بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلْمُرْسَلَـٰتِ عُرْفًۭا فَٱلْعَـٰصِفَـٰتِ عَصْفًۭا وَٱلنَّـٰشِرَٰتِ نَشْرًۭا فَٱلْفَـٰرِقَـٰتِ فَرْقًۭا فَٱلْمُلْقِيَـٰتِ ذِكْرًا عُذْرًا أَوْ نُذْرًا إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَٰقِعٌۭ فَإِذَا ٱلنُّجُومُ طُمِسَتْ وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ فُرِجَتْ وَإِذَا ٱلْجِبَالُ نُسِفَتْ وَإِذَا ٱلرُّسُلُ أُقِّتَتْ لِأَىِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ لِيَوْمِ ٱلْفَصْلِ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ أَلَمْ نُهْلِكِ ٱلْأَوَّلِينَ ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ ٱلْـَٔاخِرِينَ كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّآءٍۢ مَّهِينٍۢ فَجَعَلْنَـٰهُ فِى قَرَارٍۢ مَّكِينٍ إِلَىٰ قَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ ٱلْقَـٰدِرُونَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَآءًۭ وَأَمْوَٰتًۭا وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ شَـٰمِخَـٰتٍۢ وَأَسْقَيْنَـٰكُم مَّآءًۭ فُرَاتًۭا وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ ٱنطَلِقُوٓا۟ إِلَىٰ ظِلٍّۢ ذِى ثَلَـٰثِ شُعَبٍۢ لَّا ظَلِيلٍۢ وَلَا يُغْنِى مِنَ ٱللَّهَبِ إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍۢ كَٱلْقَصْرِ كَأَنَّهُۥ جِمَـٰلَتٌۭ صُفْرٌۭ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ هَـٰذَا يَوْمُ ٱلْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَـٰكُمْ وَٱلْأَوَّلِينَ فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌۭ فَكِيدُونِ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍۢ وَعُيُونٍۢ وَفَوَٰكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الإِنسَانِ: ۲۵–۲۶

واذکراسم ........................ طویلا (۲۵:۷۶ تا ۲۶) ” اپنے رب کا نام صبح وشام یاد کرو ، رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے زادراہ ۔ صبح وشام اللہ کا نام لینا اور طویل راتوں میں اللہ کی پاکی بیان کرنا ، اس سرچشمے سے رابطہ بحال رکھنا جہاں سے قرآن کریم کا نزول ہورہا ہے۔ جہاں سے دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی برپا کرنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ یہی سرچشمہ قوت کا بھی سرچشمہ ہے۔ یہی اس راہ کے سازو سامان کا بھی ماخذ ہے۔ اور اس کے ساتھ رابطے کا طریقہ ذکروفکر ، تسبیح وتہلیل اور دعاء و عبادت ہے۔ خصوصاً طویل راتوں کے اوقات میں۔ اس لئے کہ یہ راہ طویل ہے۔ اور یہ بوجھ بھاری ہے۔ لہٰذا اس راہ کے لئے بہت ہی بڑی مقدار میں زادراہ کی ضرورت ہے۔ اور طویل راتوں کی تنہائیوں میں صرف بندے اور رب کی ملاقات تنہائی میں رہتی ہے۔ نہایت پر امیدی اور محبت کی فضا میں۔ اس ملاقات سے تمام تھکاوٹیں اور تمام الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔ اور ضعیفی اور قلت وسائل کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔ اور انسان دیکھ لیتا ہے کہ جس مقصد کے لئے وہ کام کررہا ہے وہ ایک عظیم مقصد ہے اور پھر اس کے مقابلے میں جدوجہد اور قربانیاں اور راہ کی مشکلات اور قربانیاں بہت کم نظر آتی ہیں۔

اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے اپنے بندوں کو دعوت کا ذمہ دار بنایا ، اس پر قرآن نازل فرمایا ، انہیں بتایا گیا کہ ان ذمہ داریوں کا بوجھ کیا ہے ، اور راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ لہٰذا اللہ نے اپنے نبی کو بےسہارا نہیں چھوڑا۔ اس کی نصرت فرمائی اور یہ تربیت اور راہ کی ان مشکلات کے مقابلے کے لئے تیاری کروانا بھی دراصل اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔ اصحاب دعوت اور احیائے اسلام کے لئے کام کرنے والوں کا یہی زادراہ ہے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ .... یہ دعوت ایک ہے۔ اس کا طریق کار بھی ایک ہے اور حالات اور واقعات بھی ایک ہیں۔ اہل باطل نہ ہمیشہ اس کے خلاف ایک ہی راستہ اختیار کیا ہے۔ جو وسائل نبی ﷺ کے بر خلاف باطل نے اختیار کیے وہی ہر باطل ہر حق کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ باطل ایک ہی قسم کے اسباب و وسائل لے کر حق کے مقابلے میں آتا ہے۔ لہٰذا حق کے اسباب اور وسائل بھی وہی ہونے چاہئیں۔ جو اللہ نے اختیار کیے ہیں۔

وہ حقائق کیا ہیں جن کے اندر داعیان حق کو رہنا چاہئے ؟ یہ وہی ہیں جو داعی اول نبی ﷺ کو سکھائے گئے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ دعوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یہ کام اللہ کا ہے۔ دوسری بات یہ کہ یہ حق جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اس کے ساتھ باطل کا آمیزہ نہیں ہوسکتا۔ نہ اہل حق اور اہل باطل کے درمیان باہم تعاون ہوسکتا ہے۔ یا کچھ لو اور کچھ دو پر سودا بازی ہوسکتی ہے۔ اس لئے کہ دونوں کے منہاج باہم مختلف ہیں ، دونوں کے راستے جدا ہیں۔ اگر کسی وقت باطل اپنی قوت اور دبدبے کی وجہ سے غالب ہوتا ہے تو اس میں بھی اللہ کی رضا اور حکمت ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کے لئے صبر ضروری ہوتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ اور اہل حق کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ صبر ، نماز اور تسبیح اور تہلیل اور ذکر وفکر کے ذریعہ مشکلات پر قابو پائیں .... یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کا ادراک ان تمام لوگوں کو اچھی طرح کرلینا چاہئے جو دعوت دین لے کر اٹھتے ہیں۔

اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کے منہاج اور طریق کار کے درمیان جو جاہلیت کا منہاج ہے۔ اور اسلامی منہاج اور طریق کار کے درمیان جو خدائی منہاج ہے۔ مکمل جدائی اور فرق ہے۔ یہ لوگ اپنا بھلا نہیں چاہتے ، ان کے اغراض ومقاصد نہایت گرے پڑے ہیں اور ان کی سوچ بہت ہی چھوٹی ہے۔ کیا فرق ہے دونوں میں ؟

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۲۷

ان ھؤلآئ ........................ ثقیلا

” یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز (دنیا) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں “۔ یہ لوگ جن کی امیدیں نہایت ہی قریبی ہیں ، جو نہایت ہی چھوٹی چیزوں کو بڑی اور اہم سمجھتے ہیں ، جن کی سوچ اور جن کے مطالبے بہت ہی چھوٹے ہیں۔ یہ چھوٹے لوگ ہیں اور یہ اس دنیا ہی میں گم ہیں ، دنیا کے شب وروز ہی ان کے لئے اہم ہیں۔ اور وہ عظیم اور ثقیل دن اور بھاری ذمہ داریوں کا دن ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ حالانکہ وہ بہت ہی بھاری دن ہوگا۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کی اطاعت کسی چیز میں نہیں کی جاسکتی۔ جن کا اتباع کسی راہ پر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مومنین کے ساتھ کسی دورا ہے پر ملتے ہی نہیں ، کسی نکتے پر ہم مقصد نہیں۔ ان کی نظریں دنیا پر ہیں ، دنیا کے اقتدار اور مال واسباب پر ہیں ، جو نہایت ہی حقیر وقلیل قدروقیمت کی حامل ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اصل چیز سے غافل ہیں۔ یہ لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز کو حاصل کرتے ہیں اور وہ بھاری نتائج کا دن جب یہ زنجیروں اور طوق وسلاسل میں کجڑے ہوں گے اور سخت حساب و کتاب ہوگا۔ اسے یہ بھولے ہوئے ہیں۔

اس آیت میں روئے سخن تو نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی طرف ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اور ان کے ساتھ سلوک ایسا ہونا چاہئے لیکن بالواسطہ یہ ان لوگوں کی ایک قسم کی دھمکی ہے جو دنیا پرست ہیں اور دنیا کے اہتمامات میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ایسے دنیا پرست لوگ درحقیقت اسلامی تحریک کے کام کے نہیں۔

