بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٱلْقَارِعَةُ مَا ٱلْقَارِعَةُ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌۭ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ نَارٌ حَامِيَةٌۢ

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ العَادِيَاتِ: ۶–۸

ان الانسان ............................ لشدید (۶:۱۰۰ تا ۸) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے ، اور وہ خود اس پر گواہ ہے ، اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ بیشک انسان اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے اور اللہ کے فضل وکرم کا عملی انکار کرتا ہے۔ اور اس کی یہ ناشکری اور کفران نعمت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے افعال سے اور اس کے اقوال سے ، چناچہ اس کے اعمال واقوال ہی اس کے اس جرم پر گواہ ہوتے ہیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب ، وہ اپنے اوپر خود گواہ بن جاتا ہے ، اور قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔

وانہ .................... ذلک لشھید (۷:۱۰۰) ” وہ خود اس پر گواہ ہے “۔ اور ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ سچائی کی شہادت خود اپنے خلاف دے گا۔ جس میں کوئی شک اور نزاع نہیں۔

وانہ ................ لشدید (۸:۱۰۰) ” اور یہ مال اور دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے “۔ یہ اپنی جان اور اپنے مفاد کو بہت ہی محبوب رکھتا ہے۔ اس لئے اسے دولت کے ساتھ بہت محبت ہے ، دولت کو یہاں ” خیر “ سے تعبیر کیا گیا ہے ، کیونکہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی بھلائی مال ومتاع اور اقتدار و حکومت میں ہے جو دنیا کے سازو سامان ہیں۔

یہ ہے انسان کی فطرت ، یہ ہے اس کا مزاج اور یہ تب بدل سکتا ہے جب اس کے مزاج اور اس کی نفسیات میں ایمان داخل ہوجائے۔ ایمان کی وجہ سے اس کے تصورات ، اس کی قدریں اور اس کے پیمانے ہی بدل جاتے ہیں۔ اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ جب اس کی نفسیات میں ایمان داخل ہوتا ہے تو پھر انکار اور ناشکری اللہ کے فضل کے اعتراف اور شکر میں بدل جاتی ہے۔ جبکہ بخل اور دولت کی محبت ، ایثار اور محبت سے بدل جاتی ہے۔ یہ امان انسان کو ایسی قدریں عطا کرتا ہے جن کے لئے انسان حرص ، لالچ ، مناقست اور جدوجہد کرتا ہے۔ اور یہ قدریں مال و دولت اور اقتدار اور حکومت سے زیادہ بلند ہوتی ہیں ، اور وہ تمام دنیاوی اور حیوانی قدروں سے برتر ہوتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ایمان کے بغیر نہایت ہی چھوٹا اور حقیر ہوتا ہے ، جس کی امیدیں حقیر ، جس کی ترجیحات حقیر اور جس کے اہداف حقیر ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ بہت عظیم مقاصد نظر آئیں۔ جوں جوں انسان کا حرص اور اس کی طمع بڑھتی ہے اور جوں جوں اس کا لالچ شدید ہوتا ہے ، اسکے مقاصدبلند ہوتے ہیں ، وہ زمینی قدروں کے دلدل میں گرتا جاتا ہے۔ اس کی تمام سرگرمیاں اس عمر کے لئے ہوتی ہیں۔ وہ اپنی ذات کے اندر محدود اور قید ہوجاتا ہے اور اس قید سے اسے رہائی صرف اس صورت میں نصیب ہوسکتی ہے جب وہ اس دنیا سے ایک بڑی دنیا کے ساتھ مربوط ہوجائے ۔ جو اس دنیا سے بہت بلند اور دور ہے ، جو اس کی ذاتی محدود دنیا سے بہت وسیع ہے۔ وہ ایسی دنیا ہے جو اللہ ازلی کی تخلیق ہے ، جس میں تمام امور اللہ ازلی وابدی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اور جس میں اس محدود دنیا کی سرحدیں ایک وسیع اور لازوال دنیا سے جاملتی ہیں۔

چناچہ سورت کی آخری جھلک اسی کے بارے میں ہے تاکہ انکار اور ناشکری کا علاج ہوسکے ، تاکہ خود غرضی اور مفاد پرستی کی بیماری کا علاج کیا جاسکے تاکہ نفس پرستی کے قلعے کو توڑ کر حقیقی انسان کو اس سے رہائی دلائی جاسکے۔ چناچہ حشر ونشر کے منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ انسان اس دنیا پرستی اور خود غرضی کو ، مارے خوف کے بھول جائے اور خواب خرگوش سے بیدار ہوکر چوکنا ہوجائے۔

