Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
فلیس لہ ............ الخاطون
اس بدبخت شخص کے انجام بد کا یہ تکمیلی بیان ہے۔ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ لاتا تھا۔ مساکین کی ضروریات بھی فراہم نہ کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب قیامت میں اس کا کوئی دوست نہیں ہے۔
فلیس ................ حمیم (۹۶ : ۵۳) ” لہٰذا آج یہاں اس کا کوئی غم خوار نہیں ہے “ اور اس کے وہاں کھانے کا انتظام مساکین سے بھی بدتر ہے۔
ولا طعام ............ غسلین (۹۶ : ۶۳) ” زخموں کے دھو ون کے سوا اس کے لئے کوئی کھانا نہیں ہے “۔ غسلین سے مراد اہل جہنم کی پیپ اور زخموں کے پانی اور اس پانی کو کہتے ہیں جو زخموں کے دھونے سے نکلتا ہے۔ ایسے گندہ لوگوں کے لئے ، اب ایسی ہی گندی خوراک موزوں ہے۔ کیونکہ اس شخص کا دل مساکین پر رحم سے خالی تھا۔
لا یا ................ الخاطﺅن (۹۶ : ۷۳) ” جسے خطاکاروں کے سوا اور کوئی نہیں کھاتا “۔ گنہگار ، جن کی فطرت میں یہ گناہ رچے بسے ہوں۔
یہ ہیں وہ وجوہات جن کی وجہ سے یہ شخص پکڑے جانے ، طوق پہنائے جانے ، آگ میں جلائے جانے کا مستحق ہو اور اسے اس قدر طویل بیڑیاں پہنائی گئیں۔ جہنم اور اس کے اندر بیڑیاں ، یہ جہنم کے عذاب کے درجات میں سے شدید درجہ ہے۔ یہ تو اس شخص کی حالت ہے جو مساکین کے طعام پر لوگوں کو ابھارتا نہیں ، لیکن اس ” شخص “ کا عذاب تم خود سوچو جو بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو زندہ رکھتا ہے اور ان کے سر پرستوں کو ناحق سرکشوں اور جباروں کی طرح پکڑتا ہے اور جو ان کے ہاتھ سے لقمے اور کپڑے بھی چھین لیتا ہے اور وہ سخت سردیوں کے اندر ننگے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں۔ ایسے ” ڈکٹیٹر “ کہاں جائیں گے جبکہ وہ زمین میں جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ ذرا سوچ لو ، کہ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کیا ہوگا جبکہ صرف مسکینوں کے کھانے پر لوگوں کو نہ ابھارنے پر یہ شخت سزا رکھی گئی ہے۔
یہ سخت ، اور پرتاثیر منظر اس شدید سورت میں اس لئے لایا گیا کہ یہ ابتدائی ایام کی سورت ہے اور اس وقت عرب سوسائٹی نہایت اجذ اور سخت تھی۔ اور ان کو اسی طرح کے سخت مناظر دکھانے کی ضرورت تھی تاکہ اس سے ذرا خائف ہوجائیں اور اپنی روش میں قدرے نرمی اختیار کریں اور اس شرمندگی سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں اور جب بھی انسانیت اس قسم کے مختلف النوع معاشرتی سطح پر ہوتی ہے ، جس میں ایک طرف اس قسم کے سخت اور اجذ لوگ ہوتے ہیں دوسری طرف ایسے لوگوں کے مقابلے میں نرم خو اور اثر لینے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یعنی جن میں لوگوں کی نفسیاتی حالت مختلف درجات پر ہوتی ہے اس لئے قرآن مجید کے انداز خطاب میں یہ سب لوگ پیش نظر ہوتے ہیں اور دعوت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے مختلف سطح کے لوگ فائدہ اٹھاسکیں ۔ آج بھی بعض علاقوں میں سنگدل لوگ رہتے ہیں۔ ایسے مزاج کے لوگ بھی ہیں جو نہایت ہی سخت اور ان پر ایسے ہی الفاظ اثر انداز ہوسکتی ہے جو شعلہ بار ہوں ، جس طرح اس سورت میں ہیں۔ وہ ایسے ہی مناظر سے ڈرسکتے ہیں جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔
اس قسم کے سخت الفاظ اور سخت مناظر کے زیر سایہ ، جو اس سورت میں مسلسل چلے آرہے ہیں جن میں وہ مناظر بھی ہیں کہ لوگوں کو اس دنیا میں عذاب الٰہی میں گرفتار بتایا گیا ہے اور وہ مناظر بھی ہیں جن میں یہ پوری کائنات اڑتی دکھائی گئی ہے۔ پھر قیامت کے مناظر جہاں تمام انسانوں کو ننگا دکھایا گیا ہے اور وہ مناظر جن میں لوگ خوشی کے مارے اڑتے بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان تمام مناظر کے بعد اب ایک نہایت ہی سنجیدہ ، فیصہ کن اور دو ٹوک بات آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو بات کررہے ہیں ، اس کی حقیقت کیا ہے۔ جبکہ یہ لوگ اس میں شک کرتے ہیں۔ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور تکذیب کرتے ہیں۔
فلا اقسم۔۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ رب العالمین۔
یہ معاملہ بہت ہی واضح ہے اور اس پر کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور عقلی لحاظ سے ثابت ہے اور ایک واقعہ ہے اور اس پر کوئی قسم اٹھانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ یہ حق ہے ، حق کی طرف سے نازل شدہ ہے ، نہ شعروشاعری ہے نہ کسی کاہن کی کہانت اور بڑ ہے نہ کسی افتراء پرداز کی افتراء ہے۔ لہٰذا قسم کی ضرورت نہیں ہے۔
فلا ................ تبصرون (۹۶ : ۸۳) وما لا تبصرون (۹۶ : ۹۳) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔
یہ قسم بہت عظیم ہے۔ اس کائنات ، عظیم کائنات کی قسم ہے جو تم دیکھتے ہو اور اس عظیم کائنات کی قسم ہے جو نظر نہیں آتی۔ یہ کائنات انسان کے مشاہدے سے بہت زیادہ عظیم ہے بلکہ یہ اس سے بھی بہت بڑی ہے جس قدر انسان ادراک کرسکتا ہے۔ انسان اس کائنات کے نہایت ہی تھوڑے حصے کا ادراک کرسکتا ہے اور بہت ہی تھوڑے حصے کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ اللہ نے انسان کو اسی قدر طاقت دی ہے جس قدر انسان کو ضرورت ہے۔ اس زمین میں رہنے ، اس کو ترقی دینے اور یہاں اللہ کا نائب اور خلیفہ ہونے کے لئے جس قدر ضرورت ہے ورنہ اگر پوری زمین کا مقابلہ پوری کائنات سے کیا جائے تو یہ ایک چھوٹا سا ذرہ ہے جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کائنات کے دوسرے سرے سے نظر آئے۔ اس عظیم کائنات الٰہیہ میں سے انسانوں کو نہایت ہی محدود حصے کی بصیرت و بصارت کی قدرت دی گئی ہے۔ انسان اس کے اسرار و رموز اور حالات اور قوانین قدرت کا بہت ہی تھوڑا ساحصہ ابھی تک معلوم کرسکا ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ ہے جسے انسان نہیں دیکھ پارہا ہے۔
فلا .................... لا تبصرون (۹۶ : ۹۳) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔
یہ اشارہ انسانی دل و دماغ کو بہت کھول دینے والا ہے۔ جب انسان یہ پاتا ہے کہ انسانی فکر ونظر کے موجودہ دائرے سے وراء بھی کچھ پہلو ہیں۔ کچھ جہاں اور بھی ہیں ، کچھ اسرارہ رموز پوشیدہ بھی ہیں ، جو ابھی انسان کو نظر نہیں آرہے ، تو اس طرح انسانی تصور اور انسانی ادراک کے دائرے کو وسعت ملتی ہے۔ اس کائنات کے آفاق وسیع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس قرآن میں رہنے اور بسنے والا انسان اس محدود جگہ (Space) کا پابند نہیں ہوتا جس میں وہ رہتا ہے۔ نہ وہ اپنی آنکھوں کے محدود مشاہدے کا قیدی بنتا ہے ، نہ اپنی موجودہ محدود ادراک پر اکتفاء کرتا ہے۔ یہ کائنات ہمارے مشاہدے سے زیادہ وسیع اور یہ حقیقت ہماری قوت ادراک سے بڑی ہے۔ کیونکہ اس محدود انسان کو جو محدود مشاہدہ اور قوت مدرکہ دی گئی ہے ، وہ اس دنیا پر اس کی محدود ضروریات کے لئے دی گئی ہے۔ ہاں وہ اپنے مشاہدے اور قوت مدرکہ کو وسعت دے سکتا ہے۔ اور اپنی ان محدود قوتوں کو بھی وسعت دے سکتا ہے لیکن وہ یہ بھی اس وقت کرسکتا ہے کہ جب اس کو احساس ہو کہ کچھ حقائق اور جہاں اور بھی ہیں ، جن تک ابھی ہماری رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اور پس پردہ ان جہانوں سے زیادہ وسیع جہاں ہیں جن تک ہماری رسائی ہوگئی ہے۔ یہاں آکر انسان کا رابطہ اس ذات مطلق سے پیدا ہوجاتا ہے۔ جو انسان کو نور بخشتی ہے اور اس سے براہ راست تعلق پاکر انسان پھر دوسرے جہانوں کی سیر کرتا ہے ، جو بظاہر مستور ہیں۔
وہ لوگ جو اپنے آپ کو ان حقائق کے اندر محدود کرتے ہیں جن کو آنکھ دیکھ سکتی ہے ، یا جن کو ہماری قوت مدرکہ پاسکتی ہے ، یہ لوگ دراصل مساکین ہیں۔ درحقیقت اس قسم کے لوگ اپنے نہایت محدود محسوسات اور مدرکات کے قیدی ہیں۔ یہ لوگ اس وسیع دنیا میں رہتے تو ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ کو کنویں کا مینڈک بنادیا ہے جب کہ انسان کو ایک عظیم کائنات کے اندر بھیجا گیا ہے تاکہ اسے دیکھے اور عبرت لے۔
اس کائنات کے اندر اور اس زمین کے اوپر رہنے والے ، اس انسان کی تاریخ میں ، بارہا ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو ، اس طرح کنویں کا مینڈک بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے اوپر معرفت اور روشنی کے دروازے بند کیے ہیں۔ اور ایمان اور شعور کے راستے سے حقیقت کبریٰ تک پہنچنے سے اپنے آپ کو محروم کیا ہے۔ پھر وہ یہ کوشش بھی کرنے لگتے ہیں کہ روشنی کے یہ دروازے ، جس طرح انہوں نے اپنے اوپر بند کیے ، دوسروں پر بھی بند کردیں۔ کبھی وہ جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں اور کبھی وہ لادینیت کے نام سے ایسا کرتے رہے ہیں۔ جاہلیت اور جدید علمی جاہلیت دونوں دراصل ایک بڑے قید خانے ہیں جن کے اندر ان لوگوں نے اپنے آپ کو محصور کرلیا ہے اور معرفت اور روشنی کے حقیقی سرچشموں سے اپنے آپ کو محروم کردیا ہے۔
گزشتہ دو سوسالوں کے اندر ، مغربی سائنس نے اپنے غرور اور حماقت کی وجہ سے ، اپنے آپ کو ، ان مضبوط سلاخوں کے پیچھے بند کردیا تھا۔ لیکن اس صدی میں ، خود مغربی سائنس نے آہستہ آہستہ ان مضبوط سلاخوں کو توڑنا شروع کردیا ہے اور خود اپنے تجربات کو نور کے سرچشموں سے جوڑنا شروع کردیا۔ یہ اس وقت ممکن ہوا جب سائنس کا جوش و غرور ٹھنڈا ہوا اور وہ کلیسا کی حماقتوں اور اس کے خلاف جوش انتقام کی مدہوشی سے باہر نکل آئی ہے۔ (انسان ، مادیت اور اسلام کے درمیان۔ محمد قطب)
اور سائنس نے معلوم کرلیا کہ اس کائنات کے اندر اس کے حدود کار ہی محدود ہیں اور اس نے تجربہ کرلیا کہ یہ محدود آلات جن کے ذریعے وہ اس کائنات کا مشاہدہ کررہی ہے ، وہ تو اسے کسی لامحدود کائنات کی طرف لے جارہے ہیں۔ چناچہ سائنس نے ایمان کی دعوت دینا شروع کردی ہے۔ (سائنس کی طرف سے دعوت ایمان۔ ترجمہ محمود فلکی۔ تصنیف اے۔ گریسی )
نہایت عاجزانہ انداز میں سائنس نے خوشخبری دی اور اعلان کیا کہ اب وہ اس قید خانے سے رہا ہوگئی ہے۔ جب بھی انسانیت نے اپنے آپ کو مادیت کی سلاخوں کے پیچھے بند کیا۔ اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا۔
ڈاکٹر بلیکس کاریل ، جنہوں نے خلیہ پر تحقیقات میں تخصص حاصل کیا۔ اور جنہوں نے خون کی گردش کے نظام پر کام کیا اور عملاً پریکٹس بھی کرتے رہے۔ اور انہوں نے کئی اداروں کی سرجری اور مختلف طریقہ ہائے علاج پر کام کیا۔ اور جن کو ۲۱۹۱ میں نوبل انعام ملا اور دوسری عالمگیر جنگ کے دوران میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیومنزم فرانس کے ڈائریکٹر رہے ، وہ لکھتے ہیں :
” یہ کائنات بہ توسیع ہے ، اور اس کے اندر ہمارے انسانی عقول کے علاوہ بھی کئی فعال عقل کام کرتی ہیں۔ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی وادیوں کے نشیب و فراز میں انسانی عقل جب چاہے ، ان عقول سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ نماز ان ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان عقول تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم اس ابدی عقل سے جاملتے ہیں جس کا کنٹرول اس کائنات کی تمام تقدیروں پر ہے۔ چاہے یہ تقدیرات ہمیں نظر آرہی ہوں یا ہماری نظروں سے اوجھل ہوں۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد)
” تقدس کا یہ شعور اور دوسریروحانی سرگرمیاں انسانی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ تقدس کے اس شعور اور روحانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہم ، اس عظیم روحانی دنیا سے متصل رہتے ہیں جس کے آفاق بہت ہی وسیع ہیں اور جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد)
ایک دوسرے ڈاکٹر ذی نوئے ہیں۔ انہوں نے استاد کو ری اور ان کی بیوی کے ساتھ مل کر تشریح الابدان اور طبیعیات کے میدان میں کام کیا۔ اور راکفیلر انسٹی ٹیوٹ نے ان کو اپنے ادارے کے دوسرے ممبران کے ساتھ سرجری اور اس کی خصوصیات کے موضوع پر تحقیقات کے لئے بلایا۔ وہ فرماتے ہیں :