اب یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ ہی نے ان کو یہ حالات دیئے ہیں ، یہ قوت ، یہ مقام ، یہ شوکت ، ان کو اللہ ہی نے دی ہے۔ اور اللہ اس پر قادر ہے کہ ان لوگوں کو ضعیف وناتواں بنادے اور ان سے ان کی یہ حالت چھین لے لیکن اللہ کے کام گہری حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور اس دنیا کو ایک طویل عرصے سے اپنی حکمتوں کے مطابق چلاتا آرہا ہے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۲۸

نحن خلقنھم .................... تبدیلا

یہ ذرا ان لوگوں کو تنبیہہ اور تذکیر ہے جو اپنی قوتوں پر مغرور ہیں کہ تمہاری قوت بلکہ تمہارے وجود کا سرچشمہ بھی درحقیقت ہم ہیں۔ اور اس کے بعد مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اگرچہ تم قلیل و ضعیف ہو لیکن تم جس ذات کی دعوت لے کر اٹھے ہو وہ نہایت ہی قوت والی ذات ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمام واقعات اللہ کی قدرت سے وجود میں آتے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ کی قدرت کار فرما ہوتی ہے۔ اور تمام امور اس کی حکمت کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور وہ احکم الحاکمین ہے۔

واذا شئنا ................ تبدیلا (۱۸:۷۶) ” اور جب ہم چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔ اللہ کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ یو قوت اللہ ہی نے ان کو دی ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے مقابلے میں ایک دوسری قوم اٹھا دے جو ان کی جگہ لے لے۔ اللہ نے جو ابھی تک ان کو مہلت دی ہے اور ان کی جگہ دوسری قوت نہیں اٹھائی تو یہ اللہ کا فضل وکرم ہے اور اس کا فیصلہ اور حکمت ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور آپ کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اہل ایمان کے موقف اور دوسروں کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو اس دنیا کے معاملات میں غرق ہیں ، جو اپنی قوت پر مغرور ہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں ، یا نہ کریں کہ شکر ادا کرنے کی بجائے وہ اللہ کی نعمتوں کو ذریعہ غرور بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ نعمتیں اور یہ مہلت دراصل آزمائش ہے۔ جس طرح سورت کے آغاز میں تصریح کی گئی تھی۔

اس کے بعد ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کی ایک ایک گھڑی تمہارے لئے بہت قیمتی ہے ، قرآن کریم اللہ کی رحمت ہے۔ یہ مسلسل نازل ہورہا ہے اور یہ سورت بھی ایک تذکرہ ہے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۲۹

ان ھذہ .................... سبیلا

اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۳۰

وما تشاءون .................... حکیما

یہ اس لئے تاکہ انسانوں کے دل یہ جان لیں کہ فاعل مختار دراصل اللہ ہے۔ وہی متصرف اور زبردستی کنٹرول کرنے والا ہے تاکہ سب دل اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے کہ اصل فاعل مختار اللہ ہے لیکن اللہ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ حق و باطل کو سمجھ سکے اور اللہ کی مشیت کے مطابق سچائی یا باطل کی طرف اپنا رخ کرسکے۔ اس کے لئے اللہ نے انسان کو علم ومعرفت بھی عطا کیا۔ اور رسول بھیج کر انسانوں کو حق و باطل کا راستہ بھی اچھی طرح سمجھایا۔ اور قرآن اور دوسری کتابیں اتار کر راستے کی نشاندہی بھی کردی۔ لیکن یہ سب امور اللہ کی قدرت اور مشیت کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ کی طرف اپنا رخ کرتا ہے۔ اللہ اسے راہ راست کی طرف آنے کی توفیق دیتا ہے۔ جب وہ اپنا رخ اللہ کی طرف نہ کرے اور اللہ کے سامنے دست بدعا نہ ہو تو وہ ہدایت و فلاح سے محروم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو توفیق نہیں ہوتی۔

سُورَةُ الإِنسَانِ: ۳۱

یدخل ............................ الیما

غرض اللہ کی مشیت بےقید ہے ، جس طرح چاہے فیصلہ کردے ۔ اگر اللہ چاہے تو کسی کو بھی اپنی رحمت میں داخل کردے۔ انسانوں میں سے ہو ، جو بھی اس کی رحمت میں داخل ہونے کی التجا کرے۔ اس کی اطاعت پر اللہ کی مدد طلب کریں۔ ہدایت کی توفیق کے طلبگار ہوں جبکہ ظالموں کے لئے اس نے عذاب تیار کررکھا ہے ، جو بہت درد ناک ہے اور اللہ نے ان کو اس جہاں میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ وہ عذاب الیم تک جا پہنچیں۔

