بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَٱلرُّجْزَ فَٱهْجُرْ وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَٱصْبِرْ فَإِذَا نُقِرَ فِى ٱلنَّاقُورِ فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍۢ يَوْمٌ عَسِيرٌ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ غَيْرُ يَسِيرٍۢ ذَرْنِى وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًۭا وَجَعَلْتُ لَهُۥ مَالًۭا مَّمْدُودًۭا وَبَنِينَ شُهُودًۭا وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمْهِيدًۭا ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ كَلَّآ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِـَٔايَـٰتِنَا عَنِيدًۭا سَأُرْهِقُهُۥ صَعُودًا إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ثُمَّ نَظَرَ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ثُمَّ أَدْبَرَ وَٱسْتَكْبَرَ فَقَالَ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ يُؤْثَرُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا قَوْلُ ٱلْبَشَرِ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سَقَرُ لَا تُبْقِى وَلَا تَذَرُ لَوَّاحَةٌۭ لِّلْبَشَرِ عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ وَمَا جَعَلْنَآ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَـٰٓئِكَةًۭ ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةًۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيَسْتَيْقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَيَزْدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِيمَـٰنًۭا ۙ وَلَا يَرْتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ وَٱلْكَـٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَـٰذَا مَثَلًۭا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِىَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ كَلَّا وَٱلْقَمَرِ وَٱلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ وَٱلصُّبْحِ إِذَآ أَسْفَرَ إِنَّهَا لَإِحْدَى ٱلْكُبَرِ نَذِيرًۭا لِّلْبَشَرِ لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ إِلَّآ أَصْحَـٰبَ ٱلْيَمِينِ فِى جَنَّـٰتٍۢ يَتَسَآءَلُونَ عَنِ ٱلْمُجْرِمِينَ مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ قَالُوا۟ لَمْ نَكُ مِنَ ٱلْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ ٱلْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ ٱلْخَآئِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ حَتَّىٰٓ أَتَىٰنَا ٱلْيَقِينُ فَمَا تَنفَعُهُمْ شَفَـٰعَةُ ٱلشَّـٰفِعِينَ فَمَا لَهُمْ عَنِ ٱلتَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌۭ مُّسْتَنفِرَةٌۭ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍۭ بَلْ يُرِيدُ كُلُّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًۭا مُّنَشَّرَةًۭ كَلَّا ۖ بَل لَّا يَخَافُونَ ٱلْـَٔاخِرَةَ كَلَّآ إِنَّهُۥ تَذْكِرَةٌۭ فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ وَمَا يَذْكُرُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ هُوَ أَهْلُ ٱلتَّقْوَىٰ وَأَهْلُ ٱلْمَغْفِرَةِ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ المُزَّمِّلِ: ۲۰

ان ربک ........................ غفور رحیم

یہ ایک خوبصورت رعایت ہے۔ اس پر مشقت ، داماندہ اور تھکے ہارے شخص کے لئے خوشخبری کہ چلو چھٹی مل گئی۔ اللہ کی طرف سے نبی اور مومنین کے لئے نہایت ہی مناسب تخفیف اور چھوٹ کا اعلان ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ وہ مخلص ہیں اور وہ نہایت تندہی سے احکام بجا لارہے ہیں۔ رات کے طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاﺅں پھول گئے ہیں اور رات کا بڑا حصہ تلاوت قرآن اور نماز میں بسرہورہا ہے۔ اللہ کا مقصد یہ نہ تھا کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کو مشقت میں ڈال دیا جائے بلکہ مقصد یہ تھا کہ جو عظیم ذمہ داری نبی اور مسلمانوں پر عائد ہورہی ہے ، اس کے لئے ان کو تیار کیا جائے۔ اور یہ ذمہ داری چونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ادا کرنی تھی اس لئے ان کے لئے اس ٹریننگ کا انتظام ضروری تھا۔

