Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
” اس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی “۔ اب تو فیصلہ ہوچکا اور بات سچ ہوگئی۔ سب کا فیصلہ ہوگیا ، اور یہ فیصلہ اور یہ انجام مجرمین کا حقیقی انجام تھا۔ اب ان مجرموں کو کسی کی کوئی سفارش فائدہ نہ دے گی اور اگر فرض کرلیا جائے کہ کوئی سفارش ہوگی تو بھی یہ سفارش کام نہ آئے گی۔
اس توہین آمیز اور مابوس کن صورت حالات کی تصویر دکھا کر اب پھر ان لوگوں کو ، متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کے لئے جو مواقع فراہم کردیئے گئے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائی لیکن وہ اس ہدایت سے منہ موڑ رہے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں بلکہ وہ ہدایت اور خیر سے دور بھاگتے ہیں۔ اور ان وسائل سے دور بھاگتے ہیں جو زندگی ، ابدی زندگی کے حقیقی وسائل ہیں۔ چناچہ یہ لگ جس صورت حال میں ڈوبے ہوئے ہیں اس کی ایک مضحکہ خیز جھلک دکھائی جاتی ہے۔
فمالھم ............................ قسورة
جنگلی گدھے بہت ہی ڈرپوک ہوتے ہیں ، جب یہ شیر کی دھاڑ کی آواز سنتے ہیں تو یہ جدھر منہ ہوتا ہے ادھر بھاگ جاتے ہیں۔ عرب اس قسم کے مناظر سے واقف تھے۔ جب انسانوں کو ان خوفزدہ گدھوں سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تو یہ منظر نہایت ہی مضحکہ خیزہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تذکرہ اور نصیحت سے ان کی نفرت اور فرار نہیں انسانوں کی بجائے گدھے بنا دیتا ہے۔ سا لئے نہیں کہ انہیں کوئی خوف درپیش ہے بلکہ اس لئے کہ ایک یاددہانی کرانے والا ان کو اپنے رب کی طرف بلارہا ہے اور انہیں یہ موقعہ فراہم کررہا ہے کہ یہ لوگ اس خوفناک انجام سے دو چار ہونے سے بچ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دست قدر کی محیر العقول عکاسی ہے جس نے اس تشبیہ کو یوں ریکارڈ کیا تاکہ قیامت تک لوگ اسے پڑھتے رہیں اور ان لوگوں کا رویہ قابل نفرت نظر آتا رہے اور لوگ ایسے روئیے سے بچتے رہیں اور جن لوگوں نے یہ رویہ اختیار کیا وہ شرمساری سے منہ چھپاتے پھریں۔
یہ تو تھی ان لوگوں کی بیرونی تصویر کہ ” وہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر کے ڈر سے بھاگ پڑے ہیں “۔ لیکن ان کی داخلی نفسیاتی تصور کیا ہے اور ان کا شعوری خلجان کیا ہے۔
بل یرید .................... منشرة
یہ شعور وہ نبی ﷺ کے ساتھ حسد کی وجہ سے رکھتے تھے کہ حضور ﷺ کو یہ منصب کیوں عطا ہوا ؟ ہر کہ ومنہ یہ چاہتا تھا کہ یہ منصب اسے دیا جائے اور ہر شخص کے اوپر کھلے صحیفے اترتے نظر آئیں۔ یہ اشارہ ہے ان کبرائے قریش کی طرف جو اس بات پر جل بھن گئے تھے کہ محمد (ﷺ) ابن عبداللہ پر یہ کلام کیوں نازل ہوا۔
لو لا ................................ عظیم ” یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ “ لیکن اللہ نے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ منصب رسالت کا اہل کون ہے اور اس عظیم کام کے لئے اس نے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی بات تھی جس کی وجہ سے یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات سے نفرت کرتے تھے اور قبولیت پر آمادہ نہ تھے۔
ان لوگوں کے نفوس کی اندرونی تصویر کشی جاری ہے ، چناچہ اس طمع اور لالچ اور حسد سے بھر پور ایک دوسرا سبب بھی سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بےجا حسد اور لالچ میں کیوں مبتلا ہوگئے ہیں تو اس سے بھی دور رس سبب یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم ہوگئے ہیں۔
