بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًۭا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ الكَافِرُونَ
سُورَةُ الكَافِرُونَ: ۱–۶

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔

قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔

قل ............ الکفرون (۱:۱۰۹) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی الواقعہ موجود ہے۔ درحقیقت وہ کسی دین کے پیرونہ تھے اور درحقیقت وہ مومن نہ تھے ، وہ کافر تھے۔ لہٰذا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک نہیں ہے۔

اس طرح سورت کے آغاز ہی سے یہ اشارہ دے دیا جتا ا ہے اور چھوٹتے ہی یہ بات واضح کردی جاتی ہے کہ ایک مسلم مومن اور کافر کے درمیان کبھی بھی اتحاد نہیں ہوسکتا۔

لااعبدما تعبدون (۲:۱۰۹) ” میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو “۔ میری عبادت تمہاری عبادت سے مختلف ہے اور میرا معبود تمہارے معبود سے مختلف ہے۔

ولا انتم .................... اعبد (۳:۱۰۹) ” نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو ، جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ اس لئے کہ تمہاری عبادت میری عبادت سے مختلف ہے اور تمہارا معبود میرے معبود سوا ہے۔

ولا انا .................... ماعبدتم (۴:۱۰۹) ” اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی تم نے عبادت کی ہے “۔ پہ پہلے فقرے کی تاقید ہے لیکن یہ جملہ اسمیہ منفیہ کے ذریعے نفی ہے۔ جملہ اسمیہ منفیہ نہایت مضبوطی ، دوام اور تسلسل کے مفہوم میں کسی امر کی نفی کرتا ہے۔

ولا انتم .................... اعبد (۵:۱۰۹) ” اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں “۔ یہ دوسرے فقرے کی تاکید ہے تاکہ اس معاملے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر مکرر تاکیدات کے بعد شک و شبہ کی کوئی گنجائش بھی نہیں رہتی۔

اس کے بعد نہایت اجمالی طور پر ایک ہی فقرے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایسی تفریق کردی جاتی ہے جس میں کوئی اتحاد نہیں رہتا۔ اس قدر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے بعد کوئی اتصال نہیں رہتا ، دونوں کے درمیان اس قدر جدائی ہوجاتی ہے کہ جس کے بعد کوئی ملاپ متصور نہیں رہتا۔

لکم دینکم ولی دین (۶:۱۰۹) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے “۔ میں یہاں اپنے موقف پر ڈٹا ہوں اور تم اپنے موقف پر ڈٹے ہو ، دونوں کے درمیان کوئی پل نہیں ہے جس پر یہ فریق مل سکیں۔ دونوں کے درمیان مکمل جدائی ہے۔ ایک واضح امتیاز اور گہری جدائی۔

یہ مکمل جدائی ضروری بھی تھی ، تاکہ کفر واسلام کے درمیان پائے جانے والے جوہری تضاد کے خدوخال واضح تر ہوجائیں ، جن کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی سمجھ لے کہ دونوں کے درمیان مصالحت اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ اختلاف بنیادی نظریات میں ہے۔ اصل تصور اور منہاج زندگی ، دونوں میں مختلف ہے اور طرززندگی بھی بالکل جدا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ توحید ایک مکمل نظام ہے۔ شرک ایک متضاد نظام ہے۔ ان کا باہم ملاپ ممکن ہی نہیں ۔ توحید ایک ایسا نظام اور تصور ہے جو انسان کو اس پوری کائنات کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس جہت اور سمت کا تعین کردیتا ہے جہاں سے انسان نے اپنی پوری زندگی کے لئے ہدایات لینی ہے ، عقائد بھی اور قانون بھی۔ اقدار حیات اور پیمانے بھی۔ آداب اور اخلاق بھی ، غرض اس زندگی اور اس کائنات کے بارے میں مکمل فلسفہ انسان اسی جہت سے لیتا ہے اور یہ جہت جہاں سے مومن یہ سب کچھ لیتا ہے ذات باری تعالیٰ کی جہت ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے۔ اس لئے اسلامی نظام زندگی میں زندگی کے تمام معاملات اسی اصول پر قائم ہوتے ہیں اور اس نظام میں اللہ کی ذات کے ساتھ کوئی شرک نہیں ہوتا۔ اسی طرز پر زندگی چلتی ہے۔ یہ فیصلہ کن جدائی اسلامی نقطہ نظر سے داعی کے لئے بھی ضروری ہے اور جن کو دعوت دی جارہی ہے ۔ ان کے لئے بھی ضروری ہے۔

بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ خالص اسلامی تصور حیات اور جاہلی تصور حیات آپس میں مل جاتے ہیں خصوصاً ان سوسائٹیوں میں جنہوں نے پہلے خالص اسلامی تصور کو قبول کرلیا ہوتا ہے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ان کے اندر انحراف پیدا ہوجاتا ہے ، اس قسم کی سوسائٹیوں کے سامنے جب خالص ایمانی دعوت پیش کی جاتی ہے اور ان کے سامنے اسلامی نظام کو سیدھے سادھے طریقے سے بغیر کسی ملاوٹ کے پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ اس دعوت پر بہت سختی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے مقابلے میں ان لوگوں کا رویہ زیادہ معقول ہوتا ہے جن تک کبھی اسلامی دعوت پہنچی ہی نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جن سوسائٹیوں نے اسلام قبول کیا ہوتا ہے اور بعد کے ادوار میں وہ منحرف ہوچکی ہوتی ہیں ، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ بھی تو ہدایت پر ہیں حالانکہ ان کے عقائد و اعمال میں صالح کے ساتھ فاسد کی ملاوٹ ہوچکی ہوتی ہے۔ ایی سوسائٹیوں میں کام کرنے والے ان داعیوں کو بھی بعض اوقات دھوکہ لگ جاتا ہے جو ایسی سوسائٹیوں کے صالح جانب کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے برے پہلو بدلنا چاہتے ہیں اور خود ایسی سوسائٹیوں کے برے پہلو سے دھوکہ کھاجاتے ہیں اور یہ ھو کہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت جاہلیت ہے۔ ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ اصل طریق کار یہ ہے کہ لوگ جاہلیت سے پوری طرح نکل آئیں اور جاہلیت کے ہر رنگ سے پوری طرح نکل کر اسلام کی طرف ہجرت کرآئیں۔

اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ داعی مکمل شعور کے ساتھ جاہلیت سے نکل کر اسلام کی طرف آجائے۔ اپنے تصورات اور نظریات کے لحاظ سے ، اپنے اعمال اور طریق کار کے لحاظ سے اور یہ جدائی ایسی ہو کہ ان دونوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو ، کوئی تہذیبی مصالحت نہ ہو اور جب کوئی پوری طرح جاہلیت سے نکل کر اسلام میں آجائے تو اس کے بعد پھر دونوں کے درمیان کوئی تعاون باقی نہیں رہتا۔ پھر یہ نہیں ہوتا کہ اسلام کی گدڑی میں کسی دوسرے کلچر کے پارچے اور پیوند لگیں ، نہ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول چلتا ہے۔ نہ ادھر سے جھکاﺅ اور ادھر سے جھکاﺅ ہوتا ہے۔ اگرچہ جاہلیت اسلام کے روپ میں آئے اور اسلام کے عنوان سے بات کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی داعی کے لئے سب سے پہلے یہ بات ضروری ہے کہ اس زاویہ سے اس کا ذہن صاف ہو ، یہ بنیادی بات ہے۔ وہ مکمل شعور رکھتا ہو کہ وہ اس سوسائٹی سے ایک بیگانہ شخص ہے ، اس کا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے۔ ان کا اپنا طریقہ ہے۔ میرا اپنا طریقہ ہے۔ اور وہ ایک قدم بھی ایسے لوگوں کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ لہٰذا اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ہی راستے پر چلے اور بغیر کسی مداہنت کے وہ اپنے راستے میں اس طرح ڈٹا ہوا ہو کہ اس کا ایک قدم بھی اپنی جگہ سے نہ ہے۔ غرض مکمل برات کا اعلان ضروری ہے ، مکمل جدائی ضروری ہے اور صریح اور فیصلہ کن بات ضروری ہے۔

لکم دینکم ولی دین (۶:۱۰۹) ” تمہارا اپنا دین ہے اور میرا اپنا دین ہے “۔

آج کے داعیان حق اس بات کے محتاج ہیں اور ان کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ وہ جاہلیت جدید کے مقابلے میں اپنی مکمل برات کا اعلان کریں اور دو ٹوی اور فیصلہ کن جائی کا اعلان کردیں۔ آج کے داعی اس شعور کے محتاج ہیں کہ وہ اچھی طرح جان لیں کہ دراصل وہ مکمل جاہلانہ اور کافرانہ معاشرے میں ازسرنو اسلام کا اجراء واحیا چاہتے ہیں اور ان کو ایسے معاشروں سے سابقہ درپیش ہے جو پہلے صحیح مسلمان تھے ۔ ان پر ایک طویل عرصہ گزر گیا۔

