Urdu tafsir from Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb, via Quran.com.
کذلک ما ........ بملوم (۲۵) وذکر ........ المؤمنین (۵۵) (۱۵ : ۲۵ تا ۵۵)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔ کیا ان سب نے آپس میں اس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ پس اے نبی ان سے رخ پھیر لو تم پر کچھ ملامت نہیں۔ البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے “۔
تمام رسولوں کے مخالفین اور مکذبین کی فطرت ایک ہی رہی ہے۔ گمراہوں نے ہمیشہ رسولوں کی دعوت کے مقابلے میں یکساں رد عمل کا اظہار کیا۔
کذلک ........ او مجنون (۱۵ : ۲۵)
” یونہی ہوتا رہا ہے ان سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون “۔
جس طرح مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ گویا اگلے پچھلے کافروں نے آپس میں مشورہ کرلیا ہو۔ انہوں نے آپس میں مشورہ تو نہیں کیا مگر سرکشی ، گمراہی ، ظلم کا مزاج ہی ایک ہوتا ہے۔ اس لئے اگلے پچھلے اس روش پر جمع ہوگئے ہیں۔
منکرین کے مسلسل ایک ہی موقف سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہی ہے کہ رسول ﷺ ان لوگوں کی تکذیب کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ ان لوگوں نے اس رویہ پر گویا اتفاق کرلیا ہے لہٰذا رسول ﷺ اس پر ملامت زدہ نہیں ہیں۔ ان کو چاہئے کہ کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ تو محض یاد دہانی کرانے والے ہیں اور یاد دہانی وہ جاری رکھیں۔ اگرچہ لوگ اعتراض کریں اور منہ موڑیں۔
وذکر ........ المومنین (۱۵ : ۵۵) ” البتہ نصیحت کرتے رہو کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لئے نافع ہے۔ “
اور دوسروں کے لئے نافع نہیں ہے کیونکہ انہوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تذکیر اور دعوت رسول کے فرائض میں سے ہے اور ایمان لانا نہ لانا رسول کے فرائض سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے جو آسمان اور زمین اور انسانوں کا خالق ہے۔ اب اس سورة میں عقل وخرد کے تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے اور اس میں فرار الی اللہ کے معنی کی وضاحت کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ زمین کے بوجھوں اور گرادنوں سے نجات کس طرح مل سکتی ہے۔ وہ یوں کہ انسان اور جن جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وہ فریضہ ادا کریں۔
وما خلقت ........ المتین (۸۵) (۱۵ : ۶۵ تا ۸۵)
” میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست “۔
یہ چھوٹی سی آیت دراصل ایک عظیم حقیقت پر مشتمل ہے۔ یہ اس کائنات کی وہ عظیم حقیقت ہے کہ جہاں انسان کی زندگی اس پر عمل کرنے کے سوا درست نہیں ہوسکتی۔ خواہ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہو یا عالمی زندگی اور ہر دور میں یہ حقیقت اپنی جگہ سچی رہی ہے اور رہے گی۔
یہ عظیم حقیقت عالم انسانیت کے نہایت اہم گوشے اور خفیہ معانی پر کھلتی ہے اور یہ معانی اور گوشے وہ ہیں جن پر پوری اجتماعی زندگی قائم ہے۔
اس کا پہلا پہلو یہ ہے کہ جن وانس کے وجود کا خاص مقصد ہی یہ ہے اللہ کی بندگی کی جائے۔ اس مقصد کے لئے اللہ نے چند فرائض مقرر فرمائے ہیں جس نے یہ فرائض ادا کئے گویا اس نے مقصد زندگی پالیا اور جس کسی نے ان فرائض میں کوتاہی کی یا ان سے منہ موڑا تو اس نے گویا مقصد زندگی ہی گم کردیا اور وہ شخص ہے مقصد اور بےکار ہوگیا اور اس کی زندگی بےمعنی ہوگئی اور اس کی کوئی قدروقیمت نہ رہی کیونکہ صرف اسی مقصد کے ذریعے ہی زندگی بامعنی ہوسکتی ہے۔ یہ شخص اس ناموس فطرت سے نکل آیا جس کے لئے اسے اللہ نے پیدا کیا تھا اور یہ گویا بالکل ضائع ہوگیا جس طرح ہر وہ چیز جو اپنا فرض ¾ منصبی ادا کرنا چھوڑ دے وہ بےکار ہوجاتی ہے کیونکہ مقصد زندگی ہی درحقیقت کسی شخص کے بقاء کا ضامن ہوتا ہے۔ مقصد وجود پورا نہ کرنے والی چیز اگر زندہ رہے یا موجود بھی وہ ردی ہوجاتی ہے۔ یہ مقصد زندگی جو جن وانس کو ناموس فطرت سے مربوط کرتا ہے وہ کیا ہے ؟ یہ عبادت اللہ کی بندگی یعنی ایک بندہ ہوگا اور ایک اس کا رب ہوگا۔ بندہ بندگی کرے گا اور اس کا رب معبود ہوگا اور بندے کی پوری زندگی کو اس مقصد کے مطابق استوار ہونا ضروری ہے۔ گویا عبد نے معبود کی مکمل بندگی کرنی ہے۔
