بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ ٱلَّذِىٓ أَنقَضَ ظَهْرَكَ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًۭا فَإِذَا فَرَغْتَ فَٱنصَبْ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرْغَب

Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.

فی ظلال القرآناردو
سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۸–۱۱

واما من .................... اذاتردی (۸:۹۲ تا ۱۱) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔

وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔

وما یغنی ............................ تردی (۱۱:۹۲) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔

یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔

رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۲

ان علینا .................................... یرضی

اللہ نے محض اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اپنے اوپر یہ بات فرض کردی کہ لوگوں کی اس فطرت کے سامنے اور لوگوں کو دی ہوئی قوت مدرکہ کے سامنے ہدایت کا راستہ واضح طور پر بیان فرمادیں۔ اسی طرح تمام رسولوں کا بھی یہ فرض قرار دیا گیا کہ وہ دعوت اسلامی کی تشریح کریں اور تمام دعوتی تحریکات اور تمام کتب سماوی اور معجزات بھی اس غرض کے لئے لائے گئے تاکہ کسی کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے اور نہ کسی کے اوپر کوئی ظلم ہو۔

ان علینا للھدی (۱۲:۹۲) ” بیشک راستہ بتانا ہماری ذمہ داری ہے “۔ یہ تو تھی پہلی حقیقت۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک قوت قاہرہ ہے ، جس نے تمام لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ اس قوت کے مقابلے میں لوگوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۳

وان ................ والاولی (۱۳:۹۲) ” اور بیشک آخرت اور دنیا ، دونوں کے ہم مالک ہیں “۔ لہٰذا جو شخص اللہ سے دور ہونا چاہتا ہے وہ کہاں جاسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تو کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔

ان دونوں حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ راستہ بتانا اللہ نے اپنے ذمہ فرض قرار دیا ہے اور پھر سب لوگوں کو اللہ کے سامنے آنا ہے اور اللہ کے مقابلے میں ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ آغاز و انجام کا مالک اللہ ہے ، تو اللہ نے انسانوں کو خبردار کردیا کہ تم بھڑکتی ہوئی آگ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۴

فانذرتکم نارا تلظی (۱۴:۹۲) ” پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے “۔ اور یہ بھڑکتی ہوئی آگ ہر کسی کے لئے نہیں ہے ، بلکہ یہ تو بھڑکائی گئی ہے۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۵

لا یصلھا الا الا شقی (۱۵:۹۲) ” اس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت “۔ اور یہ انتہائی بدبخت وہ ہوگا جس کا نصیبہ تمام انسانوں میں برا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آگ میں جھلس جانے کے بعد پھر وہ کہاں جائے گا اور اس بدبخت کی مزید تشریح۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۶

الذی ............ وتولی (۱۶:۹۲) ” جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا “۔ یعنی اس کے سامنے دعوت اسلامی پیش کی گئی اور اس نے تکذیب بھی کی اور منہ بھی پھیرا ، حالانکہ اللہ نے حسب وعدہ اسے راستہ دکھانے کے لئے اس کے سامنے دعوت پیش کی تھی اور یہ وعدہ کیا تھا کہ جو شخص بھی دلی خواہش سے اللہ کی طرف آئے گا ، وہ اسے راستہ دکھائے گا۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۷

وسیجنبھا الاتقی (۱۷:۹۲) ” اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار ہوگا “۔ اور یہ متقی شخص ہی نیک بخت ہے بمقابلہ بدبخت (اشقی) کے ۔ اور اس کی مزید تشریح۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۸

الذی ........................ یتزکی (۱۸:۹۲) ” جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے “۔ یعنی وہ اپنا مال خرچ کرتا ہے تاکہ اس انفاق سے وہ پاک ہوجائے ، مال خرچ کرنے کا مقصد مال کی پاکیزگی ہے ، دکھاوا یا بڑائی حاصل کرنا نہیں ہے۔ وہ خوشی سے خرچ کرتا ہے اور اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ کسی کا اس پر احسان تھا اور وہ اس کا بدلہ چکانا چاہتا تھا ، نہ اس لئے کہ لوگ اس کا شکر ادا کریں ، یہ خالص لو جو اللہ خرچ کرتا ہے ، جو اس کا اعلیٰ رب ہے۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۱۹–۲۰

