Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
وانہ ........ والانثیٰ (۳۵ : ۵۴) من ........ تمنیٰ (۳۵ : ۶۴)
” اور اس نے نر اور مادے کا جوڑا پیدا کیا ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے۔ “ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے جو اس دنیا میں ہر لمحے میں واقع ہوتی ہے چونکہ یہ عظیم واقعہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے انسان اسے بھول جاتا ہے حالانکہ یہ ایک ایسا معجزہ اور عجوبہ ہے جو تمام تخیلاتی عجوبوں سے زیادہ عجیب ہے۔
ایک نطفہ ، ایک بوند جو گرتی ہے جو انسانی جسم کا ایک لیسدار مادہ ہے اور یہ اسی قدر زیادہ ہے جس طرح پسینہ ، آنسو اور دوسرے مواد۔ ایک وقت گزرنے کے بعد یہ کیا سے کیا بن جاتا ہے پھر یہ مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مذکر ومونث بن جاتا ہے اور یہ معجزہ کس طرح رونما ہوتا ہے۔ اگر یہ واقع نہ ہوتا تو ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ انسان جو ایک قوی اور شیدید اور سخت باڈی رکھتا ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ یہ اس سیال نطفے میں کہاں چھپا ہوتا تھا بلکہ اس نطفے کے کئی ملین اجزاء میں سے یہ ایک تھا۔ اس کی ہڈیاں کہاں تھیں۔ گوشت کہاں تھا جلد اور رگیں کہاں تھیں۔ بال اور ناخن کہا تھے اور اس کی خصوصیات اور صلاحیتیں کہاں تھیں اور اس کے اخلاق اور اس کا مزاج کہاں تھا۔ ایک مائیکروسکوپ سے دیکھا جانے والا خلیہ جس کے ساتھ اور کئی ملین ایسے خلیے موجود ہیں اور یہ سب ایک ہی نطفے میں ہیں جو بوند کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس خلیے میں خصوصاً مذکر و مونث کا نقشہ کیا تھا۔ آخر کار یہ نقشہ جنین کے اندر ظاہر ہوا۔
کوئی ایسا ذی عقل انسان نہیں ہوسکتا جو اس عظیم حقیقت پر تدبر کرے اور پھر وہ ششدر نہ رہ جائے۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ اس عظیم معجزے کا کوئی انکار کردے اور غرور سرکشی کرکے یہ کہے ” بھائی یہ اسی طرح ہوتا ہے پس جائیے والسلام “ اور یہ کام یونہی ہوگیا فقط ” اسی طرح مرد و عورت پیدا ہوگئے اور بس ہم زیادہ نہیں جانتے “ یا کوئی زیادہ تعلیم یافتہ بننے کی کوشش کرے اور کہے کہ یہ واقعات اس طرح ہوئے کیونکہ اس مواد میں ازرو ئے فطرت یہی استعداد تھی اور تمام زندہ چیزوں کے اندر تناسل کی یہ صلاحیت ہے لیکن اس کا جواب پھر سوال اور تشریح کا محتاج ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ استعداد کس نے ودیعت کردی اور یہ جذبہ کس نے ہر چیز کو دیا کہ وہ خود کار طریقے سے حفظ نوع اور تسلسل حیات کے لئے کام کرے۔ پھر یہ قوت ان چیزوں کو کس نے دی کہ وہ ایک ضعیف حالت سے تنومند حالت تک پہنچیں۔ یہ راستہ کس نے بتایا اور یہ خواہش کس نے رکھی اور ہر چیز کے اندر اس کے نوع کے خواص کس نے رکھے اور ان کے اندر اس نوع کی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے خواص کس نے رکھے۔ ظاہر ہے کہ ایک قوت مدبرہ ہے جو اپنے ارادے اور حکم اور اذن سے ان معاملات کو چلارہی ہے اور ہر چیز کو ایک متعین راہ اور طریقے پر چلاتی ہے۔
اور پھر اس پہلی پیدائش سے جو ناقابل انکار حقیقت ہے۔ اللہ انسان کو دوسری پیدائش کی طرف متوجہ فرماتا ہے۔
وان ........ الاخری (۳۵ : ۷۴) ” اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اس کے ذمہ ہے۔ “ دوسری زندی تو ایک غیب ہے لیکن پہلی زندگی دوسری پر دلیل ہے۔ دلیل یوں ہے کہ جب پہلی بار ایک قوت نے انسان کو پیدا کیا تو دوسری بار بھی وہ پیدا کرسکتی ہے۔ وہ ذات جس نے زوجین کو ایک نطفے سے پیدا کیا اور یہ تمہارا مشاہدہ ہے۔ اس بات پر قادر ہے کہ ان ہڈیوں اور مٹی کو دوبارہ جمع کرکے تمہیں اٹھا دے کیونکہ ہڈیوں اور مٹی کو جمع کرنا نطفے کے پانی کے اندر موجود ایک خلیے سے بڑھا کر پیدا کرنے سے مشکل نہیں ہے۔ یہ کام دوبارہ بھی واقع ہوسکتا ہے مثلاً وہ تدبیر جس کے نتیجے میں ایک نطفہ نہایت ہی چھوٹے جرثومے سے ایک طویل راہ سے گزر کر ایک مکمل مرد اور عورت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعے سے اللہ قیامت میں سب کو اٹھائے گا تاکہ ہر کسی کو اس کے کئے کے مطابق جزا وسزا دے۔ کیونکہ دوبارہ اٹھانے کا مقصد زندگی کی تکمیل ہے جو یہاں مکمل نہ تھی۔ عالم آخرت میں ہر چیز اپنے کمال کو پہنچے گی لہٰذا ضروری ہے کہ اس میں تخلیق کی ٹیکنالوجی بھی اس دنیا کی تخلیق سے زیادہ پیچیدہ ہو۔ لہٰذا پہلی تخلیق کی دلالت دوسری تخلیق پر دو طرح کی ہے ایک یہ کہ دوسری تخلیق ممکن ہے اور دوسری یہ ہے کہ وہ ضروری ہے کہ وہاں مکمل جزا وسزا مل سکے اور ادھوری زندگی مکمل ہو۔ اور اس زندگی میں اور دوسری زندگی دونوں میں اللہ جسے چاہے غنی اور مالدار بنادے۔
وانہ ........ واقنی (۳۵ : ۸۴) ” اور یہ کہ اس نے غنی کیا اور جائیداد بخشی “ دنیا میں جس کو چاہا مختلف پہلوؤں سے غنی بنا دیا۔ مال کے لحاظ سے غنی ، صحت کے لحاظ سے غنی ، اولاد کے لحاظ سے غنی ، فکر کے لحاظ سے غنی اور اللہ کے تعلق کے لحاظ سے غنی اور یہ سب سے بڑا غنی ہوتا ہے اور جسے وہ چاہے گا آخرت میں غنی کردے گا۔
اسی طرح جو جائیداد وہ چاہے دیدے ، یہاں دیدے یا آخرت میں دیدے۔ لوگ تو فقر اور محتاج ہیں۔ یہ غنی اور مالدار اللہ ہی کے خزانوں سے ہوسکتے ہیں۔ وہ دولت دیتا ہے اور وہی جائیداد دیتا ہے۔ یہ تو وہ بات ہے جسے وہ عملاً پاتے ہیں اور ان کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جن کو اللہ نے دیا اس لئے انہیں جگایا جاتا ہے کہ اللہ ہی کے خزانہ عامرہ کی طرف نظریں اٹھاؤ۔ اللہ کے سوا دوسرے خزانے ہیچ اور خالی ہیں۔
وانہ ........ الشعری (۳۵ : ۹۴) ” اور وہی شعری کا بھی رب ہے “ شعری وہ ستارہ ہے جو سورج سے بیس گناہ بڑا ہے اور ورہ سورج سے بھی دور کئی ملین دور ہے۔ عربوں میں بعض لوگ اس ستارے کو پوجتے تھے۔ بعض لوگ اسے ایک ذی شان ستارے کے طور پر دیکھتے تھے۔ لہٰذا یہاں یہ تاکید کرنا کہ اللہ شعری کا بھی رب ہے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے خصوصاً ایسی سورت میں جس میں ستارے کی قسم اٹھائی گئی ہے اور جس میں عالم بالا کے سفر کا ذکر ہو اور جس میں عقیدہ توحید اور شرک موضوع ہو۔
یہاں آکر انفس اور آفاق کا یہ طویل مطالعاتی سفر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعد اب انسانی تاریخ کی وادی میں ہم داخل ہوتے ہیں۔ انسانی تاریخ اور اس کے عبرت آموز آثار کو تو قرآن بہت اہمیت دیتا ہے۔
