بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا جَآءَكَ ٱلْمُنَـٰفِقُونَ قَالُوا۟ نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُۥ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَكَـٰذِبُونَ ٱتَّخَذُوٓا۟ أَيْمَـٰنَهُمْ جُنَّةًۭ فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ ءَامَنُوا۟ ثُمَّ كَفَرُوا۟ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ۞ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌۭ مُّسَنَّدَةٌۭ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْفَـٰسِقِينَ هُمُ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا۟ عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا۟ ۗ وَلِلَّهِ خَزَآئِنُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَـٰكِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَآ إِلَى ٱلْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ ٱلْأَعَزُّ مِنْهَا ٱلْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ ٱلْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِۦ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَـٰسِرُونَ وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ وَلَن يُؤَخِّرَ ٱللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَا ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الجُمُعَةِ: ۹

جمعہ کی نماز بغیر جماعت کے نہیں ہوسکتی ، اس میں یہ بات لازمی ہے کہ مسلمان اس میں جمع ہوں اور خطبہ جمعہ سنیں اور اس خطبے میں مسلمانوں کو دینی تعلیم دی جائے۔ یہ مسلمانوں کا ایک دینی اور تنظیمی اجتماع ہے ، جس میں دین اور دنیا اور آخرت سب کو ایک ہی سلسلہ اجتماع میں جمع کردیا گیا ہے اور یہ سب امور عبادت کا حصہ ہیں۔ نماز جمعہ سے اسلام کا اجتماعی نظریہ اور نظام بڑی خوبی سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں بیشمار احادیث وارد ہیں جن میں جمعہ کی فضیلت ، اس کی تیاری ، غسل ، کپڑوں کی صفائی اور خوشبو لگانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

اذا جاء احدکم الجمعة فلیغتسل ” جب تم میں کوئی جمعہ کو آئے تو اسے چاہئے کہ وہ غسل کرے “۔

اصحاب سنن اربعہ نے اوس ابن اوس ثقفی کی حدیث نقل کی ہے۔ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے نا اور جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوشبو لگائی ، اگر اس کو دستیاب ہو ، اور اچھے کپڑے پہنے ، پھر وہ مسجد کی طرف نکلا اور اگر نماز (نفل) پڑھنا چاہا ، پڑھے اور مسجد میں کسی کو اذیت نہ دی۔ اس کے بعد وہ مسجد میں بیٹھا ، یہاں تک کہ امام نکلا اور اس نے نماز پڑھائی تو یہ جمعہ اگلے جمعے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ “

یایھا الذین .................... ذروا البیع (۲۶ : ۹) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جب پکارا جائے نماز کے لئے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو “۔ یعنی زندگی کی تمام سرگرمیاں بند کردو ، اور ذکر الٰہی میں مصروف ہوجاﺅ۔ “

ذلکم ................ تعلمون (۲۶ : ۹) ” یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔ “۔

اس میں یہ اشارہ ہے کہ زندگی کی تمام دلچسپیوں کو ترک کرکے ذکر الٰہی میں تھوڑا سا وقت گزارو ، یہاں معاشی سرگرمیاں چھوڑ کر۔

واسعوا الی ذکر اللہ (۲۶ : ۹) ” اللہ کے ذکر کی طرف سعی کرو “ کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے ذکروفکر میں مشغول ہوجاﺅ۔ خالص ذکر الٰہی۔ اور اپنا تعلق اس وقت میں عالم بالا کے ساتھ جوڑ دو ۔ اس طرح تمہیں قلبی تطہیر نصیب ہوگی اور اس ذکر کے نتیجے میں دل پر عالم بالا کی معطر خوشبو اور معطر باد نسیم کے جھونکے اثر چھوڑیں گے۔ اور پھر تلاش معاش میں بھی ذکر الٰہی اور فضل الٰہی :

سُورَةُ الجُمُعَةِ: ۱۰

فاذ قضیت ........................ تفلحون (۲۶ : ۰۱) ” پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاﺅ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ، شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے “۔

یہ ہے اسلامی نظام کا توازن۔ یعنی زمین ضر ضروریات زندگی کا توازن۔ مثلاً کام کاج اور تلاش معاش اور روح کا ذکر الٰہی میں مشغول کرنا اور ایک وقت کے لئے تلاش معاش کی سرگرمیوں سے نکل کر عزات نشیں ہوکر ذکر وفکر میں مشغول ہونا ، قلبی زندگی کے لئے یہ ضروری ہے اور اس قلبی اور روحانی بالیدگی کے بغیر کوئی شخص اس عظیم امانت کا حق ادا نہیں کرسکتا جو ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے اور ذکر الٰہی تلاشمعاش کے دوران بھی ضروری ہے۔ اور تلاش معاش کے اندر بھی اگر ذکر وفکر ہو تو یہ تلاش معاش عبادت بن جاتا ہے لیکن تلاش معاش کے دوران ذکر وفکر کے علاوہ ایک وقت صرف ذکر وفکر کے لئے خالص بھی ضروری ہے۔ جس میں اور کوئی کام نہ ہو جس طرح ان دو آیات میں اشارہ ہے۔