وما لاحد ............................ الاعلی (۲۰:۹۲) ” اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے ، جس کا بدلہ اسے دینا ہو وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضاجوئی کے لئے یہ کام کررہا ہے “۔

ایسے شخص کو کیا انعام ملنے والا ہے ؟ جو متقی ہے ، جو اپنے مال کو محض پاک کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے ، اور رب برتر کی خوشنوی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ وہ جزاء اور وہ انجام جو ان صالح ارواح کو یہاں دکھائی جاتی ہے۔ بہت عجیب جزاء وانعام ہے۔ مروج طریقے سے ہٹ کر یہاں بالکل ایک نئے انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔

سُورَةُ اللَّيۡلِ: ۲۱

ولسوف یرضیٰ (۲۱:۹۲) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اس متقی کے کاسہ دل کو رضا سے بھر دیا جائے گا ، اس کی روح رضا سے بھر جائے گی ، اس کے تمام اعضاء راضی برضا ہوجائیں گے ، اس کے وجود کے روئیں روئیں میں رضامندی سرایت کرجائے گی اور اس کی پوری زندگی تروتازہ ہوجائے گی۔ کیا ہی خوب جزاء ہے اور کیا ہی خوب اور عظیم نعمت ہے یہ !

ولسوف یرضی (۲۱:۹۲) ” اور ضرور وہ خوش ہوگا “۔ اپنے دین پر خوش ہوگا ، اپنے رب سے راضی ہوگا ، اپنی تقدیر پر راضی ہوگا ، اپنے نصیبے پر راضی ہوگا۔ خوشی اور غم دونوں پر راضی ہوگا ، مالداری اور ناداری دونوں پر راضی ہوگا ، آسانی اور مشکل دونوں پر راضی ہوگا۔ نرمی اور سختی دونوں پر راضی ہوگا ، وہ قلق و اضطراب سے دور ہوگا۔ تنگدستی ، جلدبازی ، بوجھل پن اور مایوسی سے دور ہوگا۔ غرض یہ رضامندی وہ انعام ہوگا جس سے بڑا انعام اور کوئی نہ ہے اور نہ ہوگا۔ یہ ایسا انعام ہے جس کے لئے کوئی مال اور جان دونوں خرچ کرسکتا ہے۔ جو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا رب اس سے راضی ہو۔

یہ وہ انعام ہے جو اللہ ہی دے سکتا ہے اور یہ جزاء ان دلوں میں بھردی جاتی ہے جو خالص اللہ کے ہوجاتے ہیں ، جن کو اللہ کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

ولسوف یرضیٰ (۲۱:۹۲) اور وہ عنقریب راضی ہوگا “۔ وہ راضی ہوگا ، خوش ہوگا اس نے معمولی قیمت دے دی اور اس کے بدلے اسے بہت کچھ دے دیا گیا۔

غرض اس مقام پر یہ اچانک خوشخبری ہے ، البتہ ان لوگوں کے دلوں میں اس کی توقع ضرور ہے جو اپنے مال کو پاک کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں خرچ کرتے ہیں کہ کسی کا ان کے اوپر کوئی احسان نہیں ہے ، پھر بھی خرچ کرتے ہیں۔ محض رضائے ربانی کے لئے خرچ کرتے ہیں ، تو ” ایسا شخص لازماً خوش ہوگا “۔ ولسوف یرضی (۲۱:۹۲) ۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ
سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۱–۲