وانہ ............ تتماری (۵۵) (۳۵ : ۰۵ تا ۵۵) ” یہ کہ اسی نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور ثمود کو ایسا تباہ کیا کہ اس میں سے کسی کو نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح کو تباہ کیا کہ وہ تھے ہی سخت ظالم اور سرکش لوگ اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا کر پھینکا پھر چھا دیا ان پر وہ جو (تم جانتے ہو کہ) کیا چھا دیا۔ پس اے انسان اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا۔ “
یہ ایک سرسری نظر ہے جس میں ایک ایک امت پر مختصر نگاہ ڈالی جاتی ہے اور اس کے انجام کو دکھا کر انسانی شعور کو چن کی دی جاتی ہے کہ وہ بیدار ہو۔
عاد ، ثمود اور قوم نوح کو تو قرآن کے قاری جانتے ہیں اور کئی جگہ یہ قصص مذکور ہیں۔ موتفکہ کا لفظ افک بمعنی بہتان اور ضلالت سے ہے۔ ( وہ بستیاں جو الٹ دی گئیں ، لوط کی قوم کی بستیاں تھیں۔ ) ان بستیوں کے بارے میں یہ کہ ان بستیوں پر چھا گیا جو چھا گیا اس میں عذاب کو زیادہ خوفناک اور عظیم دکھانے کے لئے نام نہیں لیا گیا یعنی بربادی ، آتش فشانی کے ذریعے جو بربادی بھی آپ تصور کرسکتے ہیں وہ ان پر چھا گئی لہٰذا بیان کی ضرورت نہیں۔
فبای ............ تتماری (۳۵ : ۵۵) ” اپنے رب کی کن نعمتوں میں تو شک کرے گا “ کیا یہ تباہیاں اللہ کے انعامات تھے ؟ تو یہ اللہ کا فضل وکرم تھا کہ اس نے شر اور برائی کو برباد کردیا۔ حق کو باطل پر گرایا اور اس کا بھیجا نکالا اور وہ ختم ہوگیا۔ کیا بعد میں آنے والوں کے لئے اس میں عبرت نہیں ؟ وہی فضل وکرم ہے اور اس میں شک نہیں ہے اور نہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ خطاب ہر شخص کو ہے ۔ ہر دل کو ہے۔ یہ اس شخص کے لئے جو اللہ کے کاموں پر غور کرتا ہے تو اسے مصیبتوں میں بھی اللہ کا فضل وکرم نظر آتا ہے۔
انفس وآفاق کے دلائل و شواہد گنوانے کے بعد اور انسانی تاریخ کے اہم عبرت آموز واقعات کی طرف سرسری اشارہ کرنے کے بعد آخری ضرب ، عقل وخرد کے ناروں پر ، آخری مضراب لیکن ذرا سخت گویا یہ ایک سخت پکار ہے ، چلا کر کہ خطرہ قریب ہے خبردار۔
ھذا نذیر ............ کاشفة (۸۵) (۳۵ : ۶۵ تا ۸۵) ” یہ تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبہیات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں۔ “ یہ رسول جس کی رسالت اور جس کے ڈراوے میں تم شک کرتے ہو۔ یہ انہیں رسولوں میں سے ہے جنہوں نے اسی طرح اپنی اقوام کو ڈرایا اور یہ سخت مصیبت اور کھڑ کھڑا دینے والی گھڑی ہے یا وہ اس دنیا ہی کا کوئی عذاب ہے اور جس کو ٹالنا ممکن نہیں سوائے اس کے کہ اللہ ٹال دے۔
لیس لھا ............ کاشفة (۳۵ : ۸۵) ” اللہ کے سوا اس کو کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔ “
تم پر تو خوفناک عذاب آنے والا ہے بہت قریب ہے۔ ڈرانے والے ناصح اور صادق وامین تمہیں ڈرا رہے ہیں۔ چیخ چیخ کر لیکن تم غفلت ہی میں آگے ہی جارہے ہو تمہیں اندازہ نہیں کہ مشکل وقت ہے تم باز نہیں آتے ہو۔
افمن ................ سمدون (۱۶) (۳۵ : ۹۵ تا ۱۶) ” اب کیا یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ، ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “ یہ تو ایک سنجیدہ گفتگو ہے اور لوگوں پر عظیم فرائض عائد کرتی ہے اور یہ گفتگو ایک مکمل نظام حیات کی گفتگو ہے تو تمہیں اس پر تعجب کیا ہورہا ہے اور تم ہنستے کیوں ہو۔ یہ تو دو ٹوک سنجیدہ بات ہے اور جس کے یہ عظیم نتائج وذمہ داریاں ہیں۔ اس زمین پر لوگوں کی جو زندگی ہے اس پر ان کو جواب دینا ہے۔ تمہیں تو اس کی فکر کرنی چاہئے۔ ہنسنے کا مقام نہیں رونے کا مقام ہے۔ ایک ہولناک اور خوفناک موقع آنے والا ہے جہاں کرب عظیم ہوگا۔ اب ایک آخری چیخ۔ ایک پوری آواز سے پکار جو دلوں کو ہلا دیتی اور کانوں کو پھاڑ دیتی ہے کہ لوگو ، جہنم سے بچو ، تدارک کرو اپنے آپ کو بچاؤ۔
فاسجدواللہ واعبدوا (۳۵ : ۲۶) ع (السجدة) ” جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ “ یوں اس انداز میں یہ بلند آواز دی جاتی ہے اور ایک طویل تمہید کے بعد یہ چیخ ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور سخت سے سخت اعصاب کے اندر بھی ارتعاش پیدا ہوجاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کفار نے اس کو سن کر سجدہ کرلیا۔ سجدہ ریز ہوگئے حالانکہ وہ مشرک تھے۔ وہ وحی میں شک کرتے تھے۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہر وقت وہ جھگڑتے رہتے تھے۔
انہوں نے ان حالات میں سجدہ کیا کہ وہ اس پوری سورت کے اندر خوفناک انجام کو سن چکے تھے۔ حضور اکرم ﷺ ایک پر سوز انداز میں تلاوت فرما رہے تھے۔ حرم میں مسلم اور مشرک سب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے سجدہ کیا۔ مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکین بھی بےساختہ گر پڑے۔ وہ اس پر تاثیر کلام الٰہی کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکے۔ شیطان بھی ان کو روک نہ سکا۔ جب ان پر سے یہ اثر ختم ہوا تو وہ اس اثر کو بھی بھول گئے اور اس بات کو بھی بھول گئے کہ انہوں نے سجدہ کیا ہے۔
روایات تواتر ہیں کہ اس سورت کو سن کر مشرکین نے سجدہ کیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اس واقعہ کی تاویل اور تجزیہ اپنے اپنے خیال کے مطابق کیا ہے حالانکہ یہ عجیب واقعہ نہ تھا۔ یہ تو قرآن مجید کی تاثیر کا ایک نمونہ تھا جس کے سامنے ایک بار تو سخت سے سخت دل بھی گھائل ہوجاتا ہے۔
یہ واقعہ جس کے بارے میں روایات تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں ، مشرکین مکہ کے سجدے کا واقعہ ہے۔ میں بھی سمجھتا تھا کہ اس پر تبصرہ ضروری ہے اور اس کا تجزیہ کرنا چاہئے لیکن اس کے بعد مجھے اس واقعہ کا ایک شعوری تجربہ بھی ہوا اور میں نے اپنے دل میں اس پر غور کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کا اصل سبب کیا تھا۔
اور میں نے اس سے قبل یہ ذیلی روایات پڑھ رکھی تھیں جو ” حدیث غرانیق “ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حدیث ابن سعد نے طبقات میں ، ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں اور بعض مفسرین نے آیت ۲۲ : ۲۵ کی تفسیر میں نقل کی ہے۔