فقست ........................ فسقون ” ان پر بہت مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہوگئے ہیں “۔ اس کے علاوہ کوئی درمیانی صورت نہیں ہے۔ نہ کچھ لو اور کچھ دو کا معاملہ ہوسکتا ہے ، نہ یہ بات ہے کہ سوسائٹی تو اسلامی ہے ، چند عیوب کی اصلاح چاہئے ، کملی تو درست ہے ایک پارچہ لگنا درکار ہے ، اصل طریقہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف اسی طرح مکمل دعوت دی جائے جس طرح آغاز اسلام میں داعی حق نے مکمل دعوت دی تھی ، جبکہ وہ ایک جاہلی سوسائٹی کو بدل رہے تھے۔ اسلام اور جاہلیت کے درمیان مکمل جدائی اور تفریق ضروری ہے۔ یہ ہے میرا دین ، خالص اپنے عقائد ونظریات میں ، اپنی شریعت اور قانون میں ، اپنے تصورات و افکار ہیں یہ سب اللہ سے ماخوذ ہیں۔ اس میں شرک کا کوئی شائبہ اور آمیزہ نہیں ہے اور انسانی زندگی کے ہر پہلو ، انسانی طرز عمل کے ہر رخ پر۔

اس فیصلہ کن جدائی کے سوا کوئی چارہ نہیں ورنہ جاہلیت کے ساتھ التباس رہے گا۔ اسلامی کلچر میں دوسرے کلچروں کی پیوند کاری ہوگی اور جو بھی تحریک چلے گی وہ کمزور اور ضعیف بنیادوں پر ہوگی۔ اسلامی دعوت وتحریک کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرات مندی کے ساتھ دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں دی جائے اور یہی طریق کار تھا داعی اول کا۔ وہ صاف صاف کہتے تھے۔

لکم دینکم ولی دین (۶:۱۰۹) ” تمہارے لئے تمہارا دین ہے ۔ اور میرے لئے میرا دین ہے “۔

سُورَةُ النَّصۡرِ
سُورَةُ النَّصۡرِ: ۱–۳

“۔ اس سورت کی پہلی آیت ہی میں ایک متعین اشارہ ہے ، اور یہ اشارہ کائناتی واقعات کے بارے میں ایک خاص تصویر پیدا کرتا ہے اور اس تصور میں یہ بتلایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں اہل ایمان کا کردار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا کردار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی اور ان کائناتی واقعات وحادثات میں اہل ایمان اور نبی کے دائرہ کار کی حد کیا ہے۔ یہ اشارہ اس فقرے میں ہے۔

اذا جآء ........................ والفتح (۱:۱۱۰) ” جب اللہ کی مدد پہنچ جائے “ میں ہے۔ تمام دارومدار اللہ کی نصرت پر ہے اور اللہ کا وقت مقرر ہے ، جس شکل میں نصرت آئے گی وہ بھی متعین ہے ، جس مقصد کے لئے یہ نصرت ہوگی وہ بھی مقرر ہے۔ نبی اور اس کے ساتھیوں کا اس کی آمد کے سلسلے میں کوئی اختیار نہیں ہے۔ اور نہ ان کا نصرت الٰہیہ میں کچھ کردار ہے۔ نہ اس نصرت کے سلسلے میں ان کی ذاتی کمائی کا کوئی دخل ہے۔ نہ ان کی ذاتوں کا کوئی حصہ ہے۔ یہ نصرت ایک ایسا واقعہ ہے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی شخصیات سے نہیں ، باہر سے آتی ہے۔ ان کے لئے یہی اعزاز کافی ہے کہ اللہ یہ نصرت بظاہر ان کے ذریعہ لاتا ہے اور ان کو اس نصرت کا چوکیدار مقرر کرتا ہے اور اس نصرت اور فتح کے امین ہوتے ہیں۔ پس فتح ونصرت میں ان کا حصہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ جوق درجوق دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ بھی اور دوسرے لوگ بھی۔

اس اشارے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فکر کی روشنی میں ۔ اس اعزاز اور تکریم کے حوالے سے جو ان کے ہاتھوں نصرت اور فتح کے ظہور کے سلسلے میں ہوا۔ رسول اللہ اور آپ کے ساتھیوں کی حیثیت کا تعین ہوجاتا ہے۔ ان کی شان اور حیثیت اب یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوکر سراسر سپاس بن جائیں۔ اللہ کی حمدوثنا کریں اور اپنی کوتاہیوں پر مغفرت کی دعا کریں۔ یہ حمدوثنا اور شکر اس بات پر کہ اللہ نے ان کو اسلامی انقلاب کا امین اور نگراں بنایا اور اپنے دین کی نصرت فرما کر اور اسے غالب فرما کر پوری انسانیت پر احسان فرمایا۔ رسول اللہ فاتح ہوئے ، لوگ فوج درفوج اس خبرکثیر میں داخل ہوئے حالانکہ اس سے قبل وہ اندھے تھے ، گمراہ تھے اور سخت خسارے میں تھے۔