حضرت عراک ابن مالک ؓ جب جمعہ کی نماز پڑھتے تھے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر یہ فرماتے ہیں۔ اے اللہ میں نے آپ کی پکار کی تعمیل کردی اور فرض نماز ادا کردیا اور اب میں مسجد سے نکل رہا ہوں جس طرح تو نے حکم دیا ہے ، اے اللہ مجھے اپنا فضل نصیب کر۔ آپ خیرالرازقین ہیں (ابن ابو حاتم) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حکم الٰہی کو کس سنجیدگی سے لیا کرتے تھے۔ کس قدر سادگی سے ، کیونکہ ان کے دل میں شعور تھا کہ ، قرآن اللہ کے احکام پر مشتمل ہے اور مسلمانوں نے اس کی تعمیل کرنی ہے۔

صحابہ کرام کا یہ سادہ ادراک ، سنجیدہ طرز عمل اور نہایت ہی سادگی سے رب تعالیٰ سے ہمکلامی ہی وہ عوامل تھے جن کی وجہ سے وہ اس قدر بلند مقام تک پرواز کرگئے ، حالانکہ وہ جاہلیت سے نکل کر آئے تھے ، اور جاہلیت کی عادات اور میلانات ان کو ہر وقت اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اور جاہلیت کی ایک عادت کا نمونہ اس سورت کی آخری آیات میں پیش کیا جاتا ہے۔

سُورَةُ الجُمُعَةِ: ۱۱

واذاراو ........................ الرزقین (۲۶ : ۱۱) ” اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہتررزق دینے والا ہے “۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ ایک بار جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا ، جس میں کھانے کا سامان تھا۔ لوگ قافلے کی طرف لپک گئے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو آدمی رہ گئے۔ ان میں حضرت ابوبکر اور عمر ؓ تھے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

واذا ........................ وترکوک قائما (۲۶ : ۱۱) اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا “۔

آیت میں اشارہ ہے کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے ، وہ اس لہو اور تجارت سے بہتر ہے اور یہ بھی یہاں صراحت کے ساتھ بتایا کہ اللہ بہترین رزق دینے والوں میں سے ہے۔

واللہ خیر الرزقین (۲۶ : ۱۱) ” اللہ بہتر رزق دینے والا ہے “۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بدوی عربی معاشرے کی تعلیم وتربیت کے لئے اسلام نے کس قدر جدوجہد کی ، اور کس طرحان لوگوں سے صحابہ کی وہ جماعت تیار کردی جس نے انسانی تاریخ میں ایک ریکارڈ کردیا۔ پوری انسانی تاریخ میں جس کی مثال نہیں ہے اور ان کی زندگیوں میں ان لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہے جو زمانہ مابعد میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے کس قدر صبرومصابرت سے کام لیا ، اور اسلامی انقلاب کی راہ میں پیش آنے والی کمزوریوں ، نقائص ، واماندگیوں اور لغزشوں پر کس طرح صبر کیا اور ان کو دور کیا۔ آج ہم بھی اسی طرح اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ یہ نفس انسانی اپنے اندر خیر کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور شر کی بھی۔ اس کے اندر یہ صلاحیت بھی ہے کہ روحانی قوت اور روحانی اور قلبی صفائی کے اعلیٰ ترین مدارج تک پہنچ جائے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ لیکن اس کے لئے صبروثبات ، فہم وادراک ، ثابت قدمی اور استقامت اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ گھبرا کر انسان نصف راستے سے واپس ہوجائے۔ واللہ المستعان علی ماتصفون۔

سُورَةُ المُنَافِقُونَ
سُورَةُ المُنَافِقُونَ: ۱

یہ رسول اللہ کے پاس آتے تھے۔ آپ کے سامنے یہ لوگ آپ کی رسالت پر ایمان کی شہادت دیتے تھے ، لیکن دل سے یہ شہادت نہ ہوتی۔ بطور تقیہ یہ شہادت دیتے ، تاکہ ان کی حقیقت مسلمانوں سے چھپ جائے ، لیکن درحقیقت یہ جھوٹی شہادت دے رہے تھے۔ محض دھوکے کے لئے آتے۔ یہ اس کے ذریعہ اپنے آپ کو چھپاتے۔ چناچہ اللہ فرماتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ لیکن اس موقعہ پر اللہ حضور کی رسالت کی تصدیق خود فرماتا ہے اور منافقین کی جھوٹ کی شہادت دیتا ہے۔