وما ارسلنا ............ حکیم (۲۲ : ۲۵) ” اے نبی تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول بھیجا ہے نہ نبی کہ جب اس نے تمنا کی شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح شیطان جو کچھ خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور انہی آیات کو پختہ کردیتا ہے۔ اللہ علیم ہے اور حکیم ہے۔ “ ان روایات کے بارے میں علامہ ابن کثیر نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی روایت بھی سند صحیح کے ساتھ روایت نہیں ہوئی۔ ان میں سے مفصل ترین ، رسول اللہ پر افترا میں کمتریں اور خرافات میں کم سے کم آلودہ روایت ابن ابو خاتم کی روایت ہے۔ کہتے ہیں روایت بیان کی موسیٰ ابن الاموسیٰ کو فی نے ، محمد ابن اسحاق شیبی سے ، انہوں نے محمد ابن خلیج سے انہوں نے موسیٰ ابن عقیہ سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، وہ کہتے ہیں سورت النجم نازل ہوئی ۔ مشرکین ان دنوں کہتے تھے کہ اگر یہ شخص ہمارے الٰہوں کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کردے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو تسلیم کرلیں لیکن یہ شخص اپنے دین کے دوسرے مخالفوں کا مثلاً یہود ونصاریٰ کا ذکر ان الفاظ میں نہیں کرتا جن میں یہ ہمارے الٰہوں کا ذکر کرتا ہے۔ ہمیں تو یہ سب وشتم کرتا ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ حضور اکرم اور آپ کے ساتھیوں کو سخت اذیتیں دی جارہی تھیں اور آپ ان کو گمراہی کی وجہ سے نہایت ہی پریشان رہتے تھے۔ تو آپ یہ تمنا کرتے تھے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں۔ جب اللہ نے سورت النجم نازل کی اور اس میں یہ آیت آئی۔
افرایت ........ تولی (۳۵ : ۳۳) واعطی ........ اکدی (۳۵ : ۴۳) تو شیطان نے ان آیات سے متصلا بعد اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کردیئے۔
انھن ............ لتریحی ” اور بیشک یہ بلند مرتبہ دیویاں ہیں اور ان کی سفارش کی توقع کی جاتی ہے۔ “
یہ شیطان نے اپنی جانب سے سجع ملایا تھا۔ یہ الفاظ مکہ میں ہر مشرک نے سن لئے اور ان کے دل میں بیٹھ گئے اور اس کی وجہ سے ان کی زبانیں خاموش ہوگئیں اور انہوں نے ان الفاظ کے آنے پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں دیں اور یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ رجوع کرکے اپنے سابق دین پر آگیا ہے۔ جب رسول اللہ سورت کے آخر تک پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا اور محفل میں جو مسلم اور مشرک بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے سجدہ کرلیا۔ ولید ابن معتبرہ بوڑھا آدمی تھا۔ اس نے زمین سے مٹی اٹھائی اور اس پر سجدہ کردیا۔ دونوں فریقوں نے تعجب کیا کہ حضور کے ساتھ تمام لوگ کس طرح سجدہ ریز ہوگئے۔ مسلمانوں کو تعجب یوں ہوا کہ مشرکین نے سجدہ کرلیا حالانکہ وہ ایمان نہیں لائے تھے۔ بغیر ایمان وتصدیق کے سجدہ کرلیا۔ مسلمانوں نے وہ الفاظ نہ سنے تھے جو شیطان نے ادا کردیئے تھے اور جن کو مشرکین نے سن لیا تھا۔ تو مشرکین مطمئن ہوگئے کہ شیطان حضور کی تمنا میں یہ بات ڈال دی اور مشرکین کے کانوں میں یہ بات ڈال دی کہ یہ الفاظ حضور نے پڑھے ہیں تو انہوں نے اپنے الٰہوں کی تعظیم میں سجدہ کیا۔ یہ بات لوگوں کے اندر بہت ہی مشہور ہوگئی اور شیطان نے اسے یوں پھیلا دیا کہ حبشہ تک پہنچ گئی۔ جہاں بعض مومنین آباد تھے یعنی عثمان ابن مفعون اور ان کے ساتھی۔ ان کو بتایا گیا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں اور انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور ان کو یہ بات بھی پہنچی کہ ولید ابن مغیرہ نے ہاتھ میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ اب مکہ میں مسلمان پر امن ہیں چناچہ حبشی مہاجرین جلدی سے لوٹے۔ اس دوران اللہ نے اس شیطانی حرکت کے (اثرات) کو منسوخ کردیا تھا اور اپنی آیات کو محکم کردیا تھا اور افترا سے بچا لیا تھا اور اللہ نے فرمایا۔
وما ارسلنا من قبلک ........ جب اللہ نے اپنا فیصلہ دیا اور شیطانی سجع کو منسوخ کردیا تو مشرکین بھی اپنی گمراہی اور دشمنی کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے پھر از سر نو مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا۔
بعض روایات ایسی ہیں جن میں مذکورہ بالا عبارت (غرالفیق) کو حضور اکرم کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور یہ وجہ بیان کی ہے کہ (نعوذ باللہ) حضور چاہتے تھے کہ کسی طرح لوگ مسلمان ہوجائیں اور قریش کے ساتھ کسی طرح مصالحت ہوجائے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے پڑھتے ہی ان روایات کا انکار کیا ہے کیونکہ ان کو تسلیم کرنے کے بعد عصمت انبیاء اور وحی کی حفاظت پر یقین نہیں رہ سکتا اور یہ روایات نہایت لغو ہیں اور قرآن مجید میں تحریف کے امکان کی راہ کھولتی ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود سورت کی عبارت بھی ان الفاظ کے متحمل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے ان الفاظ کو شیطان کے الفاظ قرار دیا ہے وہ بھی ممکن نہیں ہے کہ اس سورت کے الفاظ کے ساتھ ادا ہوئے ہوں اور مشرکین نے اس سے وہ تاثر لیا ہو جس کا ان روایات میں ذکر ہے کیونکہ مشرکین عرب تھے۔ وہ عربی زبان خوب سمجھتے تھے۔ جب انہوں نے (غرالفیق) والی عبارت سنی اور اس کے بعد پھر متصلا انہوں نے یہ آیت سنی۔ الکم ا ........ من سلطن (۳۵ : ۳۲) ” کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئے۔ دراصل یہ کچھ نہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی۔ “ کیا وہ اس عبارت کا مفہوم بھی نہ سمجھے اور اس کے بعد انہوں نے سنا۔
ان الذین ............ الحق شیئا (۳۵ : ۸۲) ” مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں حالن کہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے۔ وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ کام نہیں دے سکتا۔ “ اور اس سے قبل وہ یہ بھی سنتے ہیں۔
وکم ............ ویرضی (۳۵ : ۶۲) ” آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں ان کی شفاعت کچھ کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دیدے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے “ یہ مشرکین جو عرب تھے اور کلام کو اچھی طرح سمجھتے تھے وہ کس طرح رسول اللہ کے ساتھ سجدہ کرسکتے تھے کیونکہ اس صورت میں تو یہ کلام درست ہی نہیں رہتا۔ ان کے بتوں کی تعریف اور یہ کہ ان کی شفاعت قبول ہوگی۔ یہ تو تسلیم شدہ ہی نہیں رہتی۔ وہ اس قدر غبی تو تھے نہیں جس طرح یہ لوگ غبی تھے جنہوں نے یہ روایات نقل کی ہیں یا تصنیف کی ہیں جن کو آج کل مستشرقین ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں یا جہالت کی وجہ سے مطلب براری کے لئے۔
جہاں تک مشرکین کے سجدے کی بات ہے تو یہ درست ہے اور یہ کسی اور وجہ سے ہوا ہوگا۔ اس طرح مہاجرین بھی حبشہ سے کسی اور وجہ سے لوٹے ہوں گے۔ یہاں ہم مہاجرین کی واپسی کی تحقیق تو نہیں کرسکتے کہ وہ واپس آئے اور پھر دوبارہ حبشہ کو چلے گئے۔ ہاں یہاں مشرکین کے سجدے کی بات ضروری ہے۔