استغفار کس لئے ، یہ ان نفسیاتی عوامل کے لئے ہے جو نہایت لطیف انداز میں دلوں میں داخل ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ جب کوئی قوت ایک طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد برسراقتدار آتی ہے تو فتح و کامرانی کے نشے میں اس کی نفسیات میں ایک قسم کا غرور چپکے سے داخل ہوجاتا ہے ، پھر مشکلات اور قربانیوں کے بعد انسان سے خوشیوں میں کچھ کو تاہیاں بھی ہوجاتی ہیں ، ان خفیہ نفسیاتی وائرس سے صرف توبہ و استغفار کے ذریعہ بچا جاسکتا ہے ، اس لئے یہاں استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ استغفار اس لئے بھی ہے کہ طویل جدوجہد کے زمانے میں انتھک حالات کے نتیجے میں شدید مشکلات اور نہایت گہرے کربناک حالات کی وجہ سے انسانی قلب میں گھٹن آجاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اللہ کی نصرت کے پہنچے میں دیر ہوگئی ہے ، اور داعی کو ہلامارا جاتا ہے۔ جیسا کہ بقرہ (۱۱۴) میں کہا گیا ہے۔

ام حسبتم .................................... اللہ قریب (۲۱۴:۲) ” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاﺅ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تم سے پہلے اہل ایمان کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ فقر وفاقہ اور شدائد وآلام سے دوچار ہوئے اور ہلا مارے گئے یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ، سنو اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اس لئے حکم دیا گیا کہ استغفار کرو۔

استغفار کا حکم اس لئے بھی دیا گیا کہ اللہ کی حمدوثنا میں انسان سے تقصیر ہوجاتی ہے۔ پس انسان کی جدوجہد جس قدر بھی زیادہ ہو ، وہ محدود ہوتی ہے اور انسان ضعیف ہے۔ اور اللہ کی نعمتیں ہمیشہ بیشمار ہیں اور اس کا فیض عام ہے۔

وان تعدو ........................ تحصوھا (۳۴:۱۴) ” اگر تم اللہ کے احسانات کو شمار کرو تو تم ان کا استعصا اور احاطہ نہیں کرسکتے “۔ لہٰذا اس تقصیر پر استغفار کا حکم دیا گیا۔

فتح و کامرانی کے موقعہ پر تسبیح و استغفار میں ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ فخر ومباہات کے مقام پر نفس کے اندر یہ شعور پیدا کیا جائے کہ انسان تو ہمیشہ عجز اور تقصیر کے مقام پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ بڑوں کی سطح سے ذرا نیچے اتر آئے۔ اور اپنے رب سے اپنی تقصیرات کی معافی طلب کرے۔ اس طرح انسانی شعور اور انسانی نفسیات سے فخرومباہات کے میلانات کا صفایا ہوجاتا ہے۔

اگر ایک فاتح کے دل میں یہ شعور بیٹھ جائے کہ وہ عجز اور تقصیر کا پتلا ہے اور اسے اپنی تقصیرات پر اللہ سے دعائے مغفرت کرنا چاہئے تو ایسا فاتح کبھی بھی مفتوح لوگوں پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔ ایسا شخص تو یوں سوچتا ہے کہ یہ تو اللہ کی ذات ہے جس کی نصرت کی وجہ سے وہ ان لوگوں پر مقتدر اعلیٰ بن گیا ہے۔ اگر اللہ کی نصرت نہ ہوتی تو وہ توبندہ ناچیز دیر تقصیر ہے اور اللہ نے جو اس کو اقتدار دیا ہے تو یہ اس لئے دیا ہے کہ اللہ مفتوح لوگوں کے بارے میں کوئی خیر اور بھلائی چاہتا ہے۔ درحقیقت فتح تو اللہ کی نصرت سے میسر ہوتی ہے۔ نصرت بھی اس کی ہے اور فتح بھی اس کی ہے اور یہ فاتح کی فتح نہیں بلکہ اللہ کے دین کی فتح ہے۔ اور تمام امور کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور تمام فیصلے اللہ کی طرف لوٹتے ہیں۔

