یہ آثار نہ ہوں تو کوئی کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ایمان کی حقیقت موجود ہے۔ اگر آثار نہ ہوں تو محض اقرار ایمان ہے اور چند ظاہری مراسم عبودیت ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب ایمان کی حقیقت کسی دل میں پوری طرح بیٹھ جائے تو وہ فوراً عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے سورة العصر میں تفصیلات دی ہیں۔ اگر کسی کا ایمان اس اسلوب سے متحرک نہیں ہوتا تو ظاہری علامت تو یہ ہوگی کہ ایمان اصلا موجود ہی نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کو یہ سورت ایک مکمل قرار داد کی شکل میں پیش کرتی ہے۔
ارءیت الذی ................................ المسکین (۱:۱۰۷ تا ۳) ” تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزاوسزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔ آغاز ایک ایسے سوال سے ہوتا ہے کہ تمام اس کی طرف متوجہ ہوجائیں تاکہ ایسے شخص کی بابت علم حاصل کرسکیں کہ کون ہے وہ شخص جو دین کی تکذیب کرتا ہے اور اس بات کی صراحت قرآن مجید کررہا ہے کہ ایسا شخص مکذب دین ہے۔ چناچہ جواب آتا ہے۔
فذلک الذی ................................ المسکین (۲:۱۰۷ تا ۳) ” وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا “۔
ایمان اور دین کی جو روایتی تعریف ہے اس کو دیکھتے ہوئے قرآن کی یہ صراحت بادی النظر میں انوکھی معلوم ہوسکتی ہے ، لیکن یہ اصل حقیقت ہے کہ جو شخص یتیم کو دھکے دیتا ہے وہ دراصل دین کی تکذیب کرتا ہے۔ یتیم کو دھکے دینے کا مطلب اسے ایذا دینا اور اس کی توہین کرنا ہے۔ اور
ولا یحض (۳:۱۰۷) کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس کام پر نہیں اکساتا اور مسکینوں کا خیال نہیں رکھتا۔ اگر اس نے صداقت کے ساتھ دین اسلام کو قبول کیا ہوتا اور اس کے دل میں حقیقی تصدیق ہوتی تو وہ یتیم کو دھکے نہ دیتا ، اور مساکین کو کھانے کے لئے اکسانے اور تحریک چلانے پر لوگوں کو آمادہ کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ دین کا اقرار اور تصدیق صرف ربانی فعل نہیں ہے بلکہ وہ ایک ذہنی اور قلبی انقلاب ہے جس کے نتیجے میں انسان خود بخودبنی نوع انسان پر رحم اور نیکی کرنے لگتا ہے۔ ان لوگوں پر جو امداد اور مراعات کے مستحق ہوں۔ اللہ کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ لوگ اپنی زبان سے محض چند کلمے جپتے جائیں ۔ ان کلمات کے ساتھ ساتھ اللہ کا مطالبہ کچھ اعمال کا بھی ہے جو یہ تصدیق کریں کہ ایمان موجود ہے ، ورنہ ایمان محض ایک ہوائی ذرہ ہوگا جو فضا میں ادھر ادھر اڑتا رہتا ہے۔
ان تین آیات میں اس حقیقت کو جس طرح نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اس کی مثال پورے قرآن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کی روح ہے اور اس دین کا یہ مزاج ہے۔
ہم یہاں اسلام اور ایمان کی فقہی تعریفات اور ان کے حدود وقیود کے مباحث اور اختلافات میں داخل ہونا نہیں چاہتے۔ یہ تعریفات اس لئے کی جاتی ہیں کہ ان پر شرعی اور قانونی حقوق وفرائض کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس سورت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اس حقیقت نفس الامری کا اظہار کرتی ہے جو اللہ کے ہاں معتبر ہے اور جو اللہ کے معیار کے مطابق ناپی تولی جاتی ہے۔ اللہ کے ہاں جو حقائق ہوتے ہیں وہ ان حقائق سے الگ ہوتے ہیں جن کے مطابق شرعی اور قانونی معاملات طے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اس حقیقت اور اس اصول کے مطابق بعض عملی صورتوں کا ذکر کیا جاتا ہے :