یہاں جس انداز میں بات کی گئی ہے ، وہ نہایت ہی اطمینان بخش ہے۔

ان ربک ........................ معک (۷۳:۲۰) ” اے نبی ! تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادل میں کھڑے رہتے ہو ، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ بھی “۔ اللہ نے تمہارا قیام اللیل دیکھ لیا ۔ اور تمہارے ساتھیوں کو بھی دیکھ لیا۔ اور اللہ نے تمہاری اس عبادت کو قبول کرلیا ہے۔ اللہ نے جان لیا کہ تمہارے اور ان کے پہلو گرم ونرم بستروں سے علیحدہ ہوتے ہیں۔ تم لوگوں نے ان نرم بستروں کی پکار کو نہ سنا اور اللہ کی پکار کو سنا۔ اب اللہ تم پر مہربانی فرماتا ہے۔ اور تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر قدرے تخفیف فرماتا ہے۔

واللہ ............ والنھار (۷۳:۲۰) ” اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے “۔ یوں کہ کبھی رات زیادہ لمبی ہوتی ہے اور کبھی دن۔ اور تم اور تمہارے ساتھی رات کی ایک تہائی ، نصف رات یا دوتہائی رات عبادت کرتے رہتے ہو۔ پھر اللہ تمہاری طاقت کی حدود سے بھی واقف ہے۔ اور اللہ کا مقصد تمہیں تھکانا اور عذاب دینا نہیں ہے۔ اللہ تو تمہیں ایک مقصد کے لئے تیار کررہا ہے۔ جب تم تیار ہوگئے تو پھر تخفیف کردیتو تم بھی اپنے نفوس پر تخفیف کرو ، اور اب اس کام پر اس قدر سختی نہ کرو۔

فاقرء ................ القرآن (۷۳:۲۰) ” اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو ، پڑھ لیا کرو “۔ یعنی رات کے وقت نماز میں۔ لیکن اپنے آپ کو مشقت اور تنگی میں نہ ڈالو۔ اور یہاں بعض امور ایسے بھی بتا دیئے جاتے ہیں جن میں مستقبل میں اہل اسلام نے مشغول ہونا تھا اور ان ڈیوٹیوں کے ساتھ قیام اللیل ذرا زیادہ مشکل تھا۔

علم ان ................ مرضی (۷۳:۲۰) ” اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے “۔ ان پر قیام اللیل کا فریضہ پر مشقت ہوگا۔

واخرون .................... فضل اللہ (۷۳:۲۰) ” کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں “۔ یعنی تلاش معاش میں سفر اور سفر کی مشقتیں۔ کیونکہ معاشی جدوجہد بھی ضروریات زندگی میں سے ہے۔ الہل کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی ضروریات کے لئے جدوجہد ترک کرو اور رھبان بن جاﺅ۔

واخرون ................ سبیل اللہ (۷۳:۲۰) ” کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں “۔ اللہ کو علم تھا کہ عنقریب وہ ظلم کے مقابلے میں جہاد کی اجازت دے دے گا ، اسلام کے جھنڈے بلند ہوں گے اور باغیوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔ لہٰذا اس مقابلے کے لئے اب یہ تخفیف کی جاتی ہے۔ اب بغیر مشقت کے جس قدر ممکن ہو پڑھو۔

فاقرئ .................... منہ (۷۳:۲۰) ” لہٰذا قرآن جس قدر تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو ، پڑھ لو “۔ بغیر مشقت اور تنگی کے۔ اور باقی دینی فرائض پر پوری طرح جم جاﺅ۔

واقیموا ................................ الزکوة (۷۳:۲۰) ” اور نماز پڑھو اور زکوٰة دو “۔ اور اس کے بعد قرض حسن بھی دو ۔

واقرضوا ........................ اعظم اجرا (۷۳:۲۰) ” اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاﺅ گے ، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے “۔ اور اللہ کی طرف اس طرح متوجہ ہوتے جاﺅ کہ استغفار کرتے رہو ، اپنی تقصیرات کی معافی چاہو ، انسان سے قصور سرزد ہوتے ہیں ، وہ خطا کا ارتکاب کرتا ہے۔ اگرچہ وہ کوشش کرے اور درست فعال کرنے کی سعی کرے۔