” کئی ذہین اور نیک نیت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں لاسکتے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کا تصور یا ادراک نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ایک دیانت دار انسان جو اپنے نفس کو علمی تحقیقات میں لگائے رکھتا ہے ، اس پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اللہ کا تصور بھی کرسکے۔ جس طرح ایک ماہر طبیعیات پر لازم نہیں ہے کہ وہ بجلی کا تصور کرسکے۔ جس طرح خدا کا تصور انسان ناقص ہوگا ، اسی طرح بجلی کا تصور بھی ناقص ہوگا اور باطل ہوگا۔ اس لئے کہ بجلی کا مادی تصور ممکن ہی نہیں ہے۔ بجلی ناقابل تصور ہونے کے باوجود ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور یہ لکڑی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ ثابت شدہ ہے جس کا تصور کیا جاسکتا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے عقائد ۔ استاد عناد)
سرآرتھرٹامسن ، اسکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف ہیں ، کہتے ہیں : ” ہم ایک ایسے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں کہ اس میں یہ حقیقت ٹھوس اور شفاف بن گئی ہے۔ ایتھر نے اپنا مادی وجود کھو دیا ہے۔ مادی تاویلات میں غلو کرنے کی صلاحیت کے معاملے میں وہ حدیث العبد ہے۔
ایک مجموعہ مضامین بعنوان ” سائنس اور مذہب “ میں کہتے ہیں :
” دینیات کے اہل علم کو اس بات پر تاسف نہیں کرنا چاہئے کہ ایک ماہر طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر رب طبیعیات تک کیوں نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنسی تحقیقات کا رخ الہیاتی نہیں ہے۔ لیکن اگر علمائے طبیعیات ، طبیعیات کے دائرے سے نکل کر مافوق الطبیعیات میں داخل ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت ہی عظیم ہوں گے۔ آج تک کی تحقیقات کے بعد ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ ہم اس پر خوشی کا اظہار کریں کہ سائنس دانوں نے اس سمت کام کرنے کی راہ فراہم کردی ہے کہ اب دینی جذبات سائنس میں سانس لے سکیں جبکہ ہمارے آباﺅ اجداد کے زمانے میں ، یہ ممکن نہ تھا کہ سائنس کے مضامین میں مذہب کی بات کی جاسکے۔ جس طرح مسٹر لانچڑوں ڈیفیس نے اپنی کتاب میں ، جو یہ غلط دعویٰ کیا تھا ، اس کے بالمقابل اب ہم یہ بات نہایت زور اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ سائنس نے اللہ تعالیٰ کے نہایت ہی اعلیٰ اور نہایت بلند مرتبہ تصور کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ اور اب ہم اس قول کا لفظی مفہوم درست سمجھتے ہیں کہ سائنس نے انسانوں کے لئے جدید آسمان اور جدید زمین ، پیدا کردیئے ہیں اور انسان کو عقل جدوجہد میں اس قدر آگے بڑھادیا کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو امن وسلامتی صرف اس صورت میں ملے گی کہ وہ اللہ کی ذات پر یقین کرلے “۔ (دور جدید کے مفکرین کے عقائد۔ استاد عناد)
اس سے قبل ہم اے ۔ گریسی مور سن ، صدر سائنس اکیڈمی نیویارک اور امریکہ میں قومی تحقیقات کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر کی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرچکے ہیں۔ کتاب کا نام ہے ” انسان اکیلا نہیں کھڑا “۔
” ہم عملاً ایک وسیع عالم مجہول کے قریب جاپہنچے ہیں۔ کیونکہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ مادہ دراصل عالمی دور کا ایک مظہور ہے۔ اور یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قوت ہے۔ لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے میں کسی بخت واتفاق کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ محیرالعقول عظیم کائنات ایک ضابطے کی پابند ہے “۔
” یہ کہ یہ انسان ایک حیوان تھا جو ایک ایسے ” موجود “ کی شکل اختیار کر گیا جو باشعور ، مفکر ، اپنے وجود کو جاننے والا بن گیا ، یہ بات درست نہیں کہ یہ انسان محض مادی عوامل کی وجہ سے ایسا بن گیا اور اس کے پیچھے کسی تخلیق کرنے والے کا قصدوارادہ نہ تھا ، یہ کوئی ممکن بات نہیں ہے “۔
” اگر قصدوارادے کو تسلیم کیا جائے تو اس کے مطابق پھر انسان ایک مشین ہوگا تو سوال یہ ہوگا کہ اس مشین کو کون چلارہا ہے ، کیونکہ چلانے کے بغیر اس سے کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔ سائنس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ انسانی مشین کا مدیر کون ہے اور پھر سائنس یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ارادہ کوئی مادی چیز ہے “۔
” ہم اس مقام تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ نے اپنے نور کا ایک حصہ انسان کو عطا کیا ہے “۔
یوں نظر آتا ہے کہ سائنس اب مادیت کے قید خانے سے اس کی سلاخیں توڑ کر اور دیواریں گرا کر باہر نکل آئی ہے۔ اور وہ اب کھلی فضا میں آزادانہ غوروفکر کرتی ہے۔ جس طرح قرآن نے فرمایا :
فلا .................... لا تبصرون (۹۶ : ۹۳) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے “۔
یہ اور اس قسم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اگرچہ بعض ” کیڑے “ سوچنے والے ” کیڑے “ ابھی تک سائنس کے نام پر اپنے اوپر رب تعالیٰ کے نور کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دراصل نہ سائنس دان ہیں اور نہ مومن۔ یہ جس طرح سائنس کے میدان میں پسماندہ ہیں ، اسی طرح دین کے میدان میں پسماندہ ہیں۔ اور لاشعوری طور پر یہ مادیت کے قید خانے میں مبتلا ہیں۔ اور اس مقام اور مرتبے سے پیچھے رہ گئے ہیں جو انسان جیسے مکرم مخلوق کے لائق ہے۔
ذرا دوبارہ غور کریں :
فلا افسم .................... رب العلمین (۱۴) (۹۶ : ۸۳ تا ۳۴) ” پس ، میں قسم نہیں کھاتا ہوں اور چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو اور ان کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ، یہ ایک رسول کریم کا قول ہے ، کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔ اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے “۔
رسول اللہ پر اور قرآن پر جو الزامات مشرکین مکہ نے لگائے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ شاعر ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ آپ کاہن ہیں اور یہ ان کا ایک سطحی شبہ تھا۔ اور یہ اس لئے ان کو لاحق ہوگیا تھا کہ یہ قرآن ایک لاجواب کلام تھا۔ اور عام لوگوں کے کلام سے اس کا معیار بہت بلند تھا۔ اور شاعر اس لئے کہتے تھے کہ ان کا یہ وہم تھا کہ شاعروں پر جن آتے ہیں اور وہ ان سے اس قسم کا کلام سنا کرتے ہیں۔ اسی طرح کاہنوں کو بھی وہ جنوں کے ساتھ تعلقات رکھنے والے سمجھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ باتیں ان کو یہ جنات بتاتے ہیں۔ یہ شبہ بہت ہی سطحی تھا اور قرآن اور رسالت اور ذات رسول پر تدبر کرنے سے یہ جلدی ہی زائل ہوسکتا تھا۔