سُورَةُ العَادِيَاتِ: ۹–۱۰

یہ ایک شدید اور موثر منظر ہے۔ قبروں سے انسانوں کا نکالا جانا ، اس عمل کے لئے ” بعثرہ “ کا شدید لفظ لایا گیا ہے اور پھر اس منظر میں ان رازوں کو کھینچ کھینچ کر باہر نکالا جارہا ہے جن کو نفوس انسانی نے دبائے اور چھپائے رکھا تھا۔ حصلت کا لفظ اس کے لئے استعمال ہوا کہ گویا سرکاری کارندے زبردستی حاصل کررہے ہیں۔ سرکاری تحصیل دار پہنچے ہوتے ہیں اور نہایت شدید پکڑ دھکڑ کا منظر ہے۔

کیا انسان نہیں جانتا کہ اسے اس قسم کے منظر سے گزرنا ہے۔ اسے کچھ یاد ہے ان حقائق کے بارے میں ، یہ حقائق تو ہر انسان کی فطرت میں ہیں۔ اگر اسے علم ہے اور یاد ہے تو بس اس کی اصلاح کے لئے تو یہی کافی ہے۔ اس علم کا جواب نہیں دیا جاتا کہ اگر وہ جانتا تو کیا ہوتا ؟ تم خودہی سوچ لو کہ کیا ہوتا۔ بہت کچھ ہوجاتا۔ اگر انسان اس بات کو جانتا ، بہت بڑے بڑے نتائج برآمد ہوجاتے ، مجرد اس علم سے ۔ یہ سب حرکات اور یہ جھلکیاں ایک آخری سکون وقرار پر ختم ہوتی ہیں جس تک پہنچ کر ہر حرکت اور ہر بات اپنے ٹھکانے تک پہنچ جاتی ہے۔

سُورَةُ العَادِيَاتِ: ۱۱

سب لوگ رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اس دن ان کے امور ، ان کے رازوں اور ان کے حالات سے اللہ نہایت ہی اچھی طرح خبردار ہوگا۔ اس دن کی قید نہیں ہے ، اللہ تو ہر وقت اور ہر دن ان حالات سے خبردار ہے۔ لیکن یہاں ” یومئذ “ کا لفظ نہایت موثر ہے۔ اور اس کے آثار انسان کو اس دن کے بارے میں چوکنا کردیتے ہی۔ یہ کہ اللہ اس دن خبردار ہوگا یعنی کوئی سزا سے نہ بچ سکے گا۔ حساب و کتاب نہایت علم وخبرداری پر مبنی ہوگا۔ یہی ضمنی مفہم ہی یہاں اہمیت رکھتا ہے۔ غرض یہ پوری سورت ایک مسلسل منظر ہے۔ ایک خوفناک وہیبت ناک منظر ، معانی ، الفاظ اور انداز بیان سب کچھ بدل جاتا ہے اور یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے اور یہ قرآن کے معجزانداز کلام کا ایک مخصوص پہلو ہے۔

سُورَةُ القَارِعَةِ
سُورَةُ القَارِعَةِ: ۱–۳

بات کا آغاز ایک منفرد لفظ سے ہوتا ہے القارعہ۔ گویا یہ ایک گولہ ہے جو آکر گرتا ہے اس کی کوئی صفت یا کوئی خبر سیاق کلام میں نہیں ہے۔ یہ اس لئے تاکہ یہ لفظ اپنی آواز ، اپنے اثر اور اپنی شدت سے فضا میں ایک گونج پیدا کردے ، جس کا ایک طویل اشارہ ہے۔ اس کے فوراً بعد پھر ایک سوال آتا ہے :

ما القارعة (۲:۱۰۱) ” کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی ؟ “ گویا وہ ایک نامعلوم ، پوشیدہ اور خوفناک بات ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک سوال کے ذریعہ پہلے سوال کا جواب دیا جاتا ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے ؟

وما ادرک ................ القارعة (۳:۱۰۱) ” تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ “ یہ اس قدر عظیم حادثہ ہوگا کہ تمہارے قیاس وادراک کے دائرہ سے باہر ہے۔ تمہارا تصور اسے نہیں چھوسکتا۔

اب اس عظیم حادثہ کے کچھ واقعات بتاکر اس کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے۔ اس کی تعریف اور حقیقت بیان نہیں کی جاتی۔ کیونکہ اس کی حقیقت کا ادراک ممکن ہی نہیں ہے جیسا کہ پہلے کہہ دیا گیا اور واقعات یہ ہیں :

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۴–۵

یہ تو تھا اس کھٹکھٹانے والی اور عظیم حادثے کا پہلا منظر۔ اس کو دیکھتے ہی دل ٹکڑے ٹکڑے ہوکر اڑنے لگتا ہے۔ انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور وہ یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس دنیا کی ہر وہ چیز جس کا سہارا وہ لے سکتا تھا ، اڑی اڑی سی جارہی ہے۔ وہ ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح ذرے اڑ رہے ہوتے ہیں اور اچانک آخری اور مکمل خاتمہ سامنے آجاتا ہے۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۶

ترازو کے پلڑوں کے بھاری ہونے اور خفیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں اعتبار ہے اور وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں ہے ، یہی بات قرآن کریم کے مجموعی انداز بیان سے معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم !

رہے وہ عقلی اور لفظی مباحث جو ان امور کے بارے میں مفسرین ومتکلمین کرتے ہی۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ مباحث وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن کریم کی حقیقی ترجیحات اور اہتمامات سے واقف نہیں ہوتے۔

فاما من ................ موازینہ (۶:۱۰۱) ” پھر جس کی قدریں اہم ہوں گی “ اور اللہ کے ہاں وہ درست ہوں گی۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۷

فھو فی .................... راضیة (۷:۱۰۱) ” وہ دل پسند عیش میں ہوگا “ اور عیش کی تفصیلات مجمل چھوڑ دی گئی ہیں۔ یعنی ایسا عیش ہوگا جس پر وہ راضی ہوگا ، بہترین نعمت یہ ہے کہ کسی حالت پر انسان راضی ہو۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۸

فامامن ................ موازینہ (۸:۱۰۱) ” جس کے پیمانے ہلکے ہوئے “۔ اللہ کے اعتبار اور معیار کے مطابق۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۹

فامہ ھاویة (۹:۱۰۱) ” تو اس کی ماں گہرائی کھائی ہے “۔ ماں دراصل بچے کی جائے پناہ ہوتی ہے ، تو ایسے لوگوں کی جائے پناہ جہنم کی گہری کھائی ہوگی اس لئے یہ ان کی ماں ہوئی۔ کیا ہی خوب انداز تعبیر ہے جو موقع ومقام کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ یہاں عذاب کو مجمل رکھا گیا ہے تاکہ آیت مابعد میں اس کی وضاحت ایسے انداز میں کی جائے جو بہت ہی موثر ہو۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۱۰

وما ادرک ماھیہ (۱۰:۱۰۱) ” اور آپ کو کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے “۔ یہ قرآن کریم کا معروف انداز بیان ہے کہ کسی چیز کو ہولناک بنانے کے لئے یہ کہ دینا کہ تمہیں کیا معلوم کہ وہ کیا ہے ؟

اور پھر اس کے بعد ایک جواب آتا ہے اور یہ آخری نچ ہوتا ہے۔

سُورَةُ القَارِعَةِ: ۱۱

نارحامیة (۱۱:۱۰۱) ” یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے “۔ اور جن لوگوں کے پیمانے ہلکے اور ناقابل اعتبار ہوئے ، یہ گرم آگ ان کی ماں ہوگی ۔ اس ماں کی جھولی میں وہ آرام کریں گے اور وہاں آرام و راحت پائیں گے یا تم سمجھ گئے کہ اس ماں کے ہاں وہ کیا آرام پائیں گے جو گہری کھائی ہے اور جس کے اندر گرم آگ ہے۔ یہ اچانک طنزیہ انداز اس قدری حقیقی ہے اور اس قدر تلخ ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

سُورَةُ التَّكَاثُرِ
سُورَةُ التَّكَاثُرِ: ۱–۲

اے حالت مدہوشی میں سرپٹ دوڑنے والو ، اے لاپرواہی کی حالت میں مال اور اولاد کی کثرت اور دنیا کے سازو سامان کی بہتات کے لئے جدوجہد کرنے والو ، تم تو ان سب چیزوں کو اسی جہاں میں چھوڑ کر جانے والے ہو ، اے دنیا کی مشغولیتوں میں دھوکہ کھانے والو ، اے مال واولاد کو چھوڑ کر جانے والو ، ایک ایسے چھوٹے سے گڑھے ، قبر میں جانے والو ، قبر میں تو نہ مال ہوگا ، نہ اولاد ہوگی اور نہ وہاں کوئی فخر ہوگا اور اظہار برتری ہوگا ، جاگو ، اور دیکھو ، غورکرو۔

الھکم .................... المقابر (۲:۱۰۲) ” تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو “۔ لیکن قبر کی سیر کے بعد وہاں تمہارے لئے ایک خوفناک منظر ہے ، نہایت سخت اور زور دار انداز میں ان کے دلوں کو یوں کھڑکھڑایا جاتا ہے۔

سُورَةُ التَّكَاثُرِ: ۳–۵

ان خوفناک الفاظ کو مکرر کہا جاتا ہے اور اس تکرار کے بعد جو بھاری بات آتی ہے اس کی وجہ سے یہ تاکید نہایت گہری اور خوفناک ہوجاتی ہے اور یہ لوگ اس ہولناک امر کی حقیقت کو نہیں جانتے کیونکہ یہ مدہوشی میں ہیں اور رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