واستغفروا ................ رحیم (۷۳:۲۰) ” اور اللہ سے مغفرت مانگتے رہو ، بیشک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے “۔ یہ رحمت ، شفقت اور تیسیر کی ایک چٹکی ہے اور ایک سال قیام کے بعد اب یہ سہولت نازل ہوتی ہے۔ اللہ نے مسلمانوں پر تخفیف فرمائی ہے۔ اب قیام اللیل نفلی ہوگیا لیکن رسول اللہ ﷺ پھر بھی اپنی روش ہی پر قائم رہے۔ ثلث اللیل سے آپ کا قیام اللیل کبھی کم نہ ہوا۔ یہ اللہ کے ساتھ مناجات تھی۔ رات کی تنہائیوں میں ، دنیا کے شوروشغب سے دور۔ یوں آپ اس مناجات سے زادراہ لیتے رہے۔ اور پوری زندگی میں یہ جدوجہد جاری رہی۔ لیکن سوتے میں بھی آپ کی آنکھیں بندہوجاتیں تو آپ کا دل بیدار ہی رہتا تھا۔ آپ کا قلب مبارک ہر وقت اللہ کو یاد کرتا رہتا تھا۔ آپ ہر وقت سوتے یا جاگتے اللہ کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ غرض آپ دنیا کی تمام آلودگیوں سے علیحدہ ہوکر رب کے ہوگئے تھے۔ اور اس راہ میں جس قدر بوجھ آپ برداشت کرسکتے تھے۔ آپ نے برداشت کیا۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ
سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱–۲

یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔

یایھا المدثر (۱) قم فانذر (۷۴:۲) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۳

رسول اللہ ﷺ کو یہ عظیم ڈیوٹی سپرد کرنے کے بعد اب آپ کی ذات کے بارے میں خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں۔

(۱) پہلے یہ کہ اپنے رب کی بڑائی کرو۔

وربک فکبر (۷۴:۳) ” اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو “۔ یعنی اللہ وحدہ کی بڑائی کا اعلان کردو۔ کیونکہ درحقیقت بڑا صرف اللہ ہے۔ اور صرف وہی مستحق ہے کہ اس کا نعرہ تکبیر بلند کیا جائے۔ اس ہدایت میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں الٰہ اور توحید کے مفوم کے اندر یہ بات شامل ہے کہ اللہ وحدہ بڑا ہے۔

ہر فرد ، ہر شے ، ہر قدر ، اور ہر حقیقت اللہ کے مقابلے میں صغیروحقیر ہے۔ اور اللہ وحد کبیر اور متعال ہے۔ اللہ کے جلالی کبریائی میں تمام اجرام فلکی ، تمام حجم ، تمام قوتیں ، قدریں ، تمام واقعات ، تمام حالات ، تمام معانی اور تمام صورتیں ناپید اور غائب ہوجاتی ہیں۔ اور اللہ عظیم اور بلند اور بلند تر ہوجاتا ہے۔

نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اس بلند تصور اور علو عقیدہ کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر ، دنیا کو ڈرانے اور متنبہ کرنے اور ہوشیار وخبردار کرنے کا فریضہ اپنے ذمہ لیں اور حالات اور مشکلات کا مقابلہ کریں اور اس کی سختیاں اور بوجھ برداشت کریں۔ لہٰذا اس تصور کے مقابلے میں مخالفین کی تمام سازشیں جھوٹی ہوں گی ، تمام قوتیں ہیچ ہوں گی ، تمام رکاوٹیں دور ہوں گی۔ اگر داعی یہ سچا تصور رکھتا ہو کہ وہ جس رب کی دعوت لے کر اٹھا ہے ، وہ سب سے بڑا ہے تو اس کے سامنے کوئی مشکل کھڑی نہیں ہوسکتی۔ دعوت اسلامی کی سختیاں اور مشکلیں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ انسان کے ذہن میں اللہ کی کبریائی اور کبریائی کا عقیدہ مستحضر ہو۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۴

(۲) دوسری ہدایت یہ دی جاتی ہے :