یہ ہے وہ روش اور بلند مرتبہ افق ، جس کے اوپر نظریں مرکوز کرنے کے لئے قرآن پوری انسانیت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ درجہ بدرجہ اس بلند افق تک بلند ہوتی چلی جائے۔ جو شرافت اور نیکی کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اس تک پہنچ کر انسان بڑا بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی بڑائی سے دستکش ہوجاتا ہے۔ یہاں اس کی روح آزاد ہوکر مسرت حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ وہ اللہ کی غلامی اختیار کرلیتی ہے۔

غرض یہ ایک آزادی ہے جس میں انسان اپنی ذاتی اور مادی بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی روحانی مخلوق میں سے ایک مخلوق بن جاتا ہے اور یہ ایک ایسے مقام تک جا پہنچتا ہے کہ اللہ کی رضا اس کی رضا بن جاتی ہے اور یہ مقام حاصل کرنے کے بعد پھر وہ مجاہد بن جاتا ہے اور اس کی جدوجہد کا رخ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کی صورت میں بھلائی کی نصرت کرے اور حق کو حقیقت بنادے اور پھر اسلامی نظام کے قیام کے بعد وہ اس زمین کو ایسی ترقی دے اور دنیا کو ایسی قیادت فراہم کرے کہ دنیا شروفساد سے پاک ہوجائے۔ یہ قیادت صالح ، پاک اور تعمیری ہو۔ اور اس کا مقصد ہر بھلائی کو پھیلانا اور ترقی دینا ہو۔ اور اس طرح تمام امور کا رخ اللہ کی طرف پھیر دے۔

انسان اگر اپنی ذات کے محدود کنویں کا مینڈک ہو اور اس میں قید ہو تو پھر اس کی آزادی کی مساعی عبث بن جاتی ہیں۔ وہ آزادی کے بعد اپنی خواہشات کا غلام ہوتا ہے ۔ شہوات اور خواہشات میں گرفتار ہوتا ہے ۔ انسان اگر خواہشات نفسانیہ کے دائرہ نشیب سے آزاد نہ ہو تو دوسری آزادیاں عبث ہیں ۔ اسلام چاہتا ہے کہ دوسری آزادیوں کے ساتھ انسان نفسانی خواہشات سے بھی آزاد ہوجائے تاکہ وہ اللہ کو یاد کرے اور اس کا غلام ہو ۔

یہ ہیں آداب نبوت ، جو نبوت کے ساتھ لازم رہے ہیں اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ انسانیت ان آداب نبوت کے آفاق تک بلند ہوجائے ۔ اور اگر وہاں تک نہ بھی پہنچ سکے تو اس کی نظریں اس افق پر ہوں ۔ دیکھئے یوسف (علیہ السلام) اس مقام تک پہنچے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مصر کے تمام خزائن اقتدار ان کے ہاتھ میں آچکے ہیں ۔ ان کا خواب سچا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے جب والدین کو اپنے تخت پر اٹھایا تو بھائیوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے والدین سے کہا کہ باپ ! یہ ہے میری خواب کی تعبیر ، اللہ نے اسے حقیقت بنادیا ۔ اللہ کا احسان دیکھئے کہ اس نے مجھے قید سے نکالا ، آپ لوگوں کو دیہات سے مصر لایا حالانکہ شیطان نے میرے بھائیوں کے درمیان نزاع ڈال دیا تھا۔ بیشک میرا رب لطیف تدابیر اختیار کرتا ہے اور وہ حکم وخبیر ہے۔

غرض ایسے موقعہ پر حضرت یوسف (علیہ السلام) بلندی ، سرفرازی اور خوشی اور انبساط کے ماحول سے نکل آتے ہیں اور ذکر وفکر مشغول ہوکر اپنے رب کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ وہ اقتدار کے عروج پر ہیں ان کے تمام خواب حقیقت بن گئے ہیں لیکن ان کی دعوت یہ ہے :

رب قداتیتنی .................................... بالصلحین (۱۰۱:۱۲) ” اے میرے رب ! تو نے مجھے اقتدار بھی دیا ، اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم بھی دیا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا وآخرت میں میرا کار ساز ہے۔ مجھے اسلام پر موت دے اور نیکوکاروں کے زمرے میں مجھے شامل کر “۔ یہاں جاہ واقتدار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اہل و عیال اور بہن بھائیوں کا یہ اجتماع اور ایک عرصہ بعد رشتہ داروں اور والدین کی ملاقات کی خوشی کافور ہوجاتی ہے۔ اب اس آخری منظر میں ہمیں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو رب تعالیٰ کے سامنے گڑگڑا رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ میرا اسلام محفوظ ہو اور میری سوسائٹی صالحین کے ساتھ ہو۔ اور یہ مرتبہ اللہ کے فضل وکرم سے ہی مل سکتا ہے۔