سورت کا یہ خاتمہ اس کے آغاز سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں آزمائش کا آخری انجام بتلایا گیا ہے۔ جس کے لئے اللہ نے انسان کو نطفہ امشاج (مخلوط نطفے) سے پیدا کیا ہے جس کے لئے اللہ نے انسان کو سمع وبصر عطا کیا۔ اور جنت اور دوزخ کا راستہ بتلایا ہے۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ
سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱–۷

والمرسلت ........................................ لواقع

مسئلہ دراصل وقوع قیامت کا ہے۔ مشرکین مکہ کے لئے اس کا سمجھنا مشکل ہورہا تھا کہ آیا یہ کس طرح واقع ہوگی۔ قرآن کریم نے اس مسئلہ کو مختلف اسالیب میں ، مختلف دلائل و شواہد کے ساتھ بیان فرمایا۔ یہ مسئلہ ان لوگوں کے ذہن میں اٹھانا بہت ہی ضروری تھا ، اس لئے کہ اس کے سوا اسلامی نظریہ حیات ان کے ذہن میں بیٹھ ہی نہ سکتا تھا۔ اور نہ ان کی زندگی کی قدریں صحیح طرح متعین ہوسکتی تھیں۔ اور نہ زندگی کے اصول اور فروغ وضع ہوسکتے تھے۔ تمام آسمانی کتب اور عقائد میں وقوع قیامت کا عقیدہ پہلا زینہ رہا ہے۔ دراصل انسانی زندگی کی اصلاح اور صحیح تعمیر اس کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کی زندگی اور اس کے اعمال کا دارومدار اسی عقیدے پر ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف پہلوﺅں کو صرف اس عقیدے کے ذریعہ ہی درست کیا جاسکتا ہے۔ اور انسان کے لئے صحیح قیامت کی جوابدہی کے تصور ہی سے کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس عقیدے کو عربوں کے ذہن میں بٹھانے کے لئے اس قدر طویل جدوجہد کی تاکہ وہ اس پر اچھی طرح یقین پیدا کرلیں۔

سورت کے آغاز میں اللہ کی قسم اٹھاتا ہے کہ آخرت کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ اور قسم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن امور پر اللہ نے قسم اٹھائی ہے وہ بھی غیبی حقائق ہیں۔ ایسی قوتیں ہی پوشیدہ ہیں اور اس کائنات کے نظام میں وہ بہت ہی موثر ہیں جس طرح انسانی زندگی کے اندر بھی موثر ہیں۔ سلف صالحین نے ان کے مفہوم کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ ان تمام الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں ، بعض نے کہا کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ بعض نے کہا کہ بعض الفاظ سے مراد ہوائیں ہیں اور بعض سے مراد ملائکہ ہیں۔ ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا مفہوم اور مدلول بہرحال مجمل اور پوشیدہ ہے۔ اور یہاجمال ، غموض اور عدم وضاحت اس حقیقت کے زیادہ مناسب ہے۔ جس پر قسم اٹھائی جارہی ہے کیونکہ وہ بھی غیبی حقیقت ہے اور جس طرح وہ چیزیں جن کی قسم اٹھائی جارہی ہے ، خواہ فرشتے ہوں یا ہوائیں ہوں ، انسانی زندگی میں موثر ہیں۔ اسی طرح قیامت بھی انسانی زندگی میں موثر ہوگی۔

والمرسلت عرفا (۱:۷۷) ” قسم ہے ان کی جو پے درپے بھیجے جاتے ہیں “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے مراد ملائکہ ہیں۔ مسروق ، ابوالضحیٰ ، مجاہد سے ایک روایت کے مطابق : سدی ، ربیع ابن انس ابو صالح (ایک روایت کے مطابق) سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ قسم ہے ان فرشتوں کی جن کو احکامات الٰہیہ کے ساتھ پے درپے بھیجا جاتا ہے۔ جس طرح گھوڑے کی گردن کے بال (ایال) لمبے اور مسلسل ہوتے ہیں۔ ایک لائن میں اسی طرح یہ فرشتے پے درپے آتے ہیں۔ یہی بات انہوں نے عاصفات ، ناشرات ، فارقات اور ملقلیت کے بارے میں کہی ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔

اور حضرت ابن سعود سے روایت ہے کہ المرسلات عرفا سے مراد ہوئیں ہیں ، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ وہ مسلسل اور پے درپے چلتی ہیں جس طرح گھوڑے کے ایال چلتے ہیں۔ یہی رائے انکی عاصفات اور ناشرات کے بارے میں ہے۔ حضرت ابن عباس ، مجاہد ، قتادہ اور ابوصالح نے (ایک روایت کے مطابق) بھی اس کی تائید کی۔

ابن جریر نے المرسلات کے بارے میں توقف کیا ہے کہ اس سے مراد ملائکہ ہیں یا ہوائیں اللہ ہی جانتا ہے۔ لیکن عاصفات سے انہوں نے قطعاً مراد ہوائیں لی ہیں۔ یہی بات انہوں نے ناشرات کے بارے میں کہی کہ یہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو بکھیرتی ہیں۔

اور حضرت ابن مسعود سے روایت ہے (الفارقات فرقا ، الملقیات ذکرا ، عذرا ونذرا) سے مراد فرشتے ہیں۔ یہی رائے حضرت ابن عباس ، مسروق ، مجاہد ، قتادہ ربیع ابن انس ، سدی اور ثوری سے منقول ہے۔ اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے احکام لے کر رسولوں پر آتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ رسولوں پر وحی کا القا کرتے ہیں ، جس کے اندر لوگوں کے لئے ذرا اوالورا تمام حجت ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ ان الفاظ یا ان کے اس مفہوم کو ارادتاً مجہول رکھا گیا ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے مثلاً (الذاریات ذروا) اور (النازغات غرقا) کے مفہوم کو ارادتاً مجمل رکھا گیا ہے۔ نیز متقدمین نے ان کے مفہوم میں جو اختلاف کیا ہے یہ بھی دلیل ہے اس امرپر کہ ان الفاظ کے مفہوم مقسم بہ کو مہم رکھا گیا ہے اور ان مقامات پر ابہام اصل مقصود تھا۔ لہٰذا اشاراتی انداز ہی اس مقام پر زیادہ موزوں ہے۔ یہ الفاظ اور ان کی مبہم اشارات اور ان کا تسلسل اور ترنم اور ان کی پدا کردہ فضا انسانی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ اور یہ ارتعاش اور کام ابھارنا اس سورت کے موضوع اور سورت کے رخ کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔ اس سورت کا ہر مقطع دراصل انسان کو ایک شدید جھٹکا دیتا اور جھنجھوڑتا ہے کہ باز آجاﺅ ان بداعمالیوں سے اور اللہ کی ظاہر اور باہر اور حقیقی آیات ونشانات کا انکار نہ کرو۔ اور اگر تم باز نہیں آتے تو پھر تکذیب پر اصرار کرنے والوں کے متعین انجام کے لئے تیار ہوجاﺅ۔

ویل ............................ للمکذبین ” اس دن انکار کرنے والوں کے لئے ہلاکت ہے “۔

اس کے بعد انسانی فکر ونظر اور شعور کو ایک شدید جھٹکا دیا جاتا ہے کہ جب وہ دن آئے گا جس کا تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ جس دن تمام رسول اپنی کارکردگی پیش کریں گے اور جس دن لوگوں کی اعمال کے فیصلے ہوں گے تو وہ کیسا دن ہوگا۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۸–۱۰

فاذا النجوم ............................ للمکذبین

جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور ان کی روشنی چلی جائے گی۔ اور جب آسمان میں دراڑیں پڑجائیں گی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑادیئے جائیں گے۔ اس قسم کے مناظر اور مشاہد کو قرآن کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ نظر آنے والی کائنات ایسی نہ رہے گی اور اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ یہ کر ات سماوی ریزہ ریزہ ہوں گے۔ بہت عظیم دھماکے ہوں گے ، یہ عظیم دھماکے ایسے ہی ہوں گے جس طرح کے دھماکے معمولی پیمانے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے معمولی پیمانے کے ، وہ زلزلوں اور آتش فشانی کی شکل میں دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا قیامت کے دن یہ زلزلے ، دھماکے ، آتش فشانی کے واقعات بہت بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ جس طرح عید اور شب قدر کے موقعہ پر بچے آتش فشانی کرتے ہیں یا مثلاً ایٹمی دھماکے اور ہائیڈروجن کے دھماکے۔ لیکن پوری کائنات کے کر ات کے باہم ٹکرانے سے جو ہولناکیاں پیدا ہوں گی وہ بہت عظیم ہوں گے۔ وہ انسانی تصور سے بالا ہیں اور ان دھماکوں کے بعد پھر انسانوں کا زندہ موجود رہنا اور تماشے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