وثیابک فطھر (۷۴:۴) ” اور اپنے کپڑے پاک رکھو “۔ یہ کنایہ ہے ، قلبی ، اخلاقی اور عملی پاکیزگی سے۔ شخصیت کی پاکیزگی ، جس میں ظاہری طہارت بھی شامل ہے اور وہ تمام معاملات بھی شامل ہیں جن کا کسی نہ کسی طریقے سے ذات نبی سے تعلق ہے اور روحانی اور اخلاقی پاکیزگی ہی میں انسان عالم بالا سے اشارات اخذ کرسکتا ہے۔ اور رسالت کے مزاج ہی میں پاکیزگی ہوتی ہے ، اس لئے یہاں پاکیزگی کا حکم دیا گیا۔ پھر فریضہ رسالت اور لوگوں تک پیغام پہنچانے اور ان کو ڈرانے اور مختلف قسم کے لوگوں ، مختلف قسم کی خواہشات اور مختلف قسم کے نشیب و فراز میں دعوت اسلامی کے کام کے لئے یہ ضروری تھا کہ آپ کا دامن ہر داغ اور دھبے سے پاک ہو۔ نیز فریضہ رسالت سپرد ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ہر قسم کے لوگوں میں جانا تھا۔ جن میں گندے لوگ بھی تھے اور غلیظ بھی۔ جو گندگی اور غلاظتوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور آپ کا حکم یہ تھا کہ ان گندگیوں اور غلاظتوں میں ملوث ہوئے بغیر دعوت اسلامی کا فریضہ آپ نے سر انجام دینا ہے۔ یہ نہایت ہی اہم اور گہرا اشارہ ہے ، ان تمام لوگوں کے لئے جو دعوت اسلامی کا کام لے کر اٹھتے ہیں ، اور جو وارثین انبیاء کے مقام پر ہوتے ہیں اور جنہوں نے ہر قسم کے لوگوں کے اندر رہ کر کام کرنا ہے۔ ہر قسم کے حالات میں کام کرنا ہوتا ہے ، ہر قسم کے معاشروں اور سوسائٹیوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۵

(۳) آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شرک ترک کردیں اور تمام وہ افعال ترک کردیں جو آخرت میں عذاب کا موجب ہوں گے۔

والرجز فاھجر (۷۴:۵) ” اور گندگی سے دور ہوجاﺅ“۔ حضور اکرم ﷺ تو پہلے سے ہر قسم کے شرک اور ان باتوں سے اجتناب کررہے تھے جو آخرت میں عذال کے موجب تھے اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے ، کیونکہ آپ نے اللہ کے حکم سے پہلے اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کردیا تھا۔ تمام نظریاتی ، اخلاقی ، رواجی اور عملی جاہلیت سے آپ پہلے سے مجتنب تھے۔ کسی روایت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کسی جاہلی رسم اور شرکیہ عمل میں شرکت کی ہو۔ پس یہ ہدایت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ ان سے دور رہیں اور یہ چیزیں اسلام سے لگا نہیں کھاتیں۔ کوئی اسلامی روش ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ اس لئے آپ کو بطور تاکید ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیں۔ ” رجز “ کے معنی عذاب کے ہوتے ہیں ، اس کے بعد اس کا اطلاق ان باتوں پر بھی ہوا جو عذاب کے اسباب تھے یعنی ان چیزوں کو چھویں بھی نہیں۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۶

(۴) یہ ہدایت بھی آپ کو دی جاتی ہے کہ نبوت کے کام سے اپنے ذاتی مفادات کو دور رکھیں اور آپ جو عظیم کام کررہے ہیں اس پر احسان نہ جتلائیں۔

ولا تمنن تستکثر (۷۴:۶) ” اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لئے “۔ حضور اکرم ﷺ نے دعوت کی زندگی میں بہت کچھ صرف کرنا تھا ، اپنی پوری مادی اور اخلاقی اور جسمانی قوت اس راہ میں صرف کرنی تھی اور قربانیاں دینی تھیں لیکن رب تعالیٰ کا مطالبہ آپ سے یہ تھا کہ اس عظیم جدوجہد کو عظیم نہ سمجھیں اور کسی پر احسان نہ جتلائیں۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اگر کسی کے اندر یہ احساس پیدا ہوجائے کہ میں نے بہت کچھ کیا ہے تو وہ ہرگز داعی نہیں رہ سکتا۔ اس راہ میں جدوجہد اس وقت عظمت کا رنگ لیتی ہے ، جس اسے بھلا دیا جائے ، بلکہ نفس انسانی کے اندر یہ شعور اچھی طرح بیٹھ جائے کہ اس راہ میں جو کچھ صرف ہورہا ہے وہ اللہ ہی کا دیا ہوا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے ہمیں اس مقصد کے لئے چنا ، توفیق دی اور وسائل دیئے اور ہم اس کے اہل ہوئے۔ بس یہ اللہ کا کرم ، اس کا چناﺅ اور اس کی تکریم ہے اور عزت افزائی ہے جو اس نے ہمیں اس کام کے لئے توفیق دی۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اللہ کے اس دین پر اس کا شکر ادا کریں نہ یہ کہ ، کسی پر احسان جتلائیں۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۷

