بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ غَرْقًۭا وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ نَشْطًۭا وَٱلسَّـٰبِحَـٰتِ سَبْحًۭا فَٱلسَّـٰبِقَـٰتِ سَبْقًۭا فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ أَبْصَـٰرُهَا خَـٰشِعَةٌۭ يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًۭا نَّخِرَةًۭ قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْـَٔاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا مَتَـٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ فَأَمَّا مَن طَغَىٰ وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۱

پہلے منظر میں جہنم آراستہ و پیراستہ تھی۔ کفار کے ٹھکانے کے طور پر اور وہ یوں گھات میں تیار بیٹھی تھی جس طرح ایک شکاری گھات میں بیٹھتا ہے۔ اور ایک ایک شکار کرتا ہے۔ اسی طرح جہنم سے بھی کوئی بچ کر نہ نکل سکتا تھا۔ اس منظر میں یوں نظر آتا ہے کہ اہل جنت نجات اور کامیابی کے مقام پر فائز ہوچکے ہیں۔ اور یہ نجات اور کامیابی کی جگہ۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۲–۳۳

حدآئق واعنابا (۳۲:۷۸) ” باغ اور انگور “۔ کی صورت میں ہے ۔ اور انگور کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے لیا گیا ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب اس سے اچھی طرح واقف تھے۔ کو اعب کے معنی ہیں ایسی نوخیز نوجوان لڑکیاں جن کی پستان گول ہوں اور اتراب کے معنی حسن و جمال اور مادہ سال کے لحاظ سے ہم سن۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۴

وکاسا دھاقا (۳۴:۷۸) ” اور جھلکتے ہوئے جام “ یعنی لبریز۔

ان انعامات کی ظاہری شکل و صورت حسی ہے اور ان کا ذکر جن چیزوں کا نام لے کر کیا گیا ہے وہ اس لئے تاکہ مفہوم لوگوں کے فہم کے قریب آجائے۔ رہی ان کی حقیقت تو اہل زمین کے لئے اس کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ ان کی فہم وادراک زمین کے تصورات کے اندر مقید ہے اور ان کے عمومی اور معنوی حالات اسلامی ذوق وضمیر کے مطابق ہوں گے۔ ایک مسلمان ان کا شعور رکھتا ہے کہ۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۵

لا یسمعون ................ کذبا (۳۵:۷۸) ” وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے “۔ یعنی دو ایسی زنگی بسر کررہے ہوں گے کہ اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی۔ اور اس میں کوئی جھوٹ نہ ہوگا کیونکہ جھوٹ پر بالعموم جنگ وجدال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے وہاں حقائق کھلے ہوں گے اور کسی کو بحث ومباحثے کا موقعہ نہ ہوگا۔ نہ ایسی باتیں وہاں ہوں گی جو بےفائدہ ہوں اور ان میں کوئی بھلائی نہ ہو۔ یہ صورت حالات اس جہان کے لئے مناسب ہے جو دارالخلد ہے۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۶

جزآء ................ حسابا (۳۲:۷۸) ” جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے “۔ یہاں انداز تعبیر کی رعنائی اور پر ترنم آواز اور جزاء اور عطا کی تقسیم قابل ملاحظہ ہے۔ اور فواصل اور قوافی میں شدت اور صوتی ہم آہنگی اس پورے پارے میں ایک مخصوص انداز ہے اور بہت ہی خوبصورت۔

اس دن کے مناظر جس کے بارے میں سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں جس کے بارے میں اختلاف کرنے والے اختلاف کرتے ہیں اب ختم ہوتے ہیں اور ان کے خاتمے پر لفظی اور معنوی اعتبار سے خوبصورت منظر ملاحظہ کیجئے ، جس میں جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں۔ یہ سب رحمن کے سامنے کھڑے ہیں ، ان میں سے صرف وہی بات کرسکتا ہے جسے اجازت ہو۔ ایک ہیبت ناک اور خوفناک موقف ہے۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۷–۳۸

یہ جزاء وسزا جو اہل تقویٰ اور اہل ضلالت کے لئے ، اس سے قبل مفصل طور پر بیان ہوئی ، یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ اور