میں ایک عرصہ تک غور کرتا رہا کہ مشرکین نے یہ بےساختہ سجدہ کیوں کیا۔ میرے ذہن میں ایک احتمال یہ آتا ہے کہ ایسا ہوا ہوگا۔ روایات میں آتا ہے کہ مہاجرین حبشہ دو یا تین ماہ کے بعد حبشہ سے واپس آگئے تھے۔ یہ بھی محتاج تو جیہہ فعل ہے۔ بہرحال میں اس نکتے پر غور ہی کررہا تھا کہ مجھے ایک شعور اور عملی تجربے سے گزرنا پڑا جس کی طرف اس سے قبل میں نے اشارہ بھی کیا ہے ۔
ایک دفعہ ہم بعض دوستوں کے ساتھ رات کو گھوم رہے تھے کہ ہم نے قریب ہی ایک قاری کی قرات سنی۔ یہ سورت نجم پڑھ رہا تھا۔ ہم خاموش ہوگئے اور قرآن مجید سننے لگے۔ قاری کی آواز بھی بہت ہی خوبصورت تھی اور اس کی قرات بھی بہت ہی اچھی تھی۔
میں اس قاری کے ساتھ چلتا رہا۔ میرا تصور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عالم بالا کی سیر کرتا رہا۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) کی ملاقات جو ان فرشتوں کی اصل صورت میں تھی۔ یہ تجربہ بھی حضور اکرم کے لئے عجیب ہوگا۔ پھر ہم سدرة المنتہیٰ اور جنت المادی کی طرف گئے میں اور اپنے خیال اور تخیل کے ساتھ جارہا ہوں اور قاری صاحب تلاوت کررہے ہیں۔ یہ میرا سفر جاری ہے جہاں تک میرا تصور ، میرا خیال اور میرا شعور میرا ساتھ دے رہا ہے۔
اس کے بعد میرے احساسات ان تصورات پر مرکوز ہوگئے جو مشرکین فرشتوں کے بارے میں رکھتے تھے۔ ان کی بندگی ، ان کا خدا کی اولاد ہونا ، ان کی مونث ہونا پھر نطفے سے انسان کی تخلیق کا منظر ، ماؤں کے پیٹوں میں جنین کے مناظر اور اللہ کے علم کا احاطہ کا تصور جس قدر میرے لئے ممکن تھا۔
پھر آخری پیراگراف پڑھا گیا اور مجھ پر اثرات پے درپے تھے کہ وہ جہاں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے ایک وسیع کائنات ہے ، پھر حساب و کتاب کے مناظر ، پھر یہ منظر کہ انسان جو راہ بھی لے اس کی انتہا پر اللہ سے ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد اس جہاں میں ہر طرف رونے والے روتے ہیں اور ساتھ ہی ہنسنے والے ہنستے ہیں۔ اربوں مخلوق زندہ ہوتی ہے تو اربوں فنا ہوتی ہے اور نطفہ یعنی مائیکرو سکوپی نقطہ کہاں سے چلتا ہے اور سفر کرتے کرتے کس طرح مذکر اور مونث کی شکل اختیار کرکے ایک قوی ہیکل انسان بن جاتا ہے پھر میرا خیال ان بستیوں میں جاتا ہے جو ہلاک کردی گئیں جو اٹھا دی گئیں اور ان پر ویرانی چھا جاتی ہے یا جو کچھ چھا جاتا ہے۔
اور پھر قاری آخری پکار تلاوت کرتا ہے۔
ھذا نذیر ............ کاشفة (۳۵ : ۸۵) ” یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے۔ آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اس کا ہٹانے والا نہیں ہے۔ “
اور اس کے بعد آخری آواز آتی ہے اور میرا پورا بدن کانپ اٹھتا ہے اس خوفناک لاجوابی کے بعد
افمن ھذا ............ سمدون (۳۵ : ۱۶) ” کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ؟ ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو۔ “
اور آخر میں جب میں نے قاری صاحب سے نا۔
فاسجدو اللہ واعبدو (۳۵ : ۲۶) (السجدة تلاوت) ” جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ۔ “ تو میرا دل کانپ اٹھا ۔ میرے اعصاب جواب دے گئے اور میری حالت ایسی ہوگئی کہ میں جسمانی اعتبار سے نڈھال ہوگیا اور میرے اوپر کپکپی طاری ہوگئی اور میرے لئے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور باوجود کوشش کے میں آنسو روک نہ سکا۔
اس وقت مجھے یقین ہوگیا کہ مشرکین مکہ نے جو بےساختہ سجدہ کیا وہ مجبور تھے کہ ایسا کریں۔ اور اس کا سبب قرآن مجید کا وہ اثر ہے جو ہر شخص پر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس سورت کے اندر جو لفظی ترنم ہے اور جو معنوی سحر آفرینی ہے وہ جسم کے اندر زلزلہ پیدا کردیتی ہے۔
یہ پہلی بار نہ تھا کہ میں نے سورت نجم سنی ہو یا پڑھی ہو لیکن اس بار مجھ پر اس کا یہ اثر ہوا میرے اندر اس قدر رد عمل پیدا ہوا یہ ہے قرآن مجید کا راز۔ اس کے رد عمل میں کچھ لمحات ہوتے ہیں کہ ایک آیت یا سورت انسان سنتا ہے تو وہ فوراً لبیک کہتا ہے۔ یہ لمحات انتظار کرنے سے نہیں ملتے۔ کچھ لمحات ہوتے ہیں جن میں انسان قوت کے اصل سرچشمے سے مل جاتا ہے او اس وقت اس پر اثر ہوتا ہے اور وہ کیا سے کیا بن جاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس دن سامعین قرآن کو اس قسم کے لمحات نصیب ہوگئے تھے۔ پھر پڑھنے والے حضرت محمد ﷺ تھے۔ آپ نہایت گہرے خلوص سے پڑھتے تھے۔ آپ کی ذات ان حالات کے اندر خود شریک تھی جو اس سورت میں بیان ہوئیں۔ آپ کی ذات ، آپ کی تلاوت اور آپ کا خلوص اس کے اندر گھل مل گیا تھا۔ ان سب چیزوں کے اثر میں سامعین کے اعصاب جواب دے گئے اور ورہ سجدہ ریز ہوگئے اور جب آپ نے پڑھا۔
فاسجدو اللہ واعبدوا (۳۵ : ۲۶) (السجدة تلاوت) تو بےساختہ سب سجدے میں گر گئے۔ آپ بھی گر گئے ، مسلمان بھی گر گئے اور کفار بھی گر گئے۔
یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ تم اپنا تجربہ اور اپنی واردات کو بیان کررہے اور تم تو مسلمان ہو۔ تم اس قرآن پر ایمان رکھتے ہو اور تمہارے دل میں قرآن کا ایک مقام واثر ہے۔ یہ مشرکین تو سرے سے مومن ہی نہ تھے اور قرآن کے منکر تھے تو انہوں نے کس طرح سجدہ کرلیا۔
لیکن دو باتیں ایسی ہیں جن سے یہ شبہ دور ہوجاتا ہے ایک تو یہ کہ سورت کی تلاوت حضرت محمد ﷺ خود فرما رہے تھے جنہوں نے اس قرآن کو براہ راست اس کے سرچشمے سے لیا تھا اور آپ کی زندگی قرآن سے عبارت تھی اور آپ کو قرآن کے ساتھ اس قدر لگاؤ تھا کہ اگر آپ کسی گھر سے قرآن کی آواز سنتے تو آپ کے قدم بوجھل ہوجاتے اور آپ سننے لگتے۔ اپنے گھر میں بھی اگر وہ سنتے تو درازے میں کھڑے ہوجاتے اور اندر تب جاتے جب تلاوت ختم ہوتی اور پھر اس سورت میں تو آپ کے وہ لمحات ذکر ہوئے جو آپ نے عالم بالا میں گزارے۔ روح الامین کے ساتھ گزارے اور آپ نے انہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھا جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ایک قاری سے سن رہا تھا۔ اس لئے دونوں میں بہت بڑافرق ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین کے دل قرآن کے عظیم تاثیرات سے کس طرح بچ سکتے تھے جبکہ وہ براہ راست حضرت محمد ﷺ سے سن رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ خدا کا کلام ہے البتہ وہ محض عناد میں مبتلا تھے اور یہ ضد اور عناد بھی مصنوعی تھے۔ آنے والے دو واقعات یہ بتائیں گے کہ وہ حضرت محمد ﷺ سے بہت ہی متاثر تھے۔ آپ کی روحانی اور اخلاقی قوتوں کے معترف تھے اس لئے ان کا متاثر ہوکر سجدے میں گر جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے۔