یہاں آکر پھر اس عظیم حقیقت کا دوسرا پہلو ہمارے سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ بندگی سے مراد پوری زندگی میں بندگی ہے اور بندگی سے مراد صرف مراسم عبودیت یا پرستش کے طریقے نہیں ہیں بلکہ اس کا مفہوم بہت وسیع ہے کیونکہ جن اور انسان اپنی پوری زندگی رات اور دن صرف عبادت میں نہیں گزارتے۔ اللہ نے لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بنایا کہ وہ رات اور دن بندگی اور پرستش کریں بلکہ اللہ نے ان کو مختلف قسم کی زندگی گزارنے کا مکلف بنایا ہے۔ جنوں کی سرگرمیوں کا تو ہمیں علم نہیں ہے لیکن انسانوں کی سرگرمیوں کا ہمیں علم ہے۔ قرآن مجید نے انسان کی تخلیق کی سکیم بتائی ہے۔
واذقال ........ خلیفة۔” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں انہیں میں خلیفہ بنانے والا ہوں “
لہٰذا زمین میں فریضہ خلافت ادا کرنا بھی انسان کی ذمہ داری ہے اور خلافت کی ذمہ داری میں مختلف قسم کی سرگرمیاں شامل ہیں یعنی زمین کی قوتوں میں تصرف کرنا ، اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کو تلاش کرکے انسانیت کی خدمت کے لئے استعمال کرنا ، زمین کے اوپر انسانی زندگی کو ترقی دینا ، اس طرح خلافت کی ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوں وہ اللہ کی شریعت قائم کرلیں اور جس طرح کائنات میں اللہ کی مرضی چلتی ہے اسی طرح انسان کی اختیاری زندگی میں بھی اللہ کی مرضی کو نافذ کیا جائے۔
اس سے معلوم ہوا کہ فعل عبادت جو انسان کا مقصد زندگی ہے وہ زیادہ وسیع اور جامع مفہوم رکھتا ہے اور اس سے مراد صرف مراسم عبودیت نہیں ہیں اور زمین پر اللہ کی خلافت کے فرائض سرانجام دینا بھی عبادت میں شامل ہے لہٰذا اسلامی عبادت کے دو پہلو ہیں۔
۱۔ پہلا یہ کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم ذہن میں پوری طرح بیٹھ جائے۔ یہ شعوری اقرار کہ ایک بندہ ہے جو بندگی کرتا ہے اور ایک رب ہے جس کی بندگی کی جاتی ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک طرف سے بندگی اور غلامی ہے اور دوسری جانب آقا و خالق ہے۔ ادھر عبدادھر معبود ہے۔ رب واحد ہے اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں اور اس کے سوا جس قدر مخلوق ہے وہ سب کے سب عابد اور غلام ہیں۔
۲۔ دوسرا پہلو اس حقیقت عظمیٰ کا یہ ہے کہ انسان اپنی ہر قلبی حرکت اور توجہ اور اپنی جسمانی حرکت اور اس کا رخ زندگی کے ہر موڑ میں اللہ کی طرف پھیر دے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اللہ کے سوا ہر شعور کو اپنے دل سے نکال دے اور اللہ کی بندگی کے سوا ہر حرکت اپنی زندگی سے خارج کردے۔
ان دو پہلوؤں سے عبادت کا مفہوم پوری طرح وجود میں آتا ہے اور ہر عمل ایک عبادت بن جاتا ہے اور بندگی کے مراسم اس طرح بن جاتے ہیں جس طرح کوئی اس زمین کی تعمیروترقی میں مصروف ہو اور پھر زمین کی تعمیروترقی کا کام جہاد فی سبیل اللہ بن جائے گا اور جہاد فی سبیل اللہ یوں ہوتا ہے جس طرح ایک انسان مشکلات میں صبر کرے۔ (یعنی زندگی کی ہر حرکت اور ہر کام عبادت بن جاتا ہے۔ ) اور یہ تمام کام وہ مقصد پورا کررہے ہوں گے جس کے لئے اللہ نے جن وانس کو پیدا کیا ہے اور جس مقصد کو پوری کائنات پورا کررہی ہے۔
جب یہ نظریہ اور عقیدہ کسی ذہن میں بیٹھ جائے تو یہ یقین کرلیتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ وہ اس لئے یہاں آیا ہے کہ زندگی کے اس مختصر حصے میں وہ اس فریضہ کو ادا کرے۔ اللہ کی بندگی ، اللہ کی پرستش اور بس اس کے سوا اس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ اسے اس بات پر اطمینان ہو۔ وہ اپنے عمل اور اپنے حالات پر مطمئن ہو کہ اللہ اس سے راضی ہے۔ رہی افرادی جزا تو وہ اللہ کا ایک فضل وکرم ہوگا۔