والضحیٰ............................ فترضیٰ

اللہ تعالیٰ ان دو خوبصورت اوقات کی قسم اٹھاتا ہے جن میں غوروفکر کے بہتر اور زیادہ مواقع ہوتے ہیں۔ یہ اوقات ہی اپنے اندر اشارات رکھتے ہیں۔ یوں اس کائنات کے مظاہر اور نفس انسانی کے درمیان ایک ربط پیدا کردیا جاتا ہے ، اور قلب بشری کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ یہ خوبصورت کائنات ایک روح رکھتی ہے ، جو نفس انسانی کے ساتھ ہمقدم ہوکر چلتی ہے ، اور یہ ورح ہر زندہ مخلوق کے ساتھ ایک گونہ محبت رکھتی ہے ، اس طرح ہر زندہ دل ، اس کائنات کے اندر نہایت ہی انس و محبت کے ساتھ زندہ رہتا ہے ، وہ اس میں اجنبی نہیں ہوتا اور نہ پریشان ہوتا ہے۔ اور اس سورت میں اس کائنات کے ساتھ انس وہم آہنگی کا ایک گہرا اثر بھی ہے۔ اس سورت میں انس و محبت کی پینگیں بڑھانا مقصود ہے۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اللہ نے تو آپ کے ماحول میں محبت کا نور پھیلا دیا ہے ، یہ پوری کائنات انسان کے ساتھ زمزمہ خواں ہے ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اس جہاں میں اکیلے اور پریشان حال ہوں۔

قسم کے اس کائناتی اشارہ کے بعد اب بصراحت تاکید آتی ہے۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۳

ما ودعک .................... ومام قلی (۳:۹۳) ” تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا ، اور نہ وہ ناراض ہوا “۔ نہ اللہ نے آپ کو چھوڑا دیا ہے اور نہ آپ سے ناراض ہوا ہے۔ ان لوگوں کو غلط فہمی ہے جو آپ کی روح کو اذیت دیتے ہیں ، جو آپ کے قلبی اطمینان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جو آپ کے لئے غبار خاطر بنتے ہیں۔ اللہ تو ” تمہارا رب “ ہے اور آپ اس کے ہیں۔ اس کی ربوبیت میں ہیں۔ لہٰذا وہ آپ کا نگراں اور کفیل ہے۔

اللہ کے فضل وکرم کے سوتے خشک نہیں ہوگئے ، اور اس کے فیوض وکرم رک نہیں گئے۔ آپ کے لئے آخرت میں وہ کچھ ہے جو اس جہاں کی ہر قسم کی دادودہش سے بہتر ہے۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۴

وللاخرة .................... الاولی (۴:۹۳) ” آخرت تمہارے لئے اس جہاں سے بہتر ہے “۔ وہ تو پہلے بھی اچھی ہے اور انجام کار بھی اچھا ہے۔

دعوت اسلامی کا مستقبل روشن ہے ، تمہارے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی ، تمہارا نظام زندگی غالب ہوگا ، اور جس سچائی کے تم حامل ہو ، وہ غالب ہوکر رہے گی۔ یہی باتیں تو آپ کو پریشان کررہی تھیں کہ لوگ آپ سے عناد رکھتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، پھر اذیت دیتے تھے ، پھر سازشیں کرتے تھے ، پھر آپ کے ساتھ ہر وقت مذاق کرتے تھے لیکن۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۵

ولسوف ............................ فترضیٰ (۵:۹۳) ” عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاﺅ گے “۔ اب اس سورت کا سیاق آگے بڑھتے ہوئے نبی ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کے ساتھ رب تعالیٰ کا سلوک تو روزاول ہی سے نہایت اچھا رہا ہے تاکہ آپ کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ رب تعالیٰ آپ پر مہربان رہا ہے۔ آپ کے ساتھ محبت کرتا ہے اور آپ پر رحم وکرم کرتا ہے اور اس سے قبل بھی کئی مواقع پر آپ پر فضل وکرم کرتا رہا ہے ، محبت اور انس کا سلوک کرتا رہا ہے اور آپ کے ساتھ اس حسن سلوک کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۶–۸