یہ درست ہے کہ شعر میں بعض اوقات اچھی موسیقی ہوتی ہے ، اعلیٰ خیالات ہوتے ہیں ، خوبصورتی ہوتی ہے لیکن قرآن اور شاعری بالکل جدا چیزیں ہیں۔ دونوں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔ قرآن کریم ایک مکمل نظام زندگی عطا کرتا ہے اور یہ نظام سچائی پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد نظریہ توحید پر مبنی ہے۔ یہ اس کائنات کے ایک خالق پر ایمان کو ضروری سمجھتا ہے۔ وہ انسانوں کی طرح اس کائنات کو ھبی زندہ اور مطیع رب سمجھتا ہے۔ جبکہ شعر چند تاثرات ، جذبات ، متفرق واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا نظام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نہ ایک نظریہ پر مبنی ہوتا ہے ، جو خوشی اور غم ، آزادی اور قید اور محبت اور نفرت میں ایک ہو ، جبکہ شعر ان حالات میں یکسر بدل جاتا ہے اور مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں یہ قرآن کریم نے جو تصور حیات پیش کیا ہے اس کی پہلی اینٹ بھی اسلام اور قرآن نے رکھی ہے۔ اس کے جزئیات ، اس کے اصول بھی ، سب کے سب قرآن نے دیئے اور اس عقیدے کے ساتھ دیئے کہ یہ سب من جانب اللہ ہے۔ اس تصور حیات کا منہاج ہی ایسا ہوتا ہے جو انسانی نہیں ہوسکتا۔ انسان کوئی ایسا جامع نظام اور تصور تجویز نہیں کرسکتا ، جس کی نہ پہلے کوئی مثال ہے اور نہ بعد میں۔ اس کے مقابلے میں انسانوں نے اس کائنات ، اس کی قوت خالقہ اور قوت مدبرہ کے بارے میں جو فلسفے گھڑے ہیں ، وہ بھی ہمارے سامنے موجود ہیں جو علم فلسفہ ، علم شعر ، دوسرے فکری اور نظریاتی مکاتب میں تفصیل سے کتابوں میں موجود ہیں۔ جب ان کا تقابلی مطالعہ قرآن سے کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن بالکل کسی علیحدہ سرچشمے کا فیض ہے۔ یہ منفرد مزاج اور منفرد خصوصیات رکھتا ہے اور اس کے مقابلے میں انسانی تصورات پائے چوبیں کی طرح ہیں۔
اس طرح کہانت اور کاہنوں سے جو باتیں صادر ہوتی رہتی ہیں ، آج تک انسانی تاریخ میں کوئی کاہن ایسا نہیں گزرا جس نے ایک نظام زندگی ، فلسفہ زندگی اور نظام آخرت دیا ہو اور وہ اسی طرح کامل ، مکمل اور معقول ہو ، جس طرح قرآن کا پیش کردہ نظام معقول ہے۔ کاہنوں سے جو کچھ نقل ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ چند مہمل کلمات ، چند سجع اور قافیے جن میں تیر تکے لڑائے گئے ہیں اور ایک آدھ کہیں ، کوئی سنی سنائی حکمت کی بات بھی ہوتی ہوگی۔
لیکن قرآن کے اندر بعض ایسی جھلکیاں بھی ہیں جن پر غور کرنے سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کبھی اس طرح سوچ ہی نہیں سکتا۔ ہم نے فی ظلال القرآن میں ایسی بعض جھلکیاں دکھائی ہیں کہ نہ قرآن سے پہلے اور نہ بعد میں انسانوں کا ذہن کبھی اس طرف گیا ہے۔ بعض آیات یہاں بھی غور کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔
وعندہ .................... کتب مبین (۶ : ۹۵) ” اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحروبر میں جو کچھ ہے ، سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں ہوگا جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے “۔
مثلا یہ تصور :
یعلم مایلج ........................ تعملون بصیر (۷۵ : ۴) ” اس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے ، اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے ، اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے ، اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے ، جہاں بھی تم ہو اور جو کام بھی تم کرتے ہو وہ اسے دیکھ رہا ہے “۔ یا مثلاً اس قسم کے خیال کی طرف۔
وما تحمل ........................ اللہ یسیر (۵۳ : ۱۱) ” کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ اللہ کے لئے یہ بہت کچھ آسان کام ہے “۔
نیزنہ پہلے کسی انسان کو اس بات کا دھیان ہوا ، اور نہ بعد میں ہوگا کہ اللہ نے اس کائنات کو کس طرح تھام رکھا ہے۔
ان اللہ .................... من بعد (۵۳ : ۱۴) ” حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی دوسراتھامنے والا نہیں ہے “۔
یا پھر یہ منظر کہ اس کائنات میں زندگی کس طرح پھوٹتی ہے اور خالق کائنات نے یہاں زندگی کے قیام کے لئے کس قدر انتظامات کیے ہیں اور موافق حالات بنائے ہیں :
ان اللہ فالق .................................... یومنون (۹۹) (۶ : ۹۹) ” دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ وہی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے ، اور وہی مردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے۔ یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے۔ پھر تم کدھر بہکے جارہے ہو ؟ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سورج کے طلوع اور غروب کا حساب مقرر کیا ہے۔ یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے ایک جان سکے تم کو پیدا کیا ، پھر ہر ایک کے لئے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سوپنے جانے کی جگہ ہے۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی۔ پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے۔ پھر ان سے تہہ بہ تہہ جڑے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں۔ اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جدا جدا بھی۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو۔ ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔
اس قسم کی جھلکیاں قرآن میں بہت زیادہ ہیں ، اور انسانی خیالات اور اسالیب کلام میں اس قسم کی باتیں نہیں ہوتیں۔ قرآن کے صرف یہی پہلو ، اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ یہ قرآن منجانب اللہ ہے۔ دوسرے دلائل سے اگر صرف نظر کردیاجائے جو خود اس کتاب کے اندر بھی ہیں اور ان حالات کے اندر بھی جن میں یہ کتاب نازل ہوئی تو اس کتاب کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں جن کی طرف انسان خیال جاتا ہی نہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے یہ شبہات سطحی ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا ، جس وقت قرآن کی چند سورتیں نازل ہوئی تھیں۔ پورا قرآن ابھی مکمل نہ ہوا تھا۔ اس وقت بھی قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت موجود تھی۔ اس کے اندر واضح اشارات تھے کہ اس کا سرچشمہ زمین پر نہیں ہے ، آسمان پر ہے۔