رب السموت ........................ الرحمن (۳۷:۷۸) ہے (اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے) اس آخری ٹچ اور اس عظیم حقیقت کے بیان کے لئے اب یہ مناسب وقت ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کی ربوبیت زمین و آسمانوں پر حاوی ہے ، اس کے اندر یہ دنیا بھی ہے اور آخرت بھی ہے۔ یہ اہل تقویٰ کو جزاء دیتی ہے اور اہل ضلالت اور بدکاروں کو سزا دیتی ہے اور دنیا وآخرت کے تمام فیصلے اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہی۔ پھر یہ ربوبیت نہایت رحیمانہ ہے۔ یہ جزاء بھی اس کی رحمت کا نتیجہ ہے اور سزا بھی اس کی رحمت کا تقاضا ہے۔ یہ اس کی رحمت ہی کا تقاضا ہے کہ سرکشوں کو جہنم میں جلایا جائے۔ کیونکہ یہ عین رحمت ہے کہ شر کو سزا ملے اور خیروشر برابر نہ ہوں ورنہ یہ تو ظلم ہوگا۔

پھر یہ رحمت اپنے اندر جلال لئے ہوئے ہے۔ اس خوفناک دن میں اس دربار رحمت میں کوئی بات نہ کرسکے گا۔ جبرائیل (علیہ السلام) اور دوسرے سربرآور دو فرشتے بھی صف بستہ خاموش کھڑے ہوں گے۔ صرف اجازت سے کچھ عرض کرنا ہوگا اور بات ہوگی۔ لیکن بات بھی درست ہوگی ورنہ رحمن تو دل کی بات جانتا ہے ، بری بات کہنے کی اجازت ہی نہ ہوگی۔

یہ منظر کہ بےگناہ لوگ اور سرکردہ فرشتے بھی اس بارگاہ میں خاموش کھڑے ہی ، کوئی شخص بات بھی نہیں کرتا ، سا ہواکھڑا ہے ، فضا پر رعب ، خوف ، جلالت اور وقار کے گہرے بادل پھیلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں جبکہ خوف کے بادل چھائے ہوئے ہوں ، دنیا کے غافلوں اور بری راہوں پر سرپٹ بھاگنے والوڈ کو ایک بار پھر ڈرایا جاتا ہے ، ایک زبردست چیخ آتی ہے اور مدہوش لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۳۹

یہ ایک شدید جھٹکا ہے ، ان لوگوں کو نہایت شدت سے جھنجھوڑا جاتا ہے جو اس حق دن کے بارے میں شک میں مبتلا تھے اور تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے تھے۔

ذلک الیوم الحق (۳۹:۷۸) ” وہ دن برحق ہے “۔ لہٰذا اس کے بارے میں شکی سوالات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لوگو ! ابھی فرصت کے اوقات موجود ہیں ، مہلت ملی ہوئی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاﺅ۔

فمن شآء اتخذالی ربہ مابا (۳۹:۷۸) ” جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے “۔ قبل اس کے کہ جہنم گھات لگا کر بیٹھے اور تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے۔

یہ سخت ڈراوا ہے ۔ اگر کوئی خواب خرگوش میں بھی ہو ، وہ بھی بیدار ہوسکتا ہے۔

سُورَةُ النَّبَإِ: ۴۰

انا ................ قریبا (۴۰:۷۸) ” ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے “۔ وہ دور نہیں ہے۔ یہ جہنم کا عذاب ہے جو تمہارے انتظار میں ہے۔ جیسا کہ اس منظر میں تم نے دیکھ لیا۔ یہ دنیا تو ایک مختصر سفر ہے اور عمر کی کشتی ساحل پر لگنے ہی والی ہے۔

یہ اس قدر شدید عذاب ہوگا کہ کافر اپنے وجود ہی سے بیزار ہوگا اور اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اسے معدوم ہی کردیا جائے۔

یوم ینظر .................... ترابا (۴۰:۷۸) ” جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش وہ خاک ہوتا “۔ یہ وہ نہایت تنگ دل اور مایوسی کہے گا۔

اب فضا پر خوف اور ندامت کے بادل چھا جاتے ہیں کہ زندہ انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ معدوم ہوجائے اور خاک و غبار بن جائے۔ وہ اپنے معدوم ہونے ہی کی صورت میں اپنے آپ کو اس خوفناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ یہ ہوگا ان لوگوں کا موقف جو آج اس عظیم حقیقت اور شہ سرخیوں والی حقیقت کے بارے میں تشکیک پر مشتمل سوالات کرتے ہیں اور شبہات اٹھاتے ہیں۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ
سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱–۵

ان کلمات کی تفسیر میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ، یعنی وہ جو انسانوں کی ارواح کو نہایت شدت سے کھینچتے ہے۔ ناشطات کے معنی ہیں چست اور کام کے لئے تیار ہیں۔ اور اس کائنات کے اطراف واکناف میں تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو رب تعالیٰ کی اطاعت اور احکام کی بجا آوری میں ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور اس کائنات کے تمام امور کے انتظام اور انصرام میں لگے ہوئے ہیں۔

دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان سے مراد ستارے ہیں جو اپنے مداروں اور کائنات کی فضاﺅں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر نکلتے ہیں۔ بڑی تیزی سے گردش کرتے ہیں۔ ایک منزل سے دوسری میں داخل ہوتے ہیں۔ اس فضائے کائنات میں وہ معلق ہیں۔ اور رفتار میں بعض تیز ہیں اور بعض سست۔ لہٰذا ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں اور دست قدرت نے ازروئے فطرت ان کو جو احکامات دیئے ہیں وہ سر انجام دیتے ہیں ، اور زمین اور اس کے باشندوں کو متاثر کرتے ہیں ، یوں وہ اس زمین کا انتظام وانصرام کرتے ہیں۔

بعض تفاسیر کے مطابق نازعات ، ناشطات ، سابحات اور سابقات سے مراد ستارے ہیں اور مدبرات فرشتے ہیں اور بعض حضرات نے یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نازعات ، ناشطات اور سابحات سے مراد ستارے ہیں اور سابقات اور مدبرات سے مراد ملائکہ ہیں۔

ان آیات وکلمات کا مفہوم جو بھی ہو ، لیکن قرآنی فضا میں زندگی بسر کرتے ہوئے میرا احساس یہ ہے کہ اس پیرائے میں گفتگو اور ان الفاظ کے لانے سے مراد انسانی احساس کو بیدار کرنا ، انسانی شعور کے اندر تجسس اور آنے والے پرخطر اور ہنگامہ خیز حالات کے بارے میں خبردار اور بیدار کرنا ہے۔ یہ الفاظ اور یہ مفہوم ہمیں اس بات کے لئے تیار کرتے ہیں کہ آگے جو بات آرہی ہے وہ ایک عظیم واقعہ ہے ، جسے الطامتہ الکبریٰ راجفہ اور رادفہ کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان الفاظ کے تفصیلی معانی میں نہ الجھیں کہ ان سے حقیقی مراد کیا ہے ؟ تو اس طرح ہم قرآن کریم کے فطری انداز پر اکتفا کرکے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم کا حقیقی ہدیف یہ ہے کہ وہ دلوں کو ہلائے اور گرمائے اور اس مقصد کے لئے قرآن کریم موثر سے موثر اسلوب اختیار کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ حضرت عمر ؓ کا انداز مطالعہ بھی ہے۔ آس سورة عبس وتولیٰ پڑھ رہے تھے جب

وفاکھة وابا (۳۱:۸۰) ” تک پہنچے تو آپ نے فرمایا کہ ” فاکھہ “ تو ہمیں معلوم ہے لیکن “ ابا “ کیا ہے۔ اور اس کے بعد کہا ، اے عمر تیری جان کی قسم ، یہ محض تکلف ہوگا۔ اگر تم اللہ کی کتاب کے مفہوم میں سے کسی بات کو نہ سمجھو تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اور ایک دوسری روایت میں انہوں نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ہم جانتے ہیں۔ اگر ہم ” اب “ کا مفہوم نہ جانیں تو کیا ہے ؟ اس کے بعد انہوں نے اس عصا کو توڑ دیا جو ان کے ہاتھ میں تھا ، اور ھپر کہا عمر یہ تو محض تکلف ہے عمر کی ماں کے بیٹے کیا ہوجائے گا اگر تو ” اب “ کے مفہوم کو نہ جانے۔ ” لوگو ! قرآن میں سے جو تم جانتے ہو ، اس پر عمل کرو اور جو نہیں جانتے اسے چھوڑ دو “۔ یہ ایسی بات ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کریم کے سامنے کس قدر سہمے رہتے تھے اور کس قدر احترام کرتے تھے۔ جس طرح ایک بندہ اپنے مالک کے احکام کا احترام کرتا ہے اور فوراً تعملیل کرتا ہے۔ قرآن کریم کے کچھ کلمات اگر منعلق اور غامض ہوں تو بھی ان کا ایک مقصد ہوتا ہے۔

مطلع میں جن باتوں پر قسم اٹھائی گئی ہے اس کا جواب درج ذیل آیات ہے یعنی جو اب قسم کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی گئی ہے۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۶–۹

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔

یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت ۶۸ میں آیا ہے۔

بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔

قلوب ................ خاشعة (۹:۷۹) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔

یوم .................................... الرادفة (۷:۷۹) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔

والنزعت ............................ امرا (۱:۷۹ تا ۵) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔

اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱۰–۱۱

یقولون ............................ نخرة (۱۱:۷۹ ) ” یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “۔ یہ گفتگو وہ اس وقت کررہے ہوگے ، جب پہلے پہل حشر کے میدان میں اٹھیں گے۔ کہا جاتا ہے۔

رجع فی حافرنہ ” یعنی اس راستے سے گیا جس سے آیا تھا “۔ یہ گفتگو وہ مدہوسی اور حیرانی میں کریں گے کہ آیا وہ دوبارہ اسی زندگی میں آگئے ہیں۔ وہ حیران ہوں گے کہ ہم بوسیدہ ہڈیاں ہونے کے باوجود کس طرح اندہ انسان بن گئے۔

نخرة (۱۱:۷۹) ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو اندر سے خالی ہوگئی ہوں اور ان کے اندر جب ہوا چلتی ہے تو سرسر کی آواز آرہی ہو۔ لیکن جب وہ ذرا ہوش میں آئیں گے اور ان کے حواس بحال ہوں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو فی الواقعہ زندہ کردیئے گئے ہیں لیکن یہ تو اخروی زندگی ہے۔ اب ان کو اپنے خسارے اور نقصان کا اندازہ ہوجائے گا۔ اب ان کا تبصرہ یہ ہوگا۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱۲

قالوا .................... خاسرة (۱۲:۷۹) ” کہیں گے ” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہے “۔ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس کو انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔ اس کے لئے کوئی توشہ انہوں نے جمع کرکے نہ بھیجا اور اب تو کمائی کی جگہ نہیں ہے لہٰذا خسارہ ہی خسارہ ان کا مقدر ہے۔

ایسے حالات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ قیام قیامت کا یہ ہنگامہ عظیم بسہولت برپا کردیا جائے گا اور اس کی حقیقت تو بس اتنی ہی ہے۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱۳–۱۴

فانما ........................ الساھرة (۱۴:۷۹) ” حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ الزجر کے معنی ہیں تیز آواز۔ یعنی الصیحة۔ لیکن یہاں الصیحة کی بجائے الزجرة کا لفظ استعمال ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ اس ورت کی فضا اور ماحول کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہاں ماحول شدت اور سختی کا ہے۔ ساھرہ سفید اور چمکدار زمین کو کہتے ہیں۔ مراد میدان حشر ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ میدان کہاں ہوگا۔ اس کے بارے میں ہماری معلومات مخبر صادق کی فراہم کردہ معلومات تک محدود ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں ہم اس سے زیادہ کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتے کیونکہ مخبر صادق کے علاوہ کوئی بات وثوق اور محفوظ طریقے سے نہیں کہی جاسکتی۔

اس ڈانٹ سے مراد ، مطابق نصوص قرآن وسنت ، دوسرا نفح صور ہے ، جس کے ہوتے ہی تمام لوگ اپنی اپنی جگہ اور اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے ، جو الفاظ اس کے لئے چنے گئے ہیں ، ان سے اس عمل کی سرعت معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل نہایت تیزی سے ہوگا۔ اس پوری سورت کے بیان کردہ واقعات سرعت اور خوف کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی سرعت اور خوف کی وجہ سے دلوں پر کپکپی اور جسموں پر لرزہ طاری ہوگا۔ اس سورت کی ہر حرکت ، ہر لمحہ اور ہر منظر اور فضا میں ہم آہنگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

اب اگلے مرحلے میں تیزی ، حرکت اور خوف کی یہ فضا قدرے تھم جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں قصہ موسیٰ وفرعون کی طرف مختصراً اشارات ہی۔ اس میں اس سرکشی کا انجام دکھایا گیا ہے ، اس لئے بیان میں قدرے سکون اور نرمی آجاتی ہے۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱۵

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ قرآن کریم میں بار بار آیا ہے۔ اور اس کی بہت تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے قبل کی سورتوں میں اس کی تفصیلات گزر چکی ہیں۔ ہر جگہ اس قصے کا حصہ آیا ہے۔ مختلف انداز اور مختلف اسلوب بیان میں آیا ہے۔ ہر جگہ قصے کا وہ حصہ اور اس انداز میں آیا ہے ، جس کی ضرورت ہو اور جو موضوع ومحل کے مناسب ہو۔ اس قصے کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب بیان اپنے عروج پر ہوتا ہے اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے کہ وہ قصے کو نہایت برمحل اور مناسب انداز میں پیش کرتا ہے۔