سُورَةُ التَّكَاثُرِ: ۶

اب اس خوفناک حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد اس حقیقت کی تاکید کی جاتی تاکہ دلوں پر اس کا خوف طاری ہو۔

سُورَةُ التَّكَاثُرِ: ۷

اور اب آخری ضرب ایسی سخت لگائی جاتی ہے کہ ایک غافل سے غافل انسان بھی بیدار ہوکر رہ جاتا ہے ، چوکنا ہوجاتا ہے اور جو منہ کے رخ سرپٹ دوڑرہا ہے وہ بھی ذرا رک کر اس طرف متوجہ کرتا ہے اور بڑے سے بڑے مالدار کا عیش بھی مکدر ہوجاتا ہے ، وہ کانپنے لگتا ہے اور اس کے دل پر ان نعمتوں کے حوالے سے خوف طاری ہوجاتا ہے۔

سُورَةُ التَّكَاثُرِ: ۸

تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ نعمتیں تم نے کہاں سے حاصل کیں۔ کہاں ان کو خرچ کیا۔ کیا اللہ کی اطاعت کرکے حاصل کیا اور اللہ کی اطاعت میں خرچ کیا یا اللہ کی معصیت کرکے حاصل کیا اور معصیت میں خرچ کیا۔ حلال راستہ سے کمایا اور حلال راہ میں خرچ کیا یا حرام راستہ سے کمایا اور حرام میں خرچ کیا۔ کیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ کیا ان کا حق ادا کیا۔ کیا اس میں دوسروں کو شر کی کیا یا خود ہی استعمال کرتے رہے۔

یہ سوالات لازماً تم سے ہوں گے کہ یہ دولت کس طرح اکھٹی کی اور کس طرح تم نے اس پر تفاخر کیا۔ یہ دولت اور یہ انعامات تمہیں اپنی مدہوشی اور غفلت کی وجہ سے ہلکی نظر آتی ہیں۔ اور کھیل نظر آتی ہیں لیکن ان کے پیچھے تو ایک بھاری ذمہ داری ہے اور ایک سخت جوابدہی ہے۔

یہ سورت نہایت ہی مختصر سورت اپنی تفسیر آپ ہے۔ یہ انسانی احساس پر چھاجاتی ہے ، اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور انسانی قلب ونظر اس کی گرفت میں بوجھل نظر آتے ہیں۔ انسان یکدم دنیا کی حقیقت پاکر ، اس کی حقیر لذتوں اور کم قیمت ترجیحات کو چھوڑ کر فکر آخرت میں مشغول ہوجاتا ہے جبکہ عام لوگ جن کے دل ان حقائق اور اثرات سے فارغ ہوتے ہیں وہ ان حقیر چیزوں کے لئے مرمٹ رہے ہوتے ہیں۔

یہ سورت اس دنیا کو اس طرح پیش کرتی ہے جس طرح ایک طویل فلم میں ایک سیکنڈ کی ایک جھلک۔

الھکم ................ المقابر (۲:۱۰۲) ” تم کو تکاثر کی دھن نے قبرستان پہنچایا “۔ ان چند الفاظ میں پوری دنیاوی زندگی کی جھلک دکھا کر اسے لپیٹ لیا جاتا ہے۔ پھر دائمی اور حیات جاوداں کی فلم چلتی ہے۔ طویل زمانے میں اور مجرمین ابدالا باد تک بوجھ اٹھاتے پھریں گے۔ یہ تصور نہایت ہی خوبصورت انداز تعبیر میں دیا جاتا ہے اور اصل حقیقت اور انداز بیان یکساں ہوجاتے ہیں۔

ایک عظیم خوفناک اور گہرے معانی رکھنے والی سورت جو شخص بھی سمجھ کر پڑے گا ، جس کے اثرات زمین سے طوفان کی شکل میں اٹھ کر فضاﺅں میں جاکر دور بلند مطالع پر نمودار ہوتے ہیں ، جس کے معانی نہایت ٹھوس ہیں اور دل و دماغ کے سمندر میں نہایت ہی گہرائیوں میں جاکر قرارپکڑتے ہیں تو اس کا دل بوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کرہ ارض پر زندگی کی ایک جھلک اور چمک ، اپنے نتائج واثرات کے لحاظ سے کس قدر طویل ہے۔ تو ہر باشعور شخص اخروی زندگی کی طویل تیاری کی راہ پر چل نکلتا ہے۔ اور اس راہ میں پھر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے حوالے سے بھی حساس ہوجاتا ہے۔

600