کبراء قریش اپنے دلوں میں یہ بات محسوس بھی کرتے تھے اور کبھی کبھار اپنے درمیان اس کا اعتراف بھی کرتے تھے۔ لیکن مفادات انسان کو اندھا کردیتے ہیں ، جن کے پیش نظر انسان ہدایت کی راہ پر آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے حالات کے بارے میں قرآن نے پیشگی کہہ دیا تھا کہ اب وہ اس قسم کے الزامات لگائیں گے کہ یہ ایک قدیم جھوٹ ہے۔
کتب سیرت میں متعدد واقعات نقل ہوئے ہیں کہ زعمائے قریش جب اپنے ہاں اس شب ہے کے بارے میں باتیں کرتے تھے تو وہ خود تسلیم کرتے تھے کہ ان کی یہ بات غلط ہے۔
ابن اسحاق نے والید ابن مغیرہ اور نضر ابن الحارث اور عتبہ ابن ربیعہ کے متعلق یہ روایت نقل کی ہے۔ ان میں سے پہلے شخص کے بارے میں اس نے نقل کیا ہے۔
” پھر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ لوگ جمع ہوئے۔ یہ ان میں معمر آدمی تھا ، اور موسم حج کا موسم آنے والا ہے۔ اور اس میں تمام عالم عرب سے وفود تمہارے پاس آئیں گے اور تمام عربوں نے تمہارے اس شخص کے بارے میں خبریں سن رکھی ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں اپنی آراء مجتمع کرلو اور ایک ہی بات کرو ، اور اس کے بارے میں باہم متضاد باتیں نہ کرو کہ خود تمہاری باتیں ایک دوسرے کو جھٹلادیں۔ اور تم خود اپنی تردید کرو۔ انہوں نے کہا ابو عبدالشمس سب سے پہلے تم ہی بتاﺅ اور ہمارے لئے ایک بات طے کردو ہم وہی کریں گے۔ اس نے کہا پہلے تم بتاﺅ کہ تمہاری آراء کیا ہیں ؟ بعض نے کہا کہ ہم کہیں گے کہ یہ کاہن ہے۔ اس نے کہا یہ تو نہیں ، خدا کی قسم ! یہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہن کو دیکھا ہے۔ اس کا کلام کاہنوں کی گنگناہٹ سے مختلف ہے۔ نہ کاہنوں جیسا سجع ہے ، اس میں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ کہیں گے کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس نے کہا مجنون بھی تو وہ نہیں ہے۔ ہم نے پاگلوں کو دیکھا ہے اور پاگلوں کو جانتے ہیں۔ نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ اسے کوئی ہم ہوا ہے ، نہ وسوسہ میں گرفتار ہے وہ۔ تو بعض نے کہا تو پھر اسے شاعر کہا جائے۔ تو اس نے کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ ہم سب لوگ شعراء کو جانتی ہیں۔ اقسام شعر میں رجز ، ھزج ، قریض ، مقبوضہ ، مبسوط ، لہٰذا قرآن تو ان میں سے نہیں ہے۔ تو اس کے بعد کہا کہ پھر اسے ساحر اور جادوگر کہا جائے۔ تو اس نے کہا یہ تو جادو گر بھی نہیں ہے۔ جادوگروں کو ہم نے دیکھا ہوا ہے نہ یہ جادوگروں کی طرح پھونکتا ہے اور نہ یہ گانٹھیں باندھتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا : عبدالشمس تم ہب بتاﺅ کہ پھر ہم اسے کیا کہیں ؟ اس نے کہا :” خدا کی قسم اس کے کلام میں زبردست مٹھاس ہے ، اس کی جڑیں نہایت گہری ہیں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور اس کی شاخوں میں پھل ہیں۔ تم ان باتوں میں سے جو بھی کہو گے عام آدمی کو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹ ہے۔ اور قریب ترین بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک جادو گر ہے۔ ایسا جادو لایا ہے کہ بیٹے کو باپ سے جدا کردیا ہے ، بہن کو بھائی سے الگ کردیا ہے ، خاوند کو بیوی سے جدا کردیا ہے۔ ایک شخص کو خاندان سے جدا کردیا ہے۔ وہ اس سے باتیں لے کر نکلے اور مکہ کی راہوں میں بیٹھ گئے۔ جب موسم حج میں لوگ آنے لگے تو جو بھی آتا وہ اس سے حضرت محمد ﷺ کی بات کرتے اور لوگوں کو ان سے ڈراتے۔
اور نضر ابن الحارث کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے کہا : ” اے قوم قریش ! خدا کی قسم تم پر ایک ایسی مصیبت آپڑی ہے جس کا کوئی علاج تمہارے پاس نہیں ہے۔ محمد تم میں ایک چھوٹا سا نو عمر بچہ تھا ، وہ تم میں سب کا محبوب تھا ، وہ تم میں سب سے سچا تھا ، وہ تم میں سب سے زیادہ امین تھا ، جب تم نے اس کے چہرے پر بڑھاپا دیکھا اور وہ بات تمہارے پاس لے کر آیا جو وہ لے کر آیا تو تم نے کہا یہ جادوگر ہے۔ نہیں خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، وہ جادوگر نہیں ہے۔ ہم نے جادوگروں کو دیکھا ہے۔ ان کی پھونک اور ان کی گانٹھوں کو بھی دیکھا۔ تم نے کہا کہ وہ کاہن ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! وہ کاہن نہیں ہے۔ ہم نے کاہنوں کو دیکھا ہے۔ ان کے خلجانات کو بھی دیکھا ہے۔ ان کا مسجع کلام بھی سنا ہے تم کہتے ہو وہ شاعر ہے۔ نہیں ، خدا کی قسم ! ایسا نہیں ، وہ شاعر نہیں ہے۔ ہم نے شعراء دیکھے ہیں اور شعراء کے اصناف شعر سے بھی ہم وقف ہیں۔ رجز ، ھزج وغیرہ۔ تم کہتے ہو کہ وہ مجنوں ہے۔ ہم نے مجنونوں کو دیکھا ہے ، نہ اس پر دورے پڑتے ہیں ، نہ وہ وسوسوں کا شکار ہے اور نہ اس کی باتیں غلط سلط ہیں۔ اے گروہ قریش ! اپنے اس معاملے میں غور کرو ، خدا کی قسم ! میں سمجھتا ہوں تم پر ایک عظیم مصیبت آگئی ہے ....“
اس کی باتوں میں اور عتبہ کی باتوں میں پوری طرح یکسانیت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ، جو کبھی عتبہ کی طرف منسوب ہوگیا ہو اور کبھی نضر کی طرف۔ لیکن ، یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں نے ایک ہی طرح کی بات کی ہو۔ کیونکہ دونوں قریش کے اکابر میں سے تھے۔ اور ان کے تاثرات قرآن کے بارے میں ایک ہی جیسے تھے۔
عتبہ کا جو موقف تھا اس کا قصہ اس سے قبل ہم نے سورة قلم کے ابتدائیہ میں بیان کردیا ہے۔ یہ موقف بھی حضور اکرم اور قرآن کے بارے میں ولید اور نضر کے قریب قریب تھا۔