اگر ایک شخص اس مقام تک پہنچ جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ در حقیقت وہ اللہ کی طرف دوڑ گیا ہے۔ اس نے اس زمین کی گراوٹوں ، اس کی رکاوٹوں اور اس کی تمام دامن گیریوں کو عبور کرکے اور ہر چیز سے اپنے آپ کو چھڑا کر اللہ کی طرف فرار اختیار کرلیا ہے۔ وہ اس آزادی کے ذریعے زمین کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوگیا اور اللہ کے لئے وقف ہوگیا اور وہ اس کائنات کے اصل مقام پر پہنچ گیا یعنی اللہ کی بندگی کے مقام پر جس کے لئے اللہ نے اسے پیدا کیا تھا۔ اب یہ اپنے صحیح مقام پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنا مقصد وجود پورا کردیا۔ لہٰذا عبادت الٰہی کے تقاضوں میں سے یہ تقاضا بھی ہے کہ انسان اس زمین کے اوپر فرائض خلافت ارض بھی پورے کرے۔ یہاں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ اس زمین کے ثمرات سے آخری حد تک استفادہ کرے لیکن اس حال میں کہ وہ ان سے اپنے ہاتھ بھی جھاڑ رہا ہو اور اس کا دل اس زمین کی دھوکہ دینے والی اور پرکشش چیزوں سے آزاد وبے نیاز ہو۔ یوں کہ اس دنیا کے ثمرات اور لذات وہ صرف اپنی ذات کے لئے نہ سمیٹ رہا ہو بلکہ اسے فریضہ حیات کے طور پر عبادت کے طور پر اور فرار الی اللہ کے طور پر کررہا ہو اور بقدر ضرورت کررہا ہو۔
اس تصور اور اس عظیم حقیقت کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ انسان اعمال کے نتائج پر نظر نہیں رکھتا بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ وہ یہ اعمال کس نیت سے کررہا ہے۔ نتائج چاہے جو ہوں انسان نتائج کا ذمہ دار نہیں ہے۔ وہ تو صرف امتثال امر اور عبادت کا ذمہ دار ہے کیونکہ اس کا اجر اس کے اعمال کے نتائج نہیں بلکہ اس کا اجر یہ ہے کہ وہ بندگی کررہا ہے یا نہیں کررہا۔
اس حقیقت عظمیٰ کو پالینے کے بعد فرائض ، واجبات اور اعمال کے بارے میں انسان کا نقطہ نظر یکلخت بدل جاتا ہے۔ وہ ہر کام میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ فریضہ عبادت پورا کررہا ہے یا نہیں۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ اس نے عبادت کرلی تو اس کا کام ختم ہوگیا۔ اب نتائج چاہے جو ہوں سو ہوں کیونکہ کاموں کے نتائج اس کے فرائض میں داخل نہیں ہوتے نہ اس کی طاقت میں یہ بات ہے کہ وہ نتائج پیدا کرسکے کیونکہ نتائج تو اللہ کی مشیت اور تقدیر کے مطابق نکلنے ہیں۔ وہ اس کی جدوجہد اس کی نیت اس کا عمل تو تقدیر الٰہی کا ظہور ہوتے ہیں۔
جب انسان اس معنی میں جدوجہد کرے اور نتائج سے ہاتھ جھاڑ لے اور یہ شعور پالے کہ اس نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اور یہ کہ اس کی جز اللہ پر ہے کیونکہ اس کا کام تو یہ تھا کہ اللہ کے حکم کو مانو۔ لہٰذا اب اس دنیا کے حوالے سے اس کی کوئی آرزو ہی نہیں رہتی۔ وہ اس دنیا میں کسی مقصد کے لئے کسی سے کوئی پر خاش نہیں رکھتا اور نہ اس دنیا کی اغراض میں سے کسی غرض کے لئے اس کے دل میں کوئی چاہت ہوتی ہے۔ اس نے اپنی طاقت کے مطابق جدوجہد کرلی۔ اس دنیا میں اپنی ذمہ داریاں ادا کردیں اور اپنے حصے کے فرائض پورے کردیئے اور اس دنیا کے نتائج اور اغراض سے بھی اپنے ہاتھ جھاڑ لئے اور اپنی جدوجہد کے ثمرات کے حصول کی آرزو بھی دل سے نکال دی کیونکہ جب اس نے بندگی کردی تو اس کا ثمرا سے حاصل ہوگیا۔ رہے ذاتی مفادات تو یہ اس کا مقصد ہی نہ تھا۔
قرآن کریم اس قسم کے احساسات کو غذا دیتا ہے۔ ایسے تصورات کو تقویت دیتا ہے۔ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا غم مت کرو ، رزق کی ذمہ دار اللہ پر ہے۔ اللہ نے اپنے بندوں کے رزق کی ذمہ داری لی ہوتی ہے۔ اللہ خود بھی کسی رزق اور طعام کا محتاج نہیں ہے۔ اس نے یہ انتظامات بندوں کے لئے تو کئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو محتاجوں اور غریبوں پر انفاق کے جو احکام دیتا ہے وہ بھی خود ان کے مفاد میں ہیں۔
ما ارید ........ المتین (۱۵ : ۸۵) ” میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔ اللہ خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ “
اس دنیا میں فرائض خلافت ادا کرتے ہوئے ایک مومن کے اندر صرف حصول رزق کا داعیہ نہیں ہوتا بلکہ یہ داعیہ اللہ کی بندگی کا داعیہ ہوتا ہے اور عبادت تب پوری ہوتی ہے جب انسان اس جہاں میں امرالٰہی کو تسلیم کرتے ہوئے پوری جدوجہد کرے۔ اس لئے یہاں ایک مومن کی جدوجہد کے پیچھے اللہ کی بندگی اور اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور اس جذبے میں اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی مفاد بھی نہیں ہوتا کیونکہ اس دنیا میں اونچے مقاصد کے لئے جدوجہد ایک عظیم بلند فعل ہے اور یہ کسی بلند تصور اور جذبہ کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔
آج انسانیت اگر اس رزق بلند سے محروم ہے تو وہ اس لئے محروم ہے کہ جس طرح دور اول کے مسلمان قرآن کی تعلیمات کے سایہ میں زندگی بسر کرتے تھے یہ لوگ نہیں کررہے اور انہوں نے اپنے اصول زندگی قرآنی دستور سے اخذ نہیں کئے۔
جب کوئی انسان اور کوئی سوسائٹی اس افق تک بلند ہوجاتی ہے یعنی بندگی اور غلامی کے افق تک اور اس پر جم جاتی ہے تو اس کی عزت نفس کسی بھی خسیس ذریعہ سے کوئی بلند مقصد حاصل کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ اگرچہ یہ مقصد اسلام کی سربلندی ہو اور اسلام کے غلبہ کا مقصد ہو کیونکہ خسیس ذرائع اللہ کی بندگی کے پاک مقصد کو ختم کردیتے ہیں۔ نیز جب کوئی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ نفس کو منزل تک پہنچانے کی فکر نہیں کرتا بلکہ وہ اس فکر میں مبتلا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا فریضہ پورا کردیا ہے یا نہیں۔ یعنی اللہ کی بندگی کے مفہوم اور حقیقت کبریٰ کو پاتے ہوئے۔ جہاں تک حصول مقاصد کا تعلق ہے تو یہ تو اللہ کے حوالے ہیں۔ اللہ نے اپنی تقدیر میں جس طرح نتائج طے کر رکھے ہیں وہ پس پردہ تقدیر ظاہر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ ہم نتائج حاصل کرنے کے لئے غلط ذرائع اختیار کریں جبکہ نتائج کا ظہور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک مومن کے ذمہ داری میں نہیں ہے جو صرف اللہ کی بندگی کرنے والا ہے۔
بندہ عبادت گزار کا ضمیر مطمئن ہوتا ہے ، اس کا نفس برقرار ہوتا ہے۔ اس کا دل تمام حالات میں صحیح و سلامت ہوتا ہے۔ چاہے اسے اپنے عمل کے ثمرات نظر آرہے ہوں یا نہ آرہے ہوں۔ یہ نتائج اس کی نیت اور عمل کے مطابق ہوں یا اس کے برعکس نکل رہے ہوں کیونکہ عبادت کے اس مفہوم کے مطابق اس نے اپنا کام کردیا ہے۔ اس کی جزاء کی ضمانت اللہ نے دے دی ہے۔ اب وہ خوش وخرم ہے۔ اس کے بعد عملاً کیا ہوتا ہے یہ اس کے دائرہ فرائض سے خارج ہے کیونکہ اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ بندہ ہے لہٰذا وہ اپنے شعور اور فکر کے اعتبار سے یا اپنی تجاویز اور مطالبات کے لحاظ سے عبدیت کی حدود سے آگے نہیں جاسکتا۔ اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ رب ہے۔ اس لئے یہ ان کاموں میں دلچسپی نہیں لیتا جو رب العلمین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ اس کے جذبات یہاں اگر رک جاتے ہیں تو اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوجاتا ہے۔
یہ ہیں بعض پہلو اس عظیم حقیقت کے جس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے۔
وما خلقت ........ لیعبدون (۱۵ : ۶۵) ” میں نے جن وانس کو اس کے سوا کسی اور کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ “ یہ حقیقت اگر کسی کے دل و دماغ میں بیٹھ جائے تو وہ اس شخص کی زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے۔
آخر میں اس حقیقت کی روشنی میں ظالموں کو ڈرایا جاتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ، قیامت کی تکذیب کرتے ہیں اور ان کے آنے میں شتابی کرتے ہیں۔ اس زبردست ڈراوے پر سورت ختم ہوتی ہے۔
فان للذین ........ یوعدون (۱۵ : ۰۶) ” پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اس کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو ان کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لئے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لئے اس روز جس کا انہیں خوف دلایا جارہا ہے۔ “
یہ مختصر آیات اور زمزمہ خیز مسجع آیات اور ان آیات کے آخری الفاظ کی صوتی ہم آہنگی ، پوری سورة میں جاری ہے۔ پہلی آیت میں ایک لفظ بھر دو الفاظ ، پھر آہستہ آہستہ الفاظ کی تعداد کا بڑھتے چلے جانا ، یہاں تک کہ پیراگراف کے آخر میں الفاظ کی تعداد ۲۱ کلمات تک پہنچ جاتی ہے اور الفاظ بدستور پر شوکت اور زور دار رہتے ہیں۔
والطور (قسم ہے طور کی) طور ہر اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس میں درخت ہوں۔ واضح قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہی کوہ طور ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے میں مشہور ہے اور جس پہاڑ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ اس لئے کہ یہاں فضا مقدس مقامات کی ہے اور ان کی اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتا ہے اور یہ قسم بھی ایک عظیم امر پر ہے۔