فویل ................................ الماعون (۴:۱۰۷ تا ۷) ” پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں ، جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں “۔ یہ ان لوگوں کے لئے بددعا ہے یا دھمکی ۔ ان لوگوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ وہ لوگ جو ریاکاری کرتے ہیں اور جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔
یہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر نماز کو قائم نہیں کرتے ، یہ نماز کے اندر نہیں ہوتا۔ ان کی روح نماز کی حقیقت سے بیگانہ ہوتی ہے۔ ان کی سوچ ان معانی سے دور ہوتی جو وہ پڑھتے ہیں۔ جو قرات ، جو دعائیں اور جو ثنائیں وہ پڑھتے ہیں اس سے ان کی روح دور ہوتی ہے ، گویا وہ اپنی نماز سے جسے وہ پڑھ رہے ہوں ، غافل ہوتے ہیں۔ اسے صحیح طرح ادا نہیں کرتے۔ اللہ کے ہاں مطلوب یہ ہے کہ نماز کو صحیح طرح قائم کیا جائے۔ فقط ادائیگی مطلوب نہیں ہے اور نماز قائم تب ہوتی ہے کہ اسے دینی روح اور اس کے معانی کے ساتھ پڑھاجائے اور جس میں اللہ کی ذات مستحضر ہو۔
یہی وجہ ہے کہ جس نماز کو وہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں اس نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ نماز کی حرکات کے دوران غافل ہوتے ہیں۔ چناچہ یہ لوگ معمولی ضرورت کی چیز (ماعون) بھی دوسروں کو نہیں دیتے۔ دوسروں کے ساتھ کوئی امداد نیکی ، بھلائی نہیں کرتے۔ حالانکہ نماز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نمازی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرے اور ان سے معمولی ضرورت کی چیز نہ روکے۔ اس لئے جو لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں وہ دراصل حقیقی نماز نہیں ادا کررہے ہوتے۔ لہٰذا اللہ کے نزدیک حقیقی اور سچی عبادت کا معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے بنی نوع انسان سے معمولی ضرورت کی اشیاء نہ روکے ۔ ان کی معاونت سے دستکش نہ ہو۔
یوں ہم دین کی ایک دوسری لانیفک حقیقت کو سامنے اپنے آپ کو کھڑا پاتے ہیں اور یہ اسلامی نظریہ حیات کا تقاضا ہے وہ یہ کہ ایک قرآنی آیت نمازیوں کو کھلی دھمکی دے رہی ہے کہ وہ ہلاکت سے دوچار ہوں گے کیونکہ وہ نماز کو صحیح طرح قائم نہیں کررہے۔ بلکہ وہ ایسی حرکات کررہے ہیں جن میں کوئی روح نہیں ہے۔ وہ ان حرکات میں اللہ کے دربار میں حاضر نہیں ہوتے۔ خالص اللہ کے نہیں ہوتے ، بلکہ محض لوگوں کے دکھاوے کے ئے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اس لئے ان کی نماز سے وہ آثار نمودار نہیں ہوتے جو حقیقی نماز سے ہوتے ہیں ، نہ اس ان کے دل پر نماز کا اثر ہوتا ہے ، نہ ان کی عملی دنیا پر وہ اثرانداز ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ نماز ذرہ بےقیمت ہے ، ایک غبار ہے بلکہ نمازی کے لئے یہ نماز ایک وبال وہلاکت ہے۔
ان تصریحات کے بعد ہماری سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آجاتی ہے کہ اللہ لوگوں کے پاس رسول کیوں بھیجتا ہے اور لوگوں سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور بندگی کریں ؟.... اس ساری جدوجہد سے اللہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اس لئے مقصود یہ ہے کہ خود انسانوں کی زندگی سنور جائے ان کی بھلائی مقصود ہے۔ ان کے قلوب پاک ہوں اور زندگی کامیاب ہو ، وہ ان کے لئے ایک ایسی ندگی چاہتا ہے جو پاکیزہ شعور اور اعلیٰ نظریات پر قائم ہو۔ جس کے اندر لوگ ایک دوسرے سے کفیل ہوں جن کی ذہنیت شریفانہ ہو ، جن کے اندر محبت اور بھائی چارہ ہو ، جن کا تصور اور طرز عمل دونوں پاک ہوں۔