ابن عساکر نے عتبہ ابن ابواب کے حالات زندگی میں لکھا ہے محمد ابن اسحاق سے ، انہوں نے عثمان ابن عروہ سے ، انہوں نے ابن الزبیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ہنادبن الاسود سے وہ کہتے ہیں ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ شام جانے کے لئے تیار ہوئے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ تیاری کی۔ ان کے بیٹے عتبہ نے کہا خدا کی قسم میں محمد ﷺ کے پاس جاؤں گا اور اس کو اس کے رب کے بارے میں اذیت دوں گا۔ یہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے محمد ﷺ ” میں اس شخص کو تسلیم نہیں کرتا جو قریب ہوا اور لٹکا یہاں تک وہ دو کمانوں کے برابر تھا یا قریب تھا۔ “ تو نبی ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو مسلط فرمادے “ عتبہ واپس ہوا۔ باپ نے پوچھا کہ بیٹے تم نے اسے کیا کہا۔ اس نے واقعہ دہرایا تو اس نے پھر پوچھا کہ اس نے تمہیں کیا جواب دیا۔ تو اس نے بتایا کہ انہوں نے یہ بددعا کی کہ اے اللہ اس پر اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو مسلطً کردے تو ابولہب نے کہا بیٹا خدا کی قسم میں اس کی بددعا کے بارے میں تم سے بےفکر نہیں۔ بہرحال ہم چلے یہاں تک کہ ہم ابراہ میں اترے۔ یہ سدہ میں ہے۔ ہم ایک راہب کے گرجے میں جا کر اترے۔ اس نے کہا اہل عرب تم اس راستے سے کیوں آگئے ہو یہاں تو شیر اس طرح پھرتے ہیں جس طرح بھیڑ بکریاں پھرتی ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو میں بوڑھا ہوں اور میرا تم پر حق ہے اور اس شخص نے میرے بیٹے کے بارے میں اللہ کے ہاں بددعا کی ہے۔ میں اس سے بہت ڈرتا ہوں لہٰذا اپنے سامان کو اس گرجے میں جمع کرو اور میرے بیٹے کو سامان کے اوپر سلادو اور اس کے بعد سامان کے ارد گرد تم سوجاؤ۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ رات کو ایک شیر آیا۔ اس نے ہمارے منہ سونگھے۔ اس کو ایک شکار نہ ملا۔ یہ شیر چھلانگ لگا کر سامان کے اوپر چڑھ گیا۔ عتبہ کا منہ سونگھا اس کے بعد اسے خوب دبوچا۔ خوب دبوچا اور اس کے بعد اس کا سر پھوڑ دیا۔ ابولہب نے کہا میں نے بھی کہا تھا کہ یہ محمد ﷺ کی بددعا سے بچ نہیں سکتا۔
یہ واقعہ تو ابولہب کے ساتھ ہوا۔ کے ساتھ ہوا ، جو آپ کے شدید ترین مخالفین میں سے تھا اور مخالف ہی نہیں بلکہ مخالفین کا سرخیل تھا۔ آپ کے خلاف لوگوں کو جمع کرتا تھا۔ اور قرآن کریم میں بھی اس کے خلاف بددعا قیامت تک ثبت کردی گئی ہے۔
تبت یدا ........ مسد (۵) (۱۱۱ : ۱ تا ۵) ” ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور نامراد ہوگیا وہ ۔ اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اس کے کسی کام نہ آیا۔ ضرور وہ شعلہ بار آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کی جرو بھی لگائی بجھائی کرنے والی ، اس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی “ اور یہ تھا اس کا حقیقی شعور محمد ﷺ کے بارے میں اور حضرت محمد ﷺ کی بددعا سے وہ کس قدر کانپ گیا تھا اور اسے اپنے بیٹے کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تھی۔
دوسرا واقعہ عتبہ ابن ابوربیعہ کا ہے اس کو قریش نے حضرت محمد ﷺ کے ہاں بھیجا کہ آپ سے بات کرے کہ اس تحریک سے باز آجائیں جس نے قریش کے اندر تفریق ڈال دی ہے اور آپ ان کے الٰہوں پر تنقید کرتے ہیں۔ قریش اس کے لئے تیار ہیں کہ اگر آپ سربراہی چاہیں ، مال چاہیں ، عورتیں چاہیں ، آپ کو دے دیں۔ جب عتبہ ابن ابو ربیعہ نے بات ختم کردی تو حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری بات ختم ہوگئی تو اس نے کہا ہاں ختم ہوگئی تو حضور نے کہا پھر میری بات سنو ، تو اس نے کہا اچھا کرو تو آپ نے سورت تلاوت کی :۔
حم ........ یسمعون (۱۴ : ۴) ” یہ خدائے رحمان ورحیم کی طرف سے نازل کردہ ایسی کتاب ہے جس کی آیت خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے جو علم رکھتے ہیں بشارت دینے والی اور ڈرانے والی مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے مروگردانی کی اور وہ سن کر نہیں دیتے “ آپ پڑھتے گئے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا۔
فان ............ وثمود (۱۴ : ۳۱) ” اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم کو اس طرح کے اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد وثمود پر نازل ہوا۔ “ اسی مقام پر عتبہ اٹھا اور حضور کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بہت خوفزدہ ہوگیا اور حضرت نبی ﷺ سے درخواست کی کہ اپنے بھائیوں پر رحم کرو۔ یہ قریش کے پاس واپس ہوا اور ان کے سامنے یہ پورا واقعہ بیان کیا اور ان سے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ محمد ﷺ جو بات کہتا ہے وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ اس لئے میں ڈر گیا تھا کہ تم پر عذاب نہ آجائے۔
یہ اس شخص کا حال تھا جس نے اسلام قبول نہ کیا تھا۔ اس کا خوف اور تاثر ظاہر ہے باوجود اس کے کہ یہ لوگ سخت ہٹ دھرمی اور ضد میں انکار پر تلے ہوئے تھے۔
یہی صورت اس وقت پیش آئی جب ان لوگوں نے حضرت محمد ﷺ کے منہ مبارک سے جب سورت نجم سنی تو وہ اس قدر متاثر ہوئے اور ایسے حال میں مبتلا ہوئے کہ وہ رک نہ سکے اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ سجدہ ریز ہوگئے کیونکہ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ قرآن کا انسان پر زبردست اثر ہوتا ہے تو انہوں نے بےساختہ سجدہ کرلیا۔ اس میں نہ کوئی عرانیق کی بات تھی اور نہ کوئی اور بات تھی مثلاً شیطان کی دخل اندازی کی اور جو روایات بھی اس سلسلے میں ہیں وہ سب خود ساختہ ہیں۔
یہ ایک خوبصورت اور آنکھیں چندھیا دینے والا منظر ہے جس میں ایک عظیم کائناتی حادثہ دکھایا گیا ہے اور یہ اس سے بھی عظیم تر حادثہ کی تمہید ہے۔