اب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے آداب زندگی ملاحظہ ہوں۔ وہ بھی ایسے حالات میں ہیں کہ طرفتہ العین میں ملکہ سبا کا تخت ان کے سامنے ہے۔ دیکھئے قرآن ایسے حالات میں قوت وجاہ کے حالات میں ان کی کیفیات کس طرح ریکارڈ کرتا ہے۔

فلما راہ ............................................ غنی کریم (۴۰:۲۷) ” جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا پایا۔ تو وہ پکار اٹھے یہ میرے رب کے فضل وکرم سے ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفران نعمت کا مرتکب ہوتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا اور جو ناشکری کرے گا میرا رب غنی اور بزرگ ہے “۔

اور یہی تھی حضرت محمد ﷺ کی روش۔ آپ کو اپنی پوری زندگی میں یہی ادب اختیار کیا اور نصرت وفتح کے موقعہ پر جسے اللہ نے آپ کے لئے خاص علامت قرار دیا تھا۔ تو حضور اپنی سواری کے اوپر جھکے ہوئے جارہے تھے۔ آپ مکہ میں اسی طرح سرجھکائے ہوئے داخل ہوئے۔ آج آپ اس مکہ میں جس نے آپ کو اذیتیں دی تھیں ، جس نے آپ کو گھر سے نکالا تھا۔ جس نے آپ کے ساتھ پے درپے جنگیں لڑیں ، جو آپ کی دعوت کی راہ میں معاندانہ طور پر ڈٹ گیا تھا۔ جب آپ کو نصرت اور فتح نصیب ہوئی تو آپ نے فتح و کامرانی کے شادیانے نہ بجائے۔ آپ رب کا شکر ادا کرتے ہوئے جھکے جارہے تھے۔ حمدوثنا میں مشغول تھے اور جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو تلقین کی تھی۔ آپ تسبیح وتہلیل اور استغفار کررہے تھے۔ جیسا کہ آثار میں آتا ہے کہ آپ کے بعد آپ کے صحابہ ؓ کا رویہ بھی ایسا ہی رہا۔ اللہ ان سے راضی ہو۔

یوں بشریت ایمان کے ذریعہ سر بلند ہوئی۔ انسانیت کا چہرہ روشن ہوگیا۔ وہ صاف و شفاف ہوگئی۔ اب انسانیت عظمت ، قوت اور آزادی کے مقام بلندتک پہنچ گئی۔

٭٭٭٭٭

سُورَةُ المَسَدِ
سُورَةُ المَسَدِ: ۱–۵

یہ سورت اللہ کی طرف سے اس لئے نازل ہوئی کہ ابولہب اور اسکی بیوی کی طرف سے برپا کی ہوئی جنگ میں حضور ﷺ کی حمایت کی جائے۔ گویا یہ معرکہ اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

تبت یدا ........................ وتب (۱:۱۱۱) ” ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہوگیا وہ “۔ تبت تباب سے مشتق ہے جس کے معنی ہلاکت ، تباہی انقطاع کے ہیں۔ یہاں تبت کے معنی ہیں بددعا کے اور دوسرے تب کے معنی ہیں کہ وہ ہلاک ہوگیا تباہ ہوگیا اور اس کا سلسلہ کٹ گیا۔ یہ خبر ہے وقوع بددعا کی۔ سورت کے آغاز ہی میں اس مختصر آیت میں بددعا اور اس کی تکمیل کا مکمل منظر ہے ۔ گویا معرکہ ختم ہوجاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔

اس کے بعد آنے والی دوسری آیت میں حقیقت واقعہ کا بیان ہے۔

ما اغنی ................ کسب (۲:۱۱۱) ” اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا “۔ اس کے ہاتھ ٹوٹ گئے ، وہ ہلاک وبرباد ہوگیا۔ اسکا مال اور اسلام کے خلاف جدوجہد اس کے کچھ کام نہ آئی اور اس کی دولت اور اس کی مکاریاں اسے ہلاکت نہ بچا سکیں۔ یہ تو تھا اس کا انجام دنیا میں۔ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا ؟

سیصلی ............................ لھب (۳:۱۱۱) ” ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا “۔ لہب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ بہت شدید اور شعلہ بار ہوگی اور سخت بھڑکی ہوئی ہوگی۔

وامراتہ .................... الحطب (۴:۱۱۱) ” اور اس کی جورو لکڑیاں اٹھانے والی “۔ بھی اس آگ میں ڈالی جائی گی ، اس حال میں کہ وہ لکڑیاں اٹھائے ہوئے ہوگی اور اس حال میں کہ۔