کلا .................... الاخرة
ان کی یہ بےخوفی اور لاابالی پن ہی ہے جو انہیں اس نصیحت و حکمت سے دور کررہا ہے اور دعوت اسلامی سے یہ دور بھاگ رہے ہیں۔ اگر ان کے دلوں میں آخرت کا شعور ہوتا تو ان کی صورت حال یہ نہ ہوتی کہ یہ ہر معاملے میں شک میں گرفتار ہیں۔
اس کے بعد ایک بار پھر ان کو تنبیہ کی جاتی ہے۔ اب آخری بات کہہ دی جاتی ہے اور ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اب جو چاہیں کریں اور جو انجام چاہیں ، قبول کریں۔
کلا انہ ............................ ذکرہ
یہ قرآن جس کے سننے سے یہ لوگ منہ موڑ رہے ہیں اور اس طرح بھاگ رہے ہیں جس طرح جنگلی گدھے بھاگتے ہیں۔ جبکہ ان کے دل حسد اور لالچ سے بھرے ہیں۔ اور آخرت کے بارے میں یہ لوگ لاپرواہ ہیں۔ یہ تو ایک تذکرہ اور تنبیہ اور نصیحت ہے۔ جو چاہے یہ نصیحت حاصل کرے۔ جو نہ چاہے نہ کرے۔ نفع نقصان ہر کسی کا اپنا ہے۔ جو چاہے عزت اور جنت حاصل کرے اور جو چاہے ذلت اور جہنم حاصل کرے۔
یہ بات کہنے کے بعد کہ لوگ نیک وبد کے اختیار کرنے میں آزاد ومختار ہیں۔ یہ حقیقت بھی سامنے لائی جاتی ہے کہ ان کی یہ آزادی اور اختیار دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور انجام کار تمام امور اللہ کے دائرہ اختیار ہی میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن ہر موقعہ ومناسبت میں واضح کرتا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ اللہ کی مشیت محدود ہے۔ مطلب یہ کہ انسانی اختیار بھی دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے اور تمام واقعات اللہ کے حکم ومشیت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
ومایذکرون .................... المغفرة
اس کائنات میں جو چیز بھی واقع ہوتی ہے اللہ کے عظیم تر نظام مشیت میں بندھی ہوتی ہے۔ اللہ کے ارادے اور مشیت ہی کے رخ پر اور اس کے وسیع دائرے کے اندر واقعات چلتے ہیں۔ لہٰذا کسی انسان سے کوئی فعل اللہ کی مشیت کے بغیر سر زد نہیں ہوسکتا۔ زمین کی تمام قدروں کی مشیت الٰہیہ اپنے دائرے کے اندر لیے ہوئے ہوتی ہے۔ کیونکہ تمام قدریں اللہ کی مشیت کی پیدا کردہ ہیں اور انسان اور نوامیس فطرت اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس کائنات میں جو واقعات چلتے ہیں وہ مشیت الٰہیہ کی ریل کے اندر ہی چلتے ہیں جس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ اس ریل کے اندر ہر انسان آزاد بھی ہے اور بند بھی۔
تذکر اور نصیحت آموزی تو اللہ کی توفیق کے مطابق ہوتی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔ دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ اگر اللہ جان لے کہ یہ شخص اچھی نیت کا مالک ہے تو اللہ اسے اچھائی کی طرف پھیر دیتا ہے۔
لیکن انسان کو کوئی پتہ نہیں ہے کہ اللہ کیا چاہتا ہے ؟ اللہ کی چاہت تو پردہ غیب میں ہے۔ البتہ اس کو یہ معلوم ہے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ؟ کس میں ہے ؟ اور یہ بات اللہ نے قرآن میں بتادی ہے کہ اللہ کی رضا کس میں ہے ؟ جب انسان اللہ کی مرضی کے راستے کی طرف بڑھتا ہے تو اللہ اسے مزید آگے بڑھنے کی توفیق دیتا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ ایک مومن کے احساس کے اندر جس چیز کو اچھی طرح بٹھانا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی مشیت اسے گھیرے ہوئے ہے ، تاکہ ایک مخلص بندے کی تمام تر توجہ اللہ کی ذات پر مرکوز رہے۔ اور ایک مسلم پوری طرح اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کیے رکھے۔ یہ ہے وہ بنیادی حقیقت جسے ذہن نشین کئے بغیر اسلام کسی انسانکے دل میں جاگزیں نہیں ہوسکتا۔ اور جب یہ کیفیت ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جائے اور انسانی قلب ونظر اس میں سرشار ہوجائیں اور انسان زندگی کے تمام واقعات اور حادثات کی تعبیر اس تصور کے مطابق کرنے لگے تو وہ صحیح طرح مسلم ہوتا ہے۔ یہی مقصد ہے اللہ کی مشیت کے بےقید ہونے کا اور اللہ کی مشیت کا یہ اطلاق قرآن میں ہر فیصلے کے ساتھ لایا جاتا ہے۔ چاہے جنت اور دوزخ کا فیصلہ ہو ، چاہے کسی شخص کی ہدایت وضلالت کا فیصلہ ہو۔
رہا وہ تاریخی اور کلامی مجادلہ و مباحثہ جو انسان کے جبرواختیار کے بارے میں چلا ، تو وہ پوری حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا ، وہ دراضل کلی حقیقت کے ایک جزء کو لیتا ہے اور اس کیو جہ سے فکر انسانی کسی تشقی بخش قول تک کبھی نہیں پہنچ سکا۔ کیونکہ یہ مباحثہ ومجادلہ قرآن کے صحیح اور سادہ راہوں سے ہٹ کر نہایت ہی پیچیدہ راہوں پر جانکلا اور جس قدر یہ مباحثہ آگے بڑھا ، فکر انسانی کی تگ وتازی کی راہیں تنگ ہوتی رہیں۔
وما یذکرون ................ اللہ (۷۴:۵۶) ” اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے۔ الایہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے “۔ کیونکہ وہ اللہ کی مشیت کے نظام سے متصادم نہیں ہوسکتے۔ اور نہ وہ کسی حیثیت میں کوئی مخالفانہ حرکت کرتے ہیں۔ انسان کی حرکت اور انسان کا ارادہ بھی وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہی ہوتا ہے۔
ھواھل التقوی (۵۶:۷۴) ” وہ اس کا حقدار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے “۔ اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں ، اس لئے ان سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں۔
واھل المغفرة (۷۴:۵۶) ” اور وہ اس بات کا اہل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بخش دے “۔
اور یہ کرم وہ جن بندوں پر چاہتا ہے کرتا ہے اور اللہ کا کرم اس کے نظام مشیت کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ تقویٰ ہی انسان کو مغفرت کا اہل بناتا ہے۔ اور اللہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
ھواھل ........................ المغفرة (۷۴:۵۶) ” وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے تقویٰ کرنے والوں کو بخش دے “۔
٭٭٭٭٭
قسم کی طرف اشارہ کرنا اور قسم نہ کھانا زیادہ اثر انگیز ہوتا ہے اور یہی اثر آفرینی یہاں مقصود ہے۔ اور اس انداز سے یہ مقصد اچھی طرح حاصل ہوتا ہے اور یہ انداز قرآن کریم میں بار بار دہرایا جاتا ہے اور اس کے بعد پھر حقیقت قیامت اور ملامت کرنے والے نفس کی حقیقت بیان کی جاتی ہے۔