اقتربت…………القمر (۵۴: ۱) ” قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند ٹکڑے ہوگیا “ امام بخاری نے روایت کی عبداللہ ابن عبدالوہاب سے انہوں نے بشر ابن مفضل سعید ابن ابوعروہ سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے انس ابن مالک سے وہ کہتے ہیں ” اہل مکہ نے رسول ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ تو آپ نے ان کو دکھایا کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور دونوں کے درمیان حرا تھا۔ “ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے دوسری اسناد سے بھی قتادہ اور حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت امام احمد نے محمد ابن کثیر سے کی ہے۔ انہوں نے سلیمان ابن کثیر سے انہوں نے حصین ابن عبدالرحمن سے ، انہوں نے محمد ابن جیرابن مطعم سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت جبیر بن مطعم سے۔ وہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا ایک پہاڑ پر نظر آتا تھا اور دوسرا اس پہاڑ پر تو کفار نے کہا محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا ہے۔ اگر اس نے ہم پر جادو کیا ہے تو یہ دنیا کے سب انسانوں پر تو جادو نہیں کرسکتا۔ یہ روایت اس طریقے سے صرف امام احمد ہی نے کی ہے۔ امام بیہقی نے اپنی کتاب الدلائل میں بواسطہ محمد ابن کثیر ، اس کے بھائی سلیمان ابن کثیر سے ، اور انہوں نے حصین ابن عبدالرحمان سے روایت کی ہے اور ابن جریر اور بیہقی نے دوسرے طریقوں اور سندوں کے ساتھ حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے نقل کی ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت امام بخاری نے روایت کی۔ یحییٰ ابن کثیر سے انہوں نے بکر سے ، انہوں نے جعفر سے ، انہوں نے عراک ابن مالک سے ، انہوں نے عبید اللہ ابن عبداللہ ابن عتبہ سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے وہ کہتے ہیں حضور اکرم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ “ امام بخاری نے اور امام مسلم نے ایک سابقہ سند کے ذریعہ بواسطہ عراک ابن عباس سے روایت کی اور امام ابن جریر نے ایک دوسری سند سے بواسطہ علی ابن ابو طلحہ ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی۔ یہ اس طرح ہوا کہ ہجرت سے قبل چاند پھٹ گیا یہاں تک کہ لوگوں نے دیکھا کہ وہ دو ٹکڑے ہے۔ عوفی نے بھی حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ طبرانی نے ایک دوسری سند سے بواسطہ مکرمہ ، حضرت ابن عباس ؓ روایت کی۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ کے زمانے میں چاند تاریک ہوگیا تھا۔ “ تو اہل مکہ نے کہا…. محمد ﷺ نے چاند پر بھی جادو کردیا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اقتربت…………مستمر (۵۴: ۲) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت۔ حافظ ابوبکر بیہقی کہتے ہیں ابوعبداللہ الحافظ اور احمد ابن الحسن قاضی نے جروی سے روایت کی دونوں نے ، ابو العباس اصم سے ، انہوں نے عباس ابن محمد دوری سے ، انہوں نے وھب ابن جریرے انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے مجاہد سے ، اور انہوں نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے ، اس آیت کی تفسیر میں۔
اقتربت…………القمر (۵۴: ۱) کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ کے زمانے میں ہوا تھا۔ یہ دو ٹکڑے ہوا تھا ایک پہاڑ سے پیچھے تھا اور ایک آگے تھا۔ “ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا۔
اللھم اشھد (اے اللہ…. گواہ رہنا) اس طرح اس روایت کو مسلم اور ترمذی نے شعبہ سے انہوں نے اعمش سے اور انہوں نے مجاہد سے نقل کیا ہے ۔
عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت امام احمد فرماتے ہیں۔ روایت کی سفیان ابن ابونحبیح نے ، مجاہد سے ، انہوں نے ابو معمر سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے وہ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ کفار نے اچھی طرح اسے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشہدوا (گواہ رہو) امام بخاری اور امام مسلم نے سفیان ابن عینیہ سے یہی روایت کی ہے اور انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ابو معمر عبداللہ ابن سخیرہ سے ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ، امام بخاری کہتے ہیں کہ امام ابو داؤد طیالسی نے یہ روایت کی ، ابوعوانہ سے انہوں نے مغیرہ سے انہوں نے ابو الضحی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ قریش نے کہا یہ ابن ابو کبثہ کا جادو ہے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا دیکھو جو لوگ سفر پر ہیں وہ آجائیں کیونکہ محمد ﷺ پوری دنیا کے لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتا چناچہ اس کے بعد جو سفر پر تھے وہ آئے اور انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔ امام بیہقی نے دوسرے طریقوں سے بھی اسے روایت کیا ہے مسروق سے ، انہوں نے عبداللہ ابن مسعود سے ، مفہوم اسی سے ملتا جلتا ہے۔
یہ ہیں متواتر روایات مختلف اسناد اور طریق سے کہ یہ واقعہ ہوا اور مکہ میں اس کی جگہ بھی بتادی گئی۔ ماسوائے ایک روایت کے جس میں منبی کا ذکر ہے باقی روایات مکہ کے بارے میں ہیں۔ حضور کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا اور ہجرت سے قبل پیش آیا۔ اکثر روایات میں آتا ہے کہ یہ دو ٹکڑے ہوگیا اور یہ ایک روایت میں آتا ہے کہ یہ چاند گرہن ہوگیا تھا۔ بہرحال واقعہ جو بھی ہو روایات سے ثابت ہے اور روایات زمان ومکان کی تحدید بھی کرتی ہیں اور شق قمر کی ہیئت کا تعین بھی کرتی ہیں۔
یہ ایسا واقعہ تھا کہ قرآن کریم نے اسے بطور دلیل قیامت مشرکین کے سامنے پیش کیا۔ کوئی ایسی روایت مشرکین سے منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نفس واقعہ کا انکار کیا ہو۔ لہٰذا یہ واعقہ اسی طرح ہوا ہوگا اور اس قدر لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ ان کے لئے نفس واقعہ کو جھٹلانا ممکن نہ رہا ہوگا۔ اگرچہ بطور کبر اور غرور ہو۔ اگر ان کے لئے اس کی تکذیب کی کوئی بھی صورت ہوتی تو وہ ضرور کرتے۔ کفار سے جو روایات اور تبصرے منقول ہیں وہ یہ ہیں کہ محمد ﷺ نے جادو کردیا ہے لیکن خود ان میں سے دانشمند لوگوں نے کہا۔ ذرا تحقیق کرو اور مسافروں سے تحقیق کرنے کے بعد ان کو معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اگر اہل مکہ کو محمد ﷺ مسحور کرسکتے تو وہ پوری دنیا کو تو مسحور نہیں کرسکتے اور جب انہوں نے مسافروں سے پوچھا جو مکہ کے باہر سے آئے تھے تو انہوں نے بھی تصدیق کی۔
اب بات یہ رہ گئی کہ آیا مشرکین نے رسول اللہ ﷺ سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں شق قمر کا معجزہ رونما ہوگیا۔ یہ روایت دراصل قرآن کی نص صریح سے متصادم ہے۔ مدلول یہ ہے کہ نبی ﷺ کو ویسے معجزات نہیں دیئے گئے جس طرح انبیائے سابق کو دیئے گئے تھے اور اس کا ایک متعین اور خاص سبب تھا۔