(۵) آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ جو بھی پیش آئے ، آپ صبر کریں۔

ولربک فاصبر (۷۴:۷) ” اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو “۔ قرآن کریم میں دعوت اسلامی کے سلسلے میں اللہ بار بار صبر کی تلقین فرماتا ہے ، اور حقیقت بھی یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ میں صبر ہی اصل سازو سامان ہے۔ یہ ایک چومجھی لڑائی ہوتی ہے ، ایک طرف خوداپنی خواہشات اور میلانات کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے ، دوسری جانب دعوت اسلامی کے دشمنوں کے خلاف جنگ کرنا ہوتی ہے۔ یہ دشمن شیطانوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور مفادات و خواہشات کے لئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ پھر طویل جدوجہد اور قلت وسائل اور اجر سب کا سب اخروی ہوتا ہے۔ اس دنیا کا کوئی مفاد اس جہد سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ان حالات کے ساتھ بھی لڑنا پڑتا ہے۔ خالص رضائے الٰہی کے لئے۔

جب نبی کریم ﷺ کہ یہ اہم ہدایات دے دی گئیں تو اب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔ ایک چٹکی میں اس بات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ خوفناک دن ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے جس سے آپ نے لوگوں کو ڈرانا ہے۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۸–۹

فاذا ........................ الناقور (۷۴:۸) ” کے معنی بھی بگل میں پھونکنے کے ہیں لیکن نقر کے معنی میں آواز کی سختی بھی ہے اور آواز کی اس سختی سے اشارہ مقصود ہے ، اس دن کی سختی کی طرف۔ گویا ناقور میں آواز ٹھونکی جاتی ہے اور اس سے سخت آواز نکلتی ہے اور یہ آواز کانوں پر فائر کی طرح لگتی ہے۔ اس لئے یہ دن کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا اور اس میں ان کے لئے کوئی سہولت نہ ہوگی۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۰

علی ................ یسیر (۷۴:۱۰) ” کافروں کے لئے ہلکانہ ہوگا “۔ یہ دن سب کا سب سخت ہوگا۔ اس قدر سخت کہ اس میں کوئی نرمی نہ ہوگی ، لہٰذا یہ سمجھو کہ اس دن بےحد کرب ہوگا ، سخت تنگی ہوگی ، لہٰذا اس کے بارے میں محتاط ہوجاﺅ۔ اور صور سے بچنے سے پہلے تیاریاں کرلو۔ یوں ان کے سامنے اس دن کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔

اب روئے سخن ایک مخصوص مکذب اور جھٹلانے والے معاند کی طرف پھرجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص دعوت اسلامی کا ایک خاص معاند تھا اور دعوت کے خلاف تمام تدابیر یہ کرتا تھا۔ چناچہ اسے سخت دھمکی دی جاتی ہے اور اس کی ایسی تصویر کھینچی جاتی ہے کہ سننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کون ہے ؟ اس شخص کے پورے خدوخال اس قلمی تصور میں دے دیئے گئے ہیں اور یہ شخصیت صاف صاف الفاظ کے اندر متحرک نظر آتی ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں :

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۱–۱۴

متعدد روایات میں یہ بات وارد ہے کہ ان آیات سے مراد ولید ابن مغیرہ مخزومی ہے۔ علامہ ابن جریر روایت کرتے ہیں ، ابن عبدالاعلیٰ سے ، وہ محمد ابن ثورہ سے ، وہ معمر سے ، وہ عبادہ ابن منصور سے ، وہ عکرمہ سے ، کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کے سامنے قرآن کریم پڑھا۔ اس کا دل نرم ہوگیا۔ یہ بات ابوجہل ابن ہشام کو پہنچی۔ یہ اس کے پاس آیا اور کہا ” تمہاری قوم چاہتی ہے کہ تمہارے مال جمع کرے “۔ اس نے کہا : کس لیے : اس نے کہا کہ یہ مال وہ تمہیں دینا چاہتے ہیں کیونکہ تم محمد کے پاس گئے اور تم پر اس کا اثر ہوگیا ہے۔ (ابوجہل نے اس کی عزت نفس کے احساس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ ایک غیرت مند شخص ہے) ولید نے کہا قریش کو معلوم ہے کہ میں ان کا مالدار شخص ہوں۔ ابوجہل نے کہا ، لہٰذا تم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم اس کے اقوال کو ناپسند کرتے ہو اور محمد کی باتوں کے منکر ہو۔ تو ولید نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں ،” خدا کی قسم تم میں سے کوئی شخص محمد جیسا ادب اور شعر میں ماہر نہیں ہے۔ میں اشعار کی تمام اقسام سے واقف ہوں ، رجز ، قصیدہ اور اشعار تک جانتا ہوں۔ اس کا کلام ان میں سے کسی کے مماثل نہیں ہے بلکہ اس کے کلام میں ایک مٹھاس ہے ، اس کے سامنے جو آتا ہے ، پاش پاش ہوجاتا ہے۔ اور اس سے جو بلند ہونا چاہے یہ اس سے بلند ہوتا ہے۔ تو ابوجہل نے کہا خدا کی قسم تمہاری قوم ہرگز اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوگی جب تک تم اس کے بارے میں کچھ نہ عو۔ تو اس پر اس نے کہا ذرا مجھے سوچنے دو ، جب اس نے سوچا تو اس نے کہا ، یہ کلام ایک ایسا جادو ہے جو اگلے وقتوں سے چلاآرہا ہے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :

ذرنی ........................ وحید (۷۴:۱۱).... علیھا تسعة عشر (۷۴:۳۰) تک۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے ساتھ ولید کی ملاقات کے بعد قریش نے کہا کہ اگر ولید بےدین ہوگیا تو تمام قبیلہ قریش بےدین ہوجائے گا۔ تو ابوجہل نے کہا کہ ولید کو میں ٹھیک کردوں گا۔ اس کے بعد ابوجہل ولید کے پاس آیا۔ اور طویل غوروفکر کے بعد اس نے کہا۔” یہ پرانا جادو ہے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ ایک آدمی اور اس کے گھرانے کے درمیان جدائی کردیتا ہے۔ باپ کو بیٹے سے جدا کردیتا ہے اور مالک اور غلام کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے “۔

یہ ہے واقعہ جس طرح روایات میں آتا ہے۔ لیکن قرآن اس کو نہایت ہی زندہ وتابندہ الفاظ میں پیش کرتا ہے۔ انداز نہایت ہی موثر ہے۔ اس طرح آغاز ہوتا ہے

ذرنی .................... وحیدا (۷۴:۱۱) ” چھوڑ دو مجھے اور شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا “۔ یہ خطاب نبی ﷺ کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا اور اس وقت اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی ایک چیز بھی نہ تھی جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں۔ مال و دولت اور اولاد اور دوسری اشیاء مثلاً معاشرے میں عزت واحترام ، یہ چیزیں میں نے اسے دیں اور اب یہ ان پر اترا کر تحریک اسلامی کے خلاف جنگ کرتا ہے ، سازشیں کرتا ہے ، اس کو میرے ذمہ چھوڑ دو ۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ اس مقام پر جب انسان قدرے غور کرتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اس بدبخت کے خلاف علیم وخبیر کی بےپناہ قدرت اور قوت نے کام شروع کردیا ہے۔ اللہ جبار وقہاری کی قوت ہے۔ یہ قوت اس حقیر وناتواں کو تو پیس کر رکھ دے گی اور اس کا کیا حال ہوگا۔

اس آیت نے اس شخص کے خدوخال ذرا نہایت ہی طوالت سے بیان کیے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کی وہ تفصیلات بھی دی ہیں ، جو اللہ نے اس شخص کو دی تھیں۔ یہ تفصیلات اس کے اعراض اور اس کی سازشوں کے ذکر سے بھی پہلے دی گئی ہیں کہ میں نے اسے اکیلا پیدا کیا ، اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ، یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہ تھے۔ اس کے بعد اللہ نے اسے بہت وسیع دولت دی۔ اور اس کو ڈھیر سے بیٹے دیئے جو اس کے ارد گرد ہر وقت موجود رہتے تھے۔ اور ان کی وجہ سے وہ نہایت ہی معزز سمجھا جاتا تھا۔ اور اللہ نے اس کے لئے زندگی کا ہر سامان فراہم کیا اور ہر موڑ کو آسان کیا۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۵