قیامت کی حقیقت کے بارے میں اس سورت میں مکرر بات کی گئی ہے۔ لیکن نفس لوامہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں تفاسیر ماثورہ میں کئی اقوال مذکور ہیں۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : کہ تم جب بھی دیکھو ایک سچا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو ملامت کرے گا کہ میری بات کا کیا مطلب تھا ؟ میرے کھانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور میری بات کا فائدہ کیا ہے ؟ رہا فاجر تو اپنی راہ پر آگے ہی بڑھتا ہے اور اپنے آپ کو کسی مرحلے پر بھی ملامت نہیں کرتا۔ اور حضرت حسن سے روایت ہے کہ زمین و آسمان کے باشندوں میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا ، جو اپنے آپ کو قیامت کے دن ملامت نہ کرے گا۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ تم خیر اور شر دونوں پر ایک دوسرے کو ملامت کرو گے کہ اے کاش کہ میں ایسا ایسا کرتا۔ اور یہی روایت سعید ابن جبیر سے ہے اور حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اس سے نفس لوم مراد ہے۔ اور ان ہی سے روایت ہے کہ وہ ملامت زدہ نفس جو کسی مذموم بات پر ملامت کیا جائے اور مجاہد سے روایت ہے کہ ہر نفس جو ان امور پر نادم ہو جو فوت ہوگئے ہوں اور اپنے آپ کو ملامت کرے۔ قتادہ کہتے ہیں لوامہ وہ نفس ہے ، جو فجور کا ارتکاب کرے۔ ابن جریر کہتے ہیں یہ سب اقوال قریب المعنی ہیں اور زیادہ قریب یہ مفہوم ہے کہ نفس لوامہ سے وہ نفس مراد ہے جو اپنے آپ کو خیر اور شر پر ملامت کرے اور جو خیر رہ جائے اس پر نادم ہو۔
ہمارے خیال میں حسن بصری کا قول زیادہ بہتر ہے کہ نفس لوامہ وہ ہے جو ملامت کرتا ہے کہ ” خدا کی قسم ایک مومن کو جب بھی تم دیکھو وہ اپنے آپ کو ملامت ہی کرتا ہے کہ میں نے جو بات کی اس کا کیا مقصد ہے ؟ میں نے جو کھایا اس کا کیا مقصد ہے ، اور میں نے جو کچھ سوچا اس کا کیا مقصد ہے۔ اور فاسق وفاجر بس آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اپنی کسی بات پر اپنے آپ کو ملامت کرتا “۔
تو نفس لوامہ وہ ہے جو بیدار ہے ، خدا کا خوف رکھنے والا ہے ، ہر وقت محتاط اور اپنا حساب رکھنے والا ، جو اپنے ماحول پر نظر رکھتا ہو ، وہ اپنی خواہشات پر نظر رکھتا ہو اور ہر وقت اس بات سے محتاط ہو کہ کہیں دھوکہ نہ کھاجائے۔ یہ نفس اللہ کے فاجرہ کے بالمقابل ہوتا ہے۔ نفس فاجرہ وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ فسق وفجور میں گم ہوتا ہے ، جس کی صفات یہ ہوتی ہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے ، روگردانی کرتا ہے ، اور نہایت غرور سے اپنے اہالی وموالی کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنا محاسبہ نہیں کرتا۔
لا اقسم ............................ اللوامة (۷۵:۱ ۔ ۲) ”” میں قسم نہیں کھاتا ہوں قیامت کے دن کی ، اور میں قسم نہیں کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی “۔ یعنی وقوع قیامت پر قسم نہیں اٹھاتا ، یہاں اللہ نے قسم اٹھانے کی بھی نفی کی اور اس بات کو بھی حذف کردیا کہ کس بات پر قسم نہیں اٹھائی جارہی لیکن جس بات کی قسم اٹھائی جارہی ہے اس کا ذکر ایک دوسرے انداز میں کردیا گیا۔ گویا یہ نئی بات ہے اور قسم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
ایحسب ........................ بنانہ (۵۷ : ۳۔ ۴) ” کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟ کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ مشرکین مکہ اس شعوری خلجان میں مبتلا تھے کہ پرانی ہڈیوں کو کس طرح یکجا کرکے انسان بنادیا جائے گا جبکہ یہ ریزہ ریزہ ہوکر مٹی میں مل گئی ہوں اور زمین میں بکھر گئی ہوں ، کس طرح انسان کو بعینہ اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اور یہ خلجان آج تک بعض دلوں میں موجود ہے۔ قرآن کریم اس کی تردید نہایت تاکید کے ساتھ کرتا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہوگا اور لازماً ہوگا۔