واللہ ................ لرسولہ (۳۶ : ۱) ” اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو “۔ اور واللہ .................... لکذبون (۳۶ : ۱) ” اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں “۔

یہاں انداز تعبیر میں نہایت احتیاط ملحوظ رکھی گئی ہے۔ منافقین کے قول کی تکذیب سے پہلے رسالت محمدی کی تصدیق فرماتا ہے۔ اگر یوں نہ ہوتا تو صرف یہ بات آتی کہ منافقین کی شہادت جھوٹی ہے۔ اور شہادت تو رسالت سے متعلق فرماتا ہے۔ اور قرآن کا مقصد یہ نہ تھا۔” ان کی شہادت سچی ہے لیکن وہ اپنی شہادت میں جھوٹے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ شہادت سچی ہے لیکن وہ اقرار رسالت میں جھوٹے ہیں۔ ضمیر کے مطابق شہادت نہیں دے رہے۔

سُورَةُ المُنَافِقُونَ: ۲

اتخذو ................ جنة (۳۶ : ۲) ” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان کے بارے میں جب ذرا بھی شبہ پیدا ہوتا تو وہ قسمیں اٹھانا شروع کردیتے۔ یہ اس وقت ہوتا جب معلوم ہوتا کہ انہوں نے فلاں فلاں سازش میں حصہ لیا۔ یا جب ان کی کوئی تنقید مسلمانوں تک پہنچ جاتی۔ جب بھی ان کی کوئی ایسی بات کھلتی وہ قسمیں شروع کردیتے۔ یوں وہ اپنی صفائی بیان کردیتے۔ اور اس ڈھال کے پیچھے اپنے آپ کو بچا لیتے ، تاکہ آئندہ وہ اپنی سازشیں اور خفیہ تدابیر جاری رکھ سکیں اور ان میں جو بیوقوف تھے ان کو مزید دھوکہ دے سکیں۔

فصدوا ................ اللہ (۳۶ : ۲) ” اس طرح وہ اللہ کے راستے سے رکتے اور روکتے ہیں “۔ یعنی خود اپنے نفوس کو بھی روکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ اور سچائی کے ساتھ یقین نہیں کرتے۔ اور اس سلسلے میں جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں۔

انھم .................... یعملون (۳۶ : ۲) ” یعنی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔ آخر جھوٹ ، فریب اور گمراہ کرنے سے بڑھ کر اور کیا برائی ہوگی۔

سُورَةُ المُنَافِقُونَ: ۳

سوال یہ ہے کہ یہ لوگ یہ کام کرتے ہیں ؟ جھوٹی شہادت ، جھوٹی قسمیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا عمل نامشکور کیوں کرتے ہیں ؟ یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا ہے۔ یعنی اسلام کو اچھی طرح جاننے اور دیکھنے کے بعد انہوں نے کفر پر چلنے کا ارادہ کرلیا ہے۔

ذلک بانھم ................ یفقھون (۳۶ : ۳) ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا ، اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔

انہوں نے اسلام کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ لیکن اعلان کرنے کے بعد انہوں نے دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کوئی سمجھ دار ، باذوق اور زندہ دل انسان یہ نہیں کرسکتا ایمان لانے کے بعد دوبارہ کفر کی طرف لوٹ جائے۔ کون ایسا ہوسکتا ہے جو ذوق رکھتا ہو ، معرفت رکھتا ہو۔ جو اس کائنات کے ایمانی تصور سے واقف ہو ، جس نے ایمانی زندگی کا مزہ چکھا ہو ، اور ایمان کی پاکیزہ فضا میں زندگی بسر کی ہو ، ایمان کی روشنی میں سیدھی راہ چلاہو ، جو ایمان کے سایوں میں رہاہو ، اور پھر وہ کفر کی سیاہ رات اور کفر کی گرم اور جھلسادینے والی فضاﺅں میں جانا پسند کرے۔ یہ حرکت وہی شخص کرسکتا ہے جس کا ذوق نہ ہو ، جس کا دل حسد سے بھرا ہوا ہو۔ جس کے اندر کوئی احساس و شعور نہ ہو اور جو سیاہ سفید میں تمیز نہ کرسکتا ہو۔