اے کاش ! انسانیت اس بھلائی کو چھوڑ کر کدھر جارہی ہے۔ اس رحمت کو چھوڑ کر کہاں بھکٹ رہی ہے اور اس خوبصورت اور حسین و جمیل مقام بلند کو چھوڑ کر کن پستیوں میں گری ہوتی ہے یا کہاں وہ جاہلیت کے پیچیدہ اور تاریک راہوں میں گم گشتہ ہے حالانکہ اس کے سامنے نور ، اسلام کا نور ، مرکزی چوک میں موجود ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ قریش کے اوباش رسول اللہ ﷺ کا ہر وقت پیچھا کرتے تھے۔ آپ کی دعوت کے خلاف سازشوں میں لگے رہتے تھے اور آپ کے ساتھ طنزومزاح کرتے رہتے تھے۔ اس طرح وہ بزعم خود عوام الناس کو آپ کی دعوت حق سننے سے باز رکھتے تھے جو آپ لے کر آئے تھے ۔ ان اوباشوں کے سرخیل عاص ابن وائل ، عقبہ ابن ابو معیط ، ابولہب ، ابوجہل وغیرہ تھے۔ یہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ ” ابتر “ ہیں ، یعنی ان کی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ ان میں بعض نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اسے چھوڑ دو ، اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، جب یہ مرجائے گا تو یہ تحریک خود بخودختم ہوگی۔
عرب معاشرے میں چونکہ نرینہ اولاد کی بہت بڑی اہمیت تھی ، اس لئے ان کے ہاں پروپیگنڈے کی اس سازش کا کافی اثر تھا۔ آپ کے مخالف اور دشمن اس گھٹیا پروپیگنڈے کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور آپ کے قلب مبارک پر اس کا بہرحال اثر ہوتا تھا۔ اس وجہ سے یہ سورت نازل ہوئی کہ آپ کا غبار خاطر چھٹ جائے۔ آپ خوشی اور تازگی محسوس کریں اور آپ کو جو خیر کثیر دے کر بھیجا گیا تھا ، اس کی حقیقت اچھی طرح دلوں میں بیٹھ جائے ، اور یہ سمجھا دیاجائے کہ دراصل ” ابتر “ تو آپ کے دشمن ہیں اور وہ اس انجام تک پہنچنے والے ہیں کہ ان کی جڑ کٹ جائے اور ان کا نام ونشان مٹ جائے۔
انا اعطینک الکوثر (۱:۱۰۸) ” ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا ہے “۔ کوثر کثرت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں بےحدوحساب اور یہ مفہوم اس کے بالکل برعکس ہے جس کو ہر احمق آپ کی طرف منسوب کرتا تھا یعنی ہم نے آپ کو جو کچھ دیا ہے وہ ایک عظیم لامحدود فیض ہے۔ یہ مسلسل جاری رہے گا اور اس کا سلسلہ کٹنے والا نہیں ہے ۔ جو شخص بھی غور کرے کہ وہ فیض کثیر کیا ہے ، جو اللہ نے اپنے نبی کو دیا تو وہ اسے پاسکتا ہے جس طرف بھی وہ نگاہ کرے اسے موجود پائے گا۔
سب سے پہلے آپ کو جو منصب رسالت دیا گیا وہ خیر کثیر ہے ، آپ کا عظیم سچائی سے رابطہ قائم ہوا۔ اس عظیم وجود سے آپ کارابطہ ہوگیا جس کے سوا کوئی موجود نہیں ہے یعنی ذات باری سے اور جس شخص کا تعلق ذات باری سے قائم ہوجائے وہ سب کچھ پالیتا ہے۔
پھر یہ خیر کثیر اس قرآن کی شکل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پورا قرآن نہیں ، اس کی ایک ایک سورت خیر کثیر ہے اور ہر سورت ایک ایسا سرچشمہ ہے جس کے فیوض ختم نہیں ہوتے۔
پھر پورا عالم بالا آپ پر درود وسلام بھیجتا ہے اور ان لوگوں پر بھی درودو سلام بھیجتا ہے جو آپ پر درودوسلام بھیجتے ہیں۔ اس طرح آپ اسم مبارک اس پوری کائنات میں اللہ کے نام کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
پھر آپ کی سنت کی صورت میں بھی خیرکثیر موجود ہے اور یہ سنت اس جہاں کے اطراف واکناف میں زندہ جاوید ہے۔ لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کی سنت پر چل رہے ہیں ، لاکھوں کروڑوں لوگ آپ کے پروانے ہیں اور قیامت تک کروڑوں انسان آپ پر درودوسلام بھیجتے رہیں گے۔