وکتب مسطور (۲۵ : ۲) فی رق منشور (۲۵ : ۳) ” ایسی کتاب کی قسم جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے “۔ زیادہ قریب بات یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے جو تختیوں پر لکھی ہوئی تھی۔ اس تفسیر کے مطابق طور کے ساتھ مناسبت پوری ہوجاتی ہے۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ مراد لوح محفوظ ہے۔ اسی لئے کہ اس کے بعد الیت المعمور کی قسم ہے اور السقف المرفوع کی قسم ہے اور یہ مفہوم بھی ممکن ہے۔
والبیت العمور (آباد گھر کی قسم) اس سے مراد کعبة اللہ بھی ہوسکتا ہے واضح یہ ہے کہ مراد وہ بیت المعمور ہے جو فرشتوں کی عبادت کی جگہ ہے کیونکہ صحیح احادیث میں اور حدیث اسرا میں آتا ہے ” اس کے بعد مجھے بیت المعمور کی طرف اٹھایا گیا۔ اس میں ہر دن ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہوتا۔ “ یعنی یہ فرشتے وہاں اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور وہ اسی کا اسی طرح طواف کرتے ہیں جس طرح اہل زمین ، زمین کے کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔
والسقف المرفوع (۲۵ : ۵) ” اور قسم ہے اونچی چھت کی “ اس سے مراد آسمان ہے۔ سفیاں ثوری کی یہی رائے ہے اور ابوالاحوص نے سماک ابن خالد ابن عرعرہ سے انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے یہی رائے نقل کی ہے۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ؓ نے یہ آیت پڑھی۔
وجعلنا ........ معرضون ” اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے منہ پھیر رہے ہیں۔ “
والبحر المسحور (۲۵ : ۶) ” اور قسم ہے موجزن سمندر کی “ یعنی بھرے ہوئے سمندر کی۔ سمندر کا ذکر آسمان کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہ بہت وسیع ہے۔ بھرا ہوا ہے اور طویل و عریض ہے۔ یہ ایک ایسی نشانی ہے جس میں خوبصورتی بھی ہے اور اس میں عظمت اور خوف بھی ہے اور یہ مذکورہ بالا دوسری نشانیوں کے ساتھ زیادہ نصیحت آموز ہے۔ للمسحور کا معنی وہ جس میں آگ لگی ہوئی ہو۔ دوسری سورة میں کہا گیا۔
واذا البحار سجرت ” جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا “ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یعنی۔
والبحر المسجور (۲۵ : ۶) سے مراد آگ کا کوئی سمندر ہو جیسا کہ۔
البیت المعمور سے مراد ایک غیبی عبادت گاہ ہے۔ ان عظیم چیزوں کی قسم اٹھا کر جس عظیم حقیقت کا اظہارہورہا ہے اور جس کے لئے اب ذہن تیار ہوگیا ہے وہ ہے۔
ان عذاب ربک لواقع (۲۵ : ۷) مالہ من دافع (۲۵ : ۸) ” کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں ہے۔ “
یہ عذاب یقینا ہونے والا ہے اور اسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ ان دونوں آیات کا اثر اور ان کا سجع دونوں فیصلہ کن ہیں۔ الفاظ کے ترنم سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ واقع ہونے والا ہے اور اس میں کوئی دوسری بات ممکن نہیں ہے اور اس سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ جب یہ اثر انسان کے پردہ احساس پر پڑتا ہے اور براہ راست پڑتا ہے تو یہ دل کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس کے ساتھ اس کی حالت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے اپنے باپ سے انہوں نے موسیٰ ابن داؤد سے ، انہوں نے صالح مری سے ، انہوں نے جعفر ابن زید عبدی سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر ایک رات مدینہ میں گشت کے لئے نکلے ، وہ مسلمانوں کے گھروں میں سے ایک گھر کے پاس سے گزرے ، دیکھا تو ایک شخص نماز میں کھڑا ہے۔ حضرت عمر ؓ کھڑے ہوگئے اور اس کی تلاوت سننے لگے۔ اس شخص نے سورة طور پڑھنا شروع کی۔ جب یہاں تک پہنچا۔ ان عذاب ربک لواقع (۲۵ : ۷) مالہ من دافع (۲۵ : ۸) ” کہ تیرے رب کا عذاب واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ حق ہے حضرت عمر ؓ اپنے گدھے سے اتر گئے اور ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور کچھ دیر بیٹھے رہے۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف لوٹ گئے۔ پورا ایک ماہ لیٹ گئے۔ لوگ ان کی عیادت کرتے لیکن معلوم نہ تھا کہ آپ کو کیا بیماری لاحق ہے۔