فطبع ................ یفقھون (۳۶ : ۳) ” اس لئے ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے “۔

اس کے بعد ان کی ایک نہایت منفرد تصویر پیش کی جاتی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر حقارت ، نفرت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے کہ یہ عجیب کندہ ناتراش ہیں۔ اندھے اور بہرے ہیں۔ بےعقل ، خالی الدماغ ، اندھے ، بزدل ، سخت بخیل اور حاسد بلکہ وہ کندہ ناتراش کی طرح ایک دیوار کے ساتھ چنے ہوئے ہیں۔

سُورَةُ المُنَافِقُونَ: ۴

واذا ........................ یوفکون (۳۶ : ۴) ” انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے ہو مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں ، ان سے بچ کر رہو ، اللہ کی مار ان پر ، یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔

یہ اس طرح ہیں جس طرح مضحکہ خیز حثے ہوتے ہیں۔ انسان معلوم ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ خاموش ہوتے ہیں تو کندہ ناتراش نظر آتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں تو ان کے الفاظ ہر قسم کے مفہوم ، احساس ، اثر یا حقیقت سے خالی ہوتے ہیں ، تم ان کی بات سنتے ہو ، یوں نظر آتے ہیں کہ گویا لکڑیاں ہیں جن کو دیوار کے سہارے سے کھڑا کردیا گیا ہے (یعنی یہ بےجان ہیں اور ماسوائے آواز کے ان میں زندگی کی کوئی علامت نہیں) ۔

ایک طرف تو وہ ایسے جامد ، نافہم اور بےروح ہیں اور دوسری طرف سے یہ اسی قدر چوکنے ہیں اور ڈرپوک ہیں اور ہر وقت کانپتے ہی رہتے ہیں اور انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں راز فاش نہ ہوجائے۔

یحسبون .................... علیھم (۳۶ : ۴) ” ہر زور کی آواز یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں “۔ ان کو تو علم ہے کہ وہ منافق ہیں۔ اور ان کے اوپر نفاق کا مہین پردہ پڑا ہوا ہے ، جو چالاکی ، قسموں اور احتیاطوں کی وجہ سے ابھی تک فاش نہیں ہوا۔ ہر وقت وہ سہمے رہتے ہیں کہ یہ پردہ چاک ہی نہ ہوجائے اور راز فاش ہی نہ ہوجائے ۔ تصویر ایسی کھینچی گئی ہے کہ ہر وقت ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر حرکت ، ہر آواز اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرکت ان پر دار ہے ، اور ہر آواز ان کی پکار ہے۔ یہ عجیب تصویر ہے ان کی اگر معاملہ فہم وادراک کا ہو ، تو وہ لکڑی کے بت ہیں۔ کوئی سمجھ ، کوئی روح ، کوئی شعور اور ایمان کا اثر ان پر نہیں ہے۔ اور اگر معاملہ ثابت قدمی اور خوف کا ہو تو وہ اس باریک ٹہنی کی طرح ہیں جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھلکتی رہتی ہے۔ ہر وقت کپکپاتی رہتی ہے۔ اور اپنی ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ کے دشمن نمبر ایک ہیں۔

ھم العدو فاحذرھم (۳۶ : ۴) ” یہ پکے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو “۔ یہ اسلامی محاذ کے اندر گھسے ہوئے خفیہ دشمن ہیں۔ اسلامی صفوں کے اندر ہیں ، اس لئے یہ خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔

فاحذرھم (۳۶ : ۴) ” ان سے بچ کر رہو “۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حضور اکرم ﷺ کو حکم نہیں دیا گیا کہ ان کو قتل کرو ، ان کو دوسرے انداز سے پکڑنا مطلوب تھا۔ اور اس میں حکمت ، یقین ، رواداری کے ساتھ ان کی سازشوں سے بچنا مطلوب تھا۔ (اس کا ایک نمونہ ابھی آرہا ہے)

قتلھم ................ یوفکون (۳۶ : ۴) ” اللہ کی مار ان پر یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔ یہ جہاں بھی جائیں اللہ ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے۔ اور اللہ جس کے خلاف دعا کرے ، تو یہ حکم تصور ہوتا ہے کہ گویا فیصلہ ہوگیا کہ یہ ختم ہوگئے ، قتل ہوگئے۔ اور یہی ہوا پہلے مدینہ اور پھر جزیرة العرب میں۔

مزید بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی اندرونی حالت کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف خفیہ طور پر کیا سازشیں کرتے ہیں اور آپ کے سامنے کس طرح جھوٹ بولتے ہیں ان کی اہم صفات یہ ہیں :

554