ثم یطمع ان ازید (۷۴:۱۵) ” پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں “۔ یعنی موجود دولت پر قانع نہیں ہے۔ مزید بھی چاہتا ہے لیکن نہ قناعت کرتا ہے ، اور نہ شکر بجا لاتا ہے۔ یا وہ یہ طمع کرتا ہے کہ اس پر بھی وحی نازل ہو اور اسے کتاب دی جائے جس طرح سورت کے آخر میں آتا ہے۔

بل یرید .................... منشرة (۷۴:۵۲) ” بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں “۔ یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت محمد ﷺ سے حسد کرتا تھے کہ آپ کیوں نبی ہوگئے۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۶

یہاں اس کی سرزنش کی جاتی ہے اور اس پر سخت عتاب آتا ہے۔

انہ کان ................ عنیدا (۷۴:۱۲) ” وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا تھا “۔ اس نے عناد کی وجہ سے حق کے دلائل کو رد کردیا اور ان اشارات کو قبول نہ کیا جو ایمان کی طرف جاتے تھے۔ یہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں آکھڑا ہوا۔ رسول اللہ سے جنگ شروع کردی ، لوگوں کو اسلام سے روکا اور اس کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔

اس کے بعد ، اس سخت ترین سرزنش کے بعد اب اسے دھمکی دی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اب اس کو حاصل سہولیات مشکلات میں بدل جاتی ہیں۔ اور آسانیوں کی جگہ دشواریاں لیتی ہیں۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۷

سارھقہ صعودا (۷۴:۱۷) ” عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواﺅں گا “۔ مشقت اور دشواری کی یہ بہترین تمثیل وتصویر ہے۔ چڑھائی چڑھنا نہایت مشقت کا عمل ہوتا ہے اور انسان کے لئے سانس لینا دشوار ہوجاتا ہے۔ اور اگر یہ کام کسی سے زبردستی لیا جائے اور چڑھنے والے کی کوئی ذاتی دلچسپی نہ ہو تو یہ عمل پھر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔ یہ تمثیل اور تصویر ایک حقیقی تعبیر بھی ہے۔ کیونکہ جو شخص ایمان کے سیدھے ، ہموار اور خوشگکوار راہ سے منحرف ہوجاتا ہے تو اسے انحراف کی راہ میں مشکلات پیش آتی۔ بیشمار ناہمواریاں اور مشکلات ایسے شخص کی زندگی قلق اور بےچینی میں گزرتی ہے۔ وہ ہمیشہ حیران وپریشان رہتا ہے ، گویا اسے زبردست آسمان پر اور سولی پر چڑھایا جارہا ہو ، اس کی زندگی میں نہ تروتازگی ہوتی ہے ، نہ راحت ، نہ خوشی ، اور نہ سکون اور نہ یہ امید کہ اس پر مشقت سفر کے نتیجے میں وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔

اب اس شخص کی ذہنی کیفیت اور اندرونی نفسیات کی وہ بھدی تصویر کھینچی جاتی ہے جس میں ہر شخص خود اپنے تاثرات اور احساسات کی تکذیب کرتا ہے۔ یہ اپنے اعصاب پر دباﺅ ڈالتا ہے ، ماتھے پر شکن آتی ہے اور منہ بناتا ہے۔ اور یہ تمام ذہنی اور فکری زور اس بات کے لئے لگاتا ہے کہ قرآن اور صاحب قرآن کے اندر کوئی عیب نکال لائے۔

سُورَةُ المُدَّثِّرِ: ۱۸

انہ فکر .................... البشر (۷۴:۱۸ تا ۲۵) ” اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی تو خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ ہاں ، خدا کی مار اس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔ پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا۔ پھر پلٹا اور تکبر میں پڑگیا۔ آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلاآرہا ہے ، یہ تو ایک انسانی کلام ہے “۔

انداز تعبیر ایسا ہے کہ ایک ایک لمحے ، ایک ایک سوچ اور ایک ایک حرکت کی تصویر کشی کی جارہی ہے۔ گویا ایک ماہر عکاس کی قلم ہے جو تصویر بناتی جاتی ہے ، الفاظ نہیں بلکہ رنگ بھرے جارہے ہیں۔ نہیں گویا ایک ریل چل رہی ہے اور ایک ایک منظر نظروں کے سامنے آرہا ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔

ایک تصویر میں یوں نظرآتا ہے کہ ہر شخص سخت غور وفکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس منظر میں اسے ایک بددعا بھی دی جاتی ہے۔

575