بلی قدرین .................... بنانہ (۷۵:۴) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔
یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا گیا کہ یہ لوگ ہڈیوں کے جمع ہونے کی توقع نہیں رکھتے۔ انسان دراصل فسق وفجور کی خواہش رکھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اس فسق وفجور میں آگے ہی جاتا رہے۔ اور کوئی چیز اسے روکنے والی نہ ہو اور نہ اس کو حساب و کتاب کا سامنا کرنا پڑے اور نہ جزاء وسزا کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مستعبد سمجھتا ہے اور قیامت کے وقوع سے فرار کی راہ ڈھونڈتا ہے۔
بل یرید ............................ القیمة (۷۵:۵ ۔ ۶) ” مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔ پوچھتا ہے : ” آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟ “۔ یہاں سوال لفظ ” ایان “ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ مشدود اور مترنم ہے۔ اور اس شد اور ترنم سے دراصل اشارہ ہے۔ اس طرف کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی اور یہ سوچ ان لوگوں کو اس لئے کہ یہ فسق وفجور میں آگے ہی بڑھتے رہیں اور بعث بعد الموت اور جواب دہی کا تصور انہیں نہ روک سکے۔ اور نہان کی زندگی کو مکدر کرسکے۔ درحقیقت تصور آخرت ہی وہ چیز ہے جو اس قسم کے احساس کو لگام دے سکتا ہے۔ اور محبان فسق وفجور کو روک سکتا ہے۔ ایسے لوگ اس قسم کی رکاوٹوں اور فسق وفجور کی بندشوں کو بلا روک وٹوک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
قیامت کے قوع کے بارے میں ہٹ دھرمی اور اسے مستبعد سمجھنے کا جواب یہاں نہایت شتابی کے ساتھ ، فیصلہ کن انداز میں دیا گیا اور یوں دیا گیا کہ اس میں شک ہی نہ رہے۔ اس جواب میں انسانی حواس ، انسانی شعور اور کائناتی مشاہد پیش کیے گئے۔
فاذا ............................................ المفر (۷۵:۷ تا ۱۰) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے۔ اس وقت یہی انسان کہے گا ” کہاں بھاگ کر جاﺅں ؟ “۔ جب بجلی چمکتی ہے تو نظر چندھیاجاتی ہے اور جلدی لوٹ آتی ہے۔ اور جب سورج خسف کا شکار ہوتا ہے تو بےنور ہوجاتا ہے اور سورج اور چاند دور ہیں لیکن یہ باہم مل جائیں گے اور اس طرح تمام فلکی انتظام مختل ہوجائے گا اور ایک خوفناک اور انقلابی صورت حالات ہوگی اس وقت ہر انسان پاہم ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
این المفر (۷۵:۱۰) ” بھاگنے کی جگہ کہاں ہے “۔ اور انسان اس جزع فزع میں پھر ہر طرف بھاگتا پھرے گا۔ جس طرح چوہا پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور ہر طرف بھاگتا رہتا ہے۔ اب نہ جائے فرار ہے ، نہ جائے پناہ ہے ، نہ آگے جاسکتے ہیں اور نہ پیچھے۔
کلا لا .................... المسقر (۷۵:۱۲) ” ہرگز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس روز تیرے رب ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا “۔
اس دن یہ صورت حالات نہ ہوگی جو انسان چاہتا ہے کہ بلا حساب و کتاب وہ فسق وفجور کے راستے پر آگے بڑھے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو ، بلکہ اس دن تو پورا پورا محاسبہ ہوگا اور اس نے اپنے جو اعمال بھولے ہوں گے ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اور جب وہ یاد کرے گا تو پھر جزاء وسزا ہوگی۔