الم یجدک .................... فاغنی

ذرا اپنے عملی حالات پر غور کرو ، ماضی قریب پر نگاہ ڈالو ، کیا تمہارا ماضی یہ بتاتا ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہوگیا ہے ، یا کچھ اور بتاتا ہے ۔ آپ پر تو نبوت سے پہلے بھی رب کا فضل رہا ہے ، جب آپ یتیم تھے تو آپ کی نگرانی کون کررہا تھا ، جب آپ حیران تھے اور راستہ معلوم نہ تھا تو آپ کو کس نے راستہ بتلایا۔ پھر آپ نادار تھے ، آپ کو کس نے مالدار بنا دیا ........ آپ یتیم پیدا ہوئے تھے ، اللہ نے آپ کو پناہ دی ، لوگوں کے دل آپ پر مائل ہوگئے ، اور ابوطالب آپ پر مہربان ہوگئے حالانکہ انہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا تھا۔ آپ فقیر تھے۔ اللہ نے آپ کو یوں غنی بنایا کہ آپ کو دلی قناعت نصیب فرمائی۔ پھر آپ نے تجارت فرمائی اور گھر والوں کی دولت آپ کے ہاتھ میں رہی تو آپ سے فقر کا احساس ہی جاتارہا۔ اور ماحول میں جو لوگ اہل ثروت تھے ان کی دولت کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے۔

آپ ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے تھے جو جاہلی سوسائٹی تھی ، جس کی قدریں مضطرب تھیں ، عقائد و تصورات ڈانواڈول تھے۔ طرز عمل اور رسم و رواج گھناﺅنے تھے۔ آپ کی روح اس سوسائٹی میں مضطرب تھی ، آپ مطمئن نہ تھے مگر آپ کو اس سے نکلنے یا اسے بدلنے کا راستہ بھی معلوم نہ تھا ، نہ اس جاہلی سوسائٹی سے آپ مطمئن تھے ، نہ دین موسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ نہ دین عیسیٰ کے ماننے والوں سے مطمئن تھے۔ پس اللہ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اور ایک نظام زندگی آپ کو عطا کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی بڑی گمراہی ہوتی ہے اور افکار ونظریات کے اعتبار سے درست ہونا ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ اگر کسی پر ہوجائے تو بڑا احسان ہے۔ یہ راحت بھی ہے اور اطمینان بھی ہے۔ اور نظریاتی گمراہی اس قدر عظیم ذہنی قلق ہوتا ہے۔ جس کے مقابلے میں کوئی قلق اور اذیت نہیں ہوتی۔ اس سے ذہنی تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں حضور اکرم ﷺ اس قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا تھے کیونکہ وحی رک گئی تھی ، مشرکین ہنس رہے تھے ، اور وحی الٰہی اور مکالمہ الٰہی جیسے محبوب امر سے آپ جدائی محسوس کررہے تھے۔ ایسے مواقع پر یہ تذکرہ اور اطمینان آگیا کہ تمہارے رب نے ہرگز تمہیں نہیں چھوڑا بلکہ آغاز وحی سے قبل بھی اللہ نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا کہ آپ حیران وپریشان اور سرگرداں پھریں۔

اس حوالے سے کہ یتیمی کی حالت میں آپ کو تحفظ دیا گیا اور حیرانی کی حالت میں راستہ بتلایا گیا ، آپ کو اور آپ کے بعد اہل ایمان کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام یتیموں کی کفالت کرو ، تمام سائلوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اللہ نے آپ پر جو عظیم فضل کیا ہے ، اس پر تحدیث نعمت کرو ، اور لوگوں کو دین کی طرف بلاﺅ۔