پھر یہ کوثر اس خیر کثیر کی شکل میں بھی موجود ہے جس سے یہ پوری دنیا فیض یاب ہوئی اور پوری انسانی تاریخ میں یہ فیوض جاری ہیں۔ چاہے ان کو اس کا شعور ہو یا نہ ہو ، چاہے وہ ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ لیکن اس سرچشمے کے اثرات ان پر پڑے اور کسی نہ کسی طرح وہ فیض یاب ہوئے۔
غرض یہ کوثر وہ خیر کثیر اور عظیم ہے جس کا شمار ممکن نہیں ہے۔ اور ہم اپنی کم مائیگی کے ساتھ اگر اس کا شمار کریں تو ہم اس کی قدروقیمت کو کم ہی کردیں گے۔
یہ درحقیقت ایک کوثر ہے اور اس کے فیوض کی انتہا نہیں ہے۔ اس کے علوم ومعارف کے لئے حدود وقیود نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اسے کوثر کہہ کر مجمل چھوڑ دیا اور ہر ” خیر “ اس کے دائرہ میں آجاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خیر۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ کوثر ایک نہر ہے جو جنت میں ہے۔ اور یہ حضور ﷺ کو دی گئی ہے تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس بارے میں کہا کہ وہ نہر بھی منجملہ اس خیر کثیر میں سے ہے جو آپ کو دی گئی ہے۔ گویا یہ کوثر الکوثر کا ایک حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی مناسب تطبیق ہے جو اس بارے میں کی جاسکتی ہے۔
فصل لربک وانحر (۲:۱۰۸) ” پس تم اپنے رب ہی کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو “۔ اس خیر کثیر کے موکد تذکرے کے بعد ، جو مکہ میں تحریک اسلامی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں اور دعوت اسلام کے خلاف سازشیں کرنے والوں کے عل یالرغم نبی کریم ﷺ کو عطا کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اس خیرکثیر کے عطا کیے جانے پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کا پہلا شکر یہ ہے کہ انسان بندگی میں اور تمام تقربات میں صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ ہو ، اور صرف اسی کو یاد کرے۔ نماز میں بھی اور قربانی میں بھی۔ نماز بھی خالص اللہ کے لئے ہو اور قربانی بھی خالص اللہ کے لئے ہو۔
فصل لربک وانحر (۲:۱۰۸) ” یعنی اللہ ہی کے لئے نماز پڑھو اور اللہ ہی کے نام کی قربانی کرو “۔ اور شرک کرنے والوں کے شر کی کی کوئی پرواہ نہ کرو ، اور اللہ کی بندگی کرو اور ان کے ساتھ شریک ہوکر کسی اور کی بندگی نہ کرو ، اور اللہ کی قربانی میں اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لو۔
قرآن کریم بار بار اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ تمام ذبیحوں پر صرف اللہ کا نام لو ، اور یہ کہ جن ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، وہ حرام ہیں اور ان کا کھانا حرام ہے اور جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ، ان کا کھانا بھی حرام ہے۔ یہ اس لئے کہ قرآن کریم انسانی زندگی کو ہر قسم کے شرک کے آثار اور شائبوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔ صرف عقیدے سے شرک کو پاک کرنا مقصود اسلام نہیں ہے بلکہ قرآن انسان کی پوری زندگی سے شرک کی نفی کرتا ہے شرک کے تمام معانی اور تمام مفاہیم کے اعتبار سے اس کی نفی کرتا ہے ، اس لئے کہ یہ دین وحدت اور توحید کا دین ہے۔ اور اسکی توحید کا نظریہ ہر پہلو سے مکمل ہے۔ اس لئے یہ دین آخر دم تک شرک کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے تمام مظاہر سے اس کے نشان مٹاتا ہے۔ قرآن کریم اتنے دور تک شرک کا پیچھا کرتا ہے کہ اسے کسی کمین گاہ میں دم لینے نہیں دیتا۔ انسانی نفسیات ، انسانی ضمیر اور انسانی فکر سے اس کا صفایا کرتا ہے۔ اسلامی عبادات سے اسے مٹاتا ہے ۔ انسانی زندگی کے رسم و رواج سے اسے دور کرتا ہے اس لئے کہ زندگی ایک باہم پیوست کل (ایک نظام) ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے اور حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ اس لئے اسلام پوری انسانی زندگی کے شرک کے اثرات کو ختم کرتا ہے اور پوری زندگی کا رخ اللہ وحدہ کی طرف پھیردیتا ہے۔ اور اسے پوری طرح واضح ، صاف اور ستھرا بناتا ہے ، چاہے قربانیوں اور ذبیحوں کا مسئلہ ہو یا عبادات عقائد کا ہو یا رسول وتقالید کا۔