یہاں یہ قصہ نہایت اختصار کے ساتھ آیا ہے ، اس کے مناظر جھلکیوں کی شکل میں بڑی تیزی سے گزرجاتے ہیں۔ کوہ طور کی وادی مقدس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا جاتا ہے۔ اور انہیں فرعون کی طرف تبلیغی مشن پر جانے کے احکامات دیئے جاتے ہیں اس کی سرکشی اور پھر دنیا وآخرت میں اس کے انجام بد اور اللہ کی گرفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں اس کا انجام اس سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے کیونکہ سورت کا بنیادی موضوع ہے حشرونشر اور حساب و کتاب ہے۔ چند مختصر آیات میں ، الف کے ساتھ طویل مد کے ترنم کے ساتھ اس قصے کی جھلکیاں بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتی ہیں۔ یوں اس کا انداز اور اس کا اثر اس سورت کے مزاج کے مطابق ہوجاتا ہے۔

ان مختصر آیات میں نہایت تیزی اور سرعت کے ساتھ اس قصے کے کئی پہلو دکھائے گئے ہیں۔

اس کا آغاز حضور اکرم ﷺ کو مخاطب کرکے کیا جاتا ہے۔

ھل اتک ................ موسیٰ (۱۵:۷۹) ” کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ “۔ یہ سوالیہ انداز اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ مخاطب پوری توجہ سے قصے کو سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہوجائے اور پوری طرح اخذ کرلے۔

اس کے بعد پھر واقعات کی تفصیلات آتی ہیں۔ اس قصے کو لفظ حدیث (بات) سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ قصہ دراصل ہے ہی موسیٰ اور رب کا مکالمہ۔ اس لئے لفظ حدیث لانا نہایت واقعیت پسندی ہے۔ چناچہ سوال و جواب اور رب کے ساتھ مناجات۔

سُورَةُ النَّازِعَاتِ: ۱۶

اذنادہ ........................ طوی (۱۶:۷۹) ” جب اس کے رب نے اسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا “۔ راجح قول یہ ہے کہ طویٰ وادی کا نام ہے ، جو شخص شمالی حجاز میں مدین کی طرف سے آئے ، یہ وادی طور کے دائیں جانب پڑتی ہے۔

یہ وقت جس میں اللہ کی جانب سے پکار آئی ، یہ ایک عظیم اور خوف زدہ کرنے والے لمحات ہیں اور عجیب کیفیات کا وقت ہوگا کہ اللہ جل شانہ بذات خود اپنے ایک بندے کو پکار رہا ہوگا اور سوچا جائے تو یہ ایک عظیم بات ہے۔ ان لمحات کی خوفناکیوں کے بیان سے انسانی الفاظ قاصر ہیں۔ اللہ کی عظیم بادشاہت اور حکومت کا یہ ایک راز ہے۔ نیز نفس انسانی کے رازوں میں سے بھی یہ ایک سربستہ رز ہے کہ اللہ نے انسانی نفس میں یہ قوت ودیعت کی اور اسے اس قابل بنایا کہ وہ ندائے جلیل کو سن سکے اور اس سے مفہوم اخذ کرسکے۔ یہ وہ آخری بات ہے جو اس مقام کی نسبت سے ہم کہہ سکتے ہیں۔ ورنہ مکالمہ الٰہی کے اس مقام اور اس کی کیفیت اور ماہیت کو سمجھنا انسان کے لئے نہایت ہی مشکل ہے۔ انسان کے لئے مناسب ہے کہ اس مقام کے کنارے پر ہی کھڑا رہے۔ اس وقت جب خود باری تعالیٰ انسان کو یہ قوت نہیں دے دیتا کہ وہ اس مقام کی کیفیات و تجلیات اور سوال و جواب کو سمجھ سکے اور اس کا شعور اور اس کی قوت مدرکہ اسے چکھ سکے۔

دوسرے مقامات پر اللہ اور کلیم اللہ کے درمیان ، اس مقام پر ہونے والے مکالموں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ، لیکن اس سورت میں چونکہ موضوع کے ارد گرد مختصر باتیں رکھنی مقصود ہیں اس لئے یہاں زور دار باتیں نہایت موثر انداز میں اور ایک جھلک کی صورت میں کی گئی ہیں۔ اس لئے یہاں بس چند کلمات کے بعد ہی ذکر کردیا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ عظیم مشن سپرد کردیا گیا۔ پس آواز آئی اور حکم دے دیا گیا۔

583