سُورَةُ الضُّحَىٰ: ۹–۱۱

فاما ........................................ فحدث

یہ ہدایات کہ یتیم کا اکرام کرو ، اس پر سختی نہ کرو ، اس کی دل شکنی نہ کرو ، سائل کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو ، سائل کی عزت کرو۔ یہ ہدایات مکہ کی نہایت ہی منکر حق اور دولت پرست ، سوسائٹی میں بہت ضروری تھیں ، جس میں ضعیف اور قوت نہ رکھنے والا شخص اپناحق حاصل نہ کرسکتا تھا ، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا ، لیکن جب اسلامی نظام نافذ ہوا تو اسلامی شریعت نے اس سوسائٹی کو حق پرست اور عدالت گستر سوسائٹی بنا دیا ، لوگ نہایت محتاط ہوگئے ، اللہ کے حدود پر رکنے لگے۔ اور وہ ایک طرف حدود اللہ کو قائم کرنے لگے اور دوسری طرف حقوق العباد کے محافظ ہوگئے ، خصوصاً ایسے لوگوں کے حقوق کے محافظ ہوگئے جن کے پاس قوت نہ تھی ، جو تلوار کے ذریعہ اپنا حق نہیں لے سکتے تھے۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ احسان کرنے سے نعمت کا شکر ادا ہوتا ہے اور اس سے نعمت پاک بھی ہوتی ہے اور عملاً شکر کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ اور خاموش گفتگو اور شریفانہ گفتگو بھی شکرالٰہی ہوتا ہے۔

سُورَةُ الشَّرۡحِ
سُورَةُ الشَّرۡحِ: ۱

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی روح میں کوئی تنگی تھی اور آپ دعوت اسلامی کے سلسلے میں کچھ مشکلات محسوس فرماتے تھے۔ آپ پریشان تھے کیونکہ آپ کے خلاف سازشیں ہورہی تھیں اور آپ کے دل پر ان کے اثرات پڑ رہے تھے اور آپ سمجھتے تھے کہ یہ ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں اور یہ کہ آپ کو اللہ کی امداد نصرت اور خصوصی زادراہ کی ضرورت ہے۔

چناچہ اس موقعہ پر آپ کے ساتھ یہ بیٹھا مکالمہ ہوا۔ انداز گفتگو ایسا ہے کہ بات محبتوں سے بھری ہے۔

الم نشرح .................... صدرک (۱:۹۴) ”(اے نبی) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا “۔ آپک کا سینہ دعوت اسلامی کے کام کے لئے کھل گیا ، اور آپ کے لئے اس ذمہ داری کا اٹھانا ہم نے آسان کردیا۔ یہ ذمہ داری ہم نے آپ کے لئے محبوب بنادی اور راستہ ہم نے صاف کردیا اور ہم نے آپ کو اسی راستے پر لگا دیا یہاں تک کہ آپ کو اس کا انجام نہایت خوبی سے نظر آنے لگا جو سعادتوں سے پر تھا۔

ذرا اپنے سینے کو ٹٹولیے ، کیا آپ اس میں کشادگی ، خوشی اور ایک چمک نہیں پاتے۔ کیا اللہ کے اس دین کا ذوق واضح طور پر نہیں پاتے۔ بتائیے تو سہی کیا ہر مشکل اور مشقت میں آپ یہ بات نہیں پاتے ، کیا ہر تھکاوٹ میں آپ کو خوشی نہیں ہوتی ، کیا ہر مشکل آپ کو آسان نہیں لگتی ، کیا ہر محرومی پہ آپ راضی نہیں ہیں ؟

سُورَةُ الشَّرۡحِ: ۲–۳

ووضعنا ............................ ظھرک (۳:۹۴) ” اور تم پر سے وہ باری بوجھ اتاردیا جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا “۔ یعنی دعوت اسلامی کا بوجھ اس قدر بھاری ہوگیا کہ قریب تھا کہ آپ کی کمر ہی توڑ دے۔ ہم نے آپ کو شرح صدر عطا کیا اور یہ بوجھ ہلکا ہوگیا ، آپ کو کام کرنے کی توفیق دی ، آپ کے لئے دعوت کا کام آسان کردیا اور یہ لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگی۔ وحی کا سلسلہ جاری ہوگیا اور بذریعہ وحی حقائق کا انکشاف ہونے لگا۔ اور یوں یہ دعوت دلوں میں اترنے لگی۔ اور بذریعہ وحی یہ کام نہایت آسانی ، نرمی اور سکون سے ہونے لگا۔ کیا آپ اس تبدیلی کو اس بوجھ میں محسوس نہیں کرتے جس نے آپ کی کمر توڑ دی اور اب یہ ہلکا ہوگیا ہے۔ شرح صدر کے بعد اب آپ پر نہ بوجھ ہے اور نہ تنگی دل۔

596