غرض یہ لوگ جو الزام لگاتے تھے کہ آپ ساحر ہیں یاکاہن ہیں ، کبھی تو یہ بطور عیاری ومکاری یوں کہتے تھے اور کبھی وہ محض مغالطہ انگیزی کے لئے کررہے تھے۔ اور اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ قرآن مجید بذات خود اس قدر واضح تھا کہ سنتے ہی لوگ اسے سمجھ لیتے تھے۔ اس لئے وہ قسم کا محتاج ہی نہ تھا کہ خدا ان چیزوں کی قسم اٹھائے جو معلوم ہویں اور جو معلوم نہیں ہیں۔ (سید قطب کے نزدیک آیات کے معنی یہ ہوں گے میں قسم نہیں اٹھاتا۔ لیکن ہندوستانی علماء کا ترجمہ درست ہے کہ (پس نہیں ، میں قسم اٹھاتا ہوں) ۔
بیشک یہ رسول کریم ﷺ کا قول ہے یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے۔ اور نہ کاہن کا کلام ہے۔ یہ تو رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
یہاں جو یہ کہا گیا کہ یہ رسول کریم کا قول ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کلام تخلیق کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے طرز کا کلام ہے۔ شاعر اور کاہن ایسا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ ایسا کلام ایک رسول ہی پیش کرسکتا ہے۔ اللہ نے بھیجا اور اس کی طرف یہ نازل کیا اسی لئے بعدہ متصلا کہہ دیا گیا۔
تنزیل من رب العلمین (۹۶ : ۳۴) ” یہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے “۔
اور یہ تعقیبات۔
قلیلاً ما تومنون (۹۶ : ۲۴) ” تم کم ایمان لاتے ہو “۔
قلیلا ما تذکرون (۹۶ : ۲۴) ” تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو “۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایمان نہیں لاتے ، اور تم نصیحت نہیں حاصل کرتے ۔ یہ انداز تعبیر مکمل نفی کے لئے عربی زبان میں عام تھا کہ مکمل نفی کو قلیل کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں آتا کہ حضور ﷺ (قلیل اللغو) تھے یعنی بالکل لغویات نہ کرتے تھے۔ یہاں مراد مکمل نفی ہے۔ ورنہ اگر کسی کا قلیل ایمان بھی ہو ، اور کوئی قلیل نصیحت بھی قرآن سے لیتا ہو ، وہ رسول اللہ کو شاعر ، کاہن نہیں کہہ سکتا بلکہ ایک کافر اور غافل ہی حضور ﷺ کے بارے میں ایسی بات کرسکتا ہے۔
اور آخر میں یہ خوفناک ڈراوا آتا ہے کہ جو بھی عقیدے کے بارے میں اللہ پر افتراء باندھے گا وہ اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ اور یہ تہدید اس ایک احتمال کی نفی بھی کردیتی ہے جو رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے یہ اپنی طرف سے بنایا ہو۔ تو اللہ فرماتا ہے کہ آپ سچے ہیں اگر ہم پر وہ کوئی افتراء باندھتے تو ہم اسے سختی سے پکڑتے ہیں۔ اسلامی عقائد میں جو قلیل تحریف بھی کرتا ہے ، وہ پکڑا جاتا ہے۔
ولو تقول .................... حجزین
ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد ﷺ کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔
اب آخری اختتامیہ آتا ہے۔ اس میں فیصلہ کن بات بیان کردی جاتی ہے اس دین کی حقیقت کیا ہے ؟
وانہ .................... لحق الیقین
” یہ قرآن صرف ان دلوں کو نصیحت دے سکتا ہے جن کے اندر جو ابدہی کا کسی قدر خوف ہو یعنی جس حقیقت کو قرآن لے کر آیا ہے ، وہ ان کے دلوں کے اندر موجود ہو۔ اور قرآن ان کو یاد دلائے کہ اسے بھی یاد کرو ، اور دلوں کو اس پر ابھارے۔ رہے وہ لوگ جو سرے سے ڈرتے ہی نہیں تو ان کے دل غافل اور اندھے ہیں ، مسخ شدہ ہیں۔ وہ نور معرفت اور نصیحت سے محروم ہیں اور نہ قرآن ان کے لئے مفید ہے۔
وانا .................... مکذبین (۹۶ : ۹۴) ” اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں “۔ لیکن بعض لوگوں کے جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدل جاتی ۔ اس طرح تمہارا یہ فعل حقائق کو نہیں بدل سکتا۔
وانہ .................... الکفرین (۹۶ : ۰۵) ” ایسے کافروں کے لئے یہ یقینا موجب حسرت ہے “۔ اس لئے کہ یہ قرآن اہل ایمان کی تو شان بلند کرتا ہے جبکہ تکذیب کرنے والوں کی حیثیت کو گراتا ہے اور آخر کار تو حق نے غالب ہونا ہے۔ اور مکذبین نے ذلیل ہونا ہے۔ عنقریب ایسا ہوگا اور پھر ان کے لئے یہ موجب حسرت ہوگا اور قیامت کے دن بھی ان پر یہ حجت ہوگا اور موجب حسرت ہوگا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے موجب حسرت ہوگا۔
وانہ ............ الیقین (۹۶ : ۱۵) ” اور یہ بالکل یقینی حق ہے “۔ جھٹلانے والوں کے جھٹلانے کے باوجود یہ حق ہے۔ یقینی ہے۔ صرف یقینی نہیں بلکہ حق الیقین ہے۔ حق الیقین ایک خاص انداز کی تاکید ہے جو لفظاً بھی زور دار ہے اور معناً بھی تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سچائی میں یہ گہرا ہے۔ یقین میں نہایت گہرا ہے اور جو کچھ اس میں بیان ہوا ہے یہ حق اور سچائی ہے۔ ایک ایک آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے۔
یہ ہے اس دین کا مزاج اور طبیعت اور یقینی نتیجہ۔ نہ یہ شاعری ہے نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے۔ نہ یہ اللہ پر افتراء ہے۔ بلکہ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یہ متقی لوگوں کے لئے تذکرہ اور یاد دہانی ہے۔ اور حق الیقین ہے۔
اب آخر میں رسول کریم ﷺ کو آخری ہدایات دی جاتی ہیں۔ گزشتہ مباحث کے بعد اس قسم کی تلقین کا بہترین اور مناسب وقت ہے۔ لہٰذا یہ نہایت ہی بروقت ہدایت ہے۔
فسبح .................... العظیم
” ۔ ایسی تسبیح جس میں اللہ کی پاکی بھی ہو اور اللہ کی بڑائی بھی۔ جس میں اعتراف حق بھی ہو اور تحقیق حق بھی ہو۔ جس میں عبودیت بھی ہوا اور خضوع وخشوع بھی ہو۔ اس طویل بحث و مباحثہ کے بعد جس میں اللہ کی عظیم قدرتوں کا بیان ہوا ، اور رب کریم کی عظمت کا بیان کیا گیا ہے۔ دلوں کے اندر یہ شعور پیدا کیا جاتا ہے کہ اللہ رب عظیم ہے۔
مشرکین عرب کے نزدیک حقیقت آخرت کو سمجھنا نہایت ہی مشکل کام تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ نے ان کے سامنے یہ حقیقت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے مقابلے میں سخت نفسیاتی رد عمل کا اظہار کیا۔ یہ لوگ اسے نہایت تعجب انگیز ، عجیب و غریب اور ایک خوفناک قسم کا نظریہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بڑی سختی سے اس کا انکار کیا۔ اور مختلف انداز میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چیلنج کیا کہ آپ یہ دن لاکر دکھائیں۔ کبھی کہا اس کا وقت ہی بتا دیں۔
حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے عذاب قیامت لانے کے بارے میں سوال کیا تھا ، وہ نضر ابن حارث تھا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ یہ کفار کی طرف سے سوال تھا کہ لاﺅ عذاب اور اللہ نے فرمایا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے وہ تو کفار پر آنے ہی والا ہے۔
بہرحال کوئی تھا جس نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ آجائے قیامت اور ہوجائے ان کو عذاب۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یہ بہت جلد آنے والا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اسے مقدر کردیا ہے تم اسے بعید سمجھتے ہو ، لیکن ہے یہ قریب ، اور کوئی اسے دفع نہیں کرسکتا اور نہ روک سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے بارے میں مطالبہ کرنا جبکہ وہ واقع ہونے ہی والا ہے ، سوال کرنے والے کی بدنصیبی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سوال کرنے والا ایک ہو یا بہت سے سوال کرنے والے ہوں ، بہرحال سوال کیا گیا تھا۔
کافرین مطلقاً عذاب کے مستحق ہیں ، چاہے وہ قیامت کے بارے میں سوال کریں یا نہ کریں اور یہ عذاب وقوع پذیر ہونے والا ہے ، اس اللہ کی طرف سے ، جو عروج کے زینوں کا مالک ہے ، جو ہر قسم کی برتری کا مستحق ہے اور جو بڑے درجوں والا اور صاحب عرش عظیم ہے۔
اس افتتاحی فقرے کے بعد ، جس میں عذاب کے موضوع پر فیصلہ کن بات کردی گئی کہ یہ واقع ہوگا ، فلاں فلاں اس کے مستحق ہوں گے ، یہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا ، جو نہایت ہی بلند اور قوتوں والا ہے ، اور اس کے بارے میں جو فیصلہ ہے وہ نافذ ہونے والا ہے ، کوئی قوت اسے رد کرنے والی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ عالم بالا کا ہے ، اب اس یوم العذاب کی تفصیلات اور اس دن کے واقعات پائے جاتے ہیں ، جس کے بارے میں یہ لوگ جلدی مچا رہے ہیں۔ یہر قریب ہے لیکن اللہ کے ہاں زمانوں کا حساب انسانوں کے زمانوں کے حساب سے بہت ہی مختلف ہے۔ اللہ کے اندازوں اور انسانوں کے اندازوں کے درمیان بہت فرق ہے۔ اللہ کے معیار اور انسان کے معیار مختلف ہیں۔
تعرج الملئکة ........................ قریبا (۷) (۰۸ : ۴ تا ۷) ” اور روح اس کے حضور ﷺ چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ پس اے نبی صبر کرو ، شائستہ صبر۔ یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ راجح بات یہ ہے کہ جس دن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قیامت کا دن ہے کیونکہ سیاق کلام میں یہ معنی متعین نہیں ہیں۔ اس دن ملائکہ اور روح اللہ کی طرف چڑھتے ہیں اور روح سے مراد راجح روایت کے مطابق حضرت جبرئیل ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر ان کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ملائکہ کے بعد خصوصاً ان کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اہم مرتبہ ہے اور اس دن کے حوالے سے یہ ذکر کو ملائکہ اور روح الامین اس دن اوپر جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی اہم دن ہوگا۔ اور اس کی یہ خصوصیت ہوگی۔ اور وہ اس دن اس کے انتظامات اور معاملات کے بارے میں اوپر جائیں گے اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی ہمیں اللہ نے اس کا مکلف بنایا ہے کہ ہم جانیں کہ ان کی یہ دوڑ دھوپ کن معاملات کے لئے ہوگی اور نہ یہ کہ یہ فرشتے کس طرح چڑھیں گے اور کہاں جائیں گے چڑھ کر ؟ یہ عالم غیب سے متعلق امور ہیں اور اس آیت کے مفہوم میں ان سے کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اور کوئی دلیل بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ بس یہ کہ وہ بہت ہی اہم دن ہوگا ، جس میں اس قدر اہم لوگ بہت ہی زیادہ مشغول ہوں گے۔
رہی یہ تعبیر۔
کان مقدارہ ................ سنة (۰۸ : ۴) تو اس سے مراد طویل زمانہ بھی ہوسکتا ہے اور عربی اسالیب میں یہ استعمال عام ہے ، اور اس سے مراد کوئی متعین وقت بھی ہوسکتا ہے او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فی الواقعہ دنیا کے سالوں کی طرح یہ پچاس ہزار سال کا ایک طویل دن ہو۔ ہمارے زمانے میں یہ حقیقت قریب الفہم ہوگئی ہے کیونکہ ہمارا دن تو زمین کی گردش محوری سے بنتا ہے اور یہ گردش چوبیس گھنٹوں میں مکمل ہوجاتی ہے اور ایسے ستارے بھی ہیں جن کی گردش محور ہمارے اس ستارے زمین کی گردش سے کئی ہزار گنا زیادہ وقت میں مکمل ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ گویا ستر ہزار سالوں یا پچاس ہزار سالوں سے مراد کوئی متعین زمانہ ہے بلکہ اس سے مراد ایک معیار ہے اللہ کے معیاروں میں ہے۔
اور اللہ کے ایام میں سے ایک دن اگر پچاس ہزار سال کے برابر ہے تو قیامت کے عذاب کو یہ لوگ جو دور دیکھتے ہیں ، وہ اللہ کے نزدیک قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ صبر جمیل سے کام لیں اور ان کی تکذیب اور عذاب آخرت کے بارے میں شتابی سے پریشان نہ ہوں۔
فاصبر .................... قریبا (۷) (۰۷ : ۵ تا ۷) ” (پس صبر کرو شائستہ صبر ، یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ صبر کی ہدایت پر دعوت ہر داعی کو دی جاتی رہی ہے۔ ہر رسول کو یہی ہدایت کی گئی کہ صبر کریں اور رسولوں کے متبعین مومنین کو بھی صبر جمیل کی ہدایت کی گئی۔ یہ راہ جس قدر دشوار گزار ہے اور یہ دعوت جس قدر بھاری ہے ، اور اس میں کمزور نفس انسانی کو لغزشوں سے بچانے کی جس قدر ضرورت ہے ، اس کی اہمیت عیاں ہے کیونکہ اسلامی انقلاب کا ہدف دورنظر آتا ہے اور مقصد اور منزل افق میں بہت دور اور بلندی پر ہوتی ہے۔
صبر جمیل سے مراد وہ صبر ہے جس سے صبر کرنے والا مطمئن ہو ، اس کے دوران صبر کرنے والا مصیبت ، بےچینی اور شک کا احساس نہ رکھتا ہو۔ اسے یقین ہو کہ اس کے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا ہے۔ صبر کرنے والے کی کیفیت یہ ہو کہ اس کا انجام بہتر ہونے والا ہے ، جو اللہ کی تقدیر پر راضی ہو اور جو ابتلاء آرہی ہے ، وہ یقین رکھتا ہو کہ اس میں حکمت الٰہی مضمر ہے۔ اور صبر کرنے والا یہ سمجھتا ہو کہ جو مصیبت بھی اس پر آنی ہے وہ اللہ کی طرف سے آرہی ہے۔ اور اسے اس کا اجر دیا جائے گا۔