حضرت عمر ؓ نے تو یہ سورة اس سے پہلے بھی سنی تھی اور بار بار سنی تھی۔ انہوں نے خودبھی اسے پڑھا تھا۔ نماز میں پڑھایا تھا۔ رسول اللہ ہمیشہ مغرب کی نماز میں اسے پڑھا کرتے تھے اور حضرت عمر ؓ اسی بات کو جانتے تھے اور اس طرح آپ بھی مغرب میں اس سورة کو پڑھتے۔ اسوہ رسول پر عمل کرتے ہوئے لیکن اس دن ان پر اس کا بہت اثر ہوگیا کیونکہ ان کا دل اس تاثر کے لئے کھلا تھا۔ ان کے احساسات اس دن اثرات قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گے اس لئے ان معانی نے ان کے دل میں نفوذ کرلیا اور ان پر اس طرح اثر انداز ہوئے جس طرح اس روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ آیات اپنے پورے وزن ، پوری شدت اور پوری حقیقت کے ساتھ براہ راست ان کے دل میں اتریں۔ بعض اوقات دلوں پر ایسے اثرات پڑا کرتے ہیں۔ یہ دراصل وقت کی بات ہوتی ہے۔ ایک خاص وقت میں یہ اثرات دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور یہ اس وقت اترتے ہیں جب وہ براہ راست دلوں کو مس کرلیں۔ ان لمحات میں دل ان آیات کو اپنے اصل سرچشمے سے لے لیتے ہیں جس طرح قلب رسول پر ان کا الہامی اثر تھا اس طرح سننے والے کے دل پر اثر ہوجاتا ہے۔ قلب رسول پر تو ہر بار یہ ہوتا تھا اور اللہ نے قلب رسول کو یہ صلاحیت دی تھی بعض اوقات دوسرے لوگوں پر بھی یہ معجزانہ اثر ہوجاتا ہے جس طرح حضرت عمر ؓ پر ہوگیا۔
اب اس عظیم اور خوفناک حقیقت کے بعد ایک خوفناک منظر :
یوم تمور السماہ مورا (۲۵ : ۹) وتسیر الجبال سیرا (۲۵ : ۰۱) ” وہ اس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگا رہا ہوگا اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے “ یہ آسمان جو ٹھہرا ہوا ہے اور نہایت پختگی سے تعمیر شدہ ہے۔ یہ اچانک اضطراب میں مبتلا ہوگا اور اس طرح الٹ پلٹ ہوگا جس طرح سمندر میں امواج اٹھتی بیٹھتی ہیں۔ یہ امواج ادھر سے ادھر جاتی ہیں اور ان کے اندر کوئی قرار نہیں ہوتا اور پھر اس زمین پر پائے جانے والے پہاڑ جو اونچے اور پختہ جمے ہوئے ہیں یہ اس طرح ہلکے ہوجائیں گے کہ وہ اڑنے لگیں گے اور ان سے ثبات وقرار ختم ہوجائے گا۔ یہ منظر ایک ہوشربا اور پریشاں کن منظر ہے اور یہ ایک ایسے ہولناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس میں آسمان اور پہاڑ بھی ہل جائیں تو اس قدر خوفناک منظر میں اور ہولناک صورتحال میں یہ ضعیف انسان کیا ٹھہر سکے گا۔
غرض اس قسم کے خوفناک اور ہولناک حالات میں مکذبین کو ایک ایسی بات بتائی جاتی ہے جو ان کو بہت زیادہ خائف کردینے والی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ کی جانب سے ان کو بددعا دی جاتی ہے اور اللہ کی بددعا تو گویا فیصلہ ہوتا ہے تباہی کا۔ جس بات کی بددعا دی گئی گویا وہ واقع ہوگئی۔ اللہ کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اس فیصلے سے اور یہ ہوگئی عملاً
فویل یومئذ للمکذبین (۲۵ : ۱۱) الذین ھم فی خوض یلعبون (۲۵ : ۲۱) ” تباہی ہے اس روز مکذبین کے لئے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں “ یہ تباہی اس دن آئے گی جس دن آسمان ڈگمگائے گا اور پہاڑ اڑ رہے ہوں گے۔ یہ خوفناک منظر اور یہ خوفناک بربادی۔ یہ ان جھٹلانے والوں کا حصہ ہے جو لگے ہوئے تھے اپنی حجت بازیوں میں۔
سب سے پہلے تو یہ صفت منطبق ہوتی ہے مشرکین مکہ کے افکار پر اور ان کے تصورات اور معتقدات پر جو نہایت سطحی اور بچگانہ تھے اور ان کی پوری اس زندگی پر یہ صفت منطبق ہے جو ان تصورات اور معتقدات کی اساس پر قائم تھی۔ قرآن کریم نے کئی مقامات پر اس پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ ایک کھیل ہے جس میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔ یہ اس کھیل میں اس طرح مصروف ہیں جس طرح حوض میں لوگ نہانے کے لئے اترتے ہیں اور اچھلتے کودتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ پانی میں تیر کر کسی ہدف کی طرف بڑھیں یا کنارے پر لگ جائیں۔ ان کا مقصد صرف حوض میں اچھلنا کودنا ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کریم اس لفظ کا اطلاق قرانی نظریات کے علاوہ تمام نظریات پر کرتا ہے اور قرآنی طریقہ زندگی کے علاوہ تمام دوسرے اسلوب ہائے زندگی پر کرتا ہے کہ یہ کھیل تماشا ہے اور یہ ایک بڑی حقیقت ہے جو قرآن کریم نے واضح کی ہے اور اسے وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو قرآنی نظریات کے علاوہ تمام نظریات کا گہرا جائزہ لے اور وہ یہ جائزہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظریہ کائنات کی روشنی میں لے۔ کسی بھی گہرے جائزے سے معلوم ہوگا کہ تمام لوگوں کے نظریات اور معتقدات افسانے ہیں بلکہ بڑے بڑے فلسفے انسانی تاریخ کے وہ بڑے فلسفیانہ تصورات جن پر انسان ناز کرتے ہیں ، وہ بھی بچوں کا کھیل معلوم ہوتے ہیں۔ اسلامی تصور حیات اور عقائد میں جو حقائق نہایت ہی سادگی ، قوت ، صفائی اور سنجیدگی سے بیان کئے گئے اور خصوصاً وہ باتیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں وہ سب فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ فطرت کے ساتھ بغیر کسی مشکل سے ملتی جلتی ہیں کیونکہ قرآن کا مطالعہ فطرت نہایت حقیقت پسندانہ ہے۔ اس سے کائنات کے عجوبے کی بھی خوبصورت تفسیر ہوتی ہے اور اس تفسیر کے مطابق اس کے خالق کائنات کے ساتھ تعلق کی بھی تشریح ہوتی ہے اور یہ سب تصورات اور تشریحات حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔
جب میں فلاسفہ کے خیالات پڑھتا ، بڑے بڑے فلاسفہ کے خیالات دیکھتا ہوں کہ اس کائنات کے عجوبے کے حل میں وہ تھک کر چور چور ہوگئے اور وہ اس کی صحیح تفسیر نہ کرسکے نہ ہی کائنات کے مختلف حقائق کو باہم مربوط کرسکے۔ ان کے خیالات اس طرح معلوم ہوتے ہیں جس طرح ایک بچہ ریاضی کا کوئی مشکل مسئلہ حل کرنے کی سعی کرے۔ یہ اس لئے کہ میرے سامنے اس مسئلے کا قرآنی حل موجود تھا جو واضح ، صاف ، سہل فطری اور دلپذیر تھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہ تھی نہ پیچیدگی تھی اور نہ تعقید۔ قرآن نے اس کائنات کی جو تشریح کی ہے وہ اس طرح ہے جس طرح ایک شخص اپنی بنائی ہوئی مشینری کی تشریح کرتا ہے۔ رہے فلاسفہ تو وہ اس کائنات میں سے چند جزوی حقائق لے کر ان کو کل پر منطبق کرتے ہیں اس لئے وہ بری طرح فیل ہوجاتے ہیں اور ان کے تصورات تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں۔
جب ہم ان فلاسفہ کے تصورات کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہیں تو یہ عبث کھیل ، خلط بحث کا بھونڈا نمونہ پیش کرتے ہیں اس لئے کہ قرآنی نظریات مکمل پختہ اور مطابق فطرت اور مطابق حقیقت ہوتے ہیں اور قرآن کے مقابلے میں ان کے خیالات ناپختہ ، محال اور متناقض ثابت ہوجاتے ہیں۔ جب انسان عظیم فلاسفہ کے نظریات پڑھتا ہے تو انسان کے تصورات میں تمام مسائل میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ کمراہانہ تصورات سے وہ متاثر ہوتا ہے۔ دراصل یہ تصورات مسئلہ کائنات کے حل کے لئے انسانی کوششیں ہیں اور اس کے بعد جب انسان قرآنی آیات پر غور کرتا ہے جو اس موضوع پر ہوتی ہیں تو اس کے ذہن میں آہستہ آہستہ روشنی داخل ہوتی ہے۔ اس کا قرار وثبات اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنی جگہ پر درست رکھی ہوئی ہے۔ ہر بات اپنی جگہ پر ہے۔ ہر حقیقت اپنی جگہ بیٹھی ہوئی ہے اور کسی چیز میں کوئی اضطراب نہیں ہے۔ انسان فی الفور محسوس کرلیتا ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ اسے آرام اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس کا دل آرام اور قرار پکڑتا ہے۔ عقل مطمئن ہوجاتی ہے۔ ہر قسم کی الجھنیں دور ہوجاتی ہیں۔ تمام مسائل حل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک واضح حقیقت تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔
عقائد کے بعد جب لوگ ان عقائد پر اپنی عملی زندگی استوار کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ کھیل کود میں مصروف ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی ترجیحات اسلامی ترجیحات کے مطابق بچگانہ کھیل نظر آتی ہیں۔ اسلام انسان کو جس قدر بلند ترجیحات دیتا ہے اس کے مقابلے میں یہ دوسرے فلسفے جو ترجیحات متعین کرتے ہیں وہ نہایت حقیر معمولی اور بچگانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسلام جب ان لوگوں کی مشغولیات کو دیکھتا ہے پھر یہ دیکھتا ہے کہ ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی نظروں میں ان مشغولیات کی اہمیت کیا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ ان میں وہ سراسر غرق ہیں اور اس سلسلے میں ان کی گفتگو کو سنتا ہے جو ان کی نظروں میں ایسی ہوتی ہے جیسا کہ وہ کسی بڑے کائناتی مسئلہ پر بحث کررہے ہیں ، اسلام اس قسم کے لوگوں پر جب نظر ڈالتا ہے تو یہ لوگ اپنے بچوں کے پارک میں کھیلتے ہوئے بچے نظر آتے ہیں جو گڈیوں اور کھلونوں سے کھیل رہے ہوتے ہیں جن کو وہ حقیقی اشیاء سمجھتے ہیں اور ان کھلونوں کے ساتھ وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا وہ حقیقی اشخاص ہیں۔
اسلام جس طرح اس پوری کائنات کے بارے میں ایک ارفع اور برتر تصور دیتا ہے اس طرح وہ اس کائنات میں انسان کو اعلیٰ اور برتر ترجیحات بھی دیتا ہے۔ اسلام انسانوں کو بتاتا ہے کہ ان کے اور اس کائنات کے وجود کی علت اور سبب کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ وہ یہ سوالات اس طرح قدرتی طور پر حل کرتا ہے کہ ان کے جواب کو ہر شخص سمجھ سکے کیونکہ یہ سوالات ہر شخص کے ذہن میں اٹھتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا ؟ کیوں آیا ہے اور اس نے کہا جانا ہے ؟
اسلام نے ان سوالات کا جو جواب دیا ہے اس جواب سے خود اس کا وجود اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس وسیع کائنات کے وجوذو کا صحیح تصور ذہن میں آتا ہے کیونکہ انسان دوسری مخلوقات سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ ان ہی مخلوقات میں سے وہ ایک مخلوق ہے جہاں سے دوسری مخلوقات آتی ہیں۔ وہاں سے وہ بھی آیا ہے۔ ان سب چیزوں کے وجود کا سبب ایک ہے۔ جہاں وہ دوسری مخلوقات جائے گی یہ بھی جائے گا لہٰذا اسلام کا جواب ایک مکمل جواب ہے اور یہ کائنات اور انسان دونوں باہم مربوط ہیں اور تمام مخلوق پھر خالق سے مربوط ہے۔
اس کائنات کی قرآنی تشریح کا عکس پھر انسانی ترجیحات پر پڑتا ہے اور یہ ترجیحات اس تصور کی سطح تک بلند ہوجاتی ہیں۔ یوں ایک مسلم کے شعور میں دوسرے لوگوں کی ترجیحات بہت ہی حقیر نظر آتی ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق اپنے اعلیٰ فرائض میں مشغول ہوتا ہے اور یہاں اپنے مقصد وجود کے مطابق کام کرتا ہے۔ ان اعلیٰ تصورات اور اعلیٰ ترجیحات کی روشنی میں ایک مسلم کو دوسرے لوگ بچوں کے کھیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔
ایک مسلم کی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس کے مقاصد اونچے ہیں اور یہ مسلم اس عظیم کائنات کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ اس عظیم کائنات کے وجود میں موثر ہے۔ یہ حقیقت اس حقیقت سے زیادہ عزیز ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی کو عبث اور بےمقصد کاموں میں ضائع کرے جس طرح دوسرے لوگ ضائع کرتے ہیں۔ مسلم کی ترجیحات کے مقابلے میں اکثر لوگوں کی ترجیحات ومصروفیات عبث نظر آتی ہیں۔ محض مقاصد زندگی کی بلندی کی وجہ سے اور اس کائنات کے تصور کی بلندی کی وجہ سے جو لوگ اس کائنات کے بارے میں ایسا تصور رکھتے ہیں جس طرح بچے کھیل رہے ہوتے ہیں ان کے لئے ہلاکت ہے۔
یوم یدعون الی نار جھنم دعا (۲۵ : ۳۱) ” جس دن انہیں دھکے مار مار کر جہنم کی طرف چلایا جائے گا۔ “ یہ بھی ایک نہایت ہی پر آشوب منظر ہے۔ الدع کے معنی ہوتے ہیں پیچھے کی طرف دھکیلنا۔ یہ ایک ایسی حرکت ہے جو ان لوگوں کے حالات کے عین مطابق ہے جو تصور کائنات کے بارے میں طفلانہ تصورات رکھتے ہیں جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور جو اپنے ارد گرد میں چلنے والے معاملات پر غور نہیں کرتے۔ یوں ان کو چلایا جائے گا جہنم کی طرف مگر پیٹھ پر بھی دھکے مارمار کر۔
اس طرح دھکیل دھکیل کر جب ان کو جہنم کے کنارے پہنچا دیا جائے گا تو کہا جائے گا۔
ھذا النار ........ تکذبون (۲۵ : ۴۱) ” یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔ “
یہ لوگ ابھی اسی حالت میں ہوں گے ادھر سے دھکے ادھر آگ ، مجبور ومقہور تو ان کو بطور سرزنش اور گو شمالی یہ کہا جائے گا۔ اشارہ ہوگا ان کے ماضی کی طرف۔