فی جیدھا .................... مسد (۵:۱۱۱) ” اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “۔ اور اس رسی کے ساتھ اسے آگ میں باندھ دیا جائے گا یا یہ رسی وہ ہوگی جس کے ساتھ لکڑیاں باندھی جاتی ہیں۔ اگر اس کا حقیقی معنی لیا جائے تو وہ وہاں بھی لکڑیوں اور کانٹوں کا گٹھا اٹھائے ہوئے جہنم میں جائے گی اور اگر مجازی معنی لیا جائے تو معنی یہ ہوگا اور شرارت کی آگ کو بھڑکاتی ہے۔ اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا نے کی سعی کرتی ہے۔

اس سورت کا طرز ادا اس کے موضوعات اور معانی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ سورت کی فضا کے مناسب طرز تعبیر اختیار کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں میری کتاب ” قرآن میں مناظر قیامت “ سے چند سطریں یہاں نقل کرنا ضروری ہیں۔ ان کا یہاں نقل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ اس اس سورت کے نزول سے ام جمیل کے دل میں ایک ایسا تیر لگا جس کی وجہ سے وہ برافروختہ ہوگئی اور پاگل ہوکر رہ گئی۔

” ابولہب (شعلوں کا باپ) ایک ایسی آگ میں تپایا جائے گا جو شعلہ زن ہوگی اس کی عورت جو حضور کی راہ میں خاردار جھاڑیاں لاکر ڈالتی تھی وہ جہنم میں اس حال میں گرائی جائے گی کہ اس کے گلے میں مونجھ کی رسی بندھی ہوگی “۔

” الفاظ بھی باہم متناسب اور صوتی ہم آہنگی رکھنے والے ، تصاویر بھی باہم ، یک رنگ ، بس جہنم میں اس کو گرایا جائے گا وہ شعلہ بار ہے۔ اس میں شعلوں کے باب (ابولہب) کو گرایا جائے گا۔ اس کی عورت لکڑیاں لاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ کے راستے میں ڈالتی ہے اور آپ کو ایذائیں دیتی ہے ، خواہ حقیقی معنی لیا جائے یا استعارہ۔ لکڑیوں سے آگ کو بھی بھڑکایا جاتا ہے اور ان لکڑیوں کو رسیوں میں باندھ کر لایا جاتا ہے۔ اس لئے جہنم شعلہ زن میں اسے مونجھ کی رسی سے باندھا دیا جائے گا۔ اور اسے اس رسی سے باندھ دیا جائے گا جس سے وہ لکڑیاں لاتی تھی۔ تاکہ سزا ایسی ہو جیسا اس کا جرم تھا۔ اور یہ تصویر اپنے سادہ رنگوں کے ساتھ سامنے آئے اور اس کے رنگ میں لکڑیاں ، رسی ، آگ اور شعلے ہوں۔ اور اس آگ میں میاں بیوی دونوں تپ رہے ہیں “۔

ایک دوسرے زاویہ سے بھی اس سورت میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ الفاظ کی صوتی جھنکار ، لکڑیوں کے گھٹے کے باندھنے کی آواز اور گردن کو رسی سے باندھنے کی آواز بھی باہم یکساں ہیں۔ ذرا پڑھئے۔

تبت یدا .................... وتب (۱:۱۱۱) ” ان الفاظ میں شد کی صوتی درشتگی ایسی ہی ہے جس طرح لکڑیوں کے گھٹے کو باندھنے میں سختی ہوتی ہے۔ جس طرح یہ الفاظ شدید ہیں اسی طرح گردن میں رسی باندھنے کا عمل اور اسے کھینچنا شدید ہے۔ اور پوری سورت میں اسی طرح کی گٹھن کی فضا ہے “۔

اس طرح صوتی ترنم ، عملی کشاکش کی آواز ، اور سورت کی حرکات کی جزئیات کے درمیان گہری مناسبت اور ہم آہنگی ہے۔ پھر الفاظ بھی ہم جنس ، اور تعبیر میں یکسانی کا لحاظ ، سب کے سب سورت کی فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پھر یہ تمام چیزیں سبب نزول اور سورت کے پس منظر کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہیں۔ یہ سب فنی خوبیاں صرف پانچ مختصر فقروں میں ملحوظ خاطر رکھی گئی ہیں اور قرآن کی مختصر ترین سورتوں میں سے ایک میں اس فنی کمال کو ظاہر کیا گیا ہے۔