وما …………الاولون ” اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ان سے پہلے کے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں “ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ حضور کو وہ معجزات نہیں دیئے گئے جن کا مطالبہ ہوا تھا۔
کفار نے جب بھی حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ کیا ہے تو جواب یہی دیا گیا کہ معجزات پیش کرنا آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہے اور یہ کہ محمد ﷺ تو ایک بشر اور رسول ہیں اور ہر جگہ صرف قرآن کریم ہی کو آپ کے لئے معجزہ قرار دیا گیا اور اسی جیسی کوئی سورت یا کتاب لانے کا چیلنج دیا گیا۔
قل لئن……………. رسولا (۳۹) (۷۱ : ۸۸ تا ۳۹) ” کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ نہ جاری کردے یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا قاغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رودررو ہمارے سامنے لے آئے یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے جڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ “ اے نبی ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں “ لہٰذا یہ کہنا کہ شق قمر کا معجزہ کفار کے مطالبہ کے جواب میں آیا تھا ، قرآن مجید کی متعدد نصوص کے بھی خلاف ہے اور اس رجحان کے بھی خلاف ہے کہ اس دنیا میں آخری رسالت انسانیت کے سامنے صرف قرآن پیش کرے اور یہ کہ قرآن کا اعجاز ہی اس کا معجزہ ہو اور قرآن کے ذریعہ انسان کے دل و دماغ کو ان آیات ومعجزات کی طرف متوجہ کیا جائے جو انفس میں موجود ہیں جو آفاق میں بکثرت موجود ہیں اور جو انسانی تاریخ میں بکثرت ہیں اور سخت عبرت آموز بھی ہیں۔ باقی نبی ﷺ کے ہاتھ پر جو معجزات صادر ہوئے اور جن کی تصدیق صحیح روایات نے کی ہے تو وہ بطور اعزاز نبی ﷺ کو دیئے گئے بطور دلائل نبوت نہیں دیئے گئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ معجزہ شق قمر صادر ہوا۔ نص قرآنی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ روایات متواترہ میں اس کی تصدیق ہوئی اور جس جگہ اور جس زمانے میں صادر ہوا اس کا بھی تعین ہوگیا اور جس انداز میں ہوا اس کی تفصیلات بھی موجود ہیں لیکن جن روایات میں اس کی علت بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ بس یہی کہتے ہیں کہ شق قمر دلالت کرتا ہے قرب قیامت پر اور اسی میں ہمارے لئے عبرت ہے کہ ہم چوکنے ہوجائیں۔ جاگیں اور اس کی تیاری کریں اس عظیم گھڑی کی۔ لہٰذا شق قمر ایک کائناتی معجزہ تھا اور قرآن نے انسانوں کو اس کی طرف متوجہ کیا ہے جس طرح قرآن مجید دوسرے تکوینی معجزات کی طرف متوجہ کرتا ہے اور جس طرح دوسرے معجزات کے مقابلے میں ان کا رویہ قابل تعجب ہے۔ اسی طرح اس معجزے سے بھی انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
خارق عادت معجزات ، انسانیت کے ابتدائی دور ہیں۔ بیشک انسانوں کو متاثر کرتے تھے جس دور میں انسانیت نے اس قدر علمی ترقی نہ کی تھی کہ وہ اس کائنات میں قائم اور بکھرے ہوئے معجزات کو سمجھ سکیں اور ان سے متاثر ہوں۔ گزرے ہوئے نبیوں کے ہاتھوں جن معجزات کا صدور ہوا اور انسانیت ان سے متاثر ہوئی تو یہ اس دور کی بات ہے جب انسانیت عقلی بلوغ کے درجے کہ نہ پہنچی تھی لیکن آج اس کائنات میں ایسے ایسے معجزات انسانیت کو معلوم ہوچکے ہیں جو ان معجزات سے بڑے معجزات ہیں۔ اگر چہان لوگوں کو وہ متاثر نہیں کرتے جو وہی ابلدائی احساسات رکھتے ہیں اور جو عقلی بلوغ کے درجے تک نہیں پہنچے۔
فرض کیجئے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہونا معجزہ تھا تو چاند بذات خود بھی تو ایک معجزہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے اس حجم ، موجودہ وضع ، شکل ، طبیعت ، گردش کی منازل ، دورے ، اس کے آثار ، زمین کی زندگی پر اس کے اثرات اور فضا میں اس کا اس طرح تیرنا بغیر کسی سہارے کے کیا یہ ایک عظیم معجزہ نہیں ہے جو ہر وقت قائم اور دائم اور ہمارے مشاہدے میں ہے اور ہم اس کے بارے میں ہر وقت سوچ سکتے ہیں۔ اس سے اثر لیتے ہیں۔ کیا قدرت الٰہیہ پر اس سے بڑی اور کوئی دلیل چاہئے۔ کون ہے جو نفس چاند کے معجزے سے انکار کرسکتا ہے۔ ماسوائے اس شخص کے جو ہٹ دھرم اور ضدی ہو۔
قرآن نے تو انسان کو اس کائنات کے سامنے کھڑا کردیا اور یہ مشاہدہ کرایا کہ اس کائنات کے اندر عظیم معجزات ہر وقت قائم اور دائم ہیں۔ قرآن انسان کو ان معجزات کے ساتھ دائما جوڑنا چاہتا ہے۔ یہ نہیں کہ شق قمر کی طرح کوئی چیز ہزارہا سال میں ایک بار دکھا دی جائے اور اس کو بھی ایک ہی زمانے کے لوگ دیکھ لیں۔ قرآن کہتا ہے کہ دیکھو اس کائنات کو اگر دیدہ عبرت نگاہ رکھتے ہو۔
یہ پوری کائنات معجزات کا ایک منظر نامہ ہے۔ جو آنکھوں کے سامنے رہتا ہے غائب نہیں ہوتا اور یہ سب معجزے دیکھو اور دیکھتے چلے جاؤ۔ اس میں چھوٹے معجزات بھی ہیں اور بڑے بھی اور یہ معجزات شہادت دے رہے ہیں۔ ان کی شہادت سنو۔ یہ عجیب شہادت ہے اسے ریکارڈ کرو۔ یہ نہایت ہی خوبصورت شہادت ہے اس میں جمال بھی ہے اور کمال بھی ہے اور یہ تو انسان کو نہ صرف یہ کہ فیصلے پر پہنچاتی ہے بلکہ دہشت زدہ اور ششدر کردیتی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت ہی پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ نہایت گہرا اور سنجیدہ۔
اس سورت کے آغاز میں یہ اشارہ آتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا ہے جس سے انسان پر گہرا اثر پڑتا ہے کیونکہ قیام قیامت اور چاند کا ٹکڑے ہونا بہت ہی بڑے واقعات ہیں۔ قرآن بتاتا ہے کہ تم نے یہ ایک عظیم حادثہ تو دیکھ ہی لیا ہے اسی طرح قیام قیامت بھی ہوگا۔
شق قمر کے بعد صرف قیامت کے بارے میں امام احمد نے روایت کی ہے حسین سے ، انہوں نے محمد ابن مطوف سے ، انہوں نے ابو حازم سے ، اور انہوں نے حضرت سہیل ابن سعد سے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ” میں اور قیامت اس طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ “ آپ نے درمیان انگلی اور سبابہ کو جوڑ کر اشاہ کیا (متفق علیہ)
باوجود اس حقیقت کہ قیامت کی گھڑی قریب آلگی ہے اور نہایت ہی اثر انگیز واقعہ بھی انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اور مختلف شکلوں میں انہوں نے اللہ کی نشانیاں بھی دیکھ لی ہیں لیکن ان لوگوں کے دلوں میں عناد کوٹ کوٹ بھرا ہوا تھا۔ وہ گمراہی کی راہ پر اصرار کررہے تھے۔ وہ ڈراوے سے متاثر ہوتے تھے اور نہ اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں سے متاثر ہوتے تھے جو نصیحت کے لئے کافی ہیں اور انسان کو جھٹلانے سے روک سکتی ہیں لیکن ان لوگوں نے ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