یہی وہ صبر ہے جسے صبر جمیل کہا گیا ہے۔ اور یہی صبر ایک داعی کو زیب دیتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی طرف بلاتا ہے ، اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں اس کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس دعوت کے ساتھ اس کے ذاتی مفادات وابستہ نہیں۔ اس لئے اس پر جو مصائب آرہے ہیں وہ اللہ کی راہ میں ہیں اور اس کے بارے میں جو فیصلے ہوتے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں۔ اس لئے صبر جمیل وہ ہے جو حقیقت پسندانہ اور شائستہ ہو۔ اور اس صبر کرنے والے کو ان امور کا گہرا شعور ہو۔
یہ دعوت جس کے مقابلے میں مکذبین کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور اس کی راہ روکتے ہیں ، یہ اللہ کی دعوت ہے اور قیامت جس کی وہ تکذیب کرتے ہیں اور اس کے برپا ہونے کے لئے جلدی مچاتے ہیں۔ یہ بھی اس کی دعوت ہے اور وہی ہے جو اپنی تدبیر اور حکمت کے مطابق اس کے قیام کے وقت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن لوگ اس تدبیر اور تقدیر کو سمجھ نہیں پاتے۔ اور جلدی مچاتے ہیں۔ اور جب وقت زیادہ گزر جائے تو وہ اس میں شک کرتے ہیں۔ بعض اوقات تو خود داعی سخت بےچینی محسوس کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں بھی یہ رغبت اور خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ اللہ کا وعدہ جلدی ہی سامنے آجائے اور ایسے ہی اوقات میں داعی کو ایسی ہدایت کی جاتی ہے۔
فاصبر ............ جمیلا (۰۸ : ۷) ” صبر کرو ، شائستہ صبر “۔
یہاں خطا رسول اللہ ﷺ کو ہے ، تاکہ آپ کا قلب مبارک مخالفت اور تکذیب کے دکھ کو برداشت کرلے۔ اور اس کے ساتھ دوسری حقیقت کو سمجھ لے کہ واقعات ومعاملات کے پیمانے اللہ کے ہاں اور ہوتے ہیں اور لوگوں کے ہاں اور۔
انھم ........................ قریبا (۰۸ : ۷) ” یہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں “۔ اس کے بعد اس دن کے مناظر پیش کیے جاتے ہیں ، جس میں واقع ہونے والا عذاب آئے گا ، جسے وہ بعید سمجھتے ہیں اور اللہ اسے قریب سمجھتا ہے۔ یہ مناظر اس کائنات میں ہیں اور انسان کی نفسیاتی دنیا کے اندر بھی۔ یہ اس قدر ہولناک ہوں گے کہ انسان کے اوسان خطا ہوجائیں گے اور اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر زلزلہ برپا ہوگا۔
یوم تکون ................ کالعھن (۰۷ : ۹) ” جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ مہل کے معنی ہیں خام معدنیات کو پگھلانا مثلا تیل کی تلجھٹ ، اور العہن کے معنی ہیں اون کا منقش کپڑا۔ قرآن کریم مختلف مقامات میں یہ اطلاع دیتا ہے کہ اس دن عظیم واقعات رونما ہوں گے۔ ان کی وجہ سے اس دنیا کے اجرام فلکی کی موجودہ حالت نہیں رہے گی۔ ان کے اوصاف ، حالات اور شکل بدل جائے گی اور ان میں سے ایک یہ آسمان یوں ہوجائے گا جس طرح پگھلی ہوئی معدنیات۔ اور جو لو علوم طبیعیہ پر تحقیقات کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان آیات پر غور کریں۔ ان کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ تمام فلکی اجرام دراصل پگھلے ہوئے مادے سے منجمد ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ یہ مادہ گیس کی شکل میں تھا اور گیس کا درجہ پگھلنے اور سیال ہونے کی حالت کے بعد بھی آتا ہے۔ شاید یہ تمام مادہ قیامت کے دن بجھ جائے گا۔ جس طرح کہا گیا۔
واذا ............ انکدرت ” اور جب ستارے تاریک ہوجائیں گے “۔ اور ٹھنڈے ہوکر سیال ہوجائیں گے ، یوں ان کی گیس کی طبیعت میں تبدیلی ہوجائے گی۔
بہرحال یہ تو ایک احتمال ہے اور اس زاویہ سے تحقیقات کرنے والوں کی دلچسپی اس میں ہوسکتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں جو آیت کا مفہوم ہے۔ اور جس میں یہ خوفناک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ آسمان پگھلے ہوئے مواد کی طرح ہوں گے ۔ اور پہاڑ دھنکے ہوئے متلون اون کی طرح ہوں گے۔ اور نہایت ہی خوفناک منظر ہوگا جس کی تعبیر قرآن اس خوفناک الفاظ میں کررہا ہے۔
ولا یسئل ............................ ینجیہ (۴۱) (۰۷ : ۰۱ تا ۴۱) ” کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔ مجرم چاہے گا کہ اس کے عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو ، اپنی بیوی کو ، اپنے بھائی کو ، اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا ، اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیرا سے نجات دلادے “۔
لوگ اس دن نہایت پریشان ہوں گے اور ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔ کوئی شخص اپنے سوا کسی دوسرے کی طرف ملتفت ہونے کا موقعہ نہ پائے گا۔ اور اس کے شعور میں کسی غیر کے لئے کوئی وسعت نہ ہوگی ، جگری دوست بھی جگری دوست کو نہ پوچھے گا ، ایک مدہوس کردینے والا خوف ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگوں کے تمام روابط منقطع ہوں گے اور ہر شخص اپنے مسائل اور اپنی پریشانی میں گھرا ہوگا۔ وہ ایک دوسرے پر پیش کیے جائیں گے اور ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے اور عمداً ایسا کیا جائے گا لیکن ہر کسی کو اپنی پڑی ہوگی۔ ہر ضمیر کا اپنا شغل ہوگا۔ لہٰذا دوست دوست کو نہ پوچھے گا ، نہ کوئی کسی سے مدد طلب کرسکے گا۔
اور مجرم کا حال کیا ہوگا ؟ اس کی جان خوف کے ہاتھ میں ہوگی۔ اس کا احساس ہی جاتا رہے گا اور وہ اس دن کے عذاب سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اپنی عزیز ترین متاع دینے کے لئے تیار ہوگا۔ جبکہ اس زندگی میں وہ اس متاع پر جان چھڑکتا تھا ، اور اس کی پوری زندگی ان کے لئے تھی۔ مثلاً اولاد ، بیوی ، بھائی ، خاندان جو حامی و مددگار ہوتا ہے۔ بلکہ اس دن اپنی جان کو بچانے کے لئے تو وہ اس پوری دنیا کے اموال واقتدار کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوگا ، کہ کسی طرح نجات پاجائے۔ رنج والم کی یہ کس قدر بھیانک تصویر ہے۔ یہ شخص نیم مدہوش ہے اور پوری کائنات بخشنے کے لئے تیار ہے۔ یہ انداز تعبیر قرآن کے ساتھ مخصوص ہے۔
یہ ہے مجرم کی حالت ، یہ ہیں اس کی تمنائیں کہ اس حالت میں وہ ایسے حالات دیکھتا ہے کہ امید کی آخری چنگاری بھی بجھ جاتی ہے ، جھوٹی تمنائیں ختم ہوجاتی ہیں اور اصل اور حقیقی صورت حالات سامنے آتی ہے۔