اس سورت کی ان فنی خوبیوں کی وجہ سے اور بےپناہ اثر کی وجہ سے ام جمیل کا تاثر یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ نے کہیں اس کی ہجو کی ہے۔ یہ سورت فوراً مکہ میں پھیل گئی تھی ، جس میں میاں بیوی کی مذمت کی گئی تھی ، ان کو دھمکی دی گئی تھی اور نہایت بھدی تصویر کھینچی گئی تھی۔ یہ ایسی تصویر کشی تھی جس نے ایک خود پسند عورت کے دل کو چور چور کردیا۔ جسے اپنے نسب وحسب پر بہت ہی غرور تھا۔ جو اپنے آپ کو بہت ہی اونچے گھرانے کی عورت سمجھتی تھی۔ لیکن قرآن نے اس کی تصویر کشی یوں کی :

حمالة ........................ من مسد (۵:۱۱۱) ” عورت ، جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے اور جس کے گلے میں چھال کی رسی بندھی ہوئی ہے “۔ یہ نہایت ہی عام صورت حالات ہے جو عربوں میں عام تھی۔

ابن اسحاق کہتے ہیں مجھ تک یہ تذکرہ پہنچا ہے کہ ام جمیل حمالة الحطب نے جب اس سورت کے نزول کے بارے میں سنا کہ یہ اس کے بارے میں اور اس کے خاوند کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ گئی اور حضور اکرم ﷺ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی مٹھی پتھروں سے بھری ہوئی تھی ، جب یہ ان دونوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اللہ نے اس کی آنکھوں پر اس طرح پر دہڈال دیا کہ وہ صرف ابوبکر کو دیکھ سکتی تھی۔ تو اس نے کہا : ” ابوبکر کہاں ہے تمہارا ساتھی ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملتا تو میں ان پتھروں سے اسے مارتی۔ خدا کی قسم میں بھی تو شاعرہ ہوں اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا۔

مذمما عصینا

وامرہ ابینا

وہ محمد نہیں بلکہ مذمت کیے ہوئے ہیں ، ہم نے ان کی نافرمانی کی ہے اور ان کے احکام ماننے سے انکار کردیا یا ان کے دین کو ماننے سے انکار کردیا۔

یہ واپس چلی گئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ سے کہا : کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : ” اس نے مجھے نہیں دیکھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کی نظر کو مجھ سے کھینچ لیا تھا “۔

حافظ ابوبکر بزار نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ، جب سورة

تبت یدا .................... وتب (۱:۱۱۱) نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی حرم میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا حضور اگر آپ ایک طرف ہوجائیں تو یہ آپ کو اذیت نہ دے سکے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل ہوجائے گا “ ۔ یہ آئی اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس کھڑے ہوگئی اور کہا : ” ابوبکر تمہارے ساتھی نے ہماری ہجو کی ہے “۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : ” اس گھر کی قسم انہوں نے ایسا نہیں کیا ، وہ نہ شعر کہتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں “۔ تو اس نے کہا آپ تو سچے ہیں۔ جب واپس گئی تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ” حضور کیا اس نے آپ کو نہیں دیکھا ؟ تو آپ نے فرمایا ’ جب تک وہ کھڑی رہی فرشتے مجھ پر ستر پھیلاتے رہے جب تک وہ چلی نہیں گئی “۔

غرض اس کا پارہ اس قدر چڑھ گیا تھا کیونکہ یہ سورت پھیلی گئی تھی ، اس نے اسے ہجو سمجھا۔ اس زمانے میں ہجو صرف اشعار میں ہوتی تھی۔ اس لئے حضرت ابوبکر ؓ نے جائز طور پر ہجو کی تردید کردی۔ اور وہ بہت سچے مانے جاتے تھے لیکن ان آیات میں اس کی جو حقارت آمیز تصویر کشی کی گئی ہے وہ اس دائمی کتاب میں ریکارڈ کردی گئی ہے۔ اللہ کی کتاب بھی لازوال ہے اور ان دونوں کی مذمت بھی لازوال ہوگئی ۔ ایور یہ ایسی تصویر ہے جو ایک بولتی تصویر ہے۔ یہ ہے سزا حضور اکرم ﷺ اور آپ کی دعوت کے خلاف سازش کرنے کی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی دعوت اسلامی اور داعیان حق کے خلاف اس قسم کی سازشیں کرتے ہیں ان کی قسمت میں دنیا میں بھی ناکامی لکھی ہوئی ہے۔ وہ یہاں بھی ہلاک اور برباد ہوں گے۔ اور آخرت میں بھی وہ ایک سخت سزا پائیں گے۔ یہ ان کی مناسب سز ہوگی۔ دنیا میں لکڑ ہاروں کی رسی جسے ذلت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، آخرت میں بھی یہ رسی اس کے گلے میں ہوگی اور یہ ذلت کی کافی نشانی ہوگی۔

603