ان دھماکوں اور ہولناکیوں کے بعد پھر یہ سورت بتاتی ہے کہ ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا اور وہ یہ کہ رسولوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے فریضہ رسالت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد ﷺ تک رسولوں کی حاضری کا وقت آجائے گا۔ اور یہ حساب و کتاب اس قدر عظیم ہوگا جس کے لئے اس پوری کائنات کے اندر زلزلہ برپا کرکے میدان ہموار کیا گیا۔ زمینی زندگی کے تمام فیصلے اب ہوں گے۔ اور ہر فیصلے اللہ کے احکام کے تحت ہوں گے۔ اور تمام نسلوں کے انجام کا آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔

قرآن کریم نے اس مسئلے کو نہایت ہی ہولناک انداز میں پیش کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی عظیم حقیقت ہے۔ اس قدر عظیم کہ انسان اچھی طرح اس کا اور اک بھی نہیں کرسکتا۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱۱–۱۴

واذا ........................ الفضل (۱۱:۷۷ تا ۱۴) ” اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ “

اس انداز تعبیر ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عظیم بات کا ذکر ہورہا ہے۔ جب انسانی شعور کے پردے پر اس قدر ہولناکی اور خوف طاری ہوگیا ، کیونکہ رسول جو ابدہی کے لئے طلب ہوگئے اور ستارے بےنور ہوگئے اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ گئے تو اس خوف وہراس کی حالت میں یہ ڈر اور آتا ہے۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱۵

ویل ................ للمکذبین (۱۵:۷۷) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ ڈراوا اللہ عزیز اور جبار کی طرف سے ہے اور ان حالات کے بعد ہے جو اس کائنات پر طاری کردیئے گئے۔ اور رسول حاضر ہوگئے اور ان سے بھی کارکردگی کی رپورٹ طلب ہونے لگی۔ اور وہ ایک ایک کرکے حساب پیش کرنے لگے ، تو ایسے حالات میں یہ ڈراوا بہرحال بےحد موثر ہوتا ہے۔ اور واقعی ایک احساس انسا پر مارے خوف کے غشی آنے لگتی ہے۔

اب یوم الفصل اور یوم الحساب کی ان خوفناکیوں سے کھینچ کر انسان کو خود اس دنیا کی انسانی تاریخ کی طرف لایا جاتا ہے کہ اسے مبہوت انسان ذرا اپنی تاریخ پر غور کرو۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱۶–۱۷

الم نھلک ........................ للمکذبین

یوں ایک ہی چوٹ میں اقوام وملل سابقین کی ہلاکتوں کی ایک جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور بعد میں آنے والوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ بعید اور تاریخ قریب میں ہلاک شدہ اقوام کی مثالیں بیشمار ہیں۔ دور دور تک اور قریب قریب کے زمانوں میں اقوام کی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی ہیں۔ اور زبان حال سے سنت الٰہی کی گونج نظر آتی ہے اور سنائی دیتی ہے۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱۸

کذلک ................ مین (۱۸:۷۷) ” مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں “۔ یہ تو اللہ کی سنت جاریہ ہے۔ کبھی رکتی نہیں ، کبھی اپنا راستہ بدلتی نہیں۔ جب مجرمین جان لیتے ہیں کہ ان کا انجام ان دور کے مجرمین اور قریب کے مجرمین والا ہونے والا ہے تو ان پر ہلاکت کی بددعا آتی ہے اور اللہ کی طرف سے بددعا تو حکم ہلاکت ہوتی ہے۔

سُورَةُ المُرۡسَلَاتِ: ۱۹

ویل ............ للمکذبین (۱۹:۷۷) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔

اب ہمارا سفر پھر ایک موڑ لیتا ہے۔ بربادیوں اور ہلاکتوں اور لاشوں کے مشاہدے سے بالکل مختلف تخلیق اور تعمیر کا سفر کہ اللہ کا نظام تخلیق اور نظام ربوبیت اور نظام تدبیر کس طرح کام کرتا ہے۔

580