ان شانئک ................ الابتر (۳:۱۰۸) ” تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے “۔ پہلی آیت کا فیصلہ یہ تھا کہ آپ کی جڑ نہیں کٹی بلکہ آپ تو الکوثر کے مالک ہیں ، اور اس آیت میں شکاری اپنے جال میں پھنس جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ ابتر نہیں بلکہ آپ کے دشمنوں کی جڑ کٹ چکی ہے اور جو لوگ آپ کو ناپسند کرتے ہیں ان کا نامونشان مٹ جانے والا ہے۔
اور اللہ کی یہ دھمکی سچی ثابت ہوئی ، ان لوگوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ اس دنیا سے ان کا تذکرہ ہی ختم ہوگیا جبکہ حضرت محمد ﷺ کا نام بلند ہوا اور آپ کے مراتب پڑھتے ہی رہے۔ آج ڈیڑھ ہزار سال کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں کی گئی پیشن گوئی سچی ثابت ہوچکی ہے۔ اور اس آیت کا مصداق آج ایک واضح شکل میں ہمارے سامنے ہے جو ان لوگوں کے سامنے اس قدر واضح نہ تھا جنہوں نے ان آیات کو پہلی مرتبہ سنا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان ، سچائی اور بھلائی کی جڑ کبھی نہیں کٹ سکتی۔ ان چیزوں کی جڑیں تو زمین میں گہری ہوتی ہیں۔ اور شاخیں آسمانوں کی فضا میں دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں بلکہ کفر ، باطل اور شر کی جڑکٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر تروتازہ اور پھلا پھولا نظر آئے۔
اصل بات یہ ہے کہ اللہ کا معیار انسانوں کے معیار سے مختلف ہے۔ انسانوں کی حایت یہ ہے کہ وہ دھوکہ کھاجاتے ہیں ۔ فریب میں آجاتے ہیں اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے معیار دراصل حقائق کا تعین کرتے ہیں۔ اس سورت میں جو مثال دی گئی ہے ، یہ ہمارے لئے ایک دائمی اور لازوال مثال ہے۔ ذرا سوچئے تو سہی ، وہ لوگ کہاں ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں یہ گھٹیا زبان استعمال کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے عوام کو گمراہ کردیا ہے اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ کا دین ختم ہوگیا ہے۔ اس کا راستہ روک لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں ہیں۔ ان کا ذکر کہاں ہے ، ان کے آثار کہاں ہیں ، اس کے مقابلے میں حضرت محمد ﷺ جن کو وہ ابتر کہتے تھے ، ان کو تو ہر پہلو سے حظ وافر دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ دعوت الی اللہ ، سچائی اور بھلائی کی تحریک ختم ہوجائے اور اس کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اور نہ اس تحریک کے داعی ابتر ہوسکتے ہیں اس لئے کہ اس تحریک کا محرک زندہ جاوید ، باقی ، لازوال اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ بلکہ کفر ، باطل اور شر ختم ہونے والے ہیں اور ان کے حاملین کا نشان بھی مٹنے والا ہے۔ اگرچہ کسی مختصر دور کے لئے یہ چیزیں مستحکم اور لازوال نظر آتی ہوں اور ان کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی نظر آتی ہوں۔ یہ ہے سچی بات جو اللہ فرماتا ہے ، اور سازشی اور مکار جو کچھ کہتے تھے وہ جھوٹ تھا اور جھوٹ ہے اور ہمیشہ جھوٹ رہے گا۔
٭٭٭٭٭