ینبؤ ................ واخر (۷۵:۱۳) ” اس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا “۔ یعنی وہ اعمال جو اس نے اپنی وفات سے پہلے کہے اور وہ آثار جو اس نے مرنے کے بعد چھوڑے۔ خواہ اچھے آثار ہوں یا برے آثار ہوں کیونکہ انسان کے بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جن کے آثار باقی رہتے ہیں اور وہ اس کے اعمال میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔
پھر وہاں انسان جو عذرات بھی پیش کرے گا ، اس کا کوئی عذر بھی قبول نہ ہوگا کیونکہ وہ اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا۔ نفس انسانی کو اللہ نے خیروشر کی ہدایت کردی ہے۔ اگر نفس انسان کو خیر تک لے جائے تو اچھا انجام ہوگا اور اگر شر تک لے جائے تو اس کا محاسہ ہوگا۔
بل الانسان ................ معاذیرہ (۷۵:۱۵) ” بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے “۔ یہاں یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ اس سورة میں ہر چیز نہایت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔ فقرے ، قافئے ، موسیقی اور ترنم ، مناظر اور چمک دمک ، اسی طرح حساب و کتاب بھی سرعت سے ہوگا۔ مقدم اور موخر سب کچھ سامنے ہوگا اور یہ اس لئے کہ وہ ایان سے سوال کرکے قیامت کو بہت دور اور بہت ناممکن سمجھتے تھے۔
اب چار آیات آتی ہیں جو قرآن مجید کے بارے میں آپ کو ہدایات دے دی ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہیں۔
لا تحرک ........................ بیانہ
ان آیات کے بارے میں ہم نے سورت کے مقدمہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے اس پر اس قدر اضافہ ضروری ہے کہ قرآن کریم کے حفظ و حفاظت کا کام اللہ نے مطلقاً اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اللہ اس بات کا ضامن ہے کہ قرآن زندہ رہے گا ، محفوظ رہے گا ، جمع وتدوین مکمل ہوگی اور اس کی تشریح بھی اللہ کرے گا۔ مکمل ذمہ داری اللہ پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری فقط یہ ہے کہ آپ اسے اٹھائیں اور لوگوں تک پہنچادیں۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ حضور اکرم ﷺ اخذ وحی کے لئے بیتاب ہوجاتے تھے اور آپ جلدی سے سب کے سب قرآن کا اخذ اور حفظ چاہتے تھے۔ اور اس بارے میں بےحد سنجیدہ تھے کہ اس کا کوئی کلمہ رہ نہ جائے۔ اس لئے آپ جلدی جلدی دہراتے تھے ، تو آپ کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ زبان سے دہرانے کی کوشش نہ کریں ، حفاظت اللہ کی ذمہ داری ہے۔
یہ بات قرآن کے اندر کئی جگہ ریکارڈ کی گئی ہے ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ بات مسلمانوں کے ذہن میں بٹھانا چاہتا تھا کہ قرآن کا حفظ اور جمع بہت اہم ہے۔ جس کی طرف ہم نے سورت کے مقدمہ میں اشارات کیے ہیں۔
اس جملہ معترضہ کے بعد اب سورت میں قیامت کے مناظر آتے ہیں کہ نفس لوامہ کا اس میں کیا حال ہوگا۔ ان مناظر میں یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ اس دنیا کے بارے میں تمہارے نفوس کے اندر کیا کیا امنگیں آتی ہیں ، کس طرح تم دنیا کے اندر مگن ہو اور آخرت کو بھولے ہوئے ہو۔ اور آخرت کی پرواہ ہی نہیں کرتے ہو۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہاں تمہاری کیا گت بننے والی ہے۔ ایک نہایت ہی زندہ اور متحرک منظر میں اس حالت کو انسانوں کے سامنے رکھا جاتا ہے جو نہایت ہی موثر اور اشارتی ہے۔