وان یروا ............ تغن النذر (۵۴:۲) ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ انہوں نے جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس کی پیروی کی۔ ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔ ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں “
شق قمر کو بھی دیکھ کر انہوں نے اعراض کرلیا اور انہوں نے شق قمر کے بارے میں بھی وہی بات کہی جو قرآن کی آیات کے سارے میں کہتے تھے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ایک نشانی تو وہ کہتے ہیں جادو ہے اور مسلسل نشانیوں کو کہتے ہیں کہ یہ مسلسل جادو ہے جس کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ نشانات الٰہیہ پر غور کرنے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ وہ نشانیوں کی دلالت اور شہادت سے بھی منہ موڑتے ہیں۔ یہ انکار وہ محض خواہش نفس سے مجبور ہوکر کرتے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ ان کے پاس کوئی حجت ہے یا اسلام کے حق میں حجت نہیں کہ انہوں نے اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور کرلیا ہے۔
وکل امر مستقر (۵۴: ۳) ” ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے “ اس عظیم کائنات میں ہر چیز اپنے مقام پر رکھی ہوتی ہے اور وہ اپنی جگہ پر پختہ ہے۔ نہ ہلتی ہے اور نہ اس کے اندر اضطراب ہے۔ اس کائنات کا ہر معاملہ ثبات وقرار پر مبنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق اصول بھی بدلتے ہیں اور بادشاہوں کی ھنازک مزاجیوں کی طرح اصول اور قوانین بھی بدل جاتے ہیں۔ یوں بھی نہیں ہے کہ یہاں معاملات بخت واتفاق کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ ہر چیز اپنی جگہ اور اپنے زمان اور وقت پر رونما ہوتی ہے۔ انسان کو دیکھنا چاہئے کہ اس کے ماحول میں زمان ومکان میں ، واقعات وحادثات میں ایک ترتیب ہے اور یہ ترتیب اور اصول ہر چیز میں نظر آتا ہے۔ آسمانوں کی گردش میں ، زندگی کے طریقوں میں ، حیوانات اور نباتات کے بڑھنے میں ، تمام اشیاء اور مواد میں بلکہ خود ان کے جسم کے وظائف وفرائض میں ان کے اعضا کی کارکردگی میں ایک ترتیب ہے اور ان کو ان چیزوں پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔ یہ قیامت وقرار ان کو گھیرے ہوئے ہے اور ان کے گرد تمام اشیاء کو بھی اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے اور ان کے آگے اور پیچھے ہر طرف نظر آتا ہے ، صرف یہ انسان ہیں کہ یہ مضطرب ہیں اور اپنی خواہشات کے مطابق کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔
ولقد ............ مزدجر (۵۴:۴) ” ان لوگوں کے سامنے وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لئے کافی سامان عبرت ہے۔ “ ان کے پاس اس کائنات کی آیات کے بارے میں قرآن نے کافی خبریں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں۔ ان کے پاس اہم سابقہ کے مکذبین کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان کے پاس مناظر قیامت کی شکل میں آخرت کی خبریں بھی آچکی ہیں۔ ان سب امور میں عبرت آموزی ، رکاوٹ ، خطرے کی علامات موجود ہیں اور ان کے اندر ایسی حکیمانہ باتیں بھی ہیں جو سیدھی دل میں اترنے والی ہیں اور اچھی ہدایات ہیں لیکن جو دل اندھے ہوچکے ہیں وہ آیات کو نہیں دیکھ پاتے اور ان خبروں سے فائدہ نہیں اٹھائے نہ خبروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ڈراوے سے وہ ڈرتے ہیں۔
حکمة ........ النذر (۵۴:۵) ” اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔ “ ایمان ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے قلب انسانی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
ان کی روگردانی اور کفر پر اصرار کی اس قدر تصویر کشی کرنے کے بعد اور یہ بتا دینے کے بعد کہ یہ خبروں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ان کے لئے ڈراوے میں بھی فائدہ نہیں۔ رسول ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ بھی ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ دن جلدی ہی آنے والا ہے شق قمر اس دن کی علامت تھی ، یہ دن بہت قریب ہے۔
فتول ............ عسر (۵۴: ۸) ” پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو ، جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا ، لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ انہی قبروں سے اس طرف نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکر بھی اس وقت کہیں گے یہ دن تو بڑا کٹھن ہے۔ “
یہ اس دن کے مناظر میں سے ایک منظر ہے۔ اس کی ہولناک اور اس کی یہ شدت اس سورت کے موضوع ومضامین اور فضا کے مناسب ہے اور قیامت کے قریب آنے کی تمہید کے لئے بھی مناسب ہے پھر اس خبر کے بھی مناسب کہ چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور سورت کے اندر پائے جانے والے ترنم سے بھی ہم آہنگ ہے۔
یہ منظر بہت تیز چلتا ہے اور فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صاف نظر آنے والا اور حرکت سے بھر پو رجس کی حرکات اور انداز بھی متوازن ہیں۔ لوگ گروہ در گروہ قبروں سے نکل رہے ہیں یوں جس طرح ٹڈی دل بکھر جاتا ہے۔ یہ منظر ٹڈی دل کی نسبت سے اور بھی واضح ہوجاتا ہے۔ یہ گروہ ڈر کے مارے سہمے ہوئے ہے۔ ذلت اور خوف کے مارے نظریں نیچی نیچی ہیں۔ پکارنے والے کی طرف دوڑ رہے ہیں کہ کیا آفت آگئی ہے۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ سخت بےاطمینانی ہے ، انتہائی برے انجام سے دوچار ہونے کے لئے جانے والے بس یہی کہہ سکے۔
ھذا ........ عسر (۵۴: ۸) ” یہ تو بڑا کٹھن دن ہے “ اور یہ اس شخص کا قول ہے نہایت کربناک اور تھکے ہوئے شخص کی بات ہے جو گویا سولی پر چڑھنے کے لئے بوجھل قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ہے وہ دن جو آیا ہی چاہتا ہے لیکن یہ لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ڈراوے سے منہ موڑ رہے ہیں۔ حق کی تکذیب کرتے ہیں۔ اے پیغمبر آپ بھی ان سے منہ موڑ لیں اور چھوڑیں انہیں ان کے انجام کے لئے جو نہایت ہی خوفناک ہے۔
سورت کا آغاز اس قدر خوفناک انداز اور زور دار لہجے میں کرنے کے بعد اور قیامت کا ایک خوفناک منظر پیش کرنے کے بعد اب انسانی تاریخ کے کچھ مناظر دیئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں پر اس طرح کی قیامت ٹوٹی جو اوپر کے منظر میں دکھائی گئی۔ یہ اقوام بھی ایسا ہی رویہ اختیار کئے ہوئے تھیں جس طرح اہل مکہ نے اختیار کررکھا ہے۔ آغاز قوم نوح